مذہب

کیا آپ خدا کو مانتے ہیں

Share your Love

عبد السمیع خان

اگر آپ خدا کو مانتےہیں تو بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ نے اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانا۔ مگر یاد رکھیں کہ خدا کی سب سے حقیقی، سچی اور کامل تصویر وہ ہے جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہے اور اگر آپ اس خدا کو مانتے ہیں تو نہایت خوش قسمت ہیں۔ کیونکہ آپ نے اس ازلی ابدی خدا سے اپنا تعلق قائم کرنے کا پہلا مرحلہ طے کرلیا ہے۔

اگر آپ خدا کو مانتے ہیں تو قرآن کا پیش کردہ خدا اپنی ذات اور صفات میں احد اور یکتا ہے۔ وہ ہر احتیاج سے غنی ہے نہ اس نے کسی کو جنم دیا اور نہ اس نے کسی سے جنم پایا ہے اور اس کا کوئی ہمسر اور شریک نہیں۔قرآن کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ تمام طاقتوں اور قدرتوں کا مالک ہے۔ تمام صفات حسنہ سے متصف اور رذائل سے منزہ ہے۔ دکھ اٹھانے اور صلیب پر چڑھنے اور مرنے سے پاک ہے۔ اس کی کوئی صفت بھی معطل نہیں ہوتی اور حسب ضرورت تمام صفات ظہور پذیر ہوتی ہیں۔

اگر آپ اس خدا کو مانتے ہیں تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ وہ خالق الکل ہے اور حقیقی تخلیق یعنی زندگی کی روح پھونکنا محض خدا ہی کاکام ہے اور دوسری سب تخلیق روحانی اور استعاراتی رنگ رکھتی ہے۔

اگر آپ خدا کو مانتے ہیں تو پھر یہ بھی ماننا ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ ایک مخفی خزانہ تھا اس نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں سو اس نے انسان کو پیدا کیا تا کہ وہ اس کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھائے اور اس کی رضا کی جنتوں کو حاصل کرے۔ وہ نہایت رحیم و کریم خدا ہے اس کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے۔

قرآن کہتا ہے کہ اس کی ذات لامحدود اور وراء الوراء ہے۔ آنکھیں اس تک نہیں پہنچ سکتیں۔ وہ آنکھوں تک پہنچتا ہے اور اس کی قدرت کے جلوے اس کی نشا ندہی کرتے ہیں۔ وہ فرشتوں کے ذریعہ تمام عالم کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ فرشتے مکمل طور پر اس کے تابع فرمان ہیں اور اس کے حکم سے سرموانحراف نہیں کرسکتے۔

وہ خدا دعاؤں کو سنتا ہے۔ اپنے بندوں کی دستگیری کرتا ہے۔ ان کے لئے اپنی تقدیریں بھی بدل دیتا ہے۔ اپنے پاک بندوں کو دشمنوں کے ہاتھوں رسوا نہیں کرتا اور بالآخران کو غالب کرتا ہے۔ وہ رویا کشوف، وحی و الہام کے ذریعہ ان سے کلام کرتا اور ان کو تسلیاں دیتا ہے۔

خدا نے انسان کو فطرت صحیحہ پر پیدا کیا۔ اس کی روح میں توحید کا بیج رکھ دیا۔ اسے نیکی اور بدی دونوں کے رستے پیش کردیئے اور انسان کو ان میں کوئی بھی رستہ چننے کی آزادی دے دی۔ تاکہ خدا دیکھے کہ کون حسن عمل کرتا ہے اور کون بدعملی کی طرف راغب ہے۔ کون شاکر ہے اور کون منکر ہے۔

خدا نے انسان کو صراط مستقیم پر گامزن کرنے کے لئے ہدایت کا سلسلہ آغاز آدمیت سے شروع کیا۔ ہر زمانہ کی ضرورت اور معاشرت اور انسانی شعور کے مطابق احکامات اور شریعت قریباً ایک لاکھ 24 ہزار نبیوں کے ذریعہ انسان کو عطا کی اور بعد میں حسب حالات ان میں ترمیمات اضافے تبدیلی اور تنسیخ ہوتی رہی اور شرعی اور غیر تشریعی  وحی کا یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی صفت تکلم کے ماتحت جاری رہا۔

جب انسان کا شعور کمال کو پہنچا اور ہدایت کی تمام وجوہ پیش آگئیں۔ تو خدا تعالیٰ نے اپنا کامل کلام قرآن مجید حضرت اقدس محمد  ﷺ پر نازل فرمایا جو قیامت تک انسانی ضروریات کو پورا کرنے والا تھا۔رسول کریم ﷺ نے ایک طرف شریعت کو کمال تک پہنچایا۔ اپنی سنت کے ذریعہ اسے عمل کے سانچہ میں ڈھالا۔ حدیث کے ذریعہ اس کے تائیدی گواہ عطا کئے اور دوسری طرف مکارم اخلاق کو اتمام تک پہنچا دیا۔

 آپ نے سب سابقہ نبیوں اور قوموں کے بزرگوں کو قابل احترام ٹھہرایامگر ان سب کے فیض مختص الزمان و القوم تھے اس لئے وہ سب بند ہوچکے تھے۔ رسول کریم ﷺ نے فیض کے نئے اور بے بہا چشمے کھولے۔ کوئی روحانی برکت اور نعمت ایسی نہیں جو آپﷺ کی پیروی سے نہ ملتی ہو۔

رسول کریم ﷺ کا زمانہ قیامت تک کے لئے ہے اور آپ کی کامل شریعت قرآن بھی ابدالآباد تک انسان کے لئے آخری پیغام ہے اس لئے کوئی زمانہ ایسا نہیں جس میں رسول اللہﷺ کی برکت سے آپ کے متبعین نے حسب پیروی، مجاہدہ اور موھبت روحانی انعام نہ پائے ہوں۔ انہوں نے منعم گروہ کے تمام مراتب حاصل کئے اور کر رہے ہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *