درس قرآن کریم
اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ يَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَّ يَقْتُلُوْنَ الَّذِيْنَ يَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۲۲اُولٰٓیِٕكَ الَّذِيْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ۲۳ (سورة اٰل عمران آیت 22، 23)
ترجمہ
یقیناً وہ لوگ جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور نبیوں کی ناحق سخت مخالفت کرتے ہیں اور لوگوں میں سے اُن کی بھی شدید مخالفت کرتے ہیں جو انصاف کا حکم دیتے ہیں تُو انہیں دردناک عذاب کی بشارت دےدے۔
یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا میں بھی ضائع ہو گئے اور آخرت میں بھی۔ اور ان کے کوئی مدد گار نہیں ہوں گے۔
تفسیر
اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ: قرآن مجید کی ایک ایک آیت اللہ کی آیت ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود آپ آیت ہیں۔ آپﷺ کے ساتھی آیت ہیں۔
يَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيْرِ حَقٍّ: پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو مقابلہ کرتے ہیں وہ درحقیقت سب انبیاء سے مقابلہ کرتے ہیں کیونکہ آپﷺ کی نبوت میں تمام انبیاء کی نبوت کا ثبوت موجود ہے۔
فَبَشِّرْهُمْ: ایسا کھول کھول کر اس بات کو بیان کر کہ اس کا اثر ان کے چہروں پر ظاہر ہوجاوے۔سورة بقرة میں بھی یہی فرمایا ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ يَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيْرِ الْحَقِّ (البقرة: 62) مَیں اس آیت کے یقیناً یہی معنی سمجھتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ گویا سارے جہاں کے نبیوں کا مقابلہ ہے اور ان کے قتل کی تجویزیں گویا تمام انبیاء کے قتل کے برابر ہے بلکہ آج کل کے جو انصاف سے حکم کرنے والے ہیں یعنی صحابہؓ جن کی تعریف میں آیا ہے وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآیِٕمًۢا بِالْقِسْطِ اور يَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ ان سب سے مقابلہ کی ٹھانی ہے۔
اُولٰٓیِٕكَ الَّذِيْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ: ان کو کھول کر سُنادو کہ تمہاری ساری تجویزیں اور منصوبہ بازیاں ناکام رہ جاویں گی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَیْسِرَةَ شَھْرٍ پھر ان کے دشمنوں کا جو حَشر ہوا وہ سب نے دیکھا۔ اس کے بعد ابوبکرؓ کے مقابلہ میں جو لوگ اُٹھے وہ بھی ناکام رہے۔ جب دُنیا میں یہ حالت ہوئی تو بس آخرت میں بھی ضرور یہی ہوگا۔
وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ: یہود کی قوم اس بات کا ثبوت موجود ہے۔ کسی ملک میں ان کو سر چُھپانے کو جگہ نہیں ملتی۔ جہاں جاتے ہیں جلاوطن کئے جاتے ہیں۔ کوئی آدمی ان کی پیٹھ بھرنے والا نہیں۔ سورہ بقرة میں بھی اسی مضمون کی آیت آئی۔ دیکھو رکوع 10 پارہ اوّل۔ اُولٰٓیِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَةِ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ (البقرة: 87)(حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 457، 458)

