اپنی زندگی میں اسلامی تعلیمات کا خیال رکھیں
تحریر: عمیر انجم۔ سیالکوٹ
اسلامی معاشرے کا کردار کسی بھی قوم و ملک کیلئے بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ معاشرہ ایک ایسی بنیاد اور اہمیت رکھتا ہے جس پر عمل کرنے سے قومیں خوشحال اور ملک ترقی کرتا ہے۔ اسکے برعکس عمل سے قوم و ملک محروم ہو جاتے ہیں۔
آئیے ہم اپنے موجودہ معاشرہ کا جائزہ لیتے ہیں
مجموعی لحاظ سے خرابی اور بگاڑ کی وجہ جھوٹ، بددیانتی اور اخلاقیات کا فقدان ہے اور یہی مسئلہ ہمیں اپنے خاندان عزیز رشتہ داروں میں نظر آتا ہے۔
یاد رہے معاشرہ کا بنیادی عمل گھر خاندان سے شروع ہو کر قوموں تک جاتا ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے من حیث القوم ہم اچھی طرح اس سے واقف ہیں ۔ انہیں وجوحات کے باعث ہمارا معاشرہ اور اپنے گھر خاندان ان برائیوں میں مبتلا ہیں۔
ان کی چند مثالیں مختصراً درجہ ذیل ہیں۔
آج معاشرے میں بے چینی، بد سکونی اور بدامنی کی اور وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ ظاہر پرستی اور مادیت پرستی بھی ہے اکثریت بلکہ 90 فیصد لوگ سیرت اور دین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صورت ،مال ومتاع اور رنگ و نسل کو ترجیح دیتے ہیں خاص طور پر رشتوں کے معاملات میں۔
وہ لڑکیاں جن کو پے در پے بظاہر بد صورتی کی وجہ سے ٹھکرایا جاتا ہے بلکہ بھیڑ بکریوں کی طرح پرکھا جاتا ہے کہ اس کا رنگ سانولا ہے،قد چھوٹا ہے موٹاپا کافی زیادہ ہے یا فلاں مسلئہ ہے فلاں عیب ہے تو ان بیچاریوں کا دل چکنا چور ہو جاتا ہے جذبات مجروح ہو جاتے ہیں اور بعض تو احساس کمتری کا شکار ہو کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔
اکثر رشتہ دیکھنے والے تو آرام سے کھا پی کر اول فول بکتے واپس گھر کو چلے جاتے ہیں لیکن لڑکی والوں کے گھر سوگ کا سماں ہوتا ہے۔
خدارا شریعت کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر دین ،سیرت ،اخلاق و حیا کو ترجیح دیتے ہوئے رشتے تلاش کریں۔
“حضرت عبداللہؓ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا تو سامان زیست ہے اور نیک عورت سے بڑھ کر اور کوئی سامان زیست نہیں ہے”۔ (ابن ماجہ ابواب النکاح۔ باب افضل النساء)
پس وہ لوگ جو ہر چیز دنیا کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کو اس حدیث کو مدنظر رکھنا چاہیے نیک عورت گھر کو بھی اچھی طرح سنبھال سکتی ہے اور بچوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت بھی کر سکتی ہے۔
مشہور قول ہے کہ
خوبصورتی کا مطلب خوبصورت چہرہ نہیں ہے بلکہ خوبصورت دماغ خوبصورت دل اور خوبصورت خیالات ہونا ہے۔
اگر دین کے احکام پر چلتے ہوئے زندگی بسر کی جائے تو معاشرے میں ہر طرف امن و سکون قائم ہوگا حقیقی اطمینان قلب حاصل ہوگا اور دنیا و آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے ۔
ہمیں اپنی اصلاح کیلئے ضروری ہے کہ ہم ان اسلامی تعلیمات پر جو قرآن وحدیث میں بیان کردہ ہیں ان پر سختی سے عمل کریں۔ اگر ہم ان پر عمل پیرا ں ہونگے اور اس کی اصلاح میں بھرپور کردار ادا کریں گے تو یقیناً ہم ان شاءاللّٰہ ایک نیک اسلامی معاشرہ اور قوم تیار کرنے والے ہونگے اللّٰہ کرے کہ ہم اس پر عمل کرنے والے ہوں ۔آمین
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

