Latestاردواسلامتاریخشخصیت

نبیؐ کی محبت و اتباع زندگی کا نور

Share your Love

تحریر: ڈاکٹر عائض القرنی

 نبی اکرمﷺ سب سے اعلیٰ، روشن اور بہترین فضائل کے مالک تھے۔ ہر دل آپ کی محبت کا دیوانہ ہے اور ہر روح آپ کی مودت کے ترانے گاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر عیب سے پاک رکھا۔ ہر گناہ کی آپ سے نفی کی۔ خطائوں سے آپ کو پاک قرار دیا اور رذائل سے آپ کا تزکیہ فرمایا۔ آپ روحانی اور جسمانی ہر اعتبار سے پاک صاف اور طیب و طاہر ہیں۔

 سید الاولین والآخرینﷺ کی محبت اور آپ کی شریعت کی تصدیق کی دلیل یہ ہے کہ تمہیں عین الیقین حاصل ہو۔ نبی ﷺ کی بتائی ہوئی ہر بات میں تسلیم و رضا اور اطاعت و ایمان کا درجہ یہ ہو کہ کسی قسم کا شک و شبہ اور اضطراب نہ ہو۔ جسم کا ہر عضو زبان حال سے کہہ رہا ہو کہ آپ ﷺ نے سچ کہا اور حق بولا اور آپ اگلے پچھلے تمام لوگوں سے زیادہ نیک اور زیادہ عزت والے ہیں۔ آپ کا ہر حکم خوشی سے قبول کریں کیونکہ آپؐ نبی معصوم اور رب العالمین کے رسول ہیں۔
نبی کریم اور رسول عظیم ﷺ کے ساتھ تمہارا رویہ ایک تابع فرمان اور مطیع کا سا ہو جیسے ایک جاں نثار سپاہی، فرمانبردار بیٹا اور شاگرد رشید ہوتا ہے۔ اصرار و استفسار کی جرات ہو نہ انکار کا تصور۔ تسلیم و رضا کا عالم یہ ہو کہ آپ ﷺ کی سنت و شریعت کے لئے دل شوق سے مچل رہا ہو۔جو شخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرے، اسے چاہیے کہ وہ اس کے نبی و رسول محمد ﷺ کی اتباع اور پیروی کرے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’آپ کہہ دیجئے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا‘‘۔(آل عمران 31:3)
نبیﷺ کی محبت و اتباع تمہاری خوشی کا راز اور تمہارے راستے کا نور ہو۔ ہدایت نبوی کے زیور سے خود کو آراستہ کر لو۔ تمہاری ہر چاہت آپﷺ کی چاہت پر قربان ہو۔ آپ کی سنت تمہارا اوڑھنا بچھونا اور دستور حیات ہو۔ آپﷺ کی عظیم شخصیت ہر وقت تمہاری آنکھوں کے سامنے ہو۔ آپ کی شفقت تمہاری آنکھوں کا نور اور آپ کا بلند مقام و مرتبہ تمہاری نگاہوں کا مرکز ہو۔
آپ ﷺ کے اقوال و احکام پر شکوک و شبہات اور بحث مباحثہ کے بغیر عمل کرو۔ اللہ سمیع و بصیر کی محبت کے بعد آپ کی محبت کو سب سے مقدم جانو۔ آپ کے فکر و نظر کو سب سے زیادہ معتبر سمجھو۔ آپ کی محبت تمہارے دل کا سرور اور تمہاری آنکھوں کا نور ہو۔ سخت گرمی میں ٹھنڈے میٹھے پانی سے تمہیں وہ سکون نہ ملے جو آپ کی سنت پر عمل کرکے حاصل ہوتا ہو۔
آپﷺ سے محبت کی ایک دلیل آپ کی سیرت کا مطالعہ، آپ کی زندگی کے تمام پہلوئوں سے آگاہی اور آپ کی سنت کی تفصیلات سے واقفیت بھی ہے۔ آدمی کسی سے محبت کرتا ہو، وہ اپنے محبوب کے نقش قدم کو تلاش کرنا اور اس کی باتیں سننا پسند کرتا ہے۔ اور اگر تمہارا محبوب راہ سعادت کی طرف تمہاری رہنمائی کرنے والا اور راہ نجات کا امام بھی ہو تو پھر تڑپ کی کیا صورت ہونی چاہیے؟ یہ بات یقینی ہے کہ معرفت سے محبت بڑھتی ہے اور کسی چیز کا علم اس کے ساتھ تعلق کومضبوط اور مستحکم کرتا ہے، جس شخص نے آپﷺ کے شاندار اوصاف پڑھے، وہ عقل سلیم اور صحیح فطرت سے یقیناً عظیم امام ﷺ کی محبت پا لے گا۔
آپﷺ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کے مقام و مرتبہ کا خیال رکھا جائے۔ نبی اکرم ﷺ کے کلام اور سنت کو خشوع و خضوع کے ساتھ تسلیم و رضا اور اتباع و اقتدا کی عملی تصویر پیش کرتے ہوئے مانا جائے اور آپ کی رہنمائی کو اپنے لئے حرف آخر سمجھا جائے۔ آپ ﷺ کی بات پر کسی اعتراض کا تصور بھی ذہن میں نہ آئے۔ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ تم جب بھی امرو نہی پر مبنی آپ ﷺ کا کوئی حکم سنو تو اپنے دل و وجود کو حاضر کرکے کہو: میں نے صاحب شفاعت ﷺ کی بات سنی اور مان لی۔
آپﷺ سے محبت کی ایک علامت آپ کے دین و ملت کا دفاع اور آپ کی شریعت کے نفاذ کے لئے جدوجہد کرنا بھی ہے لہٰذا دین محمدی کی خدمت کے لئے سپاہی بن کر تیار رہو۔ ملت اسلامیہ کی سرحدوں اور شریعت کے دروازوں پر پہرے دار بن کر کھڑے ہو جائو۔ اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے دل و جان سے اپنے اوقات و مال کو کریم نبی اور عظیم امام ﷺ کی نصرت کے لئے وقف کر دو۔ تمہارا کام مجالس میں سنت کی نشرواشاعت اور قریہ قریہ، بستی بستی اپنے قول و فعل اور کردار سے آپ ﷺ کی سیرت کا پرچار ہو۔ تمہاری اتباع و اطاعت کا عویٰ صداقت پر مبنی ہوتا کہ تمہیں نبی ﷺ کی شفاعت، قرب، رفاقت اور آپ کے جھنڈے تلے حشر کی سعادت نصیب ہو۔ تمہارا مشن حسب استطاعت لوگوں کو زبان و بیان، قلم و قرطاس، درس و تدریس، وعظ و نصیحت اور خطبات و دروس کے ذریعے سے شریعت مطہرہ کی تعلیم دینا ہو۔
آپﷺ سے محبت کی ایک اور علامت آپ پر بکثرت درود سلام بھیجنا ہے۔ آپﷺ کا ذکر آنے پر زبان سے صلاۃ و سلام کا نذرانہ پیش کرنا اور آپ کا نام لکھتے وقت نوک قلم سے ’’ﷺ‘‘ تحریر کرنا بھی آپ سے محبت کی نشانی ہے، لہٰذا اس سے اپنا دل آباد اور اعضاء معطر رکھو۔ روئے زمین پر رہنے والے کسی بھی انسان سے تمہیں اسی قدر محبت ہو جتنی وہ امام المتقین محمد رسول اللہ ﷺ سے محبت اور آپ ﷺ کی پیروی کرتا ہے اور تمہاری دوستی اور دشمنی کا معیار آپ ﷺ ہی کی ذات ہو۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت کی بنا پر کسی سے محبت کرو اور اسی کی بنیاد پر کسی کی نصرت کرو۔ تمہاری دوستیاں اور قربتیں آپ ﷺ ہی کی ذات کی خاطر ہوں۔ کتاب و سنت کی دلیل آ جانے کے بعد کسی کے حسب و نسب اور القاب کی پروانہ کرو۔
آپﷺ سے محبت کی علامت یہ بھی ہے کہ تم ساری زندگی رسول اکرم ﷺ کو اپنا حاکم تسلیم کرو یعنی نماز، روزے کے علاوہ اٹھنے بیٹھنے، سونے اور اوڑھنے پہننے میں آپ ﷺ ہی کو امام و پیشوا سمجھو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ بلاشبہ یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ( کی ذات) میں ہمیشہ سے بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ( سے ملاقات) اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہے‘‘ (الاحزاب21:33)
اختلاف کے وقت نبی کریم ﷺ کے حکم کو اپنے آباء واجداد اور اسلاف کے اقوال پر مقدم رکھیں۔ آپ ﷺ کا حکم آ جانے کے بعد ہر قسم کے وسوسوں اور دلی رجحانات کو یکسر نظر انداز کر دیں۔ آپ کے قول و فعل اور حال کو معیار قرار دیں کیونکہ اس کی موجودگی میں کسی دوسرے کے قول و فعل کی کوئی اہمیت نہیں رہتی، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
نبی کریم ﷺ سے محبت کی ایک نشانی آپؐ کے دیدار کی تمنا کرنا، آپ کی ملاقات کا شوق رکھنا، آپ کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے کی خواہش رکھنا اور رب رحمن کے جوار میں عزت و خوشنودی والے گھر میں آپ سے مصافحہ کرنے کی تڑپ رکھنا بھی ہے جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
’’میری امت کے مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہوگا کہ کاش! اپنے اہل و عیال اور مال کی قربانی دے کر مجھے دیکھ لے‘‘(صحیح مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا و اھلھا، حدیث2832)۔
بدعات کو چھوڑنا بھی نبی کریم ﷺ سے محبت کی نشانی ہے کیونکہ بدعات آپ ﷺ کی سنت کی مخالف اور آپ ﷺ کی شریعت کی متعارض ہیں، اسی لئے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:’’ جس نے میری سنت سے منہ موڑا اور وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘(صحیح البخاری، النکاح، حدیث5063)۔
نبی اکرمﷺ کے ساتھ محبت رکھتے ہوئے آپ پر کثرت سے درُود و سلام پڑھنے سے مشکلات دور ہوتی ہیں۔ گناہ معاف ہوتے ہیں۔ احوال کی اصلاح ہوتی ہے۔ شرح صدر نصیب ہوتا ہے اور غم اور پریشانیاں ختم ہوتی ہیں۔ سید نا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: میں اپنی تمام دعا میں آپ پر درود ہی پڑھتا رہوں گا۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا:’’ تب تمہاری پریشانیاں ختم ہو جائیں گی اور تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘۔(جامع الترمذی، صفۃ القیامۃ، حدیث2457)۔
آپﷺ سے محبت کا فائدہ یہ ہے کہ اللہ کی محبت کے بعد یہ محبت ساری زندگی پر حاوی ہو جائے گی۔ دل و دماغ پر اس طرح چھا جائے گی کہ دنیا کی ہر محبت سے بے نیاز کر دے گی۔ ہر چیز سے کافی ہو گی اور ہر نقصان کا ازالہ کر دے گی۔ اس کے بعد کسی کی کمی محسوس ہو گی اور نہ خلوت سے وحشت ہو گی۔ اس شخص کو مبارک ہو جس کا دل اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی ﷺ کی محبت سے لبریز ہے۔
نبی اکرم ﷺ سے محبت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے ایمان کی مٹھاس نصیب ہو گی ۔یہ مٹھاس اطاعت کے امور بجا لانا اور منکرات سے بچنا آسان کر تی ہے۔
رسول اکرم ﷺ کی محبت کا ایک صلہ یہ ہے کہ روز قیامت جنت الفردوس میں آپؐ کی رفاقت اور ساتھ نصیب ہوگا۔ سید نا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول ! قیامت کب آئے گی؟ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ’’ تو نے اس کیلئے کیا تیاری کی ہے‘‘؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول ﷺ میں نے اس کے لئے کوئی بہت زیادہ نماز، روزے اور صدقہ تو تیار نہیں کیا لیکن میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت ضرور رکھتا ہوں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا ’’ تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت کرتے ہو‘‘۔(صحیح البخاری الادب، حدیث6171)۔
سبحان اللہ!رب کائنات ہم سب کو اپنے محبوب کی محبت اور اطاعت عطا کرے۔آ مین

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *