آسٹریلیا: “لانگ کووڈ “کلینک کا افتتاح
تحریر:ڈاکٹرطارق احمد مرزا۔آسٹریلیا
قارئین کرام جب اڑھائی تین برس قبل دنیا کو کووڈ-19 کی وبا نے اپنی لپیٹ میں لیا تو کسے معلوم تھا کہ مستقبل قریب میں یہ مرض بلا تخصیص بہت سے شمع محفل ٹائپ یار لوگوں سمیت دشتِ تنہائی میں بسنے والے (بظاہر محفوظ) افراد کی بھی تیرہ شبوں میں ان کی دیرینہ ساتھی ثابت ہوگی۔
اچھی بھلی تنہائیوں کا بیڑہ غرق کرنے والاکوئی “ساتھی” بالاخر رخصت ہوجائے اوربے شک ‘نیندیں بھی ساتھ لے گیا اپنے سفر کے ساتھ’ تو پھر بھی غنیمت سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کوئی رخصت بھی نہ ہو اور نیندیں بھی حرام کرڈالے توفی زمانہ اسے “لانگ کووڈ” (Long Covid) کہا جاتا ہے۔
اس تعارف کو محض ایک شوخیء تحریر یا کسی اندھے کی اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی بات ہرگز نہ سمجھاجائے کہ یہ ایک حقیقت ہے اور بہت ہی خوفناک حقیقت۔
چنانچہ کووڈ-19 کا مرض ایک طرف اگر بعض افراد میں کسی بھی قسم کی علامات پیدا کیئے بغیر چپکے سے رخصت ہو جاتاہے تو لکھوکہا ( چھ ملین سے زائد مصدقہ تعداد) کے لیئے جان لیوا بھی ثابت ہوا ہے۔اسی طرح ہزارہا افراد کو جاتے جاتے دائمی نزلے،دائمی دمے، اندھے اور بہرے پن میں مبتلا کرچکا ہے۔ بہت سے افراد کے گردے فیل ہو گئے اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر ڈائلسس کی ضرورت آن پڑی ،بعض مریضوں کی جان ہارٹ اینڈ لنگ ٹرانسپلانٹ کرکے بچائی گئی۔
بعض افراد کو کووڈ کے حملے سے ذیابیطس (شوگر) کا مرض بھی لاحق ہو گیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کی سطح پر جو ننھی منی تکونی قینچیاں سی نظر آتی ہیں وہ جسم کے کسی بھی عضو کے کسی بھی خلیئے کو آناً فاناً (کیمیائی طورپر) کتر کر تباہ کردینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اور اس حوالہ سے انسولین بنانے والا عضو لبلبہ اس کا ایک آسان شکار ہے۔
اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ کووڈ-19 میں مبتلا ہونے والوں کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات ایک سال کے اندر اندر 28 تا چالیس فیصد بڑھ جاتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کووڈ -19 میں مبتلا ہونے کے ایک ماہ سے ایک سال کے عرصے میں باون فیصد سے زائد افراد میں سٹروک یعنی فالج کے آثار ظاہر ہوتے دیکھے گئے،جبکہ دل کا دورہ پڑنے کی شرح تریسٹھ فیصد اور ہارٹ فیل ہونے یعنی اس کے بطورپمپ کام کرنے کے فعل میں کمی کے بہترفیصد تک کے امکانات بڑھے ہوئے دیکھنے میں آئے۔
علاوہ ازیں بہت سی عجیب وغریب قسم کی علامات اور بھی ہیں جو کووڈ -19 لاحق ہونے کے بعد لوگوں کو ایسے چمٹیں کہ ان سے جان چھڑانا مشکل ہو گیا۔
آسٹریلیا کی حکومت نے اب لانگ کووڈ میں مبتلا افراد کی داد رسی کے لئے ملک کے طول وعرض میں اسپیشلسٹ لانگ کووڈ کلینک کھولنے کا پروگرام بنایا ہے جن میں سے پہلے کلینک کا افتتاح سڈنی میں سینٹ ونسنٹ ہسپتال میں چند ماہ قبل کیا گیا۔ اس کے بعد ریاست کوئینزلینڈ کے شہر برسبین، ساؤتھ آسٹریلیا،شمالی علاقہ اور دارالحکومت کینبرا میں بھی اسی منفرد نوعیت کے ایک ایک کلینک کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
یہ کلینک بنیادی طورپر شعبہ امراض سینہ(Respiratory Medicine) کاحصہ ہیں لیکن ان کے ساتھ ہر شعبہ کے ماہرین بطور کنسلٹنٹ منسلک ہیں۔اسی طرح ری ہیب (Rehabilitation Team) کے ماہرین،نیز ماہرین نفسیات اور ماہرینِ غذا وغیرہ بھی اپنی خدمات بجا لاتے ہیں۔
ان مخصوص کلینکس کے قیام سے لانگ کووڈ کو مزید سمجھنے اور اس پرمنظم تحقیق کرنے کے دروازے کھل گئے ہیں۔یاد رہے کہ ابھی ہم لانگ کووڈ کے بالکل ابتدائی دور میں ہیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ لانگ کووڈ کا کوئی ایسا علاج فی الحال موجود نہیں کہ جو سارے جسم کو پہلے جیسا صحتمند کردے لیکن علامات کے مطابق تفصیلی معائینہ اور متعلقہ ٹیسٹ کئے جاتے ہیں اور پھر کوشش کی جاتی ہے کہ نہ صرف ان علامات پر قابو پایا جائے بلکہ مزید پیچیدگیوں کی بھی روک تھام کی جاسکے۔
لانگ کووڈ کیا ہے؟
ماہرین صحت کے مطابق اگر کووڈ-19 میں مبتلا ہونے اور اس کے ابتدائی حملہ کے بعد کچھ یا ساری علامات تین ماہ یعنی بارہ ہفتوں کے بعد بھی جاری رہتی ہیں،یا کوئی نئی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن کی کوئی اور توجیہہ ممکن نہ ہو تو اسے لانگ کووڈ یعنی طویل المدتی کووڈ سمجھا جائے گا۔بشرطیکہ ان کا دورانیہ کم از کم چارہفتے کا ہو۔
مثال کے طور پر اگر زید نامی شخص کو کووڈ ہوا ،اور وہ ڈیڑھ دو ماہ کے اندراندر بالکل تندرست ہو گیالیکن بعد میں ایک دن اسے متلی سی ہوئی اورسر درد محسوس ہوا اور یہ سب کچھ دو دن کے اندراندر زائل ہو گیا تو زید کی ان علامات کو “لانگ کووڈ” کے زمرے میں شمار نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کا دورانیہ چار ہفتے کا نہیں تھا۔
دم تحریر لانگ کووڈ کی تعریف یہی ہے جوکہ مستقبل میں تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔
لانگ کووڈ کی علامات کی فہرست بہت طویل ہے۔فی الحال سامنے آنے والی شکایات میں مستقل نوعیت کی جسمانی یا ذہنی کمزوری نیز سانس پھولنے ، کھانسی،دل کی دھڑکن تیز ہونا، سردرد اور معمولی سا کام کرکے بھی تھک جانے کی علامات سرفہرست ہیں۔
سونگھنے،سننے ،ذائقے کی حس میں تبدیلی،نظام ہضم میں گڑبڑ، بدمزاجی،ڈپریشن اور تشویش (Anxiety) ،یادداشت کمزورپڑنا اور بے خوابی بھی زیادہ دیکھنے میں آئی ہے۔
دل ،گردے،پھیپھڑوں وغیرہ سے متعلق علامات اور پیچیدگیوں کا ذکر پہلے ہی کردیا گیا ہے۔
خلاصتاً یہ کہ (شاعر سے معزرت کے ساتھ) ؎
بیماریاں سمیٹ کے سارے جہان کی
جب کچھ نہ بن سکا تو کووڈ بنادیا !
لانگ کووڈ سے نجات کیسے ممکن ہے؟
بنیادی بات یہ ہے کہ مایوسی گناہ ہے۔ یاد رہے کہ قدرت نے انسانی وجود کو ایک ایسا باریک در باریک نظام بھی عطا کیا ہے جو جسم میں واقع ہونے والے ہر خرابہ کے بعد تعمیر کی بھی ایک صورت نکال ہی لیتا ہے،الا ماشاء اللہ۔
ہمارے لئے یہ امر بہت ضروری ہے کہ مستند معالجین سے جنتا جلد ہو رابطہ کرکے اپنا مکمل چیک اپ کروائیں اور ان کے مشوروں اور ہدایات پر پوری طرح سے عمل کریں۔
اگر میرا معالج میرا معائینہ کرنے اوربلڈ ٹیسٹ یاایکو، سی ٹی سکین ،ایم آر آئی وغیرہ کرنے کے بعد میری بنیادی طبی ضروریات کے مطابق مجھے تین چار مختلف قسم کی نئی ادویات پر ڈال دیتا ہے تو مجھے اس پر رنجیدہ ہونے یا جھنجھلانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ دوا نہیں لوں گا تو نقصان میرا ہی ہوگا،بلکہ میری فیملی اور عزیزوں کا بھی۔
ویسے بھی لانگ کووڈ میں ضروری نہیں کہ مریض کو شروع کروائی ہوئی ادویات تاحیات لینی پڑیں۔ ہو سکتا ہے یہ محض ایک عبوری مدت کے لیئے ہوں تاوقتیکہ متاثرہ فرد مکمل طورپر شفایاب ہو جائے۔ میں اور آپ اس کے بھی تو گواہ ہیں کہ کئی کئی ہفتے بلکہ کئی کئی ماہ وینٹی لیٹرپر پڑے ہوئے کووڈ کے مریض بھی بالاخر صحتیاب ہوگئے اور نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔
مذکورہ حقیقت پسندانہ سوچ اور مثبت رویہ کو اپنانے کے علاوہ اپنے دیگر معمولات زندگی میں بھی ایک مثبت اور صحتمندانہ تبدیلی لانگ کووڈ کی بہت ساری علامات سے چھٹکارا دلانے یا ان کی شدت میں کمی لانے میں معاون ومددگار ثابت ہو رہی ہے۔
ان میں تمباکو نوشی اور منشیات سے کلی پرہیز،موٹاپے سے نجات ، مناسب مقدار میں پانی کا روزانہ استعمال، اسی طرح متوازن خوراک کا استعمال جن میں تازہ سبزیاں اور پھل شامل ہوں،قابل برداشت حد تک روزانہ یا ہفتے میں کم از کم تین دن اور کم از کم تیس منٹ کی ورزش،صبح کی دھوپ لینا، دن میں متعدد بار لمبے لمبے سانس لینے کی مشق،یوگا،عبادت اور اپنی نیند پوری کرنا شامل ہیں۔
کووڈ -19 میں مبتلا ہونے کی صورت میں بروقت طبی امداد حاصل کرنا بھی لانگ کووڈ کی شرح کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے،خاص کر معمر،نحیف اور دائمی امراض میں مبتلا افراد کے لئے اینٹی وائرل ادویات نہ صرف مرض کی شدت اور دورانیہ میں کمی لاسکتی ہیں بلکہ ممکنہ طور پرلانگ کووڈ سے بھی محفوظ رکھ سکتی ہیں۔
اسی طرح محکمہ صحت کی جانب سے تجویز شدہ ویکسینیں خواہ وہ کووڈ -19 کے لئے ہوں یا دیگر متعدی امراض کی ،ڈاکٹر سے مشورہ کرکے ضرور لگوانی چاہیئے۔دنیا بھر میں یہ تحقیق جاری ہے کہ لانگ کووڈ میں مبتلا ہونے والوں میں غیر ویکسین شدہ افراد کا تناسب کیسا دیکھنے کو مل رہا ہے
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ غیر ضروری سفر اور ہجوم سے احتراز،نیز ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال آج بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ گزشتہ دو برسوں میں تھا،گوکہ بعض ممالک میں اب ان کے بارہ میں اتنی سختی نہیں کی جارہی اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آبادی کے ایک بڑے حصے نے کورونا ویکسین کی کم از کم تین تین خوراکیں لگوا لی ہیں ۔ ورنہ اومیکرون اور اس کے نت نئے ویرینٹ دنیا میں ایک نئی تباہی لانے کے لئے پرتول رہے ہیں۔
12 نومبر2022 کو سڈنی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے والےسیاحتی کروز شپ میجسٹک پرنسس پر کووڈ کے 800 مثبت کیسز کا انکشاف ،ریاست نیو ساؤتھ ویلزمیں رواں ماہ نومبر کےایک ہفتہ کے دوران لگ بھگ بیس ہزار نئے کیسز کی رپورٹ اوران میں سے 22 افراد کی کووڈ کے ہاتھوں موت عقل والوں کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔
٭٭٭٭٭
یہ تحریر مضمون نگار کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

