اردو

“ٹائم بم “تیار ہوگئے ہیں

Share your Love

کسی کی تکریم اور توہین انسانی  سوچ کے مختلف دائروں میں  مختلف کیفیات سے گزرتی ہے ۔عین ممکن ہے کوئی اپنی سوچ کے مطابق  کسی کی عزت  کر رہا ہو اور دوسر ا اسے  اپنی بے عزتی گمان کرے۔عقیدہ اور دلی اعتقادات  میں توجہاں ہی اور ہوجاتا ہے ۔کوئی کسی  پاکیزہ ہستی کو بشر کہہ دے تو دوسرا اسے گستاخی شمار کر لیتا ہے اور کوئی نور کہنے کو بد عقیدگی کہتا ہے ۔فوت ہوجانا  اور رحلت فرمانا جیسے الفاظ کے استعمال پر بھی محبت وعقیدت کے پیمانے نکال لیے جاتے ہیں ۔عقیدہ کے معاملےمیں تو ویسے بھی دوسرے پر فتوے بازی بہت آسان ہوتی ہے ۔دوسرے کو جہنم بھجوانے میں  جلد بازی کا مظاہر ہ اس طرح کیا جاتا ہے جیسے جہنم بنانے والے نے اس کو بھرنے کی  ذمہ داری  انہیں کے سپرد کی ہے ۔جنت میں بہنے والی دودھ ا ور شہد کی نہروں پر قبضہ کرنے کی تمنا اور دوسرے کو جہنم کی آگ میں جلانا لگتا ہے ایک شوق بن گیا ہے ۔ بعض  معاشرے اس شوق کو بڑھانے کا موجب بن جاتے ہیں اوراس قدر بڑھاتے ہیں کہ پھر اسے کنٹرول کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتا ہے ۔یہی حال اس وقت پاکستانی معاشرے کا ہو گیا ہے ۔ارباب اختیار نے اپنے فائدے  کے لیے معاشرے کو ایک خاص نہج پر چلانا شروع کیا چالیس پچاس کی “محنت اور کوشش” سے اب ایک ایسی نسل تیار ہوچکی ہے جسے بقول ایک وفاقی وزیر کے “ٹائم بم ” کہنا مناسب ہوگا ۔اس نسل کو جنت میں جانے کا ایک ہی راستہ بتایا گیا کہ دوسرے کو جہنم بھیج کر ۔اور  جنت میں جانے کا  سب سے آسان راستہ یہی لگتا ہے کیونکہ اس میں خود کوئی نیکی کا کام نہیں کرنا ۔نمازیں ،تہجد ،دعائیں اور دیگر نیکی کے کام کرنے کی ضرورت نہیں بس دوسرے کو گستاخ کہنا  ہے اور مار دینا ہے پھر جنت کی حوریں منتظر ہوں گی ۔اس دنیا میں بھی تمام تر عیاشیاں کرو اور پھر کسی گستاخ کو مار کر سیدھا جنت میں جا کر مزے لو ۔کتنا شارٹ کٹ اور آسان راستہ ہے ۔اس راستہ پر چلنے کی عادت پڑ جانا کسی بھی معاشرے کو برباد کر دینے کے لیے کافی ہے ۔مذہب کے ساتھ کھوکھلی جذباتی وابستگی واقعی کسی” ٹائم بم” سے کم نہیں ۔مذہب میں ظاہری آنکھ  سے نظر نہ  آنے والا انجام اور اس کے ساتھ  لذات سے بھر پورتصور  کچے ذہنوں کو ایک خاص طرف لے جاتا ہے۔پھر مذہب کی حقیقی تعلیمات سے ناآشنا لوگ اس تصور کو ہوا دے کر ان کچے ذہنوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔مقاصد کا حصول ہو یا نہ ہو لیکن ان ذہنوں نے معاشرے کو ایک خاص نظر سے ہی دیکھنا ہے جس کے بعد ان “ٹائم بم “سوچوں نے کسی جگہ اور کسی موقع پر بھی پھٹ جانا ہے ۔ان “ٹائم بم دھماکوں “کی  گونج مختلف صورتوں میں نظر آتی رہتی ہے ۔گزشتہ دنوں سیالکوٹ میں اس کی بھر پور گونج سنائی دی ۔ظلم وبربریت سے بھر پور ایک انسانیت سوز واقعہ ہوا ۔ایک سری لنکن منیجر کو گستاخی کا الزام لگا کر انتہائی بے دردی سے مار دیا گیا ۔مارنے والوں  نے صرف اس کی جان لے کر” جہنم واصل “نہیں کیا بلکہ ان “ٹائم بمبوں “کودلی  تسکین اس وقت پہنچی جب انہوں نے اس کی لاش کو سٹرک پر لا کر آگ لگا دی ۔

معاشرے کی بے حسی اس قدر تھی کہ کسی نے یہ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ آخر اس کا قصور کیا ہے ۔بس گستاخی کا الزام سنا اور لگے اپنا ایمان مضبوط کرنے ۔مذہب کی گستاخی تو اس بھرے مجمع نے  کی جس نے مذہب کا نام استعمال کرتے ہوئے وہ غیر مذہبی اور غیر انسانی طریق اپنایا ۔ایک ایسا سٹیکر جس پر لکھی تحریر کو وہ منیجر خود بھی نہیں جانتا تھا کو ہٹانا کیسے گستاخی ہوگیا ۔فیکٹری  عبادت کے لیے نہیں بنائی جاتی ۔عبادت کے لیے مساجد تعمیر کی جاتیں ہیں ۔وہ پاکیزہ اور متبرک مقامات میں شمار ہوتیں ہیں ۔اگر وہ سٹیکر ایسا متبرک اور پاکیزہ تھا تو اسے فیکٹری کی مشین پر لگانے والے سب سے بڑے گستاخ ہیں کہ کیوں انہوں نے ایسا پاکیزہ سٹیکر ایسی جگہ لگایا جو اس کے لیے موزوں ہی نہیں تھی ۔پھر وہ سب مشینیں جن پر سٹیکر لگائے تھے وہ کسی اور ملکیت تھیں ۔اگر ان مشینوں سے سٹیکر ہٹانے سے گستاخی ہوگئی تو پھر کسی کی چیز پر بھی سٹیکر لگا دو اگر اس نے ہٹانے کی کوشش کی تو پھر گستاخی ہوجائے گی حالانکہ ہٹانے والے کے مالکانہ حقوق کو اسلام اور قانون  دونوں تسلیم کرتے ہیں ۔اب  گستاخی  یا توہین سٹیکر لگانا یا ہٹانا اس کا فیصلہ کون کرے گا ؟یہ صرف اس کیس کا  معاملہ نہیں بلکہ گستاخی  یا توہین کی کوئی معین تعریف ملتی ہی نہیں ۔

        ”توہین رسالت“کی شرعی سزاقتل بیان کی جاتی ہے۔لیکن قرآن وحدیث سے اس سزا کے شرعی  ہونے کا استدلال کرنے والے یقینا جانتے ہونگے کہ قرآن کریم اور شریعت نے جب بھی تعزیرات کو بیان کیا ہے تو پوری تفاصیل سے بیان کیا ہے۔واضح احکامات دیے ہیں شرائط بیان کی ہیں۔ زنا،قذف،چوری  وغیرہ ان جرائم کی سزائیں بیان ہوئیں مگر اس کے ساتھ گواہوں وغیرہ کی شرائط لگائی گئی ہیں۔اسے بھی قاضی کے پاس لے جایا جائے گا پھر فیصلہ ہوگا۔”توہین رسالت“سزا قتل بیان تو کی جاتی ہے مگر اس جرم کو ثابت کرنے کی شرائط بیان نہیں کی جاتی۔تحقیق،گواہ وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں۔سب سے بڑی بات یہ کہ توہین کی ہی کوئی تعریف نہیں بیان کی گئی۔رسول کریم ﷺ کی توہین کادیگر مذاہب کے حوالے سے کیا بیان کریں مسلمانوں کے فرقے ایک دوسرے پر توہین رسول ؐ کا الزام لگائے ہیں۔نور وبشر،حاضر وناظر اور عالم الغیب جیسی بحثوں میں الجھ کر ایک دوسرے پر گستاخ رسول ؐ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ایسی صورت میں توہین کی کیاDefination بیان کریں۔یہ بڑا اہم سوال ہےکیونکہ ہر فرقے کے مطابق گستاخی یا توہین کی تعریف مختلف ہوجاتی ہے ۔اگر دیوبندی مکتب فکر کی مسجد کے باہر کسی عرس یا میلاد کا پوسٹر لگا دیا جائے گا تو دیوبندی اسے گستاخی شمار کریں گے اور اگر دیوبندی گستاخی سمجھتے ہوئے اس پوسٹر کو ہٹا دیں گےتو بریلوی اسے گستاخی اور توہین شمار کریں گے ۔ اسی طرح کوئی شیعہ ماتم یا مجلس عزا کا اشتہار کسی سنی مسجد کے باہر لگا دیں گے تو وہاں پر بھی یہی معاملہ ہو گا ۔سنیوں کے نزدیک لگانے والے گستاخ اور اوور گستاخی سمجھ کر ہٹانے پر شیعہ کےنزدیک توہین ۔اس لیے توہین رسالت  کی کوئی معین تعریف کرنا بہت ضروری ہے  اور اگر کوئی تعریف کرنے لگیں گے تو تمام فرقوں کا کسی ایک تعریف پر اتفاق تقریباً ناممکن ہے ۔  پھرایک اور پہلو سے ایک اہم بات یہ ہے کہ گستاخی کی سزا تو اسے ملے گی جو لوگوں کے سامنے گستاخی کرے گا اگر کوئی اکیلے میں یا تنہائی میں رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کر دے گا اسے کیا سز ا ملے گی۔پھر جن ممالک میں توہین رسالت کا قانون نہیں بنا ہوا کیاوہاں توہین کرنے والا بچ جائے گا۔اس لیے خدا نے فرمایا کہ  إِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَہْزِءِیْنَ (الحجر:۶۹)کہ استہزاء کرنے والوں کے مقابل پر تیری طرف سے ہم ہی کافی ہیں۔ پھر جن آیات سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ ان سے رسول کریم ﷺ کی  شان میں گستاخی کرنے والوں کی سزا ثابت ہوتی ہے وہاں پر ہی ان تمام آیات کو چھوڑ دیا گیا ہے جہاں پر شان میں گستاخی کرنے والوں کا ذکر تو ہے مگر ان کی سزا بیان نہیں کی بلکہ اس کے برعکس صبر کا مضمون بیان کیا گیا۔استہزاء اور ہنسی کرنے والوں کا ذکر ہے مگر إِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَہْزِءِیْنَ (الحجر:۶۹)کہ یقینا ہم استہزا ء کرنے والوں کے مقابل پر تجھے بہت کافی ہیں کہہ کرصبر کرنے کا پیغام دیا۔عبد اللہ بن ابی بن سلول رئیس المنافقین نے ایسا گستاخانہ فقرہ کہا جسے کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا۔قرآن کریم میں اس کا ذکر موجود ہے یَقُولُونَ لَاِن رَّجَعْنَا إِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْہَا الْأَذَل(المنافقون:۹)کہ مدینہ کا سب سے معزز شخص یعنی عبد اللہ بن ابی بن سلول نعوذ باللہ نعوذباللہ مدینہ کے سب سے ذلیل شخص یعنی رسول کریم ﷺکو مدینہ سے نکال دے گا۔ قرآن کریم نے اس کا ذکر کیا مگر اس کی سزا کا کوئی ذکر نہیں۔رسول کریم ﷺ او ر صحابہ کے علم میں بھی تھا مگر کسی نے بھی عبدا اللہ بن ابی بن سلول کو قتل نہیں کیا بلکہ رسول کریم ﷺ اس کے فوت ہونے پر اس کا جنازہ پڑھانے تشریف لے گئے۔اور اسے اپنا کرتہ پہنایا۔

        انبیاء کی تکذیب اور مخالفت کا پورے قرآن کریم میں بار بار ذکر ہے۔اس مخالفت کے جواب میں صبر کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اورمخالفین انبیاء کے استہزاء اور تمسخرکے مقابل پر خداتعالیٰ نے اپنی ذات کو بیان کیا ہے۔  ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا کُلَّ مَا جَاء  أُمَّۃً رَّسُولُہَا کَذَّبُوہُ (المومنون:45)

     ترجمہ: پھر ہم نے پے درپے اپنے رسول بھیجے جب بھی کسی امت کی طرف اس کا رسول آیا توا نہوں نے اسے جھٹلا دیا

وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ وَکَفَی بِرَبِّکَ ھَادِیْاً وَنَصِیْراً (الفرقان:32)

        ترجمہ اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے مجرموں میں سے دشمن بنا دئے ہیں۔

کَذَلِکَ مَا أَتَی الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ (سورۃالذاریات:53)

اس لیے وہ علماء حضرات جوتوہین رسالت کے مرتکب کو قتل کی سزا کو شرعی سزا بتا رہے ہیں ان کو اپنے اس موقف پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔یہ بات تحریر کرتے ہوئے قطعاً قطعاً نعوذباللہ رسول کریم ﷺ کی توہین کرنے کو جائز قرار نہیں دیا جارہا بلکہ رسول کریم ﷺ کی حرمت کو قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ رحمۃؐ للعالمین،محسنؐ انسانیت،فخر رسل ؐتمام دنیا کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔آپ کے مشن کی تکمیل اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ساری دنیا آپ کی امت میں داخل ہو۔لوگوں کے دلوں میں تبدیلی پیدا ہو اور وہ دل وجان سے خدا اور رسول کی محبت میں فنا ہوجائیں۔اور یہ محبت  نرمی اور خوش اخلاقی سے پیدا کی جاسکتی ہے نہ کہ قتل اور سزا کا قانون بنا کر۔خدا نخواستہ اگرکوئی توہین کرنے والاہے بھی تو اس کے سامنے رسول کریم ﷺ کی تعلیمات کا حقیقی چہرہ بیان کیا جائے تو یقینا اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا۔اور اپنی غلطی سے توبہ کر لے گا۔مسئلہ یہ ہے کہ غیر ہمارے ہر عمل کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں اگر ہم دنیا کے سامنے یہ تعلیم رکھیں کہ اسلام ہر وقت اپنے ہاتھ میں تلوار لیے کھڑا ہے تو غیر اسلام سے ڈرنے تو لگیں گے مگر اسلام اور بانی اسلام سے محبت کبھی نہیں کریں گے۔

        جب ہم”توہین رسالت“کہتے ہیں اس میں ”رسالت“سے مراد تمام انبیاء مراد ہیں نہ کہ صرف آنحضرت ﷺ۔کیونکہ رسالت تو اس مرتبہ کا نام جو خدا کی طرف سے اپنے برگزیدہ لوگوں کو عطا ہوتا ہے اور برگزیدہ لوگ گمراہی میں ڈوبی انسانیت کو ہدایت کے راستے پر چلاتے ہیں۔اب اگر ہم اپنے رسول ﷺکی حرمت کو قائم رکھنے کا یہ ذریعہ سمجھتے ہیں کہ کوئی قانون بنایا جائے تو دیگر انبیاء کی طرف منسوب امتوں کا حق بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ جس رسول کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ان کی حرمت کو قائم رکھنے کے لیے کوئی قانون بنا لیں تواس طرح  سب سے پہلے  تبلیغ کا کام ختم ہوجائیگا۔ایک مذہب والے اپنے مذہب کو سچا بیان کرتے ہوئے دوسرے کے عقیدہ کو جھوٹا ہونا بیان کرے گا تو دوسرا یہ کہے گا کہ میرے مذہب کی گستاخی اور توہین کر دی ہے ۔اس طرح مذہبی عقائد پر بات کرنا ہی جرم بن جائے گا ۔تبلیغ اور سچے مذہب کی تلاش کی ضرورت ہی ختم ہوجائے گی ۔

WhatsApp Group Join Now

One thought on ““ٹائم بم “تیار ہوگئے ہیں

  • saliha tahir

    Boht khubsurat tahreer…

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *