کوچی، سرحدوں سے ماورا خانہ بدوش زندگی
تحریر: حیران مومند
کوچی یا کوچیان جنوبی اور وسطی ایشیا کی ان قدیم خانہ بدوش برادریوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی زندگی صدیوں سے نقل و حرکت، مویشی بانی، عارضی قیام اور قدرتی وسائل کے ساتھ ہم آہنگی پر قائم رہی ہے۔ کوچی محض ایک قبیلہ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی نظام، سماجی ڈھانچہ اور تاریخی تجربہ ہیں جو جدید قومی ریاست، سرحدی قوانین اور شناختی سیاست کے ساتھ مسلسل تصادم میں ہے۔ ان کی زندگی ہمیں اس سوال سے دوچار کرتی ہے کہ کیا انسان کی آزادی، شناخت اور بقا کو صرف پاسپورٹ، ویزہ اور سرکاری کاغذات کے دائرے میں قید کیا جا سکتا ہے؟
کوچیوں کی تاریخ تحریری دستاویزات سے کہیں زیادہ زبانی روایت، اجتماعی حافظے اور نسل در نسل منتقل ہونے والے تجربات میں محفوظ ہے۔ ماہرینِ بشریات کے مطابق کوچیوں کا تعلق بنیادی طور پر پشتون قبائل سے جوڑا جاتا ہے، اگرچہ وقت کے ساتھ ان میں مختلف نسلی اور ثقافتی اثرات شامل ہوتے گئے۔ افغانستان کوچیوں کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے، مگر ان کی نقل و حرکت نے انہیں پاکستان، ایران، وسطی ایشیا اور بعض اوقات جنوبی ایشیا کے دیگر علاقوں تک پھیلا دیا۔ ان کے لیے جغرافیہ جامد نہیں بلکہ موسم، چراگاہ، پانی اور جانوروں کی ضرورت کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔
کوچی طرزِ زندگی کی بنیاد مویشی بانی ہے۔ بھیڑ، بکریاں، اونٹ اور بعض علاقوں میں گائے ان کی معیشت کا مرکز ہیں۔ یہ جانور صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ کوچی ثقافت، شناخت اور سماجی مرتبے کی علامت بھی ہیں۔ موسمِ گرما میں کوچی عموماً بلند علاقوں اور پہاڑی چراگاہوں کی طرف جاتے ہیں جبکہ سردیوں میں میدانی اور نسبتاً گرم علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس موسمی نقل مکانی نے صدیوں تک ایک قدرتی توازن کو برقرار رکھا، جس میں زمین، انسان اور جانور ایک دوسرے پر انحصار کرتے تھے۔
ریاستی نظام کے وجود سے پہلے کوچیوں کی نقل و حرکت کسی مسئلے کا باعث نہیں تھی۔ سرحدیں لچکدار تھیں، زمین اجتماعی استعمال میں آتی تھی اور طاقت کا مرکز مقامی قبائل یا روایتی ڈھانچوں کے پاس ہوتا تھا۔ مگر جب جدید قومی ریاستیں وجود میں آئیں تو زمین کو ملکیت، سرحدوں کو سخت اور انسان کو شناختی نمبروں میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں کوچی طرزِ زندگی ریاستی قوانین سے ٹکرانے لگا۔ ویزہ، پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور مستقل پتے جیسے تقاضے ایک ایسے معاشرے کے لیے بنائے گئے تھے جو ٹھہراؤ پر قائم ہو، نہ کہ مسلسل حرکت میں رہنے والوں کے لیے۔
افغانستان میں کوچیوں کی سیاسی حیثیت ہمیشہ متنازع رہی ہے۔ بعض ادوار میں ریاست نے انہیں اسٹریٹجک مقاصد کے لیے استعمال کیا، کبھی زمینوں کی الاٹمنٹ کے ذریعے، کبھی سیاسی نمائندگی کے وعدوں کے ساتھ۔ مگر مجموعی طور پر کوچی مسلسل محرومی، بے دخلی اور عدم تحفظ کا شکار رہے۔ مختلف حکومتوں نے انہیں مکمل شہری حقوق دینے کے دعوے تو کیے، مگر عملی سطح پر تعلیم، صحت اور زمین تک رسائی جیسے بنیادی مسائل حل نہ ہو سکے۔ افغانستان کی دہائیوں پر محیط جنگ نے کوچیوں کی زندگی کو مزید عدم استحکام سے دوچار کیا، کیونکہ چراگاہیں بارودی سرنگوں سے آلودہ ہوئیں، نقل و حرکت خطرناک بنی اور ریاستی ادارے کمزور ہو گئے۔
پاکستان میں آنے والے کوچیوں کو بھی اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔ قانونی حیثیت کے بغیر سرحد عبور کرنا انہیں غیر قانونی مہاجر کے زمرے میں لے آتا ہے۔ پولیس، بارڈر فورسز اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ ان کے تعلقات اکثر کشیدہ رہتے ہیں۔ چونکہ ان کے پاس دستاویزات نہیں ہوتیں، اس لیے وہ کسی بھی وقت گرفتاری، بھتہ خوری یا بے دخلی کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ مقامی آبادی بھی بعض اوقات انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے، جس سے سماجی تنازعات جنم لیتے ہیں۔
کوچی بچوں کی تعلیم ایک سنگین مسئلہ ہے۔ مستقل سکونت نہ ہونے کی وجہ سے اسکولوں میں داخلہ ممکن نہیں ہوتا۔ نتیجتاً ایک پوری نسل بنیادی تعلیم سے محروم رہ جاتی ہے۔ یہ محرومی آگے چل کر غربت، استحصال اور سماجی پسماندگی کو جنم دیتی ہے۔ صحت کے میدان میں بھی صورتِ حال مختلف نہیں۔ دور دراز علاقوں میں نقل مکانی کرنے والے کوچیوں کے لیے ہسپتال اور کلینک تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ خواتین اور بچوں کی اموات کی شرح نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے، مگر چونکہ ان کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں، اس لیے یہ اعداد و شمار اکثر سرکاری رپورٹس کا حصہ نہیں بنتے۔
ثقافتی اعتبار سے کوچی ایک بھرپور اور متحرک روایت کے حامل ہیں۔ ان کے گیت، لوک کہانیاں، شاعری اور رسوم میں سفر، جدائی، امید اور مزاحمت کے استعارے نمایاں ہیں۔ خیمہ ان کے لیے محض رہائش نہیں بلکہ گھر، شناخت اور آزادی کی علامت ہے۔ کوچی عورتیں اس ثقافت میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ مویشیوں کی دیکھ بھال، خیموں کی تیاری، بچوں کی پرورش اور گھریلو معیشت میں اہم ذمہ داریاں نبھاتی ہیں، مگر اس کے باوجود وہ دوہرے استحصال کا شکار ہوتی ہیں: ایک بطور خانہ بدوش اور دوسرا بطور عورت۔
جدید دنیا میں کوچیوں کے بارے میں پالیسی سازی ایک پیچیدہ سوال ہے۔ ایک طرف ریاستی سلامتی، سرحدی کنٹرول اور وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے مسائل ہیں، دوسری طرف صدیوں پرانی ثقافت، انسانی آزادی اور بنیادی حقوق کا تقاضا۔ کوچیوں کو مکمل طور پر مستقل سکونت پر مجبور کرنا ان کی ثقافتی شناخت کو مٹانے کے مترادف ہو سکتا ہے، جبکہ انہیں مکمل طور پر نظرانداز کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس تناظر میں دنیا کے بعض ممالک نے موبائل اسکول، عارضی شناختی نظام اور موسمی چراگاہوں کے قانونی فریم ورک جیسے تجربات کیے ہیں، مگر یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔
کوچی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ترقی کا مطلب صرف شہری زندگی، کنکریٹ کی عمارتیں اور مستقل پتے نہیں۔ انسانی تاریخ کا بڑا حصہ نقل مکانی، چراگاہوں اور کھلے راستوں سے جڑا رہا ہے۔ کوچی اسی تاریخ کی زندہ علامت ہیں۔ اگر جدید ریاستیں واقعی خود کو انسانی اقدار کی محافظ سمجھتی ہیں تو انہیں ایسے نظام وضع کرنے ہوں گے جو خانہ بدوش برادریوں کو مجرم نہیں بلکہ شہری سمجھیں، خواہ ان کی شہریت کی تعریف روایتی معنوں سے مختلف کیوں نہ ہو۔
آخرکار کوچیوں کا مسئلہ صرف ایک قبیلے یا ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ جدید دنیا کے ضمیر کا امتحان ہے۔ یہ امتحان اس بات کا ہے کہ کیا ہم تنوع کو قبول کر سکتے ہیں، کیا ہم مختلف طرزِ زندگی کو جینے کا حق دے سکتے ہیں، اور کیا ہم انسان کو کاغذ کے بجائے انسان سمجھنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ کوچی آج بھی راستوں پر ہیں، سرحدوں کے بیچ، قانون اور روایت کے درمیان، اور ان کا سفر ہمیں آئینہ دکھاتا ہے—ایک ایسا آئینہ جس میں ہماری تہذیب کی وسعت یا تنگی صاف نظر آتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

