باپ سب سے بڑا سائبان: عالمی دن
تحریر: انور خان لودھی
باپ محض پیسے کمانے کی مشین نہیں ہوتا بلکہ ہر باپ کا یہ خواب ہوتا ہے کہ اپنے بچوں کو علیٰ معیارِ زندگی فراہم کرے۔ ہر باپ چاہتا ہے کہ جن محرومیوں کا سامنا اُسے اپنے بچپن میں کرنا پڑا‘ اُس کے بچوں کو نہ کرناپڑے۔ وہ اپنے بچوں کو خود سے بہتر،اپنی حیثیت سے بڑھ کر لائف سٹائل فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر باپ سے زیادہ وقت دوستوں کے ساتھ گزارنے والوں اور سوشل میڈیا پر چند ایک پوسٹس کر کے فادرز ڈے منانے والوں کو اپنے والد کی حقیقی قدر کیسے معلوم ہو سکتی ہے۔ کسی چھتری کی قدر اُسی کو معلوم ہو تی ہے جسے کڑی دُھوپ اور طوفانی بارش کا سامنا ہو۔
کچھ برس اُدھر کی بات ہے‘ ایک فیملی میں مدرز ڈے کے موقع پر بچوں نے آ کر جب ماں کو تحفے دیے تو پاس بیٹھے باپ کے چہرے پر کچھ افسردگی چھا گئی۔ بچے ماں کا عالمی دن منا کر فارغ ہو چکے تو باپ نے چھٹتے ہی کہا: ہاں جی! سارے دن تو ماں کے ہی ہوتے ہیں، باپ کو بھلا کون پوچھتا ہے۔ بچوں نے اس بات کا کسی قدر برا بھی منایا اور پھر یہ کہہ کر باپ کو راضی کرنے کی کوشش کی کہ آپ کا دن اگلے مہینے آئے گا، پھر اس کو بھی ایسے ہی منائیں گے۔
ایسے ہی ایک مجلس میں کارِ دفتر سے فارغ ہو کر کچھ افراد بیٹھے تھے کہ اچانک موضوع والدین کی اولاد کے لیے قربانیوں کی طرف مڑ گیا۔ ایک صاحب جو محسوس ہوتا ہے کافی بھرے بیٹھے تھے‘ قدرے تلخ لہجے میں کہنے لگے:’’ والدین نہ کہیں جناب! ماں کہیں، کیونکہ ماں ہی بچوں کے لیے قربانیاں دیتی ہے۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ گاڑیوں‘ کاروں کے پیچھے بھی یہی لکھا نظر آتا ہے؛ یہ سب میری ماں کی دعا ہے۔ باپ تو اولاد کے لیے کچھ کرتا ہی نہیں۔‘‘
یہ محض دو افراد کے دل کی بات نہیں‘ معاشرے کے اکثر مردوں کا گلہ ہے کہ باپ سارا سارا دن دوڑ دھوپ کر کے‘ خون پسینہ ایک کر کے اولاد کی پرورش کرتا ہے مگر جب کریڈٹ دینے کی بات آتی ہے تو بچے مائوں کی طرف لپکتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ ماں کا اولاد پر جس قدر حق ہے‘ باپ کا نہیں ہو سکتا مگر اس کی ساری قربانیوں، ساری محنت اور سارے ایثار کو یکسر رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔
چونکہ غمِ روزگار کے سبب باپ اپنی اولاد کو اس طرح وقت نہیں دے پاتاجس طرح ماں ان کی ہر پکار پر دستیاب ہوتی ہے‘ شاید اسی لیے بہت سے بچوں کو لگتا ہے کہ ان کے باپ نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ وہ اپنی ہر اس خوشی و غمی کا تذکرہ کریں گے‘ جب ان کا باپ اس کے پاس موجود نہیں تھا۔ ’’میرے باپ نے آج تک میرے لیے کیا ہی کیا ہے؟ صرف پیسے کما دینے اور مادی ضروریات پوری کر دینے سے کوئی باپ نہیں بن جاتا‘‘۔ میرے گنہگار کانوں نے جب ایک ناہنجار کے منہ سے یہ جملہ سنا تو سوچنے لگ گیا کہ کیا واقعی اولاد باپ کی ساری قربانیوں کو یکسر فراموش کر دیتی ہے؟ باپ محض پیسے کمانے کی مشین نہیں ہوتا بلکہ ہر باپ کا یہ خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ معیار زندگی فراہم کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کر سکیں۔ ہر باپ چاہتا ہے کہ جن محرومیوں کا سامنا اسے اپنے بچپن میں کرنا پڑا‘ اس کے بچوں کو وہ کچھ نہ دیکھنا پڑے۔ وہ اپنے بچوں کو اپنے سے بہتر‘ اپنی حیثیت سے بڑھ کر لائف سٹائل فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر باپ سے زیادہ وقت دوستوں کے ساتھ گزارنے والوں اور سوشل میڈیا پر چند ایک پوسٹس کر کے فادرز ڈے منانے والوں کو اپنے والد کی حقیقی قدر کیسے معلوم ہو سکتی ہے۔ کسی چھتری یا سائبان کی قدر اُسی کو معلوم ہو تی ہے جسے کڑی دھوپ اور طوفانی بارش کا سامنا رہا ہو۔ والد کی حقیقی منزلت بھی انہی لوگوں پر عیاں ہوتی ہے جو حالات کی کڑی دھوپ اور ناکامی و ندامت کی بارش کی زد میں رہے ہوں۔ زمانے کی ٹھوکریں کھانے والوں کو پتا ہے کہ صرف ایک ہی درخت ایسا ہے جو ہر تکلیف، ہر مشکل، ہر تنگی خود سہہ کر انہیں محض چھائوں‘ سایہ اور پھل فراہم کر سکتا ہے۔
میرے آنگن میں وہ شجرِ سایہ دار ہے
جس سے آباد میرا گھر بار ہے
اُسی کی چھائوں کا ہے سہارا مجھ کو
اس کے سوا ہر گلشن اجاڑ ہے
ہمارے ہاں ماں کی محبت تو ہر کسی کو نظر آتی ہے مگر باپ کی شفقت عموماً ڈانٹ ڈپٹ میں دب کر رہ جاتی ہے حالانکہ ماں کی شفقت اور باپ کی ڈانٹ‘ دونوں ہی تربیت کے اہم جزو ہیں۔ اگر خدا نے جنت کو ماں کے قدموں تلے چھپایا ہے تو باپ کی دعا کو بھی اولاد کے حق میں سب سے جلد قبول ہونے والی دعا کا درجہ دیا ہے۔
فادرز ڈے منانے کا مقصد اولاد کے لیے والد کی محبت اور تربیت میں اس کے کردار کو اجاگر کرنا ہی ہے۔ دوسری جانب یہ دن اپنے والد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بھی نام ہے کہ ایک باپ زندگی کے بڑے بڑے سبق کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں سے بچوں کو سکھا دیتا ہے۔ اگر ماں بچوں کے لاڈ اٹھاتی ہے تو باپ جینے کا حوصلہ دیتا ہے‘ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ باپ کی تربیت ایسی ہوتی ہے کہ بچوں کو محسوس بھی نہ ہوتی اور وہ زندگی کے بڑے بڑے اسباق چھوٹی چھوٹی باتوں سے سیکھ جاتے ہیں۔ زندگی میں لڑکھڑانا اور پھر سنبھل جانا‘ باپ صرف ایک بار کمر سے پکڑ کر سائیکل چلانے سے سکھا دیتا ہے۔ جب کوئی سخت الفاظ میں ڈانٹ دے تو کاندھے پر باپ کا مضبوط ہاتھ چٹان جیسا حوصلہ دیتا ہے۔
اب اگر فادرز ڈے کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں بیسویں صدی کے اوائل میں ’مدرز ڈے‘ کے عالمی دن کی کامیابی کے بعد ہی والد کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے فادرز ڈے منانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ بعض تحقیقات کے مطابق اس کا باقاعدہ آغاز 19 جون 1910ء کو واشنگٹن میں ہوا تھا اور اس دن کو منانے کا خیال ایک خاتون سنورا سمارٹ ڈوڈ نے اس وقت پیش کیا جب وہ 1909ء میں ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر ایک خطاب سن رہی تھی۔ اس کے والد جیکسن سمارٹ نے اس کی ماں کے مرنے کے بعد اس کی پرورش کی تھی‘ اس لیے سنورا چاہتی تھی کہ وہ اپنے والد کو بتا سکے کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتی ہے۔
چونکہ اس کے والد کی سالگرہ 19جون کو تھی، اس لیے سنورا نے اپنا فادرز ڈے 19جون کو منایا۔ پھر 1926ء میں نیویارک سٹی میں قومی سطح پر ایک فادرز کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ 1956ء میں اس دن کو امریکی کانگریس کی قرارداد کے ذریعے باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس دن کو عالمی سطح پر مقبولیت 1966ء میں اس وقت ملنا شروع ہوئی جب امریکی صدر لنڈن جانسن نے جون کے تیسرے اتوار کو فاردز ڈے قرار دیا جبکہ 1972ء میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے فادرز ڈے منانے کیلئے جون کے تیسرے اتوارکا مستقل طور پر تعین کر دیا جس کے بعد سے اس دن کو پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں جون کے تیسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔ البتہ ایران، روس، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برازیل، تائیوان، جنوبی کوریا اور ویتنام جیسے کچھ ملکوں میں یہ دن مختلف تاریخوں میں بھی منایا جاتا ہے تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی نہ کسی انداز میں یہ دن پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔
اگر مذہبی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو دینِ اسلام میں والدین کا بہت بڑا مقام اور مرتبہ ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اورجب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیاکہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔ رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور لوگوں سے (ہمیشہ) اچھی بات کہو‘‘ (سورۃ البقرہ) اسی طرح ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ’’اورآپ کے پروردگار کا فرمان ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کیا کرو، اگر تمہارے سامنے اِن میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اُف‘‘ تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو بلکہ ان سے نرمی کے ساتھ بات کرو اور اپنے بازو نہایت عاجزی اور نیاز مندی سے ان کے سامنے جھکا دو اور ( اُن کے لیے یوں دعائے رحمت کرو) اے میرے پروردگار! تُو اِن پر (اُس طرح) رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں (رحمت وشفقت سے) پالا تھا‘‘ (سورہ بنی اسرائیل)۔ سورہ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے یہاں تک فرمایا ’’میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو (تم سب کو ) میری ہی طرف لوٹنا ہے اور اگر وہ تجھ پر دبائو ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اس کو شریک ٹھہرا جس کا تجھے کچھ علم نہیں تو (اس مطالبہ معصیت میں) ان کی اطاعت ہرگز نہ کرو (لیکن اس کے باوجود) دنیا میں ان سے حسنِ سلوک کرتے رہو‘‘۔حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو نیک اولاد اپنے ماں باپ کے چہرے کی طرف رحمت (اور محبت) سے ایک نظر دیکھ لے تو اللہ تعالیٰ (اس کے نامۂ اعمال میں ) ایک مقبول حج کا ثواب لکھ دیتا ہے۔
نوشتہِ دیوار تو یہی ہے کہ جنہوں نے اپنے والد کا احترام کیا،اُنہی کوجہاں میں کمال حاصل ہوا۔ اپنے والد کا ادب کرنے والے ہی اپنی اولاد کے سامنے لائقِ احترام ٹھہرے
۔والد کی نصیحتیں سننے والوں کو کبھی لوگوں کی باتیں نہیں سننی پڑتیں۔جن کی نگاہیں باپ کے سامنے جھکی رہتی ہیں وہی دنیا کے سامنے سر اُٹھا کر جی سکتے ہیں۔باپ کی زندگی تو اولاد کیلئے مستقبل کا ایک آئینہ ہوتی ہے جس میں دیکھ کر آگے سنبھل کر چلا جاتا ہے اور جو بھی اپنے باپ کے تجرباتِ حیات سے سیکھ کر آگے بڑھتا ہے وہ کسی بھی میدان میں ناکام نہیں ہوتا، نہیں ہو سکتا۔ کوئی شخص خواہ کتنے ہی دعوے کرلے مگر میرا یہ دعویٰ ہے کہ والد کی حقیقی قدر اُسے اسی دن معلوم ہو گی جس دن عملی زندگی میں قدم رکھا جائے گا۔کیونکہ تبھی یہ علم ہوتا ہے کہ باپ کا سایہ کسی کے لئے کیا مقام رکھتا ہے؟ زمانے کے جبڑوں سے اپنا رزق کھینچنا کس قدر مشکل ہوتا ہے ؟ اپنے حق کے لیے پوری دنیا سے تنہا کیسے لڑا جاتا ہے اور جب تھک ہار کر گرنا ہے تو رونے کے لئے آپ کو کونساکاندھا میسرہو گا؟ ایسے میں صرف باپ ہی ایسا سائبان ہوتا ہے جس کے تلے انسان خود کو حقیقی معنوں میں محفوظ تصور کرتا ہے۔یہی ایک سائبان انسا ن کے لئے اصل پناہ گاہ ثابت ہوتی ہے۔
عزیز تر مجھے رکھتا تھا وہ رگِ جاں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہ تھا ماں سے
ہر ایک درد وہ چپ چاپ خود پہ سہتا تھا
تمام عمر وہ اَپنوں سے کٹ کے رہتا تھا
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

