اداریہ
کسی قوم اور معاشرہ کو تباہ کرنے کے چند اصول
ساؤتھ افریقہ یونیورسٹی کے دروازے پر یہ فکرانگیز جملے درج ہیں:
’’کسی قوم کو تباہ کرنے کے لئے ایٹم بم اور دور تک مار کرنے والے میزائلز کی ضرورت نہیں، بس اس کا نظامِ تعلیم گِرادو اور طلباءوطالبات کے امتحانات میں نقل لگانے کی اجازت دے دو، وہ قوم خود تباہ ہوجائے گی۔ اس ناکارہ نظامِ تعلیم سے نکلنے والے ڈاکٹرز کے ہاتھوں مریض مرتے رہیں گے۔ انجینئرز کے ہاتھوں عمارات تباہ ہوجائیں گی۔ معیشت دانوں کے ہاتھوں دولت ضائع ہوجائے گی۔ مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں انسانیت بھی تباہ ہوجائے گی اور ججز کے ہاتھوں انصاف کا قتل ہوجائے گا۔ نظامِ تعلیم کی تباہی قوم کی تباہی ہوتی ہے۔‘‘
یاد رہے یہ وہی اصول ہیں جو قرآن وسنت کے عین مطابق ہیں۔ المیہ یہ کہ ہم نے اس پر عمل نہیں کیا، دوسری قوموں نے عمل کیا اور وہ کامیاب ہوئے۔ یہ وہ سچائی ہے جس کو کوئی ذی شعور انسان جھٹلا نہیں سکتا۔ آج ہماری قوم اور معاشرہ انہی وجوہات سے بُری طرح متاثر ہورہا ہے۔ اس ضمن میں ایک واقعہ یاد آیا۔ جنگ عظیم دوم میں جرمنی نے جب برطانیہ پر حملہ کیا تو برطانیہ کے سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل نے کہا کہ اگر ہماری عدالتیں صحیح فیصلہ کررہی ہیں تو ہم جنگ ہار نہیں سکتے۔ لہٰذا اگر ہر ملک کا عدالتی نظام مضبوط ہے اور وہ انصاف پر مبنی فیصلے کرتا ہے تو قومیں اس سے ترقی پاتی ہیں اور ان کی عوام بھی خوشحال رہتی ہے۔لیکن ہمارے ملک میں تو سب کچھ اُلٹ ہورہا ہے۔ شعبہ ہائے زندگی پر نظر ڈالیں تو آپ کو ہر قسم کی کرپشن نظر آئے گی۔ یقین جانیے یہ قوم اور معاشرہ آج ایسا ہوچکا ہے کہ کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دیتی اور نہ ہی چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ حکمران جماعت بھی خاموش ہے یا پھر اقتدار کے نشے میں مست ہے۔ اس معاشرہ میں گونگے، بہرے، بصیرت سے عاری اندھوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ اس میں کوئی ادارہ بھی حق وانصاف کا ساتھ نہیں دیتا اور ضرورت پڑنے پر سچی گواہی دینے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ ہماری ریاست کے اہم ادارے تو ایسا لگتا ہے کہ بھنگ پی کر سوئے پڑے ہیں۔ حالانکہ یہ اہم ادارے کسی بھی ملک کے لئے اہم ستون اور اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یاد رہے جب ایسی نوبت آجائے تو تباہی ان کا مقدر ہوتی ہے۔پچھلی دو دہائیوں سے ایسا ہی دیکھنے کو ملا ہے۔ ہماری نوجوان نسل اس کا شکار ہوچکی ہے۔ اب جب یہ اپنی عملی زندگی میں یا تعمیر پاکستان میں حصہ لےگی تو ملک کا کیا حال ہوگا وہی جیسا کہ مذکورہ بالا بیان کیاگیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس قوم کو جمہوریت راس نہیں آئی۔ ان حالات کے پیش نظر لنگڑی، لولی جمہوریت اور ریاست کا تقاضا اور اس کے مفاد میں ہے کہ ماضی کے بدترین باب کو بند کرکے مستقبل کی فکر کریں۔ حالیہ مینارہ پاکستان لاہور پر خاتون کے ساتھ زیادتی نے دنیا میں پاکستان کا نام بدنام کردیا۔ گزشتہ پنجاب موٹروے پر پیش آنے والا واقعہ پوری قوم کے لئے انتہائی دردناک اور شرمناک تھا۔ موٹروے والا واقعہ جس میں ایک فرانس سے تعلق رکھنے والی پاکستانی نژاد خاتون کی اجتماعی زیادتی عصمت دری کی گئی اور وہ بھی ان کے معصوم بچوں کے سامنے۔ یہ درندگی کی بدترین مثال ہے۔ ایسے واقعات پاکستانی قوم پر داغ اور دنیا کے سامنے شرمندگی کا باعث ہیں۔ اس سانحہ موٹروے پر سوشل میڈیا پر جو خبر دیکھی اس سے ایسا لگا کہ ریاست بےبسی کا شکار ہے اور پولیس کا ادارہ جس کا مقصد عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا تھا اور قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ افسر اپنی اپنی تاویلیں بیان کرتے رہے جو شرمناک تھیں۔ پچھلی اور نئی حکومت جو بھی آتی ہے وہ یہی کہتی ہے کہ ہم لاہور یا دوسرے شہروں کو پیرس (فرانس) بنادیں گے۔ یہ سب جھوٹ، فراڈ اور دھوکا ہے۔ فرانس کی خاتون کو تحفظ تو ہم دے نہیں سکے، چلے ہیں پیرس اور فرانس بنانے اور پاکستان کی بنیاد قراردادپاکستان لاہور کے واقعے نے تو ہماری شناخت اور ہمارے بانیوں کے نظریات کو شرمندہ کردیا ہے۔
خدارَا اَب یہ نعرہ لگانا چھوڑ دیں اور قوم کو گمراہ نہ کریں۔ قوم کو تعلیم دیں جو نہایت ضروری ہے۔ قومیں اسی سے ترقی پاتی ہیں۔ خواتین اور عوام وہاں محفوظ ہوتی ہیں جہاں ریاست اور قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی اتری ’’اقرأ‘‘ یعنی پڑھ۔ علاوہ ازیں حدیث نبویﷺ ہے: علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔ مطلب یہ کہ علم حاصل کرو اگرچہ اس کے لئے دور دراز جانا پڑے۔ علاوہ ازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کے لئے فدیہ کی رقم مقرر کی تھی۔ ان میں جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں حکم ہوا کہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھادیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے۔ اس سے ہم تعلیم کی اہمیت کا اندازہ بخوبی لگاسکتے ہیں۔ آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ علم کی بدولت کی ہے۔ اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی، عبادت، محبت وخلوص، ایثار، خدمتِ خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ تعلیم کی ہی وجہ سے صالح و نیک معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ یہ کسی بھی قوم یا معاشرے کی ترقی کا ضامن ہے اور قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بھی۔
متذکرہ بالا جو چند اصول بیان کیے گئے ہیں ان تمام اصولوں کا مرکزی نقطہ عدل وانصاف ہے۔ اس سے تمام تقاضے پورےہوتےہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی سورةالنحل آیت 91 میں فرماتا ہے۔ ترجمہ: یقیناً اللہ عدل کا اور احسان کا اور اقرباء پر کی جانے والی عطا کی طرح عطا کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی اور ناپسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کرو۔ دوسری سورةالحجرات آیت 10 میں فرمایا: اور انصاف کرو۔ یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
یہ اسلامی تعلیمات ہر شخص کی روح ہے اور یہ جب تک قائم ہے اس وقت تک اسلام کا وجود بھی سلامت ہے ورنہ ہم میں اور عیسائیوں، یہودیوں میں کوئی فرق نہ رہے گا۔ دعا ہے ہماری قوم، حکمرانوں کو اور ریاست کو حقیقی معنوں میں میثاقِ مدینہ یا ریاستِ مدینہ کے اصولوں پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین
