تاریخسیاستقومیمتفرقمعاشرہ

گڈ طالبان کب بنے اور بیڈ طالبان

تحریر: فہیم رانا

ایک وقت تھا جب پاکستان میں ’’گڈ طالبان‘‘ اور ’’بیڈ طالبان‘‘ کی اصطلاحات زبان زدِ عام تھیں۔ جو طالبان پاکستان کے حمایتی سمجھے جاتے تھے یا کم از کم ہمارے خلاف بندوق نہیں اٹھاتے تھے، وہ ’’گڈ طالبان‘‘ کہلاتے، اور جو ہمارے کنٹرول سے باہر ہوتے یا دشمن ایجنسیوں کی ایما پر ہم سے لڑتے تو وہ ’’بیڈ طالبان‘ کہلاتے۔

یہ تقسیم کئی سال تک ہمارے حکومتی بیانیے کا حصہ بنی رہی، لیکن اب حالات نے اس قدر کروٹ لی ہے کہ ’’گڈ‘‘ اور ’’بیڈ‘‘ دونوں کی تقسیم مٹ چکی ہیں اور جو نئی شکل سامنے آئی ہے ، وہ EVIL طالبان ‘‘ ہیں — وہ طالبان جنہوں نے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام، شدت پسندی اور دہشت گردی کے سائے میں لپیٹ لیا ہے۔

یہ سمجھنے میں پاکستانی ریاست کو نہ جانے کیوں اتنی تاخیر ہوئی کہ طالبان کی فکر، ان کی سوچ اور ان کا نظریہ کسی صورت میں ’’گڈ‘‘ ہو ہی نہیں سکتا تھا، ان کے قیام اور پہلے دورِ حکومت سے ہی اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ یہ لوگ کس طرزِ فکر کے حامل ہیں اور ان کے عزائم کیا ہیں۔

طالبان کی کہانی 1990 کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوتی ہے، جب سوویت افواج کے انخلا کے بعد افغانستان ایک خانہ جنگی میں ڈوب گیا، مختلف مجاہد گروہ اقتدار کے لئے آپس میں لڑ رہے تھے، انہی حالات میں مدارس سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے جنم لیا جس نے خود کو ’’طالبان‘‘ کہا، ستمبر 1996 میں، چار سالہ خانہ جنگی کے بعد، طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد کچھ ہی عرصے میں ملک کے 90 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

طالبان کے اقتدار میں آتے ہی افغانستان میں ایک ایسا دور شروع ہوا جس نے اسلام کے نام پر شدت پسندی کو مضبوط کیا، سرِ عام پھانسیاں، خواتین کی تعلیم پر پابندی، موسیقی، فلم اور تفریح کے تمام ذرائع کا خاتمہ کیا گیا، کابل کے عجائب گھروں سے تاریخی نوادرات لوٹ لئے گئے اور دیواروں سے انسانوں اور جانوروں کی تصاویر چاکوؤں سے کاٹ کر مٹا دی گئیں، خواتین پر گھر سے نکلنے کے لئے محرم کی شرط لگا دی گئی، سکول بند کر دیئے گئے، لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کر دیا گیا اور ’’نیکی و بدی کی وزارت‘‘ کے نام پر خوف کا ایک نیا نظام رائج کیا گیا، ملا کلام الدین جیسے سخت گیر مذہبی رہنماؤں کو طاقتور عہدے دیئے گئے، جو ذرا سی غلطی پر لوگوں کو کوڑوں اور سزاؤں کی دھمکیاں دیتے۔

یہ سب کچھ پاکستان اور دنیا کے سامنے ہوتا رہا، انسانی حقوق کی تنظیمیں چیختی رہیں، لیکن طالبان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی، پھر جب 2001 میں امریکا پر نائن الیون کے حملے ہوئے تو امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے افغانستان پر حملہ کر دیا، دسمبر 2001 تک طالبان اقتدار سے محروم ہو چکے تھے، ان کی قیادت فرار ہو کر پاکستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لینے میں کامیاب رہی، یہی وہ موقع تھا جب ’’گڈ طالبان‘‘ اور ’’بیڈ طالبان‘‘ کی اصطلاحات مضبوط ہوئیں۔

ایک طرف وہ طالبان جن کے بارےمیں تاثر تھا کہ وہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کام نہیں کریں گے اس لئے ان سے تعلقات خوشگوار رکھے جائیں، دوسری طرف وہ گروہ جو پاکستان کے اندر عسکری کارروائیاں کرتے تھے، انہیں ’’بیڈ طالبان‘‘ قرار دے کر الگ کر دیا گیا، لیکن یہ تقسیم حقیقت میں صرف ایک خوش فہمی تھی، ایک ایسی غلطی جس کی قیمت پاکستان نے ہزاروں جانوں اور اربوں روپے کی تباہی کی صورت میں ادا کی۔

15 اگست 2021ء کو امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان دوبارہ کابل میں داخل ہوئے تو پاکستان کے کچھ حلقوں میں جشن منایا گیا، کئی بیانات آئے جن میں طالبان کی آمد کو افغان عوام کی کامیابی قرار دیا گیا، لیکن بہت جلد وہ خوش فہمی ختم ہوگئی، طالبان نے دوبارہ وہی پرانی روش اپنائی اور خواتین کی تعلیم پر پابندی، ہمسایہ ممالک میں شدت پسند نظریات کا فروغ اور انسانی حقوق کی پامالی جیسے اقدامات کئے۔

صرف یہ ہی نہیں طالبان کے رویے میں اس بار ایک نیا عنصر شامل تھا، اور وہ تھا پاکستان کے خلاف دشمن جیسا رویہ۔ طالبان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ’’ڈیورنڈ لائن‘‘ کو ماننے سے انکار کر دیا، پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملے شروع ہوئے اور فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا، اب جو طالبان کبھی ’’گڈ‘‘ سمجھے جاتے تھے، وہ ’’ EVIL ‘‘ ثابت ہوئے۔

اگر تاریخ سے سبق نہ سیکھا جائے، تو تاریخ خود کو دہراتی ہے اور یہی پاکستان کے ساتھ ہوا، پاکستانی ریاست کو دیر سے ہی سہی لیکن یہ احساس ہوا کہ طالبان کوئی سیاسی تنظیم یا سٹریٹجک پارٹنر نہیں بلکہ ایک شدت پسند نظریہ ہے، یہ نظریہ سرحدوں سے ماورا ہے، طالبان کے پہلے دورِ حکومت سے لے کر آج تک ایک بات واضح ہے کہ شدت پسندی کے نظریے کو ’’اچھے‘‘ اور ’’برے‘‘ خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا، دہشت گرد، دہشت گرد ہی ہوتا ہے، چاہے وہ کس نام یا جواز کے تحت بندوق اٹھائے، پاکستان کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ طالبان کبھی کسی کے دوست نہیں ہو سکتے، ان کا مقصد صرف اقتدار، تسلط اور اپنی مخصوص تعبیرِ دین کو مسلط کرنا ہے، ان کے لئے نہ سرحد کوئی معنی رکھتی ہے، نہ انسانی جان کی کوئی حرمت۔ پاکستان اور طالبان کے نظریات کیوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

اس حقیقت کو مزید واضح کرنے کے لئے ایک واضح مثال یہ ہے کہ طالبان افغان بیٹیوں کو تعلیم تک کا حق نہیں دیتے جبکہ پاکستانی بیٹیاں مجاہد بن کر دنیا کے جدید ترین جنگی طیارے اڑا کر تنگ نظر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نیست و نابود کرتی ہیں، یاد رکھیں سوچ کی یہ تقسیم بہت گہری ہے جو مٹائے نہیں مٹے گی۔

پاکستان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے یا پھر ایک بار پھر ’’گڈ‘‘ اور ’’بیڈ‘‘ کے فریب میں مبتلا رہتا ہے، یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ طالبان کے نظریے کو روکنے کے لئے صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں، اس کے لئے فکری اور تعلیمی محاذ پر جنگ لڑنی ہوگی، اعتدال پسند تعلیمی نصاب اور دین کی اصل روح کے مطابق تربیت سے نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچایا جا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *