حشرات الارض کی محیرالعقول سبق آموز دنیا
ڈاکٹرطارق احمد مرزا۔ آسٹریلیا
پرندوں میں سے کوئل کے بارہ میں تو سبھی جانتے ہیں کہ وہ اپنے انڈے کوے کے گھونسلے میں دیتی ہے اور بیچارے کووں کا جوڑا اسے اپنے انڈے سمجھ کر سیتا بھی ہے اورپھر نوزائدہ کوئل کے لئے خوراک کا بندوبست بھی کرتا ہے. معلوم ہوا ہے کہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے کوئل اس بات سے بھی دریغ نہیں کرتی کہ گھونسلے میں موجود کوے کے انڈوں میں سے ایک انڈہ اٹھا کر باہر پھینک دے تاکہ انڈوں کی تعداد برابر رہے اور کووں کو کوئی شک نہ ہو گزرے ۔
کوئل کی طرح ایک اور پرندہ (Cow Bird) جو دن بھر گائے بھینسوں کے اوپر بیٹھا کیڑے مکوڑے کھاتارہتا ہے، وہ بھی دوسرے پرندوں کے گھونسلوں میں جا کر انڈے دے آتا ہے اور پھر بڑی ہوشیاری سے ان پر نظر بھی رکھتا ہے۔چنانچہ جب دیکھتا ہے کہ اس کے انڈے میزبان پرندے نے نکال باہر پھینکے ہیں یا انہوں نے ان اجنبی انڈوں کو دیکھتے ہی گھونسلہ چھوڑکر کہیں اور رہائش اختیار کرلی ہے تومغلوب الغضب ہوکراس گھونسلے کا تنکا تنکا اجاڑدیتا ہے۔
اپنے انڈوں اور بچوں کو اس طرح زبردستی دوسروں کے ’’لے پالک‘‘ بنوانے کے لیئے صرف کوئل اور کاؤ برڈ ہی انتہائی اقدامات اور جارحیت کا نمونہ نہیں دکھاتے، حشرات الارض میں بھی اس قسم کے بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ محیر العقول اور ہوش ربا نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بعض تو بالکل لمحہ بہ لمحہ ایک نیا رخ اختیار کرتی خوفناک جاسوسی کہانی کی طرح منظر ناموں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے بیان ہو جائے بھنوروں کی ایک قسم کا جو کوئل کا نمونہ اپنانے کی وجہ سے ’’کوئل بھنورا‘‘ (cuckoo bumblebees)
کہلاتے ہیں۔ مادہ بھنورہ انڈے دینے کے لیئے پہلے کسی کمزور یا کم عقل نسل کے بھنوروں کا چھوٹا موٹا چھتہ ڈھونڈتی ہے،پھر وہاں کی ملکہ کو یا تو مار ڈالتی ہے یا حاوی ہو کر اس کو اپنا ماتحت بنالیتی ہے۔اس کے بعد اپنے انڈے دیتی ہے اور چھتے میں موجود ورکر بھنوروں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اس کی اور اس کے بچوں کی خدمت کریں، ان کے لیئے خوراک کا بندوبست کریں۔ گویا کوئی سر چھپانے کے لیئے آئے اور گھر کی مالکن ہی بن بیٹھے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیئے وہ ایک طرف تو جارحیت کا مظاہرہ کرتی ہے اورساتھ ایسے کیمیکل بھی جسم سے خارج کرتی ہے جواسے اس کے غلام بنائے ہوئے ’’میزبانوں‘‘ کے لیئے قابل قبول بھی بنا رہے ہوتے ہیں۔
( Annals of the Entomological Society of America, Volume 112, Issue 3, May 2019)
اسی طرح سے ایک ویب سائٹ ’’سائنس نیوزڈاٹ آرگ‘‘ میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق یورپی نسل کی ایک تتلی ’’میکولینیا‘‘ (Maculinea rebeli ) یہ کام کرتی ہے کہ ایک مخصوص نسل کی چیونٹیوں ’’مِرمیکا شینکی‘‘ (Myrmica schencki) کی کالونی کے آس پاس لگے درختوں پر انڈے دیتی ہے۔ان سے جب لاروے نکلتے ہیں تو وہ اپنی افزائش کے ایک مرحلہ پر زمین پہ گر جاتے ہیں۔ان لارووں کا رنگ اور ان کے جسموں سے نکلنے والی بو ان چیونٹیوں کے اپنے لارووں سے بہت زیادہ ملتی ہے اور بیچاری چیونٹیاں یہ سوچے بغیر کہ ہمارا لاروا اتنا بڑا تو نہیں ہو سکتا،محض رنگ و بو سے دھوکہ کھا جاتی ہیں اور مل ملا کر اپنے سے کئی گنا بڑے تتلی کے ان لارووں کو اٹھا کرنہ صرف اپنے گھر میں لے آتی ہیں بلکہ انہیں خوراک مہیا کرنا بھی شروع کردیتی ہیں۔ لیکن ہوتا یہی ہے کہ تتلی کے لاروے نے پیوپا کی حالت اختیار کرنے کے بعد تتلی ہی بن کر یہ جا وہ جا ،اڑ جانا ہوتا ہے اور یہ سادہ لوح چیونٹیاں مارے حیرت کے بس دیکھتی ہی رہ جاتی ہیں۔
ایک اور تحقیق کے مطابق تتلی کے یہ لاروے ایسی آوازیں بھی نکال سکنے کی قدرت رکھتے ہیں، جو عموماً چیونٹیوں کی ملکہ نکالتی ہے۔ اس کے بعد توان سادہ لوح چیونٹیوں کے پاس شک کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی۔
لیکن یہ کہانی یہیں پہ ختم نہیں ہوتی کہ بس تتلی کا لاروا تھا تتلی بن کر اڑ گیا۔ اس کہانی میں ایک اور کردار کی ’’ انٹری ‘‘ ابھی باقی ہے۔اور وہ کردار ہے ایک بڑی ہی ہوشیار،چابکدست اور کیمیائی ہتھیاروں سے لیس مخصوص نسل کی ایک زنبوری ’’اکنیومون یومیرس‘‘ ( Ichneumon eumerus) کا۔
اس زنبوری کوانڈہ دینے کے لیئے تلاش ہوتی ہے مذکورہ بالا تتلی کے لاروے کی ، جس کے جسم کے اندر یہ اپنا انڈہ انجیکٹ کرتی ہے۔اور اسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تتلی کے یہ لاروے کس نسل کی چیونٹیوں کے بِلوں میں مل سکتے ہیں۔
اب اصل مسئلہ اس زنبوری کو یہ درپیش ہوتا ہے کہ چیونٹیوں کے بل کے اندرکیسے گھسا جائے اورکامیابی کے ساتھ اپنا کام کرکے زندہ سلامت کیسے باہر آیا جائے،کیونکہ مشہور ہے کہ چیونٹیاں متحد ہو جائیں تو شیر کی کھال بھی کھینچ لیتی ہیں۔
اس مقصد کے لیئے قدرت نے اس زنبوری کو تین قسم کے کیمیائی ہتھیاروں سے لیس کیا ہوتا ہے جسے وہ سپرے کی صورت استعمال کرتی ہے۔
پہلا سپرے کرنے سے کچھ چیونٹیاں مدہوش ہوکر دیوانہ وار لپک کراس کے قریب آجاتی ہیں۔ دوسرا سپرے وہ ایک اور قسم کے کیمیکل کا ان چیونٹیوں کے اوپر کر دیتی ہے اور اس کے بعد تیسرا سپرے ایسا چھوڑتی ہے کہ قریب آنے والی وہی چیونٹیاں اب اس سے بیزار ہوکر اندر کی جانب رخ کرتی ہیں اور یوں اپنے ساتھ دوسرے نمبر والا سپرے یا اس کے ذرات (Pallets) لے جاتی ہیں۔ اب یہ جو دوسرے نمبر والا سپرے ہے،اس میں ایسی خاصیت ہوتی ہے کہ جونہی یہ کالونی کے اندر پہنچایا جاتا ہے تو اس کے اثر سے جملہ چیونٹیوں کی مت ماری جاتی ہے،اپنے پرائے کی ہوش نہیں رہتی اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی جان کی دشمن بن جاتی ہیں۔ اپنے ہی ساتھی باہم دست و گریباں ہوکرایسے گھمسان کا بلوہ اور ہلڑبازی کرتے ہیں کہ الامان و الحفیظ !۔اور عین یہی موقع ہوتا ہے جب یہ زنبوری چیونٹیوں کی کالونی کے اندر پھرتی سے داخل ہو کروہاں موجود تتلی کے لاروے کے جسم میں اپنا انڈہ بطور انجیکشن داخل کرکے جلدی سے باہر کا رخ کرتی ہے اس سے پہلے کہ چیونٹیوں پر سے سپرے کا اثرذائل ہو اور وہ ہوش میں آکرپھر سے عقل وخرد کا دامن پکڑیں اور ایک دوسرے کی گلوخلاصی کریں۔
بیچاری چیونٹیاں، ہوش میں آتی ہیں تو انہیں کچھ سمجھ نہیں آتی کہ آخرہوا کیا تھا۔ انہیں کون بتائے کہ ایک زنبوری گھرکے اندر آئی تھی !
ادھر تتلی کے لاروے کا یہ انجام ہوتا ہے کہ زنبوری کا لاروا انڈے سے نکلنے کے بعد تتلی کے لاروے کو اندر سے ہی کھانا شروع کردیتا ہے حتیٰ کہ اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ پیوپا بنتا ہے تو اس سے تتلی نہیں زنبوری برآمد ہوتی ہے۔
اب یہ جو نومولود زنبوری ہوتی ہے اس کے خول سے اسی قسم کا کیمیکل ایسے خارج ہوتا ہے کہ ایک بار پھر چیونٹیوں کی عقل جواب دے جاتی ہے ،پھر سے وہی سرپھٹول باہم دست وگریباں۔ ہوش میں آتی ہیں تو انہیں کچھ سمجھ نہیں آتی کہ آخرہوا کیا تھا۔ انہیں کون بتائے کہ اس مرتبہ ایک زنبوری گھرکے اندر نہیں باہرکوآئی تھی !۔
(حوالہ: https://www.sciencenews.org/article/sniff-pow-wasps-use-chemicals-start-ant-brawls)
شاید کوئی کہے کہ چرند پرند یا کیڑے مکوڑوں کی ان ’’جاسوسی کہانیوں‘‘ سے اشرف المخلوقات کا کیا لینا ۔ سوائے اس کہ کچھ دیر کے لئے ان قصوں سے بطور ناٹک ، کھیل تماشا یا کہانی محظوظ یا متعجب ہو لیا جائے ۔
لیکن سائنسدان ایسا ہرگز نہیں سوچتے ۔ نہ ہی تحقیق کے نام پہ محض وقت گزاری کے لیئے حشرات الارض کی دنیا میں خود کو مگن رکھتے ہیں بلکہ وہ ان تمام معاملات کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ان سے بہت کچھ حاصل کرتے اور بنی نوع انسان کی بھلائی کے لیئے استعمال میں لاتے ہیں۔
اور مسلمانوں کے لئے تو خصوصاً اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صاف صاف بیان فرمادیا ہے کہ تخلیق کائنات کا عمل کھیل تماشہ ہرگز نہیں :
وَمَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ (الدخان۔ ۳۹)۔
یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے یونہی کھیل کھیلتے ہوئے پیدا نہیں کیا۔
صرف یہی نہیں بلکہ یہ جو کچھ بھی پیدا کیا سب کا سب انسانوں کے لیئے ہی پیدا کیاہے:
ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا )بقرہ آیت ۳۰) وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کا سب پیدا کیا جو زمین میں ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کریم میں کہیں کوے کا ذکرملتا ہے تو کہیں مکڑی اور کہیں مچھر کا۔
یقیناً چرندپرند اور حشرات الارض کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ ان حیرت انگیز نظاموں میں عقل والوں کے لیئے مادی فوائد بھی ہیں ، کھلی کھلی نشانیاں بھی اور یہ نہایت سبق آموز بھی ہیں۔
چنانچہ خواہ ملک و قوم کے دشمن ہوں یا الٰہی سلسلوں کے دشمن اور منافق، ان کا طریق واردات بھی یہی ہوتا ہے کہ چند کمزور ایمان والوں یا سادہ لوح افراد کوچکنی چپڑی باتوں سے ورغلا کر، یا لالچ دے کر، یا بظاہر بڑے ہمدرد بن کر اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل کے لیئے جال میں پھنساتے ہیں اور پھر ایسے افراد دانستہً یا غیر دانستہ ً ان عناصر کا آلہ کاربن کر ملک وملت یا جماعت میں باہم بغض وعناد نفاق اورتفرقہ پھیلانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ بعینہٖ اسی طرح جس طرح مذکورہ بالا زنبوری چیونٹیوں کی کالونی کے اندرتفرقہ برپا کردیتی ہے۔
اسی طرح تتلی کے اس لاروے کی طرح جسے چیونٹیاں اپنا لاروہ سمجھ کر گھر کے اندر لے آتی ہیں اور وہ ان کی صفوں میں ان کی آنکھوں کے سامنے پل رہا ہوتا ہے ، دشمن بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لیئے دوسرے کی صفوں میں ایسے پلانٹڈ (Planted elements) تخریب کاروں یا جاسوسوں کو کمال ہوشیاری سے داخل کردیتے ہیں، جن پر کسی کوہلکا سا بھی گمان نہیں گزرتا اور وہ قوم، ملت یا جماعت کے اندر بڑی آزادی اور بے فکری سے رہ رہے ہوتے ہیں اور پھر خفیہ منصوبہ کے تحت ملت یا جماعت کو نقصان پہنچا کرغائب ہو جاتے ہیں یاغائب کروادیئے جاتے ہیں۔ پس :
اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ۔ الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَیَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّار (اٰل عمران ۱۹۱۔ ۱۹۲)۔
(ترجمہ) یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں صاحبِ عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرتے رہتے ہیں۔ (اور بے ساختہ کہتے ہیں) اے ہمارے ربّ! تُو نے ہرگز یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ پاک ہے تُو۔ پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

