شاعری

غزل ۔ ۔ ۔ قتیل شفائی

Share your Love

شاعر: قتیل شفائی

راھوں پہ نظر رکھنا ھونٹوں پہ دُعا رکھنا
آ جائے کوئی شاید دروازہ کُھلا رکھنا

احساس کی شمع کو اِس طرح جَلا رکھنا
اپنی بھی خبر رکھنا اُس کا بھی پتا رکھنا

راتوں کو بھٹکنے کی دیتا ھے سَزا مجھ کو
دُشوار ھے پہلو میں دِل تیرے بنا رکھنا

لوگوں کی نگاھوں کو پڑھ لینے کی عادت ھے
حالات کی تحریریں چہرے سے بچا رکھنا

بھولوں میں اگر اے دل تو یاد دلا دینا
تنہائی کے لمحوں کا ھر زخم ھرا رکھنا

اک بوند بھی اَشکوں کی دامن نہ بھگو پائے
غم اُس کی امانت ھے پلکوں پہ سجا رکھنا

اِس طرح قتیل اُس سے برتاؤ رھے اپنا
وہ بھی نہ بُرا مانے دِل کا بھی کہا رکھنا

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *