باغی کون؟
ہم اکثر سنتے ہیں فلاں بڑا بدتمیز ہے اور باغی ہوگیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باغی آخر کون ہے اور یہ کیسے بنتاہے؟ یہ خلل ڈالنے یا تباہ کرنے کا مترادف ہے۔بغاوت کا تصور بغاوت ، تبدیلی یا نقصان سے متعلق ہے، خاص طور پر اخلاقی معنوں میں۔ باغی پن زندگی کے کسی بھی شعبے میں پایا جاسکتا ہے ہم زیادہ تر خبروں یا اخبارات میں حکومت کے باغی ہونے کی خبریں پڑھتے یا سنتے ہیں جس کی سرخیاںکچھ ایسی ہوتی ہیں:
“حکومت کو شمالی جنگلوں میں بغاوت کے ایک نئے پھیلنے کی فکر ہے”
“قوانین کی بغاوت ہمیشہ کسی ادارے میں پریشانی کا باعث ہوتی ہے۔
یہ وہ خبریں ہیں جو حکومتی امور کے اعتبار سے بغاوت کوواضح کرتی ہیں لیکن روزمرہ زندگی میں بھی بغاوت ہوتی ہے اور اس کی خبریں ہم سنتے رہتے ہیں پر افسوس اس اہم معاملے کو صرف نظر کردیتے ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو یہ حکومت کی بغاوت سے زیادہ سنگین ہے کیونکہ یہ انسانی زندگی اور اس کے گرد گھومتے محور پر مبنی ہے۔
بغاوت ہر اس جگہ جنم لیتی ہے جہاں پر مخصوص سوچ اور نظریات کا پرچار ہوتا ہے وہاں پر باغی سراٹھاتا ہے۔اس کا کسی خاص عمر یا صنف سے تعلق ہونا ضروری نہیں ہے،یہ کوئی بچہ ،لڑکا،لڑکی،شادی شدہ عورت /مرد یا پھر اڈھیر عمر حضرات بھی ہوسکتے ہیں۔جب آپ کے جذبات کی تسکین نہیں ہوگی اور احساسات کی قدر نہیں ہوگی،جب کوئی آپ کی بات کو سمجھے سنے بغیر فیصلہ سنادے گا تو پھر بغاوت ہی امڈ آئے گی۔ یہ فطری عمل ہے لیکن اس میں شدت بہت ہی خطرناک عوامل کو جنم دیتی ہے۔
آج کل یہ عناصر زیادہ تر نوجوان نسل میں پائے جارہے ہیں کیونکہ ان کو سمجھا نہیں جارہا ہے اور والدین اپنی پرانی سوچ اور روایات کو برقرار رکھنے پر تلے ہوئے ہیں۔ایسے میں نوجوان اپنے غصے اور ضد کا اظہار کر کے اپنے جذبات اور احساسات کی نشاندہی کررہے ہیں جو کہ نہایت ہی افسوس ناک عمل ہے ۔اس پر ستم کے ان کو باغی کے لقب سے بھی نوازا جارہا ہے جو کہ ان کے جذبات کو شدید قسم کی ٹھیس پہنچانے کا محور بنتا ہے اور ایسے القابات کے بعد تو خود بہ خود انسان بغاوت پر مجبور ہوجاتا ہے۔
لمحہ فکریہ ہے کہ ایسے حالات کیوںپیش آرہے ہیں؟؟؟ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ والدین کی زندگی کے تجربات و مشاہدات ہوتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ درست ہوں،آخر وہ بھی انسان ہیں خطا کار ہیں ۔بعض دفعہ بچوں کی خوشی اور سکون کی خاطر ان کو مارجن دے دینا چاہیے نہ کہ ان پر زبردستی اپنی سوچ کو مسلط کیا جائے۔وقتی طور پر بددلی سے اگر ان کی بات کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس کے نتائج بہت ہی دوررس ثابت ہوتے ہیں۔بہتر تو یہی ہے کہ دونوں فریقین آپس میں اعتدال کا معاملہ اختیار کریں۔”کچھ ان کی سنیں،کچھ اپنی منوائیں ” یہ کلیہ ہی درمیانی راستہ بنا سکتا ہے وگرنہ تباہی اور بے سکونی ہی سب کے مقدر میں آئے گی۔پھر گھر سے بھاگنا،خودکشی کرنا،رشتوں سے بدگمانی ، اور غیروں کے کندھے کو استعمال ہی کیا جائے گا،ایسے میں پھر رونا دھونا اور نصیبوں کو کوسنا کہاں کا انصاف ہے؟؟؟
موجودہ دور میں ڈپریشن یہ جدید نئی نسل کی جدیدبیماریاں ہیں جن کا کوئی حل نظر نہیں آتا اور یہ اس حد تک مہلک ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں اور خطرناک صورتحال اختیار کردیتی ہیں جس سے نجات بہت ہی مشکل ہوجاتی ہے۔ڈاکٹر ہمیشہ ان معاملات میں مریض کو پرسکون رہنے کی ترغیب دیتے ہیں لیکن ایسا تب تک ممکن نہیں جب تک موافق حالات وقوع پذیر نہیں ہوں گے۔
معاشرے میں تباہ کاری کی بڑھوتری کی ان وجوہات کو اگر بروقت کنٹرول نہ کیا گیا توبہت دیرہوجائے گی۔اگر پیارمحبت سے آپس کے معملات کو بخوبی احسن حل کرلیا جائے ،ایک دوسرے کی بات کو سنیں اور اہمیت دیں تو ایسی نوبت ہی نہیں آئی گی اور نہ ہی والدین کو رشتے داروں کے سامنے شرمسار ہونا پڑے گا اور مجبوراََ کہنا پڑے گاکہ “یہ تو باغی ہے”۔
خدارا! ان اہم باتوں پر غور کریں ،ان کو سلجھانے کی کوشش کریں۔انسانی زندگی اتنی ارزاں نہیں ہے کہ وہ ہر وقت تکلیف اور جذبات کی آگ میں جل جل کر خود کو بھسم کرلے۔ذرا سوچیے!ایسا نہ ہو کہ کہیں بہت دیر ہوجائے اور آپ خود اس کے قصوروار ٹھہریں۔ انا کے قید خانے کا میں وہ باغی سامجرم ہوں
جسے پھانسی چڑھاڈالا محبت کے وکیلوں نے

