اردوقومی

کرپشن

Share your Love

تحریر: ابن درویش

کرکٹ کے مشہور کھلاڑی، معروف آل راؤنڈر، پاکستان کے لیے ’’ورلڈ کپ‘‘ جیتنے والے عمران خان صاحب بہت عزت اور شہرت کے مالک تھے۔ خدمتِ خلق کے میدان میں بھی کارہائے نمایاں بجالانے کی توفیق ملی اور شوکت خانم کینسر ہسپتال جیسا عظیم رفاہی کام کیا۔ نمل یونیورسٹی بھی آپ کی نمایاں خدمات میں شامل ہے۔ عمران صاحب نے اس پر اکتفا نہ کرتے ہوئے مزید ترقیوں کی سیڑھی پر چڑھنے کےلیے سیاست کا میدان چُنا اور اس میں ہمہ تن مصروف ہوگئے اور ایک سیاست دان کی معراج پر پہنچتے ہوئے ’’وزیراعظم‘‘ کے عہدے تک رسائی حاصل کرلی۔ ان کی زندگی کا یہ دوسرا رُخ کہاں تک کامیاب اور نتیجہ خیز ثابت ہؤا!!!

سیاسی زندگی کا آغاز ’’شریف خاندان‘‘ کی کرپشن کی کہانیوں سے شروع ہؤا یعنی خان صاحب نے مخالف سیاست دانوں کو عام طور پر اور شریف، زرداری خاندان کو خاص طور پر غلط ثابت کرنے پر سارا زور لگادیا۔ ظاہر ہے اس میں اگر کسی کا کوئی کام تھا تو وہ خان صاحب نہیں تھے وہ دوسروں کی کرپشن کا اصرار و تکرار سے ذکر کرتے رہے تاہم وہ اس سلسلہ میں کسی عدالت میں کوئی امر ثابت نہ کرسکے اور یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو ان کے نشانے پر تھے وہ ہمیشہ یہی کہتے رہے بلکہ اب تک بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم پر کسی عدالت میں ’’ایک دھیلے‘‘ کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ وہ جو کہتے ہیں ’’ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا‘‘ پریس میں ایک سیکنڈل کی خبر شائع ہوئی۔ اس خبر میں کم وبیش 400 افراد کے نام تھے۔ اس میں نوازشریف کا نام نہیں تھا لیکن صرف اسی ایک آدمی پر مقدمہ چلا۔ اس زمانے میں اس کو بہت شہرت دی گئی۔ خان صاحب کی ساری توانائیاں اس کیس کو ثابت کرنے میں مصروف ہونے لگیں اور آخرکار کسی اور الزام اور جرم میں ان کو سزا ہوگئی۔ ان کی وزارت عظمیٰ ختم ہوئی۔ زندگی بھر سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگ گئی۔ یہ نتیجہ غلط یا صحیح تھا اس پر وکلاء اور سیاستدان ہمیشہ بحث کرتے رہتے ہیں اور غالباً یہ بات بھی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی طرح موضوع بحث تو ضرور بنی رہے گی لیکن کسی حتمی نتیجہ تک شاید پہنچ پائے۔

ان مقدمات وغیرہ کے دوران محترم خانصاحب سیاسی لحاظ سے مقبولیت اور شہرت کی ایسی منزل پر پہنچ گئے جو ان کو وزارت عظمیٰ کی بلندیوں پر لے گئے۔ وزیراعظم بننے کے بعد بھی ان کا ’’موضوع‘‘ کرپشن ہی رہا۔ جانے والی حکومت بہت خراب تھی۔ ان کے زمانے میں اقتصادی طور پر پاکستان تباہ ہوگیا۔ ان کے زمانے میں خارجہ پالیسی ناکام ہوئی اور پاکستان اکیلا رہ گیا۔ گویا پاکستان ایک مکمل ناکام سلطنت بن چکا تھا۔ اب ہم اس کی اصلاح کریں گے۔ خان صاحب نے ایک کارنامہ یہ بھی انجام دیا کہ اسلام آباد میں 126 دن کا دھرنا دیا اس دھرنے کے متعلق عام تاثر یہی ہے کہ وہ ایک ناکام کوشش تھی کیونکہ اس کا مقصد نوازشریف کا استعفیٰ حاصل کرنا تھا جو حاصل نہیں ہؤا ۔ تاہم جب کبھی دھرنے کی ناکامی کا ذکر ہوتا تو خان صاحب اور ان کے ساتھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے بلکہ اپنے اس کارنامے کو فخریہ انداز میں پیش کرتے رہے۔ دھرنے کے دوران جو کچھ ہوتا رہا اس کے بیان کی ضرورت نہیں البتہ یہ ضرور ہوا کہ خان صاحب سول نافرمانی کی تلقین کرتے رہے۔ بلوں کی ادائیگی سے نہ صرف روکتے رہے بلکہ ایک بل لوگوں کے سامنے جلایا گیا۔ پولیس اور کارکنان کا مقابلہ بھی ہوتا رہا اس زمانے میں خان صاحب نے زورِخطابت کے جو کارنامے انجام دئیے اس میں یہ کبھی بھی خیال نہیں کیا گیا کہ لوگ لاقانونیت کے ساتھ ساتھ بداخلاقی اور فحش گوئی سیکھ رہے ہیں۔ دھرنےکے زمانے میں دور دور تک آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ مہذب اور متمدن شخص نظر نہیں آرہا تھا بلکہ موچی دروازے کے بعض بدنام مقررین کا رنگ نمایاں تھا۔

خاں صاحب کی اصل اور بنیادی شہرت تو ایک کھلاڑی کی تھی مگر ’’سپورٹس مین سپرٹ‘‘ تو کبھی بھی دیکھنے کو نہ ملی۔ اپنےمخالف کو ہر قیمت پر نیچا دکھانے کی ہر وہ کوشش کی گئی جو عام بازاری آدمی کرسکتا ہے۔

سیاسی زندگی میں ایک اور نمایاں کام خاں صاحب نے یہ بھی کیا کہ قریباً ہربات یا وعدہ جلدبازی میں سوچے سمجھے بغیر کرنے کے بعد اس کو بھلاکر بالکل اس کے الٹ بات کرتے اس امر کو U Turn کا نام دیا گیا۔ غالباً انگریزی نام میں اتنی قباحت اور برائی نہیں ہوتی جتنی اس کے متبادل اردو یا کسی اور زبان میں ہوسکتی ہے کیونکہ اردو میں تو اس صورت کو وعدہ خلافی اور جھوٹ کہا جاتا ہے۔ ابھی تک بہت لوگوں کو یہ بات یاد ہوگی کہ خاں صاحب ہمیشہ بڑے وثوق، یقین سے کہا کرتے تھے کہ میں اپنی قوم سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا اور ہمیشہ حقیقت اور سچائی ہی بیان کروں گا۔

خاں صاحب کو اپنی کپتانی پر بجاطور پر بہت فخر ہے جس کا وہ قریباً ہر تقریب اور جلسے میں اظہار بھی کرتے ہیں۔ محترم خاں صاحب کو یہ بہت ہی اچھا موقع ملا تھا کہ وہ بہترین ٹیم چُن کر بہترین مثالیں قائم کرتے مگر یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ ان کی ٹیم ان لوگوں پر مشتمل تھی جن کو وہ جی بھر کر بُرابھلا کہا کرتے تھے۔ اگر یہ بات سچ ہے کہ آدمی اپنے دوستوں سے ہی پہچانا جاتا ہے تو یقیناً خاں صاحب کو پیچھے دیکھتے ہوئے محترم ترین صاحب اور علیم صاحب نظر آئیں گے بلکہ اگر کبھی مخالفوں پر تنقید سے کوئی وقت نکال سکیں تو ان کو چینی سکینڈل، گندم سکینڈل اور متعدد ایسی رپورٹیں ملیں گی جنہیں وہ کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچاسکے۔ خاں صاحب نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ اس کے پیچھے بہت طاقتورمافیاہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صورت حال کا بہتر کرنے اور ’’مافیا‘‘ کو کماحقہٗ سزا دینے کی ذمہ داری وزیراعظم کے علاوہ کسی اور پر ہوتی ہے؟

خلاصہ یہ کہ خاں صاحب کی سیاست کرپشن کی مرہون منت تھی فلاں فلاں بہت کرپٹ تھے اور اس کے بعد یہ کہ میں کرپشن کا مکمل خاتمہ کروں گا۔ خان صاحب اس کسوٹی پر اپنی سیاست کو پرکھیں تو نتیجہ کیا نکلتا ہے؟؟؟

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *