Latestاردوشاعری

غزل: جستجو میں تری مچلتے ہوئے

Share your Love

شاعر: ڈاکٹر فیاض احمد علیگ۔ انذیا

جستجو میں تری مچلتے ہوئے

آ گئے  ہم کہاں پہ چلتے ہوئے۔

ہر قدم ایک چال چلتے ہوئے

گر پڑے یار پھر سنبھلتے ہوئے۔

سر پھرے آخرش سدھر ہی گئے

عشق کی آگ میں پگھلتے ہوئے۔

زندگی کا سفر تمام ہوا

تیری خواہش میں ہاتھ ملتے ہوئے۔

دونوں ناراض ہی رہے ہر پل

عمر بھر ایک ساتھ چلتے ہوئے۔

ہر قدم احتیاط لازم ہے

’’گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے۔‘‘

منتظر باغ میں صنم ہیں ترے

تم بھی آ جاو یوں ہی ٹہلتے ہوئے۔

شرم کچھ تو کرو خدا سے ڈرو

ہر گھڑی زہر یوں اگلتے ہوئے۔

ہم تو فیاض تیرے در سے یونہی

لوٹ آئے ہیں ہاتھ ملتے ہوئے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *