Latestاردوتعلیم و صحتسائنس و ٹیکنالوجیشعبہ انٹرنیشنلقومیمتفرق

دنیاکابڑھتادرجہ حرارت خطرےکی گھنٹی

Share your Love

تحریر: خاور نیازی

 اگست 2021ء کواقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اورورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے ایک ذیلی ادارے انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) کی زیرنگرانی دنیا بھر سے آئے 234 ماہرین اور سائینس دانوں کے ایک بین ا لحکومتی گروپ نے تیزی سے بڑھتے عالمی درجہ حرارت کے تناظر میں منعقدہ کانفرنس کے بعد ایک’’خوفناک تنبیہ‘‘جاری کی تھی، جس کا متن کچھ اسطرح تھا ، ’’زمین تیزی سے گرم ہو رہی ہے اگر زمین کا درجہ حرارت موجودہ رفتار سے ایسے ہی بڑھتا رہا تو موجودہ صدی کے آخر تک یہ انسانوں کی رہائش کے قابل نہیں رہے گی۔ ہم خطرے کی سرخ لکیر پر پہنچ چکے ہیں اور اب ہمارے پاس بھاگنے یا چھپنے کی کوئی گنجائش نہیں بچی‘‘۔

اس رپورٹ کی تیاری میں دنیا بھر کے موسموں خاص طور پر گرمیوں کے درجہ حرارت سمیت ماحولیاتی تبدیلیوں،انسانی سرگرمیوں اور انسانی رویوں سمیت متعدد زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے صنعتی انقلاب (1760 سے 1850 کے درمیان ) سے پہلے کے اوسط عالمی درجہ حرارت کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ اور یہ ہدف مقرر کیا گیا تھا کہ درجہ حرارت صنعتی انقلاب کے دور سے پہلے کے اوسط عالمی درجہ حرارت سے 1.5 ڈگری سنٹی گریڈ سے زیادہ نہیں ہونا چائیے۔بصورت دیگر اگر درجہ حرارت اس ہدف کو عبور کر گیا تو پھر رواں صدی کے اختتام تک انسان کو زمین سے ہجرت کر کے کسی اور سیارے پر منتقل ہونا پڑے گا۔

چارہزار صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ دس سال کے دوران زمین کا درجہ حرارت جس تیزی سے بڑھا ہے اس سے پہلے اسکی مثال نہیں ملتی۔لیکن اگر 2030 تک انسان بڑھتے اس درجہ حرارت کو روک نہ سکا تو اسکے تباہ کن اثرات کبھی ختم نہیں ہو سکیں گے۔

مندرجہ با لا رپورٹ کی صداقت میں اس لئے بھی اب شک کی کوئی گنجائش نظر نہیں رہ جاتی کیونکہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے ڈبلیو ایم اونے بھی آئی پی سی سی کی مندرجہ بالا رپورٹ کے لگ بھگ تین سال بعد جون2024ء میں جو رپورٹ جاری کی تھی وہ بھی ان خدشات کی تصدیق کرتی ہے۔ ڈبلیو ایم او کے بقول’’2028 تک کم از کم ایک سال ایسا ہو گا جب عالمی حدت میں اوسط اضافہ قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.5ڈگری کی حد کو عبور کر جائے گا‘‘۔آگے چل کر اسی رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ اس بات کا 47 فیصد امکان ہے کہ2028ء تک کرہ ٔارض کا اوسط درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد کو عبور کر جائے گا۔حالانکہ گزشتہ برس تک 2027ء تک کی صورت حال کے حوالے سے اس بات کا امکان 32 فیصد تھا۔ جس سے یہ اندازہ کر لینے میں اب شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ موسموں کی بدلتی صورت حال کس حد تک بے یقینی کے عمل سے دوچار ہے۔

اگرچہ موسموں کے تغیر و تبدل پر نظر رکھنے والے ماہرین اور سائنس دان ایک عرصہ سے تیزی سے بڑھتے عالمی درجہ حرارت بارے متفکر تو تھے لیکن اس سلسلے میں پہلی بار 2015 میں باقاعدہ طور پر اس اضافے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا اور یہ اندازہ لگایا گیا کہ 2017ء سے2021ء تک یہ اضافہ 1.5ڈگری سے تجاوز کر جائے گا، جسکا 20فیصد امکان متوقع قرار دیا گیا تھا۔لیکن تیزی سے بدلتی صورت حال کے تناظر میں سائینس دان اب 2025ء سے2027ء کے عرصے کو 66 فیصد امکان کے ساتھ یہ اضافہ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی دور سے قبل 50 سال میں ایک مرتبہ شدید گرمی کی لہر آیا کرتی تھی ، جو اب دس سال میں ایک مرتبہ آرہی ہے ۔ جبکہ اب اس بات کا امکان زور پکڑتا جا رہا ہے کہ گرمی کی یہ لہر ہر سات سے پانچ سال کے عرصے میں کم از کم ایک مرتبہ آیا کرے گی۔

تاریخ کا گرم ترین سال: عالمی موسمیاتی ادارے ڈبلیو ایم اونے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ معلوم تاریخ کا اب تک کا گرم ترین سال 2024ء جبکہ 22 جولائی 2024ء گرم ترین دن تھا جس دوران عالمی حدت قبل از صنعتی دور کے مقابلے میں 1.55 ڈگری زیادہ رہی۔ یاد رہے اس سے قبل یہ ریکارڈ سال 2023ء کے پاس تھا جس کا درجہ حرارت قبل از صنعتی دور سے1.51 ڈگری زیادہ تھا۔ جبکہ اس سے بھی پہلے تاریخ کے گرم ترین سال کا ریکارڈ 2016ء کے نام تھا۔

2024ء کے گرم ترین سال کا اعلان کرتے ہوئے ڈبلیو ایم او کے سیکرٹری جنرل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی طور پر حدت کے ایک یا دو برسوں کے ریکارڈ ہی نہیں ٹوٹے بلکہ کرہ ٔارض کے انسانوں نے ایک دہائی کا طویل عذاب دیکھا ہے۔ جبکہ2024 ریکارڈ توڑ گرمی کے غیر معمولی سلسلے کی انتہا تھا۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال سعودی عرب میں درجہ حرارت 51.8 ڈگری پر پہنچ گیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔یہ بات ذہن میں رہنی چائیے کہ عالمی حدت میں معمولی سا اضافہ بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتا بلکہ اس سے انسانوں کے معمولات زندگی، روزگار اور مجموعی طور پر کرۂ ارض پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

بڑھتا درجہ حرارت اورپس پردہ وجوہات ؟:سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین دن کے وقت سورج کی گرمی جذب کرتی رہتی ہے اور رات کو اسے فضا میں خارج کر دیتی ہے۔ لیکن اگر اس کے ارد گرد ہوا کے غلاف میں پائی جانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی مقدار ایک حد سے بڑھ جائے تو وہ زمین کی خارج کردہ حرارت کو ہوا کے گرد آلودگی سے بنے اس غلاف کے ذریعے روک کر واپس زمین کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ جس سے زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔چنانچہ کرۂ ارض پر تیزی سے بڑھتا درجہ حرارت اس امر کی علامت ہے کہ زمین پر گرین ہائوس گیسوں کا اخراج بڑھ رہا ہے جو یقیناً انسانی سرگرمیوں کا شاخسانہ ہی ہو سکتا ہے۔

2023ء میں ’’بیورو آف میٹرولوجی آسٹریلیا‘‘ نے عالمی برادری کو متنبہ کیا تھا اگرچہ ’’ال نینو‘‘ کا سلسلہ تھم چکا ہے تاہم اب ہمیں اس نقطے پر غور کرنا ہو گا کہ ال نینو کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے۔ واضح رہے کہ ’’ال نینو‘‘ اور ’’لانینا‘‘ میٹرالوجی کی دو اصطلاحیں ہیں۔بنیادی طور پر یہ دونوں اصطلاحیں ایک پیچیدہ موسمی پیٹرن کے حوالے سے استعمال ہوتی ہیں جو استوائی بحر الکاہل میں درجہ حرارت کے اتار چڑھائو کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور انکے اثرات دنیا بھر کے موسموں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ استوائی بحرالکاہل میں ال نینو کیفیات میں اضافہ ہو رہا ہے جو دنیا بھر کے موسموں پر اثرانداز ہو کر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ جبکہ لانینا کے اثرات اسکے الٹ ہوتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے سمندر 1970 سے لگاتار گرم ہو رہے ہیں۔ چونکہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی حدت کا 90 فیصد سمندر جذب کر لیتے ہیں اس لئے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جس رفتار سے سمندر کا پانی گرم ہوا ہے وہ 1993ء کے بعد سے دوگنا ہے۔

ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ فضا میں 85 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ تابکاری قوت کی وجہ سے ہے اور یہ درجہ حرارت میں اضافے کا اہم سبب ہے۔سائنس دانوں کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فضا اور سمندر گرم ہو گئے ہیں جسکی وجہ سے گلیشیرز بڑی مقدار میں پگھل رہے ہیں جس سے سطح سمندر میں اوسط اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس شبہ کا اظہار بھی کیا گیاہے کہ رواں صدی کے آخر تک بیشتر گلیشیرز کا 80 فیصد حصہ پگھل جائے گا جس سے کروڑوں لوگ متاثر ہو ں گے۔ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے اوسط درجہ حرارت میں 2 ڈگری سنٹی گریڈ تک اضافے کا خطرہ ہے۔

پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی۔: ماحولیاتی علوم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحول کو آلودہ کرنے والی گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں اگرچہ پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان دس ملکوں میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔اسکی بنیادی وجہ نقصان دہ اثرات سے نمٹنے کے لئے مالیاتی اور تکنیکی صلاحیتوں کا فقدان ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ایکشن ایڈنے اب سے کچھ عرصہ قبل اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ اگلی دہائی تک پاکستان کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔مون سون کا دورانیہ بڑھ جائے گا جبکہ باقی مہینوں میں خشک سالی میں اضافہ ہو گا۔

2050 ء تک شمالی علاقہ جات کے بیشتر علاقوں میں گلیشیرز معمول سے ہٹ کر تیزی سے پگھلنا شروع ہو جائیں گے جس سے سطح سمندر میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جائے گا اور بیشتر ساحلی علاقوں کے زیر آب آنے کے خطرات بڑھ جائیں گے۔اسی طرح ملک کے بیشتر علاقے پانی کی کمی ، خشک سالی اور بے وقت بارشوں کے باعث زرعی پیداوار کی کمی سے متاثر ہو یہاں کے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے۔

پاکستان کیا کرے؟ عالمی حرارت روکنے کا سب سے موثر ذریعہ شجر کاری ہے۔دنیا بھر میں صحت مند ماحول کے لئے کسی بھی ملک کے کل رقبے کے کم از کم 25 فیصد پر جنگلات ہونا ضروری ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان کے صرف تین سے پانچ فیصد رقبے پر جنگلات ہیں۔ چنانچہ اب یہ وقت کا تقاضا ہے کہ گلوبل وارمنگ سے بچنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر جنگلات کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ روایتی فوسل فیول سے مکمل طور پر چھٹکارا پا کر قابل تجدید توانائی کے ذرائع جن میں ہوا ، پانی اور شمسی توانائی شامل ہیں پر انحصار بڑھایا جائے ،کیونکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے زہریلے اثرات پاکستان پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور ویسے بھی ہم پگھلتے گلیشیرز کے نشانے پر ہیں۔ائیر کنڈیشنزز اور ہیٹر کا استعمال ممکنہ حد تک ترک کیا جائے۔ روشنی کے لئے کم سے کم انرجی والے بلب استعمال کئے جائیں۔ دیہی علاقوں میں فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے ، بھٹوں اورفیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں پر مکمل پابندی لگائی جانی چاہئے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں میں ماحولیاتی آلودگی سے بچائو کا شعور اجاگر کرنا ہو گا۔ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ ہمارے گھروں کے سامنے اڑنے والا کوڑا کرکٹ، نالیوں ، ندی نالوں ،دریائوں سے ہوتا ہوا بالآخر سمندروں میں جا پہنچتا ہے جو ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن کر کرۂ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کا بڑا سبب بن رہا ہے۔

دنیاکے چند گرم ترین ترین علاقے

16 اگست 2020ء کو امریکہ میں ’’موت کی وادی‘‘ (ڈیتھ ویلی) کہلانے والے گرم ترین علاقے میں درجہ حرارت 54 ڈگری سینٹی گریڈتک پہنچ گیا۔ یہ 1913 کے بعد امریکہ میں ریکارڈ کیا جانے والا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔آئیے جانتے ہیں کہ دنیا کے چند گرم ترین علاقے کون سے ہیں اور یہ کہاں واقع ہیں۔

قبلی، تیونس

یہ صحرائی قصبہ معیاری کھجوروں کے لیے مشہور ہے اور ظاہر ہے کہ اچھی کھجوروں کی فصل کے لیے موزوں زیادہ درجہ حرارت سے یہاں کے رہائشی خائف
نہیں ہیں۔ اس علاقے میں موسم گرما کے دوران اوسط درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ہی رہتا ہے۔ یہاں سب سے زیادہ
درجہ حرارت 55 ڈگری سینٹی گریڈ رہا ہے جو جولائی 1931 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔

متریبہ، کویت

شمال مغربی کویت کے ایک دور دراز علاقے متریبہ میں 2016 کے دوران سب سے زیادہ یعنی 53.9 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ نہ صرف پوری دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ درجہ حرارت ہے بلکہ اس کے بعد یہ براعظم ایشیا کا بھی گرم ترین مقام بھی بن گیا۔

تربت، پاکستان

تربت پاکستان کے جنوبی صوبے بلوچستان میں واقع ہے جہاں 28 مئی 2017 کو درجہ حرارت 53.7 سڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔ اس ریکارڈ
کے بعد تربت دنیا میں میں چوتھا سب سے گرم ترین علاقہ بن گیا۔

عزیزیہ، لیبیا

ضلع جفارہ کا سابق صدر مقام اور طرابلس سے 25 میل جنوب میں واقع اس علاقے کو زمین پر گرم ترین مقام قرار دیا جاتا رہا ہے۔ 1922 میں عزیزیہ کا
درجہ حرارت 58 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس قصبے کا درجہ حرارت اب بھی موسم گرما میں 48 ڈگری سے زیادہ رہتا ہے۔

بندر محشر، ایران

اس ساحلی شہر میں دوسرا گرم ترین انڈیکس (ہوا اور حبس کو ملا کر) ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بندر محشر میں جولائی 2015 کو ہیٹ انڈیکس 74 ڈگری درج کیا
گیا تھا۔ وہاں کا سب سے زیادہ زیادہ درجہ حرارت 51 ڈگری سینٹی گریڈ رہا ہے۔

غدیمس، لیبیا

صحرا کے وسط میں واقع یہ نخلستان مٹی سے بنی اپنی مشہور جھونپڑیوں کے باعث بہت مشہور ہے۔ اسے یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ جھونپڑیاں یہاں کے سات ہزار باشندوں کو شدید گرمی سے بچانے میں مدد دیتی ہیں۔’’صحرا کے موتی‘ ‘کے نام سے مشہور اس قصبے کا درجہ حرارت 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *