وہ درخت جس نے کروڑوں انسانی زندگیاں بچانے میں مدد کی مگر خود معدومیت کا شکار ہوا

شعبہ انٹرنیشنل

جنوب مغربی پیرو میں جہاں اینڈیز اور ایمیزون بیسن ملتے ہیں وہاں ہرا بھرا وسیع منو نیشنل پارک ہے۔ 15 لاکھ ہیکٹر پر پھیلا یہ پارک کرۂ ارض پر سب سے زیادہ حیاتیاتی تنوع سے مالا مال مقامات میں سے ایک ہے۔ اس علاقے پر دھند کی ایک چادر پھیلی ہوتی ہے اور یہاں کم ہی لوگوں کا آنا جانا ہوتا ہے۔دریاؤں کو عبور کر کے جب آپ تیندوؤں، چیتوں اور جیگوار سے بچتے بچاتے اس گھنے جنگل میں پہنچیں گے تو آپ وہاں ’سنکونا آفسینیلس‘ درخت کی چند بچی کھچی اقسام کو دیکھ سکتے ہیں۔جو لوگ ان درختوں کو نہیں پہچانتے ان کے لیے اس بارش والے جنگل کی بھول بھولیوں میں 15 میٹر لمبے سنکونا کے درختوں کی شناخت بہت مشکل ہو سکتی ہے۔اینڈیز کے دامن میں اُگنے والے اس درخت سے بہت سارے افسانے جڑے ہیں جس نے صدیوں تک انسانی تاریخ کو متاثر کیا ہے۔پیرو کے ایمیزون علاقے میڈرے ڈی ڈیوس میں پرورش پانے والی نتالی کینلس کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ بہت سے لوگ اس درخت کو نہ جانتے ہوں لیکن اس سے نکالی جانے والی ایک دوا نے انسانی تاریخ میں لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔‘کینلس ڈنمارک کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں ماہر حیاتیات ہیں اور وہ سنکونا کی جینیاتی تاریخ پر تحقیقات کر رہی ہیں۔ کمیابی کے شکار اس پیڑ سے ملیریا کی پہلی دوا کونین بنائی گئی تھی۔سینکڑوں سال قبل کونین کی دریافت کا دنیا نے پُرجوش انداز میں خیرمقدم کیا تھا لیکن اس کے متعلق شکوک و شبہات بھی تھے۔ اسی دوا پر حال ہی میں ایک بار پھر سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔کونین کے مصنوعی ورژن کلوروکوین اور ہائیڈرو آکسی کلوروکوین کو کورونا وائرس کا ممکنہ علاج بتایا گیا ہے لیکن اس پر تنازع فی الحال جاری ہے۔مچھروں کی مختلف اقسام کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری ملیریا نے صدیوں سے انسانوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ اس نے سلطنت روما کو تباہ کر دیا تھا اور 20ویں صدی میں 15 سے 30 کروڑ افراد ملیریا سے ہلاک ہو گئے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی آدھی آبادی اب بھی ان علاقوں میں رہتی ہے جہاں اس بیماری کا انفیکشن موجود ہوتا ہے۔اطالوی زبان میں ’ملیریا‘ کا مطلب خراب ہے۔ اس فاسد خيال کی وجہ سے عہد وسطی میں اس کا علاج بھی غلط طریقے سے کرنے کی کوشش کی گئی۔ملیریا کا علاج جسم سے خون نکال کر، اعضا کو کاٹ کر یہاں تک کہ کھوپڑی میں سوراخ کر کے بھی کیا جاتا تھا۔ملیریا کی پہلی دوا 17ویں صدی میں اینڈیز کے گھنے جنگلات میں دریافت ہوئی۔ زبانی قصوں کے مطابق کونین کی دریافت 1631 میں ہوئی تھی۔سپین سے تعلق رکھنے والی ایک امیر خاتون کاؤنٹیس آف سنکونا کی شادی پیرو کے وائسرائے سے ہوئی۔ وہ بیمار پڑ گئیں، تیز بخار کے ساتھ بدن پر کپکپی طاری ہوتی تھی، جو کہ ملیریا کی علامات ہیں۔اپنی اہلیہ کا علاج کرنے کے لیے وائسرائے نے انھیں ایک دوا پلائی جو جیسوئٹ پجاریوں نے تیار کی تھی۔

درخت کی چھال کی دوائی

اس دوا میں ایک درخت کی چھال تھی جسے لونگ، گلاب کے پتے اور کچھ دوسرے سوکھے پودوں کے ساتھ پیس کر تیار کیا گیا تھا۔کاؤنٹیس جلد صحتیاب ہو گئیں۔ جس کرشماتی درخت سے انھیں شفا ہوئی تھی اسے ’سنکونا‘ کا نام دیا گیا۔ آج یہ پیرو اور ایکواڈور میں قومی درخت کی حیثیت رکھتے ہیں۔زیادہ تر مؤرخین اس کہانی کو نہیں مانتے لیکن اس میں کچھ حقیقت بھی ہے۔کونین ایک الکلائن مرکب ہے جو سنکونا کی چھال میں پایا جاتا ہے۔ یہ ملیریا پھیلانے والے اقسام کو مار سکتا ہے۔ لیکن اس کا پتا سپین کے جیسوئٹ پجاریوں نے نہیں چلایا تھا۔کینلس کہتی ہیں کہ ’سپین کے لوگوں کے آنے سے قبل ہی کیچوا، کینری اور چیمو قبائل کو کونین کا علم تھا۔ انھوں نے ہسپانوی جیسوئٹ کو چھال کے بارے میں بتایا تھا۔‘یہ تینوں قبائلی گروہ موجودہ پیرو، بولیویا اور ایکواڈور میں رہتے ہیں۔ جیسوئٹ کے پجاریوں نے سنکونا کی دارچینی جیسی چھال پیس کر اسے پاؤڈر بنایا جو آسانی سے ہضم ہو سکتا تھا۔اسے ’جیسوئٹ پاؤڈر‘ کہا گیا۔ کچھ ہی دنوں میں ملیریا کے علاج کے لیے ’طلسماتی‘ دوا کے بارے میں یورپ میں شہرہ ہو گیا۔

کونین تجارت

سنہ 1640 کی دہائی تک جیسوئٹ نے سنکونا کی چھال کو پورے یورپ تک پہنچانے کے لیے تجارتی راستے بنائے۔فرانس میں کنگ لوئس چہارم کے بخار کا کونین سے علاج کیا گیا۔ روم میں پوپ کے ذاتی معالجین نے پاؤڈر کا معائنہ کیا اور جیسوئٹ کے پجاریوں نے اسے عوام میں مفت تقسیم کیا۔لیکن اس دوا کو پروٹسٹنٹ انگلینڈ میں شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ کچھ ڈاکٹروں نے اسے کیتھولک سازش اور ’پوپ کا زہر‘ قرار دیا۔اولیور کرومویل کی موت ملیریا کی وجہ سے ہوئی۔ انھوں نے مبینہ طور پر ’جیسوئٹ پاؤڈر‘ لینے سے انکار کر دیا تھا۔بہر حال سنہ 1677 تک رائل کالج آف فزیشنز نے سنکونا کی چھال کو دوا کی سرکاری فہرست میں شامل کیا جس کے بعد پورے انگلینڈ کے ڈاکٹر اس سے مریضوں کا علاج کرنے لگے۔جب سنکونا کا جنون بڑھتا گیا تو یورپی افراد نے مقامی لوگوں کو اس کی چھال نکالنے کے کام پر لگا دیا۔ وہ بارانی جنگل کے اندر جاتے، چھال نکالتے اور اسے پیرو کی بندرگاہوں پر کھڑے جہازوں تک پہنچاتے تھے۔جب سنکونا کی مانگ میں اضافہ ہوا تو سپین نے اینڈیز کو ’دنیا کا دوا خانہ‘ قرار دے دیا۔ سنکونا کے درخت جلد ہی کمیاب ہونا شروع ہو گئے۔19 ویں صدی میں غیر ملکی کالونیوں میں تعینات یورپی فوجیوں میں ملیریا کا خطرہ بڑھا تو سنکونا کی قیمتیں بھی بڑھ گئيں۔

فوج کی ضرورت

’ملیریا سبجیکٹس‘ کے مصنف ڈاکٹر روہن دیب رائے کے مطابق کونین کی مناسب فراہمی ایک سٹریٹجک ضرورت بن گئی تھی۔مسٹر رائے کا کہنا ہے کہ ’نوآبادیاتی جنگوں میں شامل یورپی فوجی اکثر ملیریا کی وجہ سے مر جاتے تھے۔ کونین جیسی دوا نے انھیں زندہ رہنے اور جنگ جیتنے کے قابل بنا دیا۔‘ڈچ فوجیوں نے انڈونیشیا میں، فرانس نے الجیریا میں اور انگریزوں نے ہندوستان، جمیکا اور پورے جنوب مشرقی ایشیا اور مغربی افریقہ میں اس کا استعمال کیا۔سنہ 1848 سے 1861 کے درمیان برطانوی حکومت نے کالونیوں میں تعینات فوجیوں کے لیے سنکونا کی چھال کی درآمد پر سالانہ 64 لاکھ پاؤنڈ خرچ کیے۔ شاید اسی لیے مؤرخین نے کونین کو ’سامراج کا آلہ کار‘ کہا ہے جس نے برطانوی سلطنت کو آگے بڑھایا۔زورخ یونیورسٹی میں ٹریول میڈیسن کی پروفیسر پیٹریسیا سلیگن ہاف نے کہا کہ ’جس طرح آج تمام ممالک کووڈ 19 ویکسین بنانے کی تگ و دو میں ہیں اس وقت کونین کے لیے بھی ایسی ہی تک و دو جاری تھی۔‘سنکونا کی چھال کے ساتھ اس کے بیجوں کی طلب میں بھی اضافہ ہوا۔ دیب رائے کا کہنا ہے کہ ’برطانیہ اور ڈچ حکومتیں اپنی کالونیوں میں سنکونا کے درخت لگانا چاہتی تھیں تاکہ جنوبی امریکہ پر انحصار کم ہو سکے۔‘لیکن صحیح بیج کا انتخاب آسان نہیں تھا۔ سنکونا کی 23 اقسام تھیں اور ان میں کونین کی مقدار مختلف تھی۔ اس کام میں نباتاتی معلومات کے حامل مقامی قبائلیوں نے ان کی مدد کی۔

انڈیا میں سنکونا کے درخت

سنہ 1850 کی دہائی میں انگریز جنوبی ہند میں سنکونا کے درخت لگانے میں کامیاب رہے جہاں ملیریا کا بہت زیادہ خطرہ تھا۔برطانوی حکام نے جلد ہی فوجیوں اور سرکاری ملازمین کو مقامی طور پر تیار کونین دینا شروع کر دیا۔کہا جاتا ہے کہ انھوں نے کونین کا ذائقہ بڑھانے کے لیے اس میں جن ملا دیا۔ اس طرح پہلے ٹانک واٹر اور جن اور ٹانک ڈرنک کی ایجاد ہوئی۔آج بھی ٹانک واٹر میں کونین کی تھوڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ لیکن کتاب ’جسٹ دی ٹانک‘ کے شریک مصنف کم واکر اس کہانی کو فسانہ سمجھتے ہیں۔’ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے باآسانی دستیاب چیزوں کا اس میں اضافہ کیا، چاہے وہ رم ہو، برانڈی یا عرق ہو۔‘سلیگن ہاف کا کہنا ہے کہ جسم میں کونین کی عمر کم ہوتی ہے، لہذا اس کو جن یا ٹانک کے ساتھ پینا ملیریا سے تحفظ کی ضمانت نہیں ہو سکتا۔ان سب کے باوجود ملیریا کی روک تھام میں جن اور ٹانک کا فسانہ جاری رہا۔ ونسٹن چرچل نے مبینہ طور پر کہا تھا ’اس مشروب نے جتنے انگریزوں کی جان بچائی ہے اتنی جانین سلطنت کے تمام ڈاکٹروں نے مل کر بھی نہیں بچائی۔

کونین والے مشروب

لاشبہ جن اور ٹانک فیور ٹری سے وابستہ صرف ایک مشروب ہے۔ آج پیرو میں سب سے مشہور کاک ٹیل پِسکو ساور ہے جسے امریکیوں نے بنایا تھا۔لیکن پیرو کے لوگوں میں سب سے زیادہ مقبول بِٹر ہے، جو کونین کے ذائقے والا پِسکو ٹانک ہے۔ یہ ایک دیسی دریافت ہے جو اکثر اینڈیز کے میز موراڈو (ارغوانی مکئی) کے ساتھ ملا کر پسکو موراڈو ٹانک بنایا جاتا ہے۔کیمپری، پمز یا فرانسیسی لیلیٹ (جیمز بانڈ کی مشہور ویسپر مارٹینی کا ایک اہم جز) میں بھی کونین کا ذائقہ ہوتا ہے۔یہ سکاٹ لینڈ کے ارن برو اور ملکہ الزبتھ دوم کے پسندیدہ مشروب جن اینڈ ڈبونیٹ میں بھی پایا جاتا ہے۔جین اور ڈبونیٹ دراصل شمالی امریکہ کی کالونیوں میں تعینات فوجیوں کے لیے فرانسیسی کیمسٹوں کے ذریعے تیار کردہ ایک اشتہا انگیز مشروب ہے۔سنہ 1970 کی دہائی میں آرٹیمیسنن کی دریافت کے بعد کونین کی طلب میں کمی واقع ہوئی۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں کونین کا چرچہ قائم ہے۔انڈونیشیا کا ’بان ڈنگ‘ آج ’پیرس آف جاوا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ ڈچ اس بندرگاہ والے شہر کو دنیا کے سب سے بڑے کونین مرکز میں تبدیل کر دیا تھا۔آج انڈیا، ہانگ کانگ، سیئرا لیون، کینیا اور سری لنکا کے ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر انگریزی بولی جاتی ہے۔ اسی طرح مراکش، تیونس اور الجیریا میں فرانسیسی بولی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ کونین بھی ہے۔آج بھی ہسپانوی زبان میں ایک کہاوت موجود ہے جس کا مطلب ’کونین سے بھی کڑوی بات‘ ہے۔

کونین سے کمائی

سنہ 1950 کی دہائی میں جب کونین کے لیے عالمی سطح پر مقابلہ تھا تو پیرو اور بولیویا دونوں نے سنکونا کی چھال کی برآمد پر اجارہ داری قائم کر لی۔درحقیقت تاریخی مرکز لا پاز، نیوکلاسیکل کیتھیڈرل اور پلازہ سے بھرے بھرے شہر کے تاریخی مراکز میں کوبلسٹون کی سڑکیں سنکونا کی چھال کی کمائی سے بنی تھیں۔ ایک بار بولیویا کے کل ٹیکس میں سنکونا کا حصہ 15 فیصد تھا۔صدیوں تک جاری سنکونا کی چھال کی مانگ اس کے جنگلات کو تباہ کر دیا۔ سنہ 1805 میں ایکواڈور کے اینڈیز میں 25 ہزار سنکونا درخت تھے۔ اب اس جگہ پوڈو کارپس نیشنل پارک ہے، جہاں سنکونا کے صرف 29 درخت باقی ہیں۔کینلس کا کہنا ہے کہ کونین سے مالا مال اقسام کو انڈیز سے ہٹانے کے سبب سنکونا کے درختوں کا جنیاتی ڈھانچہ بدل گیا۔

سنکونا کا تحفظ

لندن کے رائل بوٹینیکل گارڈن کے تعاون سے کینلس نے میوزیم میں رکھی پرانے سنکونا کی چھال کے نمونوں کا مطالعہ کیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ انسانوں کی وجہ سے درختوں میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں۔وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارا خیال ہے کہ زیادہ استحصال کی وجہ سے سنکونا کی چھال میں کونین کی مقدار کم ہو گئی ہو گی۔‘حال ہی میں عالمی ادارہ صحت نے حفاظتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے کورونا وائرس کے ممکنہ علاج کے طور پر کونین کے مصنوعی ورژن ہائیڈرو آکسی کلوروکوئن کے مطالعہ پر پابندی عائد کر دی ہے۔اگرچہ اب یہ دوا درختوں کی چھال سے نہیں بلکہ لیبارٹری میں تیار کی جاتی ہے پھر بھی کینلس کا کہنا ہے کہ مستقبل میں نئی دواؤں کی دریافت کے لیے سنکونا اور ’دنیا کے دوا خانے‘ کا تحفظ ضروری ہے۔حکومتیں سنکونا کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہیں لہذا کچھ مقامی گروپوں نے یہ کام شروع کیا ہے۔سنہ 2021 میں پیرو کی آزادی کے 200 سال مکمل ہونے پر سیمیلا بینڈیٹا نامی ایک ماحولیاتی تنظیم نے 2021 سنکونا درخت لگانے کا منصوبہ بنایا ہے۔سلیگنہاف کو امید ہے کہ اینڈیز کے حیاتیاتی تنوع کو بچانے کے لیے مزید کوششیں کی جائیں گی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’کونین کی کہانی بتاتی ہے کہ حیاتیاتی تنوع اور انسانی صحت ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔‘’لوگ درختوں کو متبادل دوا کا ذریعہ سمجھتے ہیں جبکہ طبی تاریخ کی کچھ اہم دوائیں ہمین درختوں سے ملی ہیں۔ ‘ (بشکریہ بی بی سی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *