Latestاردوتاریخسیاستشخصیتقومی

شیخ مجیب پاکستان کو اکٹھا رکھنا چاہتے تھے

تحریر: سابق ائیر مارشل ظفر چوہدری

’’جنوری 1972ء میں جب میں پی آئی اے کا سربراہ تھا، ایک روز مسٹر عزیز احمد، وزیر مملکت برائے دفاع، نے مجھے فون پر بتایا کہ شیخ مجیب الرحمن کو رہا کیا جا رہا ہے اور انہیں جلد ہی لندن بھجوانا ہو گا۔ یہ انتظام اس طرح ہونا چاہیے کہ ان کے لندن پہنچنے تک کسی کو خبر نہ ہو۔ اگر بات باہر نکل گئی تو ممکن ہے ہندوستان جہاز کو راستے میں گرانے کی کوشش کرے اور کہے کہ یہ حرکت پاکستان نے خود کی ہے۔ آدھی رات کے کچھ ہی بعد مسٹر بھٹو شیخ مجیب الرحمن اور کمال حسین کو لے کر جہاز میں داخل ہوئے اور پھر ہم نے ایک انتہائی حیران کن اور جذباتی سین دیکھا۔ مسٹر بھٹو اور مجیب نے ایک لمبا معانقہ کیا اور پھر مجیب الرحمن نے مسٹر بھٹو کے دونوں رخساروں کو بوسہ دیا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے‘‘۔ یہ اظہار پاکستان ایئر فورس کے سابق سربراہ ایئرمارشل ظفر چودھری نے اپنی یادداشتوں’’ فضائیہ میں گزرے ماہ و سال‘‘ میں کیا ہے۔ یہ کتاب ماہنامہ آتش فشاں 78 ستلج بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور(فون نمبر 0333-4332920) نے شائع کی ہے۔ ایئرمارشل ظفر چودھری نے لکھا ہے کہ راستے میں شیخ مجیب الرحمن نے میرے ساتھ انتہائی جذباتی اور ڈرامائی انداز میں باتیں کرتے ہوئے کہا:’’یحییٰ خاں نے ملک تباہ کر دیا۔ ہندوستانی ڈھاکے میں گھس آئے تھے۔ اگر ہمارے پاس ایک ضلع بھی بچا ہوتا تو میں لوگوں کو منظم کر کے ہندوستانیوں کو مار بھگاتا۔ مجھے واپس بنگال پہنچ لینے دیں میں سب سے پہلے ہندوستانیوں کو نکال باہر کروں گا۔ فکر مت کریں اکٹھا رہنے کی کوئی نہ کوئی راہ نکال لوں گا۔ اب مجھے ہندوستانیوں سے کچھ میٹھی باتیں بھی کرنا پڑیں گی، لیکن یہ میرے دل کی آواز نہیں ہو گی‘‘۔ایئر مارشل (ر) ظفر چودھری اپنی کتاب میں مزید لکھتے ہیں کہ اس پرواز کے دوران میں میرے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شیخ مجیب الرحمن نے یہ بھی کہا:’’بھٹو اچھا آدمی ہے۔ اس نے دو مرتبہ میری جان بچائی۔ تم لوگوں کو اس کا ساتھ دینا چاہئے۔ یحییٰ خاں مجھے پھانسی پر لٹکانا چاہتا تھا‘‘۔ایئر مارشل (ر) ظفر چودھری اپنی ان یادداشتوں میں مزید لکھتے ہیں کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ 1965ء کی جنگ میں پاکستانی افواج کی کارکردگی انتہائی تسلی بخش تھی۔ انہوں نے اپنے سے کہیں بڑے حریف کو کامیاب نہ ہونے دیا اور اسے مجبور کر دیا کہ وہ جنگ بندی کے لیے چارہ جوئی کرے۔ لیکن 65ء کی جنگ کے بعد ہندوستانی افواج نے خاصی پیشہ ورانہ ترقی کی۔ اور ہندوستان نے مناسب وقت پر پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ہندوستان کی مدد سے ’’مکتی باہنی‘‘ نامی فوجی تنظیم وجود میں آئی جسے اس نے وافر ہتھیار اور دیگر سہولتیں مہیا کیں۔ ساتھ ہی مکتی باہنی کی آڑ میں ہندوستانی فوجی بھی چوری چھپے مشرقی پاکستان میں داخل ہونا شروع ہو گئے۔ 71ء کی جنگ کے دوران میں افواہیں گردش کرتی رہیں کہ چین پاکستان کی مدد کو آ رہا ہے اور امریکی بحری بیڑہ مشرقی پاکستان کے دفاع میں حصہ لے گا۔ یہ سب خود فریبی تھی۔ ہمارے دوست چین نے ہمیں مشورہ دیا تھا کہ فوجی اقدام کے بعد بھی مسئلہ سیاسی طور پر حل کیا جائے اور ہندوستان سے جنگ ہر گز نہ کی جائے۔ چین نے پاکستان پر یہ بھی واضح کر دیا تھا کہ جنگ کی صورت میں چین پاکستان کی کوئی فوجی مدد نہیں کر سکے گا۔ 8 دسمبر 1971ء کو پولینڈ نے سیکورٹی کونسل میں جو ریزولیوشن پیش کیا پاکستان نے اس پر بھی کان نہ دھرا اور اپنی حماقت اور ہٹ دھرمی سے ہندوستان کا پرانا خواب پوراکر دیا کہ پاکستان دو لخت ہو جائے۔ اور طاقت کا توازن مزید ہندوستان کے حق میں ہو جائے۔ 19 دسمبر کو فضائیہ کے سربراہ ایئرمارشل رحیم خاں نے مجھے ایک جہاز روم بھیجنے کے لیے کہا تاکہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کو وطن لے آئے۔ یہ جہاز بھیج دیا گیا اور 20 دسمبر 71ء کو مسٹر بھٹو نے راولپنڈی پہنچ کر ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا۔ وہ ملک کی صدارت کے علاوہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر بھی براجمان ہو گئے۔بھٹو صاحب سے متعلق اپنی یادیں تفصیل سے بیان کرتے ہوئے’’فضائیہ میں گزرے ماہ و سال‘‘ میں ایئر مارشل (ر) ظفر چودہری یہ بھی لکھتے ہیں کہ ایک روز بھٹو صاحب نے مجھے کہا:چونکہ وہ سیاسی آدمی ہیں اس لیے بعض اوقات سفارش کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن آپ کو ان سفارشوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔ 1973ء کے وسط میں نائب وزیردفاع عزیز احمد نے مجھے ایک سینئر افسر کو کسی دوسری جگہ پوسٹ کرنے کا کہا۔ میں نے اس دخل اندازی کو مناسب نہ سمجھا۔ پھر عزیز احمد کا مجھے پیغام ملا کہ ’’یہ ایک حکم ہے اور اس کی تعمیل ایک ہفتے کے اندر مکمل کر کے انہیں مطلع کیا جائے‘‘۔ ایئر مارشل (ر) ظفر چودھری لکھتے ہیں، میں بھٹو صاحب سے ملا۔ انہوں نے کہا:’’مجھے معلوم نہیں عزیز احمد نے ایسا کیوں کیا ہے۔ میں اسے سمجھا دوں گا۔ آپ کو اس معاملے میں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں‘‘۔اس دور سے متعلق یادوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے ایئر مارشل (ر) ظفر چودھری مزید لکھتے ہیں کہ بھٹو صاحب کے یہاں کھانے کی دعوت تھی۔ ملازم مشروبات کی ٹرے میرے پاس لایا۔ میں نے اندازے سے وہ گلاس اٹھا لیا جس میں سیون اپ معلوم ہوتا تھا۔ بھٹو صاحب نے یہ دیکھ کر انتہائی بلند آواز میں ملازم سے کہا::’’بیوقوف انسان، تمہیں پتہ نہیں کہ ایئرمارشل نہیں پیتے۔ یہ کیموفلاجڈ وہسکی مولانا کوثر نیازی کے لیے ہے‘‘۔ وزیر صاحب بہت خجل ہوئے اور سب لوگ ہنسنے لگے۔

بشکریہ: روزنامہ پاکستان

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

One thought on “شیخ مجیب پاکستان کو اکٹھا رکھنا چاہتے تھے

  • محمود مجیب اصغر

    اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

    خاکسار
    انجینئر محمود مجیب اصغر

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *