ستمبر1974ء کا غلط فیصلہ اور اس کے بدنتائج
تحریر: ابی نوم
7 ستمبر 1974ء کو ملک عزیز میں کئے جانے والا اسمبلی کا فیصلہ جہاں بلا اختیار (without jurisdiction) ، بغیر اہلیت (competence) اور محض سیاسی اغراض کی خاطر تھا، وہیں درج ذیل قرآنی تعلیمات، اسوۂ رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے فرمودات سے بھی براہ راست متصادم ہونے کے سبب غلط تھا۔
1۔ قرآن کے مطابق فیصلہ کا اختیار:
قرآن کریم نے دینی معاملات میں فیصلہ کا اختیار کسی اسمبلی کو نہیں دیا بلکہ یہ حکم دیا کہ
فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُولِ (نساء20:4)
ترجمہ : اگر تم کسی امر میں اختلاف کروتو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹادو۔اسی طرح فرمایا:
أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِيِّ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِئ أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتُبَ مُفَصَّلًا ( انعام 115:6)
ترجمہ : (تو کہہ دے کہ) کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا ڈھونڈوں حالانکہ وہی ہے جس نے تم پر کھلی کھلی کتاب اتاری ہے۔
اور یہ اصول ٹھہرایا ہے کہ بین المذاہب جھگڑوں کا فیصلہ اللہ ہی کرے گا اور ایسا قیامت کے دن ہو گا۔جیسا کہ فرمایا:
إِنَّ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَ الَّذِيْنَ بَادُوا وَالصَّبِئِينَ وَ النَّصارى وَ الْمَجُوسَ وَ الَّذِيْنَ أَسْرَكُوْا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ ( حج 18:22)
ترجمہ: یقینا جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی بن گئے اور صابی اور نصرانی اور مجوسی اور وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا اللہ یقینا ان کے در میان قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا۔ پس اسمبلی کا اس دینی معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لینا ان قرآنی تعلیمات کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
2۔ قرآن کا دعویٰ تکمیل دین:
قرآن کریم اس امر کا دعویدار ہے کہ
اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (مائدہ 4:5)
ترجمہ : آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا۔
اس مکمل دین میں آنحضرت ﷺ کی ہدایت کے مطابق مسلمان ہونے کے لئے کلمہ طیبہ پڑھنا اور یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، کافی رہا ہے۔ یہی طریق اب بھی تمام امت مسلمہ میں جاری ہے۔ تاہم اس فیصلہ کے تحت اب پاکستان میں کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کا پڑھنا مسلمان ہونے کے لئے ناکافی قرار دیا گیا ہے۔ اور مسلمان قرار پانے کے لئے خود ساختہ نئی شرائط والے ایک حلف نامے پر دستخط ضروری ہو گئے ہیں۔
گویا یہ فیصلہ اور اس پر اصرار کرنے والوں کے نزدیک مسلمان ہونے کا طریق صدیوں بعد اس فیصلہ کے ذریعہ طے ہوا۔ اور گزشتہ پندرہ سوسالوں میں اسلام نعوذ باللہ نامکمل رہا۔ اور اس عرصہ میں جو لوگ صرف یہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے۔ وہ؟
3۔ حدیث رسولﷺ کے مطابق مسلمان کی تعریف:
آنحضرت ﷺ نے کسی شخص کے مسلمان قرار دئے جانے کے لئے اس کا کلمہ پڑھنا کافی سمجھا اور اس بد ظنی کو کہ یہ پڑھنے والا دل میں کوئی اور خیال رکھتا ہے آپ نے سختی سے رد فرمایا جیسا کہ آپ ﷺ نے حضرت اسامہؓ پر اس وقت سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا جب انہوں نے کلمہ پڑھ لینے والے ایک شخص کو یہ کہہ کر قتل کر دیا کہ اس نے یہ دل سے نہیں پڑھا تھا۔ اس موقع کا درج ذیل مکالمہ اس باب میں یقینا حرف آخر ہے۔ فرمایااے اسامہ ! تم نے اسے کلمہ توحید پڑھ لینے کے باوجود قتل کردیا؟ انہوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول اس نے ہتھیار کے ڈرسے ایسا کہا تھا۔ توآپ نے فرمایا ’افلا شققت عن قلبه حتى تعلم اقالها ام لا‘ کہ کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا کہ اس نے دل سے کہا یا نہیں ؟ آپ صلی ﷺ بار بار یہ بات دہراتے تھے ‘۔ (بخاری کتاب المغازی باب اسامہ بن زید)
ایک اور موقع پر آنحضرتﷺ نے مسلمان کی یہ تعریف فرمائی من صلى صلو تنا و استقبل قبلتنا و اکل ذبیحتنا فذالک المسلم الذی لہ ذمۃ اللہ و ذمۃ رسول اللّٰه ( صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ)
ترجمہ: جو شخص بھی ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرکے ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارا ذبیحہ کھائے پس وہ مسلمان ہے اور اسے خدا اور اس کے رسول کی حفاظت حاصل ہے۔
اس کے برخلاف اس فیصلہ کے ذریعہ یہ اعلان کیا گیا کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد، آپ کی سنت اور آپ کی بیان فرمودہ مسلمان کی تعریف درست نہ تھی اور اس کی اصلاح کرتے ہوئے مسلمان ہونے کےلیے نئی شرائط کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نعوذباللہ
4۔ ریاستِ مدینہ کے آئین کے مطابق مسلمان کی تعریف:
مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم ہوئی جس کے سربراہ خود حضرت محمد مصطفی ﷺ تھے۔ آپ ﷺنے انتظام حکومت کے ضروریات کے تحت
مردم شماری کا حکم دیا۔ پوچھا گیا کے مسلمان شمار کیا جائے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:
’اكتبوالي من تلفظ بالاسلام من الناس‘ ( صحیح بخارى كتاب الجہاد)
ترجمہ : لوگوں میں سے جو زبان سے اسلام کا اقرار کرنے والے ہیں انہیں میرے لئے شمار کرو۔
اس ارشاد رسول ﷺ سے ہمیشہ کےلئے طے شدہ اس اصول کے برعکس اس فیصلہ کے تتبع میں آج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمان ہونے کا زبانی اقرار ناکافی سمجھا گیا ہے اور یوں گویا عملاً یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ آں حضرت ﷺ کا فرمودہ اور سنت درست نہ تھا اور اس میں اصلاح کر دی گئی ہے۔ نعوذ باللہ
5۔ توہین رسالت اور توہین قرآن:
اس فیصلہ اور اس کے تحت شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور نکاح کے سرکاری فارموں پر مسلمان ہونے کے حلف نامے مندرجہ بالا آیات اور احادیث کی روشنی میں خود اپنی ذات میں توہین قرآن ہیں اور توہین رسول ﷺ کی بھی۔ پھر اس فیصلہ کے تبتع میں 1984ء میں نافذ کئے جانے والے ظالمانہ قوانین اور ان پر عمل درآمد کے لئے خدا کے گھروں سے اللہ اور رسول کے نام کو بالجبر مثانے اور بعض دفعہ اس عمل کی قانون کے نگہبانوں کو اپنی نگرانی میں جمعداروں کے ذریعہ سر انجام دہی اللہ اور رسول کے ناموں کی ایک شرمناک تو ہین ہے۔
6۔ کلمہ کی توہین والے اس فیصلہ کے بد نتائج:
کلمہ کی ارادتاً تو ہین کا قانون اور بالجبیر اس کا نفاذ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا تھا۔ یہ وہ امر تھا جس کی طرف خلفائے احمدیت نے بار بار توجہ دلائی۔ اوردرستگی نہ کرنے کے بد نتائج سے متنبہ فرمایا۔ وقتی مصلحتوں کے شکار حکمرانوں اور دین کا کاروبار کرنے والے علماء سونے ان نصائح پر کان نہ دھرے اور عوام کالانعام میں سے بیشتر نے اس جاری فلم پر چپ سادھے رکھی اور یوں سب ملک پر عذاب الہی ٹوٹنے میں حصہ دار ہوئے۔
یہ عذاب ہر شکل میں اترا۔ پے در پے سیلابوں اور زلزلہ جیسی آسمانی آفات اور ملک پر ہر جہت سے سے زوال اور قوم پر بد حالی اور مفلسی کی صورت میں نکبت کی مار۔ ان کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے۔
سیلابوں کا سلسلہ:
اس فیصلہ سے اگلے سال 1975 ء میں گزشتہ سالوں سے زیادہ طوفانی بارشیں ہوئیں اور خطر ناک سیلاب آئے۔ جیسا کہ رپورٹ ہوا:
پچاس لاکھ متاثرین:
’سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ سیلاب سے اب تک دس ہزار کے قریب دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ 1973ء میں 6,632 دیہات متاثر ہوئے تھے حالیہ سیلاب سے متاثرین کی تعداد پچاس لاکھ سے بھی زائد ہے جبکہ 1973ء میں اٹھارہ لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔‘ (ہفت روزہ الاعتصام لاہور 20/ اگست 1976 ء)
عذاب خداوندی:
ہفت روزہ المنبر نے اس سیلاب کو عذاب خداوندی لکھا اور یہ بھی کہ
’ہماری اس سے بڑھ کر اور بد قسمتی کیا ہو گی کہ ہم عذاب کو عذاب نہیں سمجھ رہے۔‘ (المنبر لائلپور 26 / اگست 1976ء)
سب ریکارڈمات:
’یہ صحیح ہے کہ اب کے بارش نے سب ریکار ڈمات کر دیئے۔‘ (ہفت روزہ چٹان 16/ اگست 1976ء)
1977ء میں سیلاب سے 848 افراد ہلاک ہوئے اور 17 بلین روپے کا نقصان ہوا۔
1992ء میں سیلاب سے 1,334 افراد ہلاک ہوئے، 50 بلین روپے کا نقصان اور ایک کروڑ کے قریب افراد متاثر ہوئے۔
2005ء میں سیلاب سے متاثرین کی تعداد 70 لاکھ رہی۔ لیکن اس سال زلزلہ بھی آیا۔
(International Disaster Databaseاور South Asia Flood – SAF کی رپورٹس کے مطابق)
تباہ کن زلزلہ:
7؍اکتوبر 2005ء کو مونگ رسول نزد منڈی بہاالدین میں 8 احمدیوں کی شہادت سے اگلی صبح 8 اکتوبر کو پاکستان میں ایک تباہ کن زلزلہ آیا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق اس زلزلے سے سرکاری طور پر 79 ہزار افراد ہلاک ہوئے جبکہ دوسرے ذرائع ہلاکتوں کی تعداد 86 ہزار بتاتےہیں۔ 69ہزار افراد زخمی اور 40لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔
(Earthquake Engineering Research Institute (EERI کے مطابق 7.6 درجہ کے اس زلزلہ میں ہلاک شدگان کی تعداد ایک لاکھ تک ہوسکتی ہے۔ جبکہ ڈھائی لاکھ جانور بھی ہلاک ہوئے۔ 7لاکھ 80 ہزار عمارتیں تباہ ہوئیں۔ بالا کوٹ تقریباً ساراتباہ ہو گیا۔ 35لاکھ افراد متاثرہوئے۔ ورلڈ بینک کے اندازہ میں بحالی اور تعمیرات کے لئے 35 بلین ڈالر درکار ہوں گے۔
سب سے بڑا سیلاب:
مئی 2010 ء میں لاہور میں خدا کے دو گھروں میں احمدیوں کو ظلم اور بربریت کے ساتھ دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ 86 پیارے وجو د خدا کی راہ میں قربان ہو گئے اور 120 زخمی ہوئے۔ اس سانحہ پر ابھی دو ماہ نہ گزرے تھے کہ پورا ملک ایک ایسے طوفان کی زد میں آگیا جس کی کوئی مثال پہلے نہیں ملتی۔ اس سیلاب کی تباہ کاریوں کو 2004ء کے سونامی، 2005ء کے کشمیر کے زلزلے اور 2010ء کے بیٹی کے زلزلے سے ہونے والے مجموعی نقصان سے زائد شمار کیا گیا۔
سیلاب کی شدت:
26 جولائی کو پشاور میں 24 گھنٹوں میں 10.7 انچ ریکار ڈ بارش سے اس طوفانی سلسلے کا آغاز ہوا اور پھرآہستہ آہستہ پورا ملک اس کی لپیٹ میں آگیا اور اس پانی کے سمندر میں جاگرنے تک دو ماہ سے زائد عرصہ لوگ اس آفت کا شکار رہے۔ اس عرصہ میں سیلابی ریلوں کا سلسلہ یوں جاری رہا گو یا آسمان پھٹ پڑا ہے اور زمین کے سوتے بھی۔ بھرے پرے شہروں کو 18 فٹ اونچے پانی کے ریلے گویا بہا کر لے گئے اور آباد گھر کیچڑ اور گارے کے ملبے میں بدل گئے۔ ہزار ہادیہات اور بیسیوں قصبوں کے ساتھ نوشہرہ، مظفر گڑھ، دادو اور ٹھٹہ جیسے پرانے اور بڑے شہر اس سیلاب کی زد میں آئے اور خالی کرانے پڑے۔ ایک وقت میں اس سیلاب کا پھیلاؤ اتنا ہو گیا کہ پاکستان کے کل رقبہ کا پانچواں حصہ زیر آب آگیا۔
سیلاب سے نقصان:
UNO کے ایک جائزہ کے مطابق اس سیلاب سے تقریباً دو ہزار افراد اپنی جان سے گئے اور 2 کروڑ دس لاکھ افراد متاثر اور بےگھر ہوئے۔ 17 ملین ایکڑ زرعی زمین زیر آب آگئی اور کھڑی فصلیں ضائع ہو گئیں۔ صرف کپاس کی 20 لاکھ گانٹھیں تباہ ہوئیں۔ ورلڈفوڈپروگرام (WPF) کی 23 ستمبر تک کی جائزہ رپورٹ کے مطابق 7لاکھ رہائشی گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ 4لاکھ نا قابل رہائش ہو گئے۔ 17,600 اسکول اور 436 علاج کی سہولتیں تباہ ہوئیں۔ 2434 میل ہائی وے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی اور 12 لاکھ سے زائد جانور ہلاک ہوئے۔ ایشین ڈیویلپمنٹ بینک (ADB) کے جائزہ کے مطابق جانوروں، فصلوں، انفراسٹرکچر کے نقصانات کا محتاط اندازہ 69 بلین ڈالر ہے جبکہ معشیت پر اس کے مجموعی اثرات 43 بلین ڈالر کے بقدر۔
عذاب الٰہی:
بارشوں اور سیلاب کے اس سلسلہ اور ان کے نتیجہ میں ہونے والی تباہیوں کو میڈیا میں تاریخ کا بدترین سیلاب، ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی آفت، موجودہ صدی کا سب سے تباہ کن سیلاب، قیامت صغریٰ، طوفان نوح اور عذاب الہی کہا گیا۔ دو کروڑ سے زائد پاکستانی جو اس آفت سے براہ راست متاثر ہوئے جن کی آبادیاں ان کی نگاہوں کے سامنے خس و خاشاک کی طرح بہہ گئیں جو اپنے تمام اثاثوں سے یکدم محروم ہو گئے۔ جن کے مال مویشی بھی اپنی جان سے گئے۔ جو صرف اپنی جان بچا کر کسی اونچی سطح پر تاحد نگاہ پانی کے در میان محصور رہے اور جن کی زندگی کی ڈور کئی کئی دن اس امدادی سامان سے بندھی رہی جو ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ انہیں پہنچایا گیا، جو بے گھر ہو کر عورتوں اور بچوں کے ہمراہ کس مپرسی کے عالم میں دور دراز واقع کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ جن میں سے بہتوں کی ایسی تصویریں آئے دن میڈیا پر دکھائی گئیں جن میں وہ چہروں پر بھوک سجائے حسرت و بے بسی کی تصویر بنے خالی برتن اٹھائے امدادی خوراک کی راہ تک رہے تھے یا ملنے والی ناکافی امداد کے پیچھے باہم دست و گریباں تھے۔ یہ سب اس بارے میں کوئی شک نہیں کر سکتے کہ یہ سیلاب جس کی گزشتہ 90 سال میں کوئی نظیر نہیں ملتی اور جو حیرت انگیز طور پر پہاڑوں پر بھی آیا اور جس میں بہنے والا پانی اس بارش سے زائد شمار ہوا جو محکمہ موسمیات کے ریکارڈ میں آسمان سے برسا صرف اور صرف عذاب الٰہی تھا۔
بڑے سے بھی بڑا سیلاب:
آخر جون 2022ء میں مون سون بارشوں کا آغاز ایک ایسے سیلاب پر منتج ہوا جس نے پہلے سب سیلابوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
The Brookings Institution, Washington کی 10 فروری 2023ء کی رپورٹ کے مطابق (ترجمہ از انگریزی)
’نتائج تباہ کن تھے۔ سیلاب نے ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب کر دیا تھا۔ 15 ہزار افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ اور 80لاکھ بے گھر ۔ 20لاکھ مکان، 13 ہزار کلومیٹر شاہراہیں ، 439 پل اور 40لاکھ ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین یا تو بالکل تباہ ہوئے یا ان کو نقصان پہنچا۔ اندازہ ہے کہ اس سیلاب کے نتیجہ میں 90لاکھ سے زائد افراد غربت کا شکار ہوں گے۔‘
سامان عبرت:
یہ اعدادو شمار جہاں اس سیلاب کو ایک بہت بڑا عذاب اور انسانی المیہ ظاہر کرتے ہیں وہیں سوشل میڈیا پر اس تباہی سے متعلق بعض تصاویر اور بھی عبرت کا سامان ہیں۔ جیسے ایک باپ کا رسی سے بندھی بیٹے کی لاش کو گھسیٹ کر پانی سے نکالنا، پھیلے پانی پر بنے عارضی تنگ پل سے باپ بیٹی کا پھسل جانا اور پھر بیٹی کا لاش ہو جانا، بڑی بڑی بظاہر مضبوط عمارتوں کا تنکوں سے بنے گھروں کی طرح لمحہ بھر میں منہ زور پانی میں بہہ جانا، بہتے پانی میں خود کو بہ جانے سے بچانے کی کوشش کرتے مردوزن، گردن تک پانی میں ڈوبی ایک عورت کا دونوں ہاتھوں سے اپنے سر پر ایک برتن میں صرف اپنے کتے کو سنبھالے آگے بڑھنا، کمر سے اوپر تک پانی میں ڈوبے اور سروں پر اٹھائی چارپائیوں میں گھر کے اثاثے سمیٹے نے ٹھکانوں کے متلاشی خاندان، اور بے شمار وہ تصویریں جن میں پتھر ائے ہوئے انسانی چہروں پر انتہائی کس مپرسی ، بے چارگی ، احساس محرومی ،سب کچھ جاتے رہنے کا صدمہ، بےبسی اور ناامیدی کی تاریکیاں موت کے سائے کی طرح ثبت ہیں۔
دہشت گردی کی مار:
14 جولائی 1987ء کو صدر کراچی میں دو بم دھماکوں میں 75 افراد کی ہلاکت سے پاکستان میں دہشت گردی کی اس لہر کا آغاز ہواجو تاحال جاری ہے اور ابھی یکم ستمبر 2023ء کو میراں شاہ میں ایک میجر سمیت دو افراد شہید ہوئے ہیں۔ اس سال اب تک دہشت گردی کےچھوٹے بڑے 67 واقعات ہوچکے ہیں۔ 2009 ء میں اس میں انتہائی اضافہ ہو ا جب ملک بھر میں اس کے ہاتھوں ہلاکتوں کی تعداد 12 ہزار کو پہنچ گئی۔
ڈان نیوز کے مطابق 2001ء سے 2018ء کے دوران ملک کی معیشت کو دہشت گردی اور اس سے جنگ کے ہاتھوں 127 بلین ڈالر کے قریب نقصان اٹھانا پڑا۔
جانی اور مالی نقصان کے ساتھ متاثرہ علاقوں کے رہائشی اس کے نتیجہ میں جس خوف و ہر اس اور بے یقینی کی کیفیت سے گرتے ہیں وہ خود بھی ایک عذاب سے کم نہیں۔ کراچی اس کی ایک بری مثال ہے جہاں 1985ء سے 2013ء تک کسی نہ کسی شکل میں، کم یازیادہ لوٹ مار، بھتہ خوری، ٹارگٹ
کلنگ، اغوا کا سلسلہ جاری رہا۔ درمیان میں 1992 کے آپریشن کلین اپ میں بھی قتل وغارت گری ہوئی۔
دوسروں کے مقابلہ میں:
اسی صورت حال کے پیش نظر پاکستان دنیا کے دیگر بہت سے ممالک کے مقابلے میں مسلمہ طور پر جرائم اور کرپشن میں دوسروں سے بہت آگے اور نظام عدل میں دوسرں سے بہت پیچھے ہے۔ چنانچہ نمبیو نامی ایک ویب سائٹ ملکوں میں جرائم کی صور تحال کار یکارڈر کھتی ہے۔ اس کے مطابق وسط 2023ء میں پاکستان دنیا کے 144 ممالک میں 85 ویں نمبر پر تھا۔ یعنی 84 ملکوں میں جرائم کی شرح پاکستان سے کم ہے۔ وہ ملک جن میں جرائم پاکستان سے کم ہیں ان میں روانڈا، کیوبا اور نیپال بھی شامل ہیں۔
Corruption Perception Index کے مطابق 2022ء میں پاکستان 180 مملک میں 140 ویں نمبر پر تھا یعنی کرپشن میں 139 ملکوں سے آگے۔1991ء میں جب سے یہ ویب سائٹ شروع ہوئی پاکستان کا منفی اسکور ساڑھے 22 تھا جو اب بڑھ کر 27 ہو گیا ہے۔
WJP Rule of Law Index2022 کے مطابق پاکستان کا عدالتی نظام دنیا کے 140 مملک میں سے 129 ویں نمبر پر ہے یعنی 128
ملکوں سے کم تر اور صرف 11 ملکوں سے بہتر ۔
آج پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے سب ملکوں سے کم درجہ کا ہے سوائے صومالیہ، عراق، شام اور افغانستان کے۔
غرضیکہ ہر میدان میں ملک مسلسل زوال پذیر ہے۔
ذلت اور مسکینی کی مار:
اس فیصلہ کے بعد سے پاکستان پر خوف اور بدامنی کے سائے مسلسل گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ ہر دن گزشتہ دن سے خراب چڑھتا ہے۔ اس سارے عرصہ میں سماجی زندگی کے سارے اشاریے برابر خراب تر ہوتے گئے۔ جہالت، غربت، بدامنی، جرائم اور مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہوا۔ ہر سطح پر ناانصافی کا دور دورہ ہوا اور انصاف کا حصول مشکل تر ہوتا گیا۔ کاروبار ریاست پر نا اہلی کا راج بڑھتا گیا۔ اکثریت کا کمزور طبقوں پر ظلم و جبر ، ان کی عبادت گاہوں کی توڑ پھوڑ اور قبروں کی بے حرمتی اور ان میں قانون نافذ کرنے والوں کی شراکت یا لا تعلقی، منصفین کا قانون کو پس پشت ڈال کر ہوا کے رخ پر چلنے کے واقعات عام ہوئے۔ جھوٹ، بد دیانتی، رشوت ستانی، دھوکہ دہی، بد معاملگی، چور بازاری، ذخیرہ اندوزی، دوسروں کی حق تلفی اور خود حق سے زیادہ کی طلب، لوٹ کھسوٹ، مار دھاڑ، عدم برداشت، عدم رواداری، قصہ مختصر ہر برائی پہلے سے بڑھی اور ہر اچھائی پہلے سے کم ہوئی۔
7- حرف آخر :
1974ء کے فیصلہ کے بد نتائج کو بھگتے ہوئے آج ستے آئے کی حصول میں جانیں گنواتے ، گلی گلی بجلی کے بلوں کی دہائی دیتے، کم قیمت یا مفت اشیائے ضروریہ کےلئے ہاتھ پھیلائے ، جاگیر داری نظام کی زنجیروں میں جکڑے، انصاف اور تمام بنیادی حقوق سے محروم، انتہائی غربت کا شکار ، فاقہ کش اور بے سہارا پاکستان کے عوام بدحالی اور لاچاری کے اس حال کو پہنچ گئے ہیں جس کا قرآن کریم اللہ کے نشانات کا انکار کرنے کے جرم میں ایک قوم کو بطور سزادئے جانے کا یہ ذکر فرماتا ہے کہ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ (بقره2: 62) ترجمہ: اور ان پر ذلت اور مسکینی کی مار ڈالی گئی۔
واپسی کا راستہ ایک ہی ہے۔ غلطی کی اصلاح اور وقت کے امام کی شناخت کے ساتھ عافیت کے حصار میں آنا۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

