Latestاسلامتعلیم و صحتمذہبمعاشرہ

حسن سلوک انسانیت کا حقیقی معیار

Share your Love

تحریر: ڈاکٹر عائض القرنی

 آقائے دوجہاں حضرت محمدﷺﷺ نے پوری انسانیت کے ساتھ حسن سلوک کیا۔ انہیں انسانی ہمدردی، بھائی چارے، سماجی یکجہتی اور نسل انسانی کے تحفظ کا درس دیا۔ نسل پرستی اور تعصب کی مخالفت کی، قتل و غارت سے روکا، لوگوں کے حقوق غصب کرنے، دوسروں کا مال باطل طریقے سے کھانے اور عزتیں پامال کرنے سے منع کیا۔

پرامن بقائے باہمی، انسانی شناسائی اور رب تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں ایک دوسرے سے عفو و درگزر کرنے کا حکم دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ اے لوگوٖٖ! بلاشبہ ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہارے خاندان اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بلاشبہ اللہ کے ہاں تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے۔ بلاشبہ اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری طرح باخبر ہے‘‘۔(الحجرات13:49)آپﷺ نے بلا امتیاز مسلمان و کافر ہر انسان کے ساتھ احسان کیا۔

آپ ﷺ نے نیکی اور حسن سلوک میں ماں کو سب سے مقدم قرار دیا۔ ایک شخص رسول اکرم ﷺ کے پاس یہ پوچھنے آیا کہ اس کے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے تو آپؐ نے فرمایا:’’ تمہاری ماں‘‘ اس آدمی نے کہا:پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا:’’ پھر تمہاری ماں‘‘۔ اس نے کہا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا:’’پھر تمہاری ماں‘‘ اس نے پوچھا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا:’’پھر تمہارا باپ‘‘(صحیح البخاری، الأدب، حدیث5971)۔اگر ماں مشرکہ ہو تو بھی آپﷺ نے اس کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے فتویٰ لیا کہ کیا میں اپنی مشترکہ ماں سے حسن سلوک کر سکتی ہوں؟ آپ نے مجھے جواب دیا:’’ ہاں، تم اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو‘‘(صحیح البخاری، الأدب، حدیث 5979)۔ اس سے بڑا احسان اور اس سے بڑھ کر صلہ رحمی کیا ہو سکتی ہے کہ ماں کے عقائد و نظریات بیٹی کے نظریات سے مختلف ہیں مگر اس کے باوجود آپﷺ اسے ماں کے ساتھ نیکی، صلہ رحمی اور حسن سلوک اور اس کی عزت و تکریم کا حکم دیتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور دنیا میں بھلے طریقے سے ان دونوں سے اچھا سلوک کرو‘‘( لقمان 15:31)۔

آپﷺ نے فقراء و مساکین اور یتیموں پر بھی احسان کیا جیسا کہ اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں حکم دیا:’’ اور والدین ، رشتے داروں، یتیموں اور مسکینوں سے نیک سلوک کرنا‘‘(البقرہ83:2)۔ اورارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’لہٰذا آپ یتیم پر سختی نہ کریں اور سائل کو نہ جھڑکیں‘‘( الضحیٰ10,9:93)۔

آپﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر یتیموں کے ساتھ لطف و کرم والا معاملہ کرتے۔ آپﷺ نے سید نا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے یتیم بچوں کے ساتھ حسن سلوک کیا اور جو یتیم آپ ؐکے زیر پرورش تھے، ان کے ساتھ بھی احسان کیا۔ آپ ایسی شریعت لائے جو قیامت تک فقراء مساکین اور یتیموں کے ساتھ احسان کا درس دیتی ہے۔ آپﷺ نے اس کا عملی نمونہ سنت مطہرہ کی صورت میں پیش کیا۔ دسیوں احادیث فقراء و مساکین کے حقوق کے دفاع، ان کے اموال کی حفاظت، ان سے نرمی کا برتائو کرنے، ان کے سر پر دست شفقت رکھنے اور ان کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھانے کی ترغیب پر موجود ہیں۔ ان میں آپﷺ کا یہ فرمان بھی ہے:’’بیوائوں اور مسکینوں کے لئے دوڑ دھوپ کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے یا رات کو قیام کرنے اور ان کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے‘‘(صحیح البخاری، النفقات، حدیث5353:)۔اسلام کے سوا دنیا میں کوئی ایسا قانون یا نظام نہیں جس نے فقراء و مساکین کے باقاعدہ حقوق مقرر کئے ہوں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ زکوٰۃ تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہے‘‘(التوبہ60:9)بلکہ آپﷺ نے یتیموں کے ساتھ احسان کو دل کی سختی دور کرنے کا علاج قرار دیا ہے۔ جب ایک آدمی نے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا:’’ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو تو مسکین کو کھانا کھلائو اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو‘‘(صحیح الجامع، حدیث1410)۔
اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب میں مسکین، یتیم اور قیدی کے ساتھ کئی مقامات پرحسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔

آپﷺ نے اپنے ہمسایوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کیا جیسا کہ آپؐ کے رب نے آپ کو حکم دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اور رشتہ دار پڑوسی، اجنبی پڑوسی اور ہم نشین کے ساتھ بھی نیکی کرو‘‘(النسآء36:4)۔ایک روایت میں آپ ﷺ کا فرمان ہے:’’ جبریل مسلسل مجھے ہمسائے کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اور تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان گزرا کہ وہ جلد اسے وارث قرار دے دیں گے‘‘۔(صحیح البخاری، الأدب حدیث6014)۔اور ایک موقع پر آپﷺ نے فرمایا:’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے‘‘ (صحیح البخاری، الأدب، حدیث6019) ۔

اس کی عزت افزائی یہ ہے کہ اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے۔ مصیبت میں اس کی غم خواری کی جائے، بیماری میں اس کی عیادت کی جائے۔ اس کی خوشیوں میں شریک ہوا جائے۔ اس کی پردہ پوشی کی جائے۔ اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جائے۔ اس کے ساتھ مسکراتے ہوئے پیش آیا جائے اور اس کی ایذا رسانیاں برداشت کرکے اس کی مدد و نصرت کی جائے۔ہمسائے کے ساتھ برا سلوک کرنے والے کو آپؐ نے ڈراتے ہوئے فرمایا:’’وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے ہمسائے اس کی شرارتوں سے محفوظ نہیں‘‘(صحیح مسلم، الایمان، حدیث46)۔آپ ﷺ نے سید نا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا:’’اے ابو ذر! جب تم شوربہ بنائو تو پانی زیادہ ڈالو اور اپنے ہسایوں کا خیال رکھو‘‘۔(صحیح مسلم البروالصلۃ، حدیث2625)۔

آپﷺ نے عورتوں کو اپنی ہمسایہ عورتوں سے حسن سلوک کی خاص تاکید کی اور فرمایا:’’ اے مسلمان عورتو! ہر گز کوئی پڑوسن اپنی دوسری پڑوسن کے لئے معمولی ہدیے کو بھی حقیر نہ سمجھے، خواہ بکری کا کُھر ہی ہو‘‘۔(صحیح البخاری، الھبۃ و فضلھا، حدیث2566)

یعنی اپنی پڑوسن کے ہدیے کو حقیر نہ سمجھے، خواہ وہ معمولی اور غیر مفید ہی ہو۔ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اکرم ﷺ سے پوچھا، میرے دو ہمسائے ہیں تو میں کس کی طرف تحفہ بھیجوں؟آپ ﷺ نے فرمایا:’’ جس کا دروازہ تمہارے دروازے کے زیادہ قریب ہو‘‘(صحیح البخاری، الشفعۃ، حدیث2259)۔

آپ ﷺ نے ہمسائے کے ساتھ سلوک اور برتائو کو کسی انسان کے اچھا یا برا ہونے کا معیار قرار دیا ہے۔ ایک آدمی نے رسول اکرمﷺ سے پوچھا:’’ اے اللہ کے رسول ! جب میں نیکی کروں اور جب میں برائی کروں تو مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ میں نے نیکی یا برائی کی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تو اپنے پڑسیوں کو یوں کہتا سنے کہ تو نے نیکی کی ہے، تو تو نے نیکی کی ہو گی اور جب ان کو یوں کہتا سنے کہ تو نے برائی کی ہے تو تو نے برائی کی ہو گی‘‘(مسند احمد، حدیث3808)۔

آپ ﷺ کے احسان کی ایک عظیم ترین صورت یہ ہے کہ آپ نے ہر اس شخص کے ساتھ بھی حسن سلوک کیا جس نے زبان اور عمل سے آپؐ کے ساتھ برا سلوک کیا۔ آپ نے اللہ لطیف و خبیر کے اس فرمان پر عمل کیا:’’ اور نیکی اور برائی برابر نہیں ہو سکتیں۔ آپ برائی کو ایسی بات سے ٹالیے جو احسن ہو، تو آپ دیکھیں گے یکا یک وہ شخص کہ آپ کے اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہو جائے گا جیسے گرم جوش جگری دوست ہو‘‘(حمٓ السجدۃ34:41)۔رسول اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے۔ آپ سے عرض کیا گیا: یہ یہودی کا جنازہ ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:’’ کیا یہ انسان نہیں‘‘(صحیح البخاری، الجنائز، حدیث1312

یہ آپ ﷺ کی عظیم انسانیت تھی جس سے آپؐ نے پوری دنیا کو فیض یاب کیا۔ آپ ﷺ نے بوڑھے شخص کی بزرگی کے مطابق اسے حق دیا اور اس کے ساتھ احسان فرمایا۔ سید نا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی بزرگی و عظمت اور شان و شوکت کا ایک حصہ بوڑھے مسلمان کی عزت و تکریم کرنا بھی ہے‘‘(سنن ابی دائود، الأدب، حدیث4843)۔

آپﷺ نے فطری امور میں بھی احسان سے کام لیا اور راستے کا حق مقرر فرمایا۔ اس سے تکلیف وہ چیز ہٹانے کا حکم دیا بلکہ اسے ایمان کا ایک شعبہ قرار دیا، چنانچہ فرمایا:’’ میں نے جنت میں ایک آدمی کو ایک درخت کی وجہ سے جنت میں ٹہلتے دیکھا کہ اس نے وہ درخت اس لئے راستے سے کاٹ دیا تھا کہ وہ لوگوں کو اذیت دیتا تھا‘‘۔(صحیح مسلم البروالصلۃ، حدیث1914)۔

آپﷺ نے پانی کی حفاظت کا حکم دیا اور اسے ضائع کرنے سے منع کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:’’ اور فضول خرچی نہ کرو۔ بے شک وہ فضول خرچی کرنے الوں کو پسند نہیں کرتا‘‘(الاعراف31:7)۔
اسی طرح آپﷺ نے عوامی مفاد کا لحاظ رکھنے کی حدود متعین کر دیں تاکہ سب لوگ اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ قابل قدر چیزوں کو ضائع کرنے ، املاک کو نقصان پہنچانے اور کھیتی و نسل کو تباہ کرنے سے منع فرمایا۔ نیکی اور احسان کے حوالے سے ایسا عام ضابطہ مقرر فرمایا کہ پرندوں اور جانوروں تک بلکہ ہر ذی روح کے حقوق کا لحاظ رکھنے اور اس کے ساتھ احسان کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:’’ہر جاندار چیز سے حسن سلوک میں ثواب ہے‘‘(صحیح البخاری، المساقاۃ، حدیث2363) ۔

یہاں تک کہ بلی اور کتے کو کھلانے پلانے پر بھی ثواب ہے۔ آپﷺ نے ایک عورت کے بارے میں بتایا کہ وہ بلی کے ساتھ بدسلوکی کی وجہ سے آگ میں چلی گئی اور ایک آدمی کتے کو پانی پلانے پر جنت میں داخل ہو گیا۔ آپ ﷺ فرماتے:’’ جو مسلمان کوئی پودا لگائے یا کھیتی کا بیچ بوئے، پھر اس میں سے کوئی پرندہ، انسان یا جانور کھائے، وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے‘‘۔(صحیح البخاری، المزارعۃ، حدیث2320)۔

آپﷺ ہمیں جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی میں لائے اور اللہ کے حکم سے ہمیں گمراہی سے ہدایت بخشی۔ اللہ کے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر نور ہدایت عطا کیا اور صراط مستقیم کی راہ دکھائی۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *