Latestاردو ادبشخصیتقومیمتفرق

ناروے میں بیادِ فیض احمد فیض کی تقریب

Share your Love

مبارک شاہ: نمائندہ خصوصی ناروے ہفت روزہ لاہور انڑنیشنل

10اکتوبر بروز جمعہ ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں میلہ ہاؤس میں ایک یادگار ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا اہتمام فیملی نیٹ ورک اور حلقہ اربابِ ذوق ناروے نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس تقریب کا مقصد عظیم شاعر فیض احمد فیض کی یاد تازہ کرنا اور ان سے وابستہ دو نئی کتابوں کی رونمائی کرنا تھا۔

تقریب کی مہمانِ خصوصی محترمہ منیزہ ہاشمی (دخترِ فیض احمد فیض) تھیں، جو اس موقع کے لیے خصوصی طور پر پاکستان سے تشریف لائی تھیں۔

تقریب کی نظامت آفتاب وڑائچ نے انجام دی، جب کہ ممتاز شخصیات نثار بھگت، ارشد بٹ، خالد سلیمی، اور منور مسعود نے فیض احمد فیض کی زندگی، شخصیت اور شاعری پر اپنے خیالات پیش کیے۔
اس موقع پر دو کتابوں کی رونمائی ہوئی۔

پہلی کتاب ’’Conversations with My Father‘‘ ہے، جسے منیزہ ہاشمی نے تحریر کیا۔ یہ کتاب فیض احمد فیض کے اپنے بچوں کے نام لکھے گئے خطوط پر مشتمل ہے، جو باپ اور اولاد کے درمیان محبت، احساس اور ربطِ قلب کی خوبصورت عکاسی کرتے ہیں۔

منیزہ ہاشمی نے ان خطوط کو نہایت جذباتی انداز میں بیان کیا اور بتایا کہ یہ صرف خطوط نہیں بلکہ ان کے والد کے ساتھ ایک روحانی مکالمہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے والد آج بھی ان کے ساتھ ہیں اور ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ منیزہ صاحبہ نے اس موقع پر ایک دستاویزی فلم (Documentary) بھی پیش کی، جس میں فیض صاحب کی نایاب تصاویر اور ان کے قید و بند کے لمحات شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جس قید خانے میں فیض صاحب کو رکھا گیا تھا، اب اسے ان کی یاد میں میوزیم کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

انہوں نے اپنی والدہ کے کردار کا بھی ذکر کیا، جو برطانوی نژاد تھیں اور جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی شوہر کے ساتھ وفاداری اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔
منیزہ ہاشمی نے اپنی گفتگو میں ایک دلچسپ واقعہ بھی بیان کیا:

انہوں نے کہا، ’’ایک بار امی اور ابو انڈیا جا رہے تھے تو میں نے ابو سے کہا کہ دلیپ کمار سے میرے لیے آٹوگراف لے کر آئیے۔ جب وہ واپس آئے تو میں نے پوچھا، آٹوگراف لائے؟ ابو نے مسکرا کر کہا: ‘اس سے پہلے کہ میں دلیپ کمار سے آٹوگراف مانگتا، انہوں نے مجھ سے آٹوگراف کی درخواست کر دی!‘‘ یہ واقعہ سن کر ہال میں موجود شرکاء کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

دوسری کتاب ’’Daggry bitt av natten‘‘ (یعنی شب گزیدہ سحر) کی رونمائی Astri Ghosh نے کی، جو فیض احمد فیض کی شاعری کا نارویجین زبان میں ترجمہ ہے۔

آستری گھوش نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ فیض کی شاعری سے گہری طور پر متاثر ہوئیں اور چاہا کہ نارویجین قاری بھی اس انقلابی شاعر کے الفاظ کو اپنی زبان میں محسوس کرے۔ انہوں نے کتاب کی اشاعت میں تعاون کرنے والے پبلشر لارس ہولم ہینسن (Lars Holm Hansen) کا شکریہ ادا کیا، جو تقریب میں موجود تھے۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے منیزہ ہاشمی اور آستری گھوش سے کتابوں پر دستخط لیے اور ان کے ساتھ یادگاری تصاویر بنوائیں۔

یہ شام فیض احمد فیض کی محبت، ادب، اور انسانی رشتوں کی خوبصورتی سے سرشار ایک ناقابلِ فراموش لمحہ بن گئی۔

ادارتی نوٹ!

ہفت روزہ لاہور انٹرنیشنل کے چیف ایڈیڑ محی الدین عباسی کیلئے یہ باعث صد افتخار ہے کہ 14 اکتوبر 2018 کو اُردو کلچرل جرمنی کی طرف سے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ علاوہ ازیں فیض صاحب سے متعلق دو اہم شخصیات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ایک آغا ناصر اور دوسرا ہفت روزہ لاہور کے ایڈیڑ ثاقب زیروی مرحوم

فیض صاحب کی بیٹی منیزہ ہاشمی سے خاکسار کی کئی ملاقاتیں الحمرہ ہال لاہور میں ہوئیں انکی خوبصورت محفلوں سے مستفیض ہوے ان کو قریب سے دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا نہایت ہنس مکھ۔ طنز و مزاح علم کا گہوارہ بھرپورشخصیت کی مالک ہیں۔ انکے والد کو ساری دنیا بحثیت عظیم شاعر کے طور پر جانتی ہے۔

آغا ناصر کہتے ہیں! فیض احمد فیض اپنے جیل کے شب وروز کا حال مسکرا مسکرا کر اس طرح سُناتے ہیں جیسے کسی دلچسپ تفریحی سفر کا قصہ ہو۔ ان کے اندازا بیاں لہجے کے دھمیے پن اور اپنائیت نے ہم سب کے دل موہ لیے

ایک شام محفل میں میرا سب سے بڑا انعام فیض صاحب سے تعارف تھا وہ بے حد نرم خو مدھم اور ٹھنڈے مزاج کے آدمی تھے مگر اسکے باوجود ان کی شخصیت اور دانشوری کا رُعب قائم رہتا تھا انہوں نے زندگی بھر اچھے اچھے کام کئے مگر ہمیشہ نامطمئن رہے۔

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے

فیض احمد فیض کی بے شمار نظمیں ہیں جن میں خاکسار کو یہ اچھی لگی ’’شیشوں کا مسیحا‘‘

سیاسی حالات کے پیش نظر یہ نظم 1952ء میں لکھی گئی تھی یہ نظم ملکی اور بین الاقوامی حالات میں قابل ذکر تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں اکتوبر 1951 میں سابق وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں ایک جلسہ عام میں شہید کر دیا گیا تھا۔ نظم کے چند اشعار یہ ہیں

تم ناحق ٹکڑے چُن چُن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیھٹے ہو

دوسری شخصیت ثاقب زیروی اپنی کتاب ’’تجربات جو ہیں امانت حیات‘‘ میں تحریر کرتے ہیں فیض احمد فیض سے پہلی ملاقات امرتسر کالج انڈیا میں ہوئی آپ لکھتے ہیں زیرہ ضلع فیروز پور میں چوہدری اعظم علی سول جج تھے ان کی دو بیویاں تھیں پہلی بیوی فیض صاحب کی بہن تھیں۔ جج صاحب کی بیوی سے انکے اکثر تنازعہ رہتا تھا اور جب نوبت مار پیٹ تک پہنچ جاتی تھی تو وہ برقعہ پہن کر ہمارے گھر میں والدہ کے پاس آجاتی تھیں۔ اور میں ان دنوں اخبار انقلاب میں کام کرتا تھا مولانا عبدالمجیدسالک صاحب ایڈیٹر تھے۔ سالک صاحب نے ایک دن مجھ سے کہا کہ مجھے آج امرتسر مشاعرے میں شرکت کرناتھی مگر میری طبعیت خراب ہے میں نے پرنسپل صاحب سے بات کرلی ہے تم جاؤ وہ تمھیں 50 روپے بھی دیں گے۔ کالج میں بزم ادب کا مشاعرہ تھا دیگر شعرا کے بعد میرا نام پکارا گیا ایک غزل سنائی دوسری کی فرمائش آئی وہ بھی سنا دی پھر اپنی نشست پر آکر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد ایک نوجوان جو بہترین سوٹ پہنے ہوئے تھا میرے پاس آیا اور میرے ساتھ یوں گفتگو شروع ہوئی فیض صاحب نے کہا میں اس کالج میں پروفیسر ہوں اور آپ سے مل کر مسرت ہوئی اور یہ کہ ہماری بہن جب گھر آتی ہیں تمھارا اور والدہ محترمہ کا ذکر کرتی ہیں۔ اسکے بعد لاہور میں اور لاہور سے باہر متعدد مشاعروں میں ان کے ساتھ شرکت کا موقع ملا ہمیشہ ہی محبت اور احترام سے پیش آئے اور ہمیشہ مجھ سے بھائیوں کا سا سلوک کیا۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *