قربانی کی روح اور مذہبی دہشت گردی
شعبہ بین المذاہب
تحریر ابن قدسیؔ
اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی ابن آدم کی تاریخ۔ قرآن کریم نے قربانی کی اس تاریخ کو محفوظ کیا ہے ۔حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کی قربانی کا بالتفصیل ذکرکرکے قربانی کی اصل حقیقت اور اس کے فلسفہ بیان فرما دیا ہے ۔اسی کے ساتھ بعض بنیادی نفسیاتی مسائل ،ان کا حل اور معاشرتی امن کے اصول بھی بیان کر دیئے ۔ آخری شرعی کتاب میں اس واقعہ کا ذکر ہونا ہی اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے ۔اس واقعہ میں انسان کی انسانیت کو صحیح راستے پر ڈالنے کے لیے کئی ایک باتیں موجود ہیں۔ انسان کے اندر دو جذبے پائے جاتے ہیں بلکہ ان کو دو حقیقتوں کا نام دیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا ۔ان کا صحیح استعمال انسانیت کی معراج تک پہنچا دیتا ہے لیکن ان کا غلط استعمال پستی کی اتاہ گہرائیوں میں پہنچا دیتا ہے ۔اس میں ایک جذبہ محبت اور دوسراجذبہ نفرت ہے۔ محبت انسانی فطرت کا حصہ ہے۔یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کی تسکین کے لیے انسان ساری عمر محنت ومشقت کرتا ہے ۔ا س جملہ میں “تسکین “اور “محنت ومشقت “میں بہت تنوع پایا جاتا ہے ۔محبت کی تسکین کے سامان مختلف ہوتے ہیں ۔چھوٹے بچے کی محبت کی تسکین ماں کی لوری سے ہوجاتی ہے ۔ماں کی پرخلوص محبت سے ادا کئے گئے چند جملے پاک صاف فطرت پر تسکین کا گہرا اثر پیدا کرتے ہیں ۔انسان کا جذبہ محبت پروان چڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی تسکین کے سامان بھی بدل لیتا ہے ۔ دوستوں کی دوستی اچھی لگتی ہے ۔چاہنا اور چاہے جانا محبت کے جذبہ کو پروان چڑھاتے ہیں ۔صنف مخالف میں بھی جذبہ محبت کی تسکین محسوس ہوتی ہے بلکہ یہ صورت تو بعض اوقات کافی مضبوط ہوجاتی ہے لیکن یہ ہوتی عارضی ہی ہے ۔کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تسکین گزرے ہوئے کل کا حصہ بن جاتی ہے اور جذبہ محبت مزید تسکین کی تلاش میں نکل جاتا ہے کیونکہ سانسوں کا دوام انسان کے جذبہ محبت کے ساتھ اس کی سوچ اور فکر میں تبدیلی پیدا کر دیتا ہے ۔ اسی طرح جذبہ نفرت بھی اپنی تسکین کے متنوع سامان رکھتا ہے ۔جذبہ نفرت کی سب سے خطرناک کیفیت حسد اور بغض ہے ۔اس کیفیت میں انسان اندھا ہو جاتا ہے اور بعض اوقات یہی کیفیت پستی کی گہرائیوں تک لے جاتی ہے ۔ مذہبی اور روحانی عالم میں بھی یہی دو جذبے محبت اور نفرت بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔جب محبت الہٰی تمام جذبوں سے بڑھ جاتی ہے تو منزل کے قریب ہوجاتے ہیں ۔اسی محبت الہٰی کے نتیجہ میں شیطان اور شیطانی اعمال سے نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ اسی نفرت سے محبت الہٰی بڑھتی چلی جاتی ہے ۔آخرکار اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوتا ہے ۔شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر محبت کا جذبہ بہت مضبوط بنایا ہے کیونکہ اسی کے ذریعہ منزل ملتی ہے ۔شاید اسی لیے شیطان بھی محبت کے جذبہ کو استعمال کرکے اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کے درمیان دوری پیدا کرتا ہے ۔یہ بہت ہی نازک مسئلہ ہے اور اس مسئلہ کو ناسمجھنے کے نتیجہ میں مذہب کی دنیا میں خون خرابہ اور تلواریں نکل آتی ہیں ۔شیطان محبت الہٰی کے جذبہ میں حسد، بغض،انانیت ،خود غرضی کی ملونی کر کے اس کی صورت انتہائی بدصورت بنا دیتا ہے ۔ایک انتہائی پاکیزہ اور انتہائی اہم جذبہ انتہائی بھیانک شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ خیر بات لمبی سے لمبی ہوگئی لیکن قربانی کی روح اور ہابیل ، قابیل کے واقعہ کو سمجھنے کے لیے اس تمہید کی ضرورت تھی ۔کیونکہ اس واقعہ کے اچھے پہلو اور بھیانک پہلو کو جاننا ضروری ہے ۔ہابیل اور قابیل کی قربانی کا ذکر کچھ ان الفاظ میں ہے۔
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (28) لَئِنْ بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ (29) إِنِّي أُرِيدُ أَنْ تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ (30) فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ (31) فَبَعَثَ اللَّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ قَالَ يَا وَيْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ (32) (المائدہ 28-32)
اور اُن کے سامنے حق کے ساتھ آدم کے دو بیٹوں کا واقعہ پڑھ کر سُنا جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قبول کر لی گئ اوردوسرے سے قبول نہ کی گئ اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کر دوں گا (جواباً) اس نے کہا یقیناً اللہ متقیوں ہی کی (قربانی) قبول کرتا ہے ۔ اگر تو نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ تُو مجھے قتل کرے (تو) میں (جواباً) تیری طرف اپنا ہاتھ بڑھانے والا نہیں تاکہ تجھے قتل کروںیقیناً مں اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔یقیناً میں چاہتا ہوں کہ تُو میرے اور اپنے گناہ اٹھائے ہوئے لَوٹے پھر تُو اہلِ نار میں سے ہو جائے اور ظلم کرنے والوں کی یہی جزا ہوتی ہے ۔ تب اس کے نفس نے اُس کے لئے اپنے بھائ کا قتل اچھا بنا کر دکھایا پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔ پھر اللہ نے ایک کو ّے کو بھیجا جو زمین کو (پنجوں سے) کھود رہا تھا تاکہ وہ (یعنی اللہ) اسے سمجھا دے کہ کس طرح وہ اپنے بھائ کی لاش کو ڈھانپ دےوہ بول اُٹھا وائے حسرت! کیا میں اس بات سے بھی عاجز آ گیا کہ اس کو ّےجیسا ہی ہو جاتا اور اپنے بھائ کی لاش ڈھانپ دیتا پس وہ پچھتانے والوں میں سے ہوگیا۔اب یہ دو بھائیوں کا قصہ ہے لیکن اس میں قیامت تک کے لیے انسانیت کے پر امن معاشرے کے اصول بتا دیئے گئے ۔دو بھائیوں نے قربانی کی۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی محبت میں کی ۔محبت الہٰی میں کی گئی دو قربانیوں میں سے ایک بھائی کی قربانی قبول کر لی گئی ۔اب محبت الہیٰ کے دعوی کے ساتھ کی گئیں قربانیوں میں سے متقی کی قربانی کو قبولیت کا شرف ملاکیونکہ اصل چیز تقویٰ ہے ۔اللہ تعالیٰ صرف ظاہرکو نہیں دیکھتا بلکہ اس کی نظر باطن پر ہوتی ہے ۔ظاہری قربانی بھی اسی کی قبول ہوتی ہے جس کا باطن اللہ تعالیٰ کی محبت سے لبریز ہو ۔اللہ تعالیٰ قربانیوں کا مضمون بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ۔
لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ (الحج 38)
ہرگز اللہ تک نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون لیکن تمہارا تقویٰ اس تک پہنچے گا اِسی طرح اُس نے تمہارے لئے اُنہیں مسخر کردیا ہے تا کہ تم اللہ کی بڑائ بیان کرو اس بنا پر کہ جو اُس نے تمہیں ہدایت عطا کی اور احسان کرنے والوں کو خوشخبری دےدے۔ اللہ تعالیٰ کو ظاہر ی گوشت یا خون نہیں چاہیے اصل چیز تو تقویٰ ہے، اللہ تعالیٰ کی محبت ہے، وہ جذبہ محبت جس کا منبع باطن ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ڈر جو اسی محبت کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری کسی کوتاہی یا غلطی سے ناراض نہ ہوجائے ۔ہر اس چیز سے نفرت جو اللہ تعالیٰ سے دور لے جائے ۔ تو بات ہورہی تھی دو بھائیوں کی قربانی کی ۔متقی کی قربانی قبول کر لی گئی۔تاریخ میں لکھا ہے کہ ہابیل چھوٹا بھائی تھا اور قابیل بڑا بھائی ۔ہابیل کی قربانی قبول کر لی گئی تو بڑے بھائی کو غصہ آیا کہ اس کی قربانی کیوں قبول نہیں کی گئی۔محبت الہٰی میں کی گئی قربانی قبول نہیں ہوئی تو بجائے اس کے کہ بڑا بھائی اس بات پر غور کر تا ہے اللہ تعالیٰ جو دلوں کے حال جانتا ہے اس نے چھوٹے بھائی کی قربانی قبول کر لی میری کیوں نہیں ۔ اوروہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ، اپنی محبت الہٰی کو خالص کرتا ،تقویٰ کے حصول کے لیے کوشش کرتا،بڑے بھائی نے دوسرا راستہ اپنایا ۔ وہ راستہ جس پر آج کل زیادہ تر انسانیت رواں دواں ہے ۔یعنی محبت الہٰی کا نعرہ لگا کر دہشت گردی کرنا ۔بڑے بھائی قابیل نے چھوٹے بھائی ہابیل سے کہا کہ میں تجھے قتل کر دونگا ۔چھوٹے بھائی کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ متقی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ کو پسند تھا ۔بڑے بھائی کو اپنی اصلاح مشکل نظر آئی اور متقی بھائی کا قتل آسان لگا ۔لیکن اصل وجہ یہ تھی کہ محبت الہٰی کاصرف نام تھا اس کے پیچھے خود غرضی ،خود پسندی ،انانیت وغیرہ کی پرستش تھی ۔بھائی بتا بھی رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خالص محبت پسند ہے وہ متقی کو شرف قبولیت بخشتا ہے ۔بڑے بھائی کے بغض اور حسد نے اس کے دماغ پر قبضہ کیا ہوتا ہےاس کو یہ بات سمجھ نہیں لگتی ۔ظاہر ہے شیطان کبھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی خالص محبت الہٰی کرے اس لیے وہ کوشش کرتا ہے کہ لوگوں کو ان کے کام خوبصورت کرکے دکھائے ۔انسان جس قدر بغض وحسد میں بڑھتا ہے۔شیطان اس کی انانیت ،خود پسندی اور خود غرضی کو بڑھاتا جاتا ہے جس کی وجہ سے انسان کو اپنے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا ۔وہ برداشت ہی نہیں کرتا کہ کوئی اور بھی ہوسکتا ہے۔شیطان انسان کی اسی کمزور ی سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔اسی کمزوری کو اس واقعہ میں بیان کیا گیا ہے ۔قابیل نے قربانی قبول نہ ہونے کی وجہ ہابیل کو سمجھا حالانکہ قابیل کی اپنی کمزوری اور کوتاہی کی وجہ سےقربانی قبول نہیں ہوئی ۔متقی بننے میں روک خود اس کا اپنا نفس تھا ۔اسی نفس نے قابیل کو مذہبی دہشت گردی پر ابھارا اور اس نے اپنے متقی بھائی کو قتل کردیا ۔یہ قتل اس کےنفس نے اسے خوبصورت کرکے دکھایا ۔جیسے آج بھی مذہبی دہشت گردی کرنے والے اپنی دہشت گردی کی ہزار توجہیں بیان کرکے اپنے نفس کو مطمئن کرتے اور اپنے کاموں پر خوش ہوتے ہیں ۔حالانکہ ایک لمحے کےلیے نہیں سوچتے کہ جس کی محبت کا نام لے کر سب کچھ کر رہے ہیں کیا اسے یہ سب کچھ پسند ہے کیا اس نے ایسا کرنے کی اجازت دی ہے ۔اس واقعہ میں قاتل بھائی قابیل کے بالمقابل ہابیل نے ہاتھ بھی نہیں اٹھایا بلکہ مقتول بھائی نے کہا کہ “اگر تو نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ تُو مجھے قتل کرے (تو) میں (جواباً) تیری طرف اپنا ہاتھ بڑھانے والا نہیں تاکہ تجھے قتل کروں یقیناً میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔”
واقعہ کا یہ حصہ ایمانیات کی معراج کو بیان کر رہا ہے ۔ مقتول بھائی بھی ہاتھ اٹھا سکتا تھا۔اپنے بھائی کو قتل کر سکتا تھا لیکن اس نے ہاتھ نہیں اٹھایا ۔اس نے دنیا کی اس عارضی زندگی کے بدلے رب العالمین کو مقدم کیا ۔اللہ تعالیٰ کے ڈر کو اہمیت دی ۔اسی ایمان کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کو پسند آیا تھا اور اس کی قربانی قبول کی گئی تھی ۔یہاں ان مذہبی دہشت گردوں کے لیے بھی سبق ہے ۔وہ اپنی طاقت یا تعداد کے زعم میں محبت الہیٰ اور محبت رسول کا دعویٰ کرکے کسی پر ظلم کرتے ہیں اگر ان کو اس کا جواب نہیں دیا جارہا تو انہیں سوچنا چاہیے کہ اتنا ظلم کرنے کے باوجود بالمقابل ہاتھ نہیں بڑھایا جارہا تو کہیں معاملہ رب العالمین کے سپرد تونہیں ہوگیا۔مظلوم اللہ تعالیٰ کے ڈر کو مقدم رکھ کر خاموش ہوگیا ہے اور اس نے اپنی نظریں رب العالمین پر لگائی ہوئیں ہیں ۔اگر ایسا ہے تو ظالم کی دنیا اور آخرت دونوں برباد ہوگئیں ۔ اس واقعہ میں متقی کی سوچ ملاحظہ کریں وہ اس ظلم کو بھی اپنی آخرت سنوارنے کا ذریعہ سمجھ رہا ہے ۔مقتول بھائی کہتا ہے کہ یقیناً میں چاہتا ہوں کہ تُو میرے اور اپنے گناہ اٹھائے ہوئے لَوٹے۔ مقتول بھائی اس ظلم کو اپنے گناہ مٹانے کا ذریعہ سمجھتا ہے ۔اور دوسری طرف قاتل بھائی کے نفس نے ظلم کو اچھاکر کے دکھایا “تب اس کے نفس نے اُس کے لئے اپنے بھائ کا قتل اچھا بنا کر دکھایا پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔ “
بظاہر دنیاوی اعتبار سے قاتل بھائی کامیاب ہوگیا ۔اس نے اپنے نفس کی تسکین کا سامان کر لیا ۔محبت الہٰی کا دعوی کرکے مقتول بھائی کی سانسیں ختم کردیں ۔یہ وقتی کامیابی حقیقی کامیابی سے کوسوں دور ہے ۔اصل نقصان اٹھانے والا قاتل بھائی آخرت کی نعمتوں سے محروم ہوگیا ۔آخرت پر نظر رکھنے والوں کے لیے دنیا وی نقصان کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ حقیقی کامیابی اور حقیقی مقصود تو مرنے کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے ۔متقی ہمیشہ اس حقیقی کامیابی و مقصود پر نظر رکھتا ہے ۔لیکن دنیا میں یہ مذہبی دہشت گردی انسانیت کو اتنا نیچے گر ا دیتی ہے کہ جانوروں چرند پرند سے بھی ادنیٰ کر دیتی ہے ۔انسان تہذیب وتمدن سے بہت دور چلا جاتا ہے ۔اس واقعہ میں ذکر ہے کہ قاتل بھائی کو تہذیب ایک کوے کے ذریعہ سکھائی گئی۔” پھر اللہ نے ایک کو ّے کو بھیجا جو زمین کو (پنجوں سے) کھود رہا تھا تاکہ وہ (یعنی اللہ) اسے سمجھا دے کہ کس طرح وہ اپنے بھائ کی لاش کو ڈھانپ دےوہ بول اُٹھا وائے حسرت! کیا میں اس بات سے بھی عاجز آ گیا کہ اس کو ّےجیسا ہی ہو جاتا اور اپنے بھائ کی لاش ڈھانپ دیتا پس وہ پچھتانے والوں میں سے ہوگیا۔” انسانیت کے رخصت ہونے کے بعد پچھتانے کے علاوہ اور رہ کیا جاتا ہے۔اب مذہبی دہشت گردی کرنے والوں کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ جس مذہب کی محبت میں وہ انتہائی قدم اٹھاتے ہیں ۔کلمہ کو مٹانے سے لے کر اذان کی آواز روکنے تک ،قبروں کے کتبے توڑنے سے لے کر گھر وں کو بربادکرنے تک،مندر کی تعمیر روکنے سے لے کر چرچ گرانے تک، دل کو زخمی کرنے سے لے کر سانسوں کو قتل کرنے تک اگر ان کو یہ زعم ہے کہ اس طرح وہ متقی بن جائیں گے ۔ان کا پیدا کرنے والا ان سے راضی ہوجائے گا تویہ ان کی خام خیالی ہے۔اگر پیدا کرنے والاچاہتا کہ سب ایک ہی راستے پر چلیں اور اپنی سوچ اور سمجھ سے درست راستے کا انتخاب کرنے کی صلاحیت نہ رکھیں تو سب کو ایک ہی مذہب پر پیدا کردیتا ۔ زور زبردستی کا سب سے زیادہ اختیار تو پیدا کرنےوالے کو ہے ۔لیکن وہ چاہتا ہے کہ انسان سوچ سمجھ کر جس راستے کو ٹھیک سمجھے ،اختیار کرے ۔باقی جو غلط راستے پر ہونگے ان کے لیے جہنم تیار ہے صحیح راستے والے جنت میں جائیں گے ۔جہنم کو بھرنے کا ٹھیکہ انسانیت کو نہیں دیا گیا کہ انسان فیصلہ کرے کہ فلاں جہنمی ہے اور اسے جہنم میں بھجوانا اس کی ذمہ داری ہے۔یہ کام اللہ تعالیٰ کا ہے ۔انسان کو اس کے کاموں میں دخل اندازی کی اجازت نہیں ہے ۔محبت الہٰی کا تقاضا ہے کہ اللہ کے کام اللہ کو ہی کرنے دیں اور جو کام انسانوں کے کرنے والے ہیں وہ انسان ہی کریں ۔ ورنہ انسانیت کو سوائے شرمندہ ہونے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔اللہ کی محبت کا نعرہ لگا کر نفرت کا کاروبار ہمیشہ گھاٹے کا سودا رہا ہے ۔

