اردوقومی

ہائے اب کیا ہو گا

Share your Love

       تحریر: دانش چوہدری کینیڈا

وہ مبارک صدیقی صاحب نے کیا خوب لکھا ہے نا

خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا کمال یہ ہے
ہوا کی زد پہ دیا جلانا جلا کے رکھنا کمال یہ ہے
ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والے
سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا کمال یہ ہے
کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دکھ بچھڑنے کا بھول جائے
اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا کمال یہ ہے
خیال اپنا مزاج اپنا پسند اپنی کمال کیا ہے
جو یار چاہے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا کمال یہ ہے
کسی کی رہ سے خدا کی خاطر اٹھا کے کانٹے ہٹا کے پتھر
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا کمال یہ ہے
وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے شکست کھائے
لبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا کمال یہ ہے
اس وقت خزاں کی رت بھی ہے اور ہوا کے تھپیڑے بھی اپنے عروج پر ہیں۔ ہمارے چاروں اطراف ایک خوف کی سی فضا ہے ، جنگ کی وجہ سے بے چینی ، کساد بازاری (Recession) اور معاشی گراوٹ کی آمد کے اشارے نوشتہ دیوار ہیں اور اس کے باعث کینیڈا کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ سب سے ذیادہ متاثر ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں نہ “
‏excess of everything is bad”
‎ہر چیز کی زیادتی بری ہے۔
یہی کچھ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ ایک غبارے کو جب بہت ذیادہ پھلا دیا جائے تو جوں جوں اس غبارے کا سائز بڑا ہوتا جاتا ہے تو سب خوش ہو رہے ہوتے ہیں اور خوب تالیاں پیٹتے ہیں مگر اس خوشی میں یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر چیز کی حدود اور قیود ہوتی ہیں اور کسی نعمت کو اگر بے دردی سے استعمال کریں گے تو اس کے منفی نتائج نکلیں گے۔
معاشی قوانین بھی اسی ضابطے کے پابند ہیں۔ اگر کسی کے پاس گھر کی ڈاؤن پیمنٹ کے لئے رقم ہے اور اتنی آمد ہے کہ وہ ایک گھر کے کرائے کے برابر یا کچھ زائد رقم مارگیج کی مد میں دے سکتا ہے تو اس نے اپنا مکان لے لیا۔
اگر آپ کو یاد ہو تو ۲۰۱۷ میں مارکیٹ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مارگیج میں سٹریس ٹیسٹ متعارف کروایا گیا تھا۔ اس کا بڑا مقصد یہی تھا کہ اگر انٹرسٹ ریٹ بڑھ بھی جائیں تو بھی لوگ مارگیج کی قسط ادا کرسکیں۔
کووڈ کے دوران گھروں کی مصنوعی قلت اور گورنمنٹ کی طرف سے بے دریغ پیسہ مارکیٹ میں پھینکا گیا جس سے گھروں کی قیمتیں آسمان سے جا لگیں اور انٹرسٹ ریٹ تاریخ کی کم ترین سطح پر ہونے کی وجہ سے ہم میں سے اکثر اس اصول سے غافل ہو گئے کہ جتنی چادر ہو اتنے ہی پاؤں پھیلانے چاہئیں۔
قیاس آرائی (Speculation)پر مبنی مارکیٹ میں اپنے گھروں کی بڑھی ہوئی قیمت میں سے پیسہ نکال کر دو تین یا چار چار گھر خرید لئے گئے۔ جو کہ ہو سکتا ہے اس کے لئے تو ٹھیک ہوں جس کی آمدن اس کو برداشت کر پائے مگر کم آمدن والے افراد کے لئے یہ بے پناہ رسک والا فیصلہ ثابت ہوا۔ وہ پنجابی کی کہاوت ہے نہ “ اگر گوانڈن دا منہ لال ہے تے اپنا چپیڑاں مار کے نہ کر لو”
انٹرسٹ ریٹ ابھی اور بڑھنے ہیں۔ کم از کم ایک سے ڈیڑھ پرسینٹ۔
بنکوں کی پوری کوشش ہے کہ پانچ سال کی فکسڈ مارگیج کی طرف لوگوں کو لے کر جائیں۔ مگر یہ شائید سب کے لئے مفید نہ ہو۔
وجہ
جو اصول رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر اطلاق پاتا ہے۔
‏excess of everything is bad”
‎ہر چیز کی زیادتی بری ہے۔
اگلے سال کے آخر تک انٹرسٹ ریٹ کم ہونا شروع ہو سکتے ہیں۔ ان پالیسی ریٹ کو بڑھانے کا مقصد مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے۔ اور ڈیمانڈ کو کم کرکے سپلائی کو بڑھانا ہے۔
یہ مقصد جیسے ہی حاصل ہوتا ہے تو یہ انٹرسٹ ریٹ بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے۔
جو ہو گیا سو ہو گیا۔ اب کرنا یہ ہے
خدا تعالی کی راہ میں قربانی کو بڑھا دیں اس سے آپ recession proof ہو جاتے ہیں
اپنے انٹرسٹ ریٹ کو variable ہی رکھیں اور اگر ایک یا دو سال کا فکسڈ 5 % کے آس پاس ملے تو لے لیں
کوشش کریں panic ہو کر اپنی پراپرٹی کو مت بیچیں
اِنکم کو بڑھائیں
بیسمنٹ سے آمدن کو ایک زریعہ کے طور پر اپنائیں
بچت کے ہر ممکن اصول کو مدنظر رکھیں
آئندہ کے لئے اس مشکل سے سبق یہ ہوا کہ اپنی آمدن سے 40 فیصد سے ذیادہ کبھی اپنی مارگیج اور اس سے متعلقہ اخراجات پر صرف نہیں ہونا چاہئے
ہر وقت negative خبروں پر دھیان دینے کی بجائے اپنے کام پر فوکس رکھیں
وقت وہ نہیں رہا تو رہنا یہ بھی نہیں ہے۔
ڈٹ جائیں۔ مردانہ وار مقابلہ کریں حالات کا اور پھر جب اچھا وقت آئے تو اس کا شکر کریں اور غلطیوں کو مت دہرائیں۔۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *