روشنی کے اندر زندگی کا حقیقی حسن
تحریر: ارشد احمد شہباز۔ جرمنی
زِندگی رُوشنی کی مانند ہے، کبھی دمک سے بھرپور اور چمکتی ہوئی، کبھی مدھم اور پرسکون ہوتی ہے۔ یہ رُوشنی نہ صرف دل کے گوشوں کو نرم اور رُوشن کر دیتی ہے بلکہ جذبات کی گہرائیوں میں چھپی امیدوں اور خوابوں کو بھی جگا دیتی ہے۔ کبھی یہ رُوح کو کامیابی کے سنہرے لمحوں سے جھلکاتی ہے، کبھی محبّت کے نرم لمس سے، اور کبھی خاموش دُعا کے ہلکے اشارے سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔
مگر یہ رُوشنی ہمیشہ یکساں نہیں رہتی۔ کبھی یہ انسان کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے، ہر لمحے کو جادوی رنگوں سے بھر دیتی ہے اور اسے زندگی کی عظمت کا شعور دلاتی ہے، اور کبھی مدھم ہو کر اس کے اندر ایک خاموش مکالمہ پیدا کر دیتی ہے، جس میں انسان اپنے دل کے راز، جذبات اور ماضی کے لمحات کو غور و فکر کے آئینے میں دیکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
جوانی میں ہم اس روشنی کے پیچھے دوڑتے ہیں جو کامیابی، محبت اور شہرت کے جلووں میں نظر آتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہی زندگی کا حاصل ہے۔ مگر وقت، جو سب سے بڑا استاد ہے، رفتہ رفتہ سکھاتا ہے کہ سکون رُوح کی خاموشی میں چھپا ہے۔
جب عمر کی دُھوپ نرم پڑنے لگتی ہے تو دل کے اندر ایک اور طرح کی روشنی جنم لیتی ہے۔ یہ روشنی باہر سے نہیں بلکہ اندر سے پھوٹتی ہے۔ یہ روشنی خواہش یا خواب کی نہیں بلکہ سمجھ، صبر اور اطمینان کی ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان زندگی کے شور میں چھپی خاموشی کو پہلی بار محسوس کرتا ہے اور جان لیتا ہے کہ دُنیا کے نعروں سے زیادہ گہرا سکوت دل کے اطمینان سے جنم لیتا ہے۔
زندگی کے دو بڑے موڑ ہوتے ہیں۔پہلا جوانی میں، جب انسان دنیا کو فتح کرنے کی خواہش رکھتا ہے، اور دوسرا بڑھاپے میں، جب وہ اپنے اندر جھانکنا سیکھتا ہے۔ کارل یونگ نے کہا تھا کہ “زندگی کا دوسرا نصف روح کی تکمیل کا سفر ہے”۔ جوانی میں ہم منزل کے پیچھے دوڑتے ہیں، مگر بڑھاپے میں سمجھ آتی ہے کہ اصل حُسن راستے کی خاموشی میں ہے۔
پچاس برس کے بعد تنہائی ایک نیا مفہوم اختیار کر لیتی ہے۔ والدین کی دعائیں یادوں میں بدل جاتی ہیں، دوست اپنی مصروفیات میں کھو جاتے ہیں، اور بچے اپنی دنیا میں مگن ہو جاتے ہیں۔ ابتدا میں یہ تنہائی خلا کی مانند محسوس ہوتی ہے، مگر رفتہ رفتہ یہی خاموشی غور و فکر اور باطنی سکون کا دروازہ بن جاتی ہے۔
اب انسان اپنے اندر جھانکنا شروع کرتا ہے، پرانی یادوں، بھولی خوشبوؤں اور گزری مسکراہٹوں کے دروازے کھولتا ہے۔ یہ تنہائی اب بوجھ نہیں رہتی بلکہ ایک نعمت بن جاتی ہے، جو چھوٹی خوشیوں اور سادہ لمحوں میں محسوس ہوتی ہے۔
ہارورڈ ایڈلٹ ڈیولپمنٹ اسٹڈی کے مطابق، وہ لوگ جو بڑھاپے کو غور و فکر اور باطنی سکون کے وقت کے طور پر دیکھتے ہیں، زیادہ خوش اور ذہنی طور پر متوازن رہتے ہیں۔ جسم کمزور ہو سکتا ہے، مگر احساس کی گہرائی اور روح کی بصیرت بڑھ جاتی ہے۔
محبت بھی عمر کے ساتھ بدل جاتی ہے۔ جوانی میں محبت شور کی مانند بےتاب ہوتی ہے، مگر بڑھاپے میں پرسکون اور خاموش ہو جاتی ہے۔ اب الفاظ کم اور احساس زیادہ بولتا ہے۔ شریکِ حیات کے ساتھ بس ایک ساتھ بیٹھنا، پرانی باتوں پر مسکراہٹ بانٹنا، یا خاموشی میں ایک دوسرے کی موجودگی محسوس کرنا، یہی محبت کی خالص ترین صورت ہے۔ اس عمر میں مرد کی محبّت محافظانہ اور شفقت بھری ہو جاتی ہے؛ وہ شریکِ حیات کی خوشی اور اطمینان کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے-
“اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے” (سورت النور)
یہ آیت یاد دلاتی ہے کہ روح کی روشنی کبھی ختم نہیں ہوتی، بس اپنا رخ بدل لیتی ہے۔ جوانی میں یہ نور باہر کے مناظر میں جھلکتا ہے، مگر بڑھاپے میں دل کے اندر ایک خاموش روشنی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ جب جسمانی توانائی مدھم ہونے لگتی ہے تو روح کا چراغ اور زیادہ تاباں ہو جاتا ہے، اور انسان کے اندر سکون، محبت اور بصیرت کا سمندر لہریں مارنے لگتا ہے۔
اب انسان کسی دوڑ یا دکھاوا میں شامل ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ شام کے سنہری لمحوں میں سورج کے آہستہ ڈھلتے دیکھنا، شریکِ حیات کے ساتھ خاموش بیٹھنا، یا صرف ایک پل کے لیے ہاتھ تھام لینا، سب کچھ دل کے اندر ایک گہری خوشی اور اطمینان پیدا کر دیتا ہے۔ بڑھاپا اب کمزوری نہیں بلکہ روح کی بلند ترین منزل ہے، جہاں مرد کی نرمی اور تحفظ پیار کا سب سے خوبصورت استعارہ بن جاتے ہیں، اور شریکِ حیات کے لیے ایک سایہ، پناہ اور سکون کا باعث بنتے ہیں۔
زندگی کا اصل حُسن طوالت میں نہیں بلکہ باطن کی روشنی اور شعور میں چھپا ہے۔ جوانی میں ہم دنیا کے جلو دیکھتے ہیں، بڑھاپے میں خود کو، اور جب نگاہ اندر کی طرف پلٹتی ہے تو انسان پہلی بار واقعی زندہ ہونے کا احساس پاتا ہے۔ یہ اندرونی روشنی انسان کو سکھاتی ہے کہ ہر لمحہ ایک نیا آغاز، ہر سانس ایک نئی امید، اور ہر دن ایک نئے سکون کا پیغام ہے۔ یہی روشنی محبت کو معنویت دیتی ہے، صبر کو طاقت بخشتی ہے، اور یقین کو امید میں بدل دیتی ہے۔
اندر کی یہ روشنی انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ یہ ہر لمحے، ہر یاد، ہر تعلق میں زندہ رہتی ہے، اور انسان کے وجود کو سکون، خوشی اور حقیقی معنویت سے بھر دیتی ہے، جسے نہ لفظ پوری طرح بیان کر سکتے ہیں اور نہ کوئی دنیاوی کامیابی خرید سکتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

