Latestاردوشخصیتشعبہ انٹرنیشنلقومیمتفرق

کچھ یادیں کچھ باتیں

مرسلہ :اے کے قمرؔ

مکرم عبد الکریم قدسی ؔ صاحب اپنی کتاب ’’اشک رواں ‘‘ کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں کہ

’’میں نے 1972ء میں پہلا مشاعرہ ریڈیو پاکستان لاہور سے پڑھا۔اس وقت ہر کس وناکس ریڈیو پر مشاعرہ نہیں پڑھ سکتا تھا ۔اساتذہ کی ایک کمیٹی جس میں صوفی تبسم ،احمد ندیم قاسمی ،قتیل شفائی اور ثاقب زیروی ایسے لوگ شامل تھے ،شاعر کی منظوری دیتی تب کہیں شاعر کو کنٹریکٹ بھیجا جاتا تھا ۔اگرچہ میرا کلام 1968 ء سے مختلف پرچوں میں کبھی کبھار چھپنا شروع ہوگیا تھا تاہم ادبی حلقوں میں ابھی اجنبی تھا ۔

چنانچہ جب ریڈیو سے مشاعرہ پڑھا تو میرے کلام ہی سے ابتداء ہوئی ۔نظامت کے فرائض اخلاق احمد دہلوی ادا کر رہے تھے انہوں نے مجھے بلانے کے لئے عبد الکریم قدسی ؔ کی بجائے عبد الکریم ثمر اناؤنس کردیا ۔چونکہ اس وقت Live مشاعرے ہوا کرتے تھے اس لئے کانٹ چھانٹ یا مشاعرہ روکنے کا سوال ہی نہ تھا ۔لسٹ عبد الشکور بیدل (پروڈیوسر)اور قتیل شفائی نے مرتب کی تھی ۔انہوں نے دوبارہ لسٹ پر نظر ڈالی اور اکبر کاظمی کو اشارہ کیا جو اخلاق احمد دہلوی کے پاس ہی بیٹھے تھے اکبر کاظمی نے اخلاق احمد دہلوی کے کان میں غلطی کی نشاندی کی چنانچہ جب میں نے غزل ختم کی تو اخلاق صاحب نے مجھ سے سے اور سامعین سے معذرت کی ۔

1968ء سے 2008 ء تک چالیس سالہ ادبی سفر ’’ادبی دھڑے ‘‘بندیوں سے الگ تھلگ رہ کر کیا ۔شاید یہی وجہ ہے کہ میرا اردو مجموعہ زیور طبع سے آراستہ نہ ہو سکا ۔1968 ء ہی میں لاہور ملازمت کے سلسلہ میں آنا پڑا اور سب سے پہلے اپنے کولیگ طالب حسین طالب سے جو بچونکے پرچے کھلونا کے ایڈیٹر تھے ،سے ادبی دوستی شروع ہوئی ۔پھر ساغر صدیقی کے حلقہ میں بیٹھنا شروع کیا ۔میرے علاوہ روزانہ حاضری دینے والوں میں یونس حسرت امرتسری ،ظہیر احمد ظہیر ،توقیر لدھیانوی،یونس ادیب ،ناز خیالوی ،عبد الستار مفتی اور یاسین رضا شامل تھے ۔طالب حسین طالب اور یوسف مثالی بھی کبھی کبھار آجاتے ۔

ایک دن ساغر صاحب کہنے لگے کہ کہیں چھپتے ہو عرض کی نہیں ۔بھلا ہمیں کون چھاپے گا ۔کوئی واقف کار ہی نہیں ۔کہنے لگے بھئی چھپنا بھی ایک طرح کا صلہ ہوتا ہے ۔لیکن کوشش کرنا اس پرچے میں چھپو جس کا ایڈیٹر خود شاعر ہو ۔میں نے کہا کہ پھر آپ ہی وہ پرچا بتائیں ۔کہنے لگے پتا نوٹ کرو۔ایڈیٹر ہفت روزہ ’’لاہور ‘‘ بلونت’’ مینشن‘‘ بیڈن روڈ لاہور ۔ثاقب صاحب خود بھی بڑے اچھے شاعر ہیں ۔جس پرچے میں آپ کی غزل شامل ہوگی وہ آپ کو اعزازی بھی ملے گا ۔بہت وضعدار انسان ہیں ورنہ آجکل ایسے لوگ کہاں ۔ چنانچہ تعمیل ارشاد میں عبدا لستار مفتی یونس حسرت امرتسری ،ظہیر احمد ظہیر اور میں’’ لاہور ‘‘میں دھڑا دھڑ چھپنا شروع ہوگئے ۔

ایک دن دفتر میں ثاقب صاحب کو سلام کے لئے حاضر ہوا ۔بہت خندہ پیشانی سے پیش آئے ۔کہنے لگے اچھا تو آپ ہیں عبدا لکریم قدسی ؔ! میرے ذہن میں تو ایک باریش بزرگ کا سراپا تھا ۔آپ ما شاء اللہ نوجوان ہیں اور اچھا لکھتے ہیں کس کو کلام دکھاتے ہیں ۔ عرض کی بس ساغر صاحب ہی سرسری نظر ڈالتے ہیں ۔کہنے لگے ساغر ہمارادوست ہے ۔بہت اچھا شاعر ہے ۔مگر شاعری اور اصلاح دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔وہ ظالم ،نشہ بھی بہت ظالم کرتا ہے ۔بہتر ہے کسی اور کو کلام دکھا لیا کرو۔اگرچہ وزن میں کہنا شاعری کی پہلی شرط ہے تاہم نوک پلک سنوارنے کے بہت سے مراحل آگے چل کر آتے ہیں۔میں نے عرض کی پھر آپ ہی دیکھ لیا کریں ۔مسکرائے اور کہنے لگے آپ دیکھ رہے ہیں نا! میں آپ سے باتیں بھی کر رہا ہوں اور پرچے کا کام بھی جاری ہے مجھے تو سر کھجانے کی فرصت نہیں ۔ البتہ اس وقت احسان دانش صاحب یا شرقی بن شائق ہیں ۔جو اس فن کے استاد ہیں ۔ان میں سے کسی کا انتخاب کرلیں ۔میں رقعہ لکھے دیتا ہوں ۔میں نے شرقی صاحب کا نام لیا انہوں نے رقعہ لکھ کر لفافے میں بند کیا اور مجھے دیتے ہوئے کہا شرقی صاحب بہت زودگو شاعر ہیں تن آسانی اختیار نہ کرنا ۔میں رقعہ لے کر سیدھا نوائے وقت کے دفتر چلا گیا جہاں وہ کام کرتے تھے ۔

شرقیؔ صاحب سے ملاقات کیا ہوئی ساری زندگی کا تعلق استوار ہوگیا ۔بہت نفیس انسان تھے ان کے ہاں زود گوئی کے بے شمار کرشمے دیکھے مگر ثاقب صاحب کی تن آسانی اختیار نہ کرنے والی نصیحت ہمیشہ پیش نظر رہی۔اس دور میں اکثر طرحی مشاعرے ہوا کرتے تھے تقریباً ہر مشاعرے میں پڑھنا اک شوق کی حیثیت اختیار کر گیا ۔استادوں کے درمیان نو آموز شعرا کی مشقِ سخن ان کے لئے مہمیز کا کام دیتی۔ اسی مشق نے آگے چل کر بہت سے راستے آسان کئے ۔

طفیل ہوشیارپوری کے دفتر میں شرقی صاحب ،یزدانی جالندھری ،طفیل ہوشیار پوری ایف ڈی گوہر وغیرہ کی خوب محفل جمتی تھی ۔طفیل صاحب کے پرچے کا نام بھی محفل تھا ۔اساتذہ کے مباحث سننے کے لائق ہوتے تھے ۔اس طرح انارکلی میں احسان دانش صاحب کا دانش کدہ تھا ۔مختلف شعراء کی آمد رفت رہتی تھی ۔وہاں بیٹھنا بھی ہمارے بہت کام آیا ۔شفیق کوٹی ،رشید کامل ،اقبال راہی سے وہیں تعارف ہوا۔ شورش کاشمیری بھی کبھی کبھار وہاں آتے تھے ۔

 اسی طرح نشتر جالندھری صاحب کا حلقہ نشترِ ادب تھا ۔وائی ایم سی میں اس کی طرحی نشتیں ہوا کرتیں ۔وہاں بھی باقاعدگی سے شرکت ہوتی ۔ڈاکٹر تبسم رضوانی کا حلقہ بڑا فعال تھا ۔پہلے پرانی انارکلی میں واصف علی واصف کے انگلش کالج میں پھر نیلہ گنبد میں الشجر بلڈنگ میں اور پھر ریواز گارڈن میں باقاعدگی سے مشاعرے ہوتے ۔نوح ناروی کے شاگرد زیبا ناروی کا حلقہ تھا ۔وہ کرشن نگر میں طرحی مشاعرے کرواتے تھے ۔اصغر نثار قریشی کا حلقہ تھا تابکاری روڈ تکیہ املی والا میں (اتنی مدت بعدبھی ایڈریس یاد ہے )ان کے ہاں بھی طرحی مشاعرے برپا ہوتے تھے ۔اسی طرح ڈاکٹر عبد الرشید تبسم کا حلقہ تھا ۔وہ ماڈل ٹاؤن میں اکثر طرحی مشاعرے کرواتے تھے ۔ہم ہر جگہ پہنچتے تھے ۔خالد شفیق شاہ محمد غوث کی لائبریری میں باقاعدگی سے مشاعرے کرواتے تھے ۔ہر وقت مشاعرہ شروع کرنے کی روایت صرف وہاں دیکھی ۔بعد میں اقبال صلاح الدین کے حلقہ میں گئے تو وہیں کے ہو رہے محبت وخلوص کی فراوانی جتنی وہاں دیکھی کہیں اور نظر نہ آئی ۔مخالفین کی تہمت طرازیوں پر مسکرانا بلکہ ہمیشہ ان کے لئے کلمۂ خیر کہنا بس انہیں کا وصف تھا ۔نیکی کرکے دریا میں ڈالنے کا مظاہرہ صرف ان کے ہاں دیکھا ۔ڈاکٹر صدیق مل،ساقی گجراتی ،ریاض راجی ،عصمت اللہ زاہد ،چوہدری غلام رسول ،بشیر حسین ناظم ،اشرف پال ،عبد الجبار شاکر ،غلام مصطفی بسمل ،راجا رسالو ،اقبال زخمی ،مقصود ناصر چوہدری ،سید اسلام شاہ ،امین خیال سے میل ملاپ وہیں سے شروع ہوا ۔

پنجابی کی طرف آئے تو ان میں دو حلقے معروف تھے ایک میں رؤف شیخ ،سلیم کاشر ،یونس احقر ،منظور وزیر آبادی ،اطہر نظامی ،معراج دین اختر ،ہمایوں پرویز شاہد اور منتظر زریں وغیرہ شامل تھے ۔ دوسرے حلقہ میں ڈاکٹر رشید انور ،سلطان محمود آشفتہ ،سعید جعفری ،زاہد نواز ،حسین شاد ،کنول مشتاق وغیرہ تھے ۔اک تیسرا حلقہ مشتاق بٹ کا تھا ۔ استاد اللہ دتہ صابر ،قمر الدین کامل ،اعزاز احمد آذر ،تنویر ظہور ،خلیفہ نادم عصری وغیرہ اس میں شامل تھے ۔ہم ہر حلقے میں آتے جاتے تھے ۔نتیجتاً اردو اور پنجابی کے ہر حلقے سے ہمیں بہت پیار ملا۔ہمارا مقصدصرف سیکھنا ہوتا تھا اس لئے ہر سینئر کی عزت کرتے تھے جو اب میں ہمیں بھی عزت ملتی تھی ۔

استاد دامن کے حجرے میں بھی کبھی کبھار جانا ہوتا ۔استاد کے چاروں طرف کتابیں ہی کتابیں ہوتی تھیں ۔ایک دن مجھے پیسے دیکر اردو بازار کی ایک دکان پر بھیجا کہ ’’اقبال اور بھرتری ہری ‘‘نامی کتاب لے آؤں ۔میں باہر نکلنے لگا تو کہنے لگے اسے کہنا ’’کنجرا! مینوں استاد دامن نے گھلیا اے‘‘خیر میں متعلقہ دکان پر گیا اور کہا کہ مجھے استاد دامن نے بھیجا ہے اور انہوں نے یہ کتاب منگوائی ہے ۔دکاندار کہنے لگا کہ آپ کو استاد دامن نے نہیں بھیجا ۔مجھے بڑا غصہ آیا میں نے کہا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ مجھے استاد نے نہیں بھیجا ۔بھلا مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی انہوں نے پیسے بھجوائے ہیں میں فی سبیل اللہ تو نہیں مانگ رہا ۔دکاندار کہنے لگا استاد نے جس طرح کہا تھا اسی طرح بولو۔مجھے معلوم ہوجائے گا کہ آپ کو استاد نے بھیجا ہے یانہیں ۔میں جو جلا بھنا بیٹھا تھا میں نے ویسے ہی کہہ دیا ۔’’کنجرا! مینوں استاد دامن نے گھلیا اے‘‘اس نے قہقہہ لگایا اور کتاب بلا قیمت میرے حوالے کر دی کہ یہ پیار بھری گالی ہی اس کی قیمت ہے ۔

اسی طرح عارف عبد المتین ،اکبر لاہوری ،ڈاکٹر کیپٹن جمال ،طفیل دارا،قتیل شفائی نئے لکھنے والوں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔اس وقت معاشرے میں تعصب کی ہوائیں بہت کم تھیں ۔

ایک حلقہ کا ذکر کرنا ہی بھول گیا یہ بشیر منذر کا مینار آرٹ پریس تھا جو ایبک روڈ پر تھا ۔وہاں اہل قلم کی بہت ریل پیل رہتی تھی ۔شریف کنجاہی ،تنویر سپرا،حفیظ تائب ،اقبال ساجد ،روحی کنجاہی ،ڈاکٹر آفتاب نقوی وغیرہ سے راہ رسم وہیں سے شروع ہوئی ۔اب ان میں بہت سے اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہیں۔

ایک اک کر کے ستاروں کی طرح ٹوٹ گئے

ہائے کیا لوگ مرے حلقۂ احباب میں تھے

اب تو ان یادوں کی باتیں ہی کی جاسکتی ہیں ۔رہے نام اللہ کا

عبد الکریم قدسی ؔ‘‘

(اشک رواں صفحہ نمبر 23تا صفحہ نمبر 27 ،غالب نما ،مکتبہ جدید ،لاہور)

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *