مذہب

حضرت سید میراں محمد شاہ موج دریا

تحریر:مفتی محمد عارف

صوفیاء کرام اسلام کے جمالی پہلو کے ترجمان ہیں اور تصوف کے ذریعے بعض اوقات اسلام کی شانِ جمال کا بھرپور ظہور ہوا ہے، اس کا تابناک اور روشن حصہ وہ ہے جو قرآن و سنت سے ماخوذ یا ہم آہنگ ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صادقین، قانتین، مخلصین، محسنین، عابدین ، خاشعین، متوکلین، صابرین، اولیاء، ابرار وغیرہ ناموں سے اپنے نیک اور صالح بندوں کا ذکر کیا ہے۔

صدق، اخلاص، احسان، عبادت، خشوع و خضوع، فقر، توکل، صبر، شکر چونکہ صوفیا کی صفات ہیں، اس لئے یہ کہنا درست ہے کہ صوفیہ معنوی طور پر ان میں شامل ہیں، اسی طرح قرآن میں توبہ، انابت، اخلاص، صبر، شکر، رضا، توکل، قرب، خوف ، رجاء، مشاہدہ، یقین وغیرہ کی تعریف آئی ہے، یہی چیزیں تصوف میں احوال یا مقامات کہلاتی ہیں، علاوہ ازیں قرآن میں دنیوی زندگی کو لہو و لعب اور دھوکے کی پونجی کہا گیا ہے، یہ چیز تصوف کی اساس ہے اور قرآن حکیم میں اخلاق حسنہ پر خاص زور دیا گیا ہے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ تصوف حسن اخلاق کا دوسرا نام ہے۔

صوفیاءکرام نے برصغیر پاک و ہند میں جو طرزِ معاشرت استوار کی اس میں شرفِ آدمیت اوراحترام انسانیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، صوفیاء نے رنگ ونسل اور علاقائی وقبائلی تقسیم سے بالا ہو کر رواداری،اخوت اور انسان دوستی جیسے جذبوں کو فراواں کیا اور معاشرتی تحفظات اور سوشل سکیورٹی کی بہم رسانی کویقینی بنایا، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے صوفیاءکی تعلیمات کا ابلاغ وقت کی اہم ضرورت ہے، اسی سے دُکھی انسانیت کو سکون اور روادانہ فلاحی معاشرے کی منزل میسر آسکے گی، انھیں مقربین الٰہی ہستیوں میں ایک نام حضرت سید میراں محمد شاہ موج دریا بخاری لاہوری رحمة اللہ علیہ کا ہے۔

نام و نسب: آپ کا اصل نام میراں محمد شاہ تھا اورموج دریا بخاری کے نام سے معروف ہوئے، آپ بخاری سادات میں سے تھے۔سلسلہ نسب اس طرح ہے کہ:” میراں محمد شاہ بن سید صفی الدین بن سید نظام الدین بن سید علم الدین ثانی بن سیدجلال الدین بن سید علم الدین اول سید ناصر الدین بن سید جلال الدین مخدوم جہانیاں جہاں گشت بن سید احمد کبیر بن سید شیر شاہ جلال الدین الا عظم امیر سرخ بخاری رحمہم اللہ ۔“

تاریخ پیدائش: حضرت موج دریا بخاری علیہ الرحمہ 1533ءمیں’ اوچ شریف‘ میں پیدا ہوئے، تذکرة الاولیاء کرام میں لکھا ہے کہ جب شہنشا ہِ اکبر سے قلعہ چتوڑ فتح نہ ہو سکا تو اس نے اپنے وزراء اور خادمین کے کہنے پر آپ سے دعا کے لئے استدعا کی، چنا نچہ آپ کی دعا سے قلعہ فتح کرنےمیں کامیابی ملی، بادشاہ نے آپ سے لاہور میں قیام پذیر ہونے کی درخواست کی تو حضرت موج دریا بخاری علیہ الرحمہ منظورفرما لیا اور یہاں اوچ سے لاہورتشریف لے آئے، تحقیقات چشتی میں مرقوم ہے کہ بادشاہ نے آپ کے نام نو لاکھ روپیہ کی جاگیر علاقہ بٹالہ میں وقف کردی، رائے بہادر مصنف تاریخ لاہور نے لکھا ہے کہ بادشاہ نے با کمال ارادت دو لاکھ روپے کی جاگیر درویشانِ خانقاہ کے خرچ کے لئے دی تھی،سید محمد لطیف نے لکھا ہے جائیداد ایک لاکھ روپے کی ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ فرمان جس کی رو سے یہ جاگیر حضرت سید میراں محمد شاہ رحمة اللہ علیہ کی نذر ہوئی تھی ابھی تک اس خاندان کے پاس محفوظ ہے، اس پر شہنشاہ اکبر کی تصدیقی مہر اور اس کے دستخط موجود ہیں۔

جب آپ لاہور تشریف لائے تو آپ نے علوم ظاہری و باطنی کی ترویج کے لئے ہر ممکن کوشش کی، فیضانِ حق کو حاصل کرنے کے لئے دور دراز سے لوگ لاہور میں آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے تو اپنے دامن کو ان نعمتوں سے مالا مال کرتے، آپ نے یہاں درس و تدریس کا خاص انتظام فرمایا، فقر اور خادماؤں کے لئے مکانات بنوائے، لنگر خانہ قائم کیا، لاہور کے لنگر خانہ کے علاوہ آپ نے دو اور لنگر خانے بٹالہ اور خان فتا میں قائم کئے۔

کرامات حضرت موج دریا: کرامات کا ظہور اللہ تعالیٰ کے نیک و صالح بندوں کے ہاتھوں ہوتا ہے، اس سے مقصد اولیا ءاللہ کے ایمان کو تقویت بخشنا انہیں ثابت قدم رکھنا یا مشکل حالات میں ان کی مدد کرنا ہوتا ہے، شہنشاہِ ہند جلال الدین اکبر کے دور حکومت میں حضرت بابا موج دریا بخاری رحمة اللہ علیہ کی بزرگی کا چرچا ہرجگہ پھیل چکا تھا، آپ کے پاس بہت سی جاگیریں تھیں، آپ نے اپنی جاگیروں کی تمام آمدن خدمت خلق کے لئے وقف کررکھی تھی، جب آپ اُوچ شریف سے لاہور تشریف لائے تو دور دراز سے لوگ لاہور میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر فیض حاصل کرتے۔

حضرت سید میراں محمد شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ کوموج دریا کا لقب سخاوت اور خدمت خلق کی بدولت حاصل ہوا، آپ نے درس و تدریس کا خاص انتظام فرمایا، فقراء اور خادمین کے لئے مکانات بنوائے اور مسافروں کے لئے مسافرخانے تعمیر کروائے، تین بڑے لنگر خانے بھی آپ نے قائم کررکھے تھے جس میں سے لاہور کا لنگر خانہ بہت وسیع تھا جبکہ دو لنگر خانے بٹالہ اور خان فتا میں تھے، ان لنگرخانوں میں طرح طرح کے کھانے تیار کئے جاتے تھے جہاں ہزاروں لوگوں، عقیدت مندوں، مسافروں اور فقراء کو کھانا دیا جاتا تھا، اس کے باوجود لنگر خانوں میں کبھی بھی کھانا کبھی کم نہیں ہوا تھا۔

ایک مرتبہ لگاتار بارشیں ہونے کی وجہ سے سب راستے بند ہوگئے تو اناج لنگر خانے تک نہ پہنچ سکا، ادھرلوگوں نے چاول کھانے کو مانگے مگر لنگر خانے میں چاول کم تھے، حضرت میراں موج دریا بخاری اپنے حجرے میں یاد الٰہی میں مصروف تھے، لنگر خانے کا منتظم آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ” لگاتار بارشوں کی وجہ سے چاولوں سے لدی ہوئیں بیل گاڑیاں لنگر خانے تک نہیں پہنچ سکیں جبکہ لوگ چاہتے ہیں کہ اُنھیں چاول کھلائے جائیں۔“ آپ مسکرائے اور فرمایا: ”اس میں کوئی مضائقہ نہیں، ایک دیگ چولہے پر چڑھا دو اور اُس میں ہم وزن چاول، گھی اور گوشت ڈال کر پکاؤ، جب دیگ تیار ہوجائے تو مجھے بتا دینا۔“ لنگر خانے کے منتظم نے آپ کے حکم کی تعمیل کی اور دیگ میں ہم وزن چاول، گھی اور گوشت ڈال کر دیگ پکا کرتیار کرائی، پھر لنگر خانے کا منتظم حضرت میراں موج دریا بخاری علیہ الرحمة کی خدمت میں حاضر ہوا اور بتایا کہ دیگ پک کر تیار ہوچکی ہے، آپ نے پکی ہوئی دیگ کے اوپر ایک کپڑا ڈال دیا اور دیگ لنگر خانے میں رکھوا دی ، اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ”اب لنگر جاری کردو، جو جس قدر چاول مانگے،اسے دیتے جاؤ اور کپڑا دیگ کے اوپر ہی رہنے دینا۔“ لنگر خانے کے منتظم نے آپ کی ہدایت کے مطابق کپڑا دیگ کے اوپر رہنے دیا اور دیگ کے اندر سے چاول نکال کر لوگوں کو دیتا رہا، چنانچہ ہزاروں لوگ لنگر خانے آتے رہے وہ خود بھی پیٹ بھر کر کھاتے اوراپنے بچوں کے لئے بھی چاول گھروں کو لے جاتے رہے۔

آپ کی کرامت کا یہ سلسلہ 7 دن تک جاری رہا اس دوران دیگ کے اندر چاول ختم نہ ہوئے بلکہ جب بھی دیگ میں سے چاول نکالے جاتے وہ ایسے گرم ہوتے جیسے دیگ ابھی ابھی چولہے سے اُتاری گئی ہو، ایک ہفتہ گزرنے کے بعد جب بارشیں تھم گئیں اورراستے کھل گئے تو کافی مقدار میں چاول لنگر خانے میں پہنچ گئے جس کے بعد حسب سابق لنگر کا انتظام جاری ہوگیا، وہ دیگ کافی عرصہ تک آپ کے مریدین کے پاس رہی اور لوگوں میں ”جادو کی دیگ“ کے نام سے مشہور و معروف بھی رہی۔

اسی طرح حضرت میراں موج دریا بخاری ایک مرتبہ اپنی درس گاہ میں بیٹھے دینی تعلیم دے رہے تھے کہ زمینداروں کی ایک جماعت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ہمارے علاقے مزنگ اور گردونواح کا پانی بہت کھارا اور نمکین ہے، جس سے ہماری فصلیں برباد ہوجاتی ہیں اس لئے آپ دعا فرما دیں کہ پانی شیریں ہوجائے، ”آپ نے اُسی وقت بارگاہِ الٰہی میں گریہ وزاری کے ساتھ پانی کے میٹھے ہونے کی دعا کی اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے مزنگ کے علاقے کے تمام کنوؤں کا پانی میٹھا ہوگیا، مزنگ کا یہ علاقہ آج بھی اسی نام سے لاہور میں موجود ہے جہاں کا پانی آج بھی میٹھا ہے۔

اسی طرح جب شہنشاہِ ہند جلال الدین اکبر کو قلعہ چتوڑ کی مہم درپیش آئی اور قلعہ فتح نہ ہوسکا تواس نے فتح پانے کے لئے حضرت میراں موج دریا بخاری علیہ الرحمة سے دعا کرنے کی درخواست کی، آپ جلال الدین اکبر کی درخواست کو قبول کر کے قلعہ کے پاس تشریف لے گئے اور تین مرتبہ بلند آواز کے ساتھ اپنی زبان مبارک سے اسم مبارک”اللہ “’فرمایا تو اُسی وقت قلعہ فتح ہوگیا، بادشاہ سے لے کر غریب تک آپ کی دعا سے فیض یاب ہوتے رہے۔

تاریخِ وصال: حضرت سید میراں محمد شاہ موج دریا بخاری لاہوری رحمة اللہ تعالیٰ علیہ نے 17 ربیع الثانی 1013 ھ بمطابق ماہِ ستمبر 1604ءمیں وصال فرمایا۔

یہ تحریر مضمون نگار کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *