درس القرآن ماہ اگست ۲۰۲۰

اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ئَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مَنْ دُوْنِ اللّٰہِ قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْٓ بِحَقٍّ ط اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ ط تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ ط اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ۔ مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبَُّکْم ج وَ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَہِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ ج فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقَیْبَ عَلَیْھِمْ ط وَ اَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدٌ۔ اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ قَالَ اللّٰہُ ھٰذَا یَوْمَ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ ط لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا اَبَدًا ط رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ ط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ مَا فِیْھِنَّ ط وَ ھُوَا عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (سورۃ المائدۃ آیت 117 تا 119)

ترجمہ : اور (یاد کرو) جب اللہ عیسیٰ ابن مریم سے کہے گا کہ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو؟ وہ کہے گا پاک ہے تو ۔ مجھ سے ہو نہیں سکتا کہ ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہ ہو۔ اگر میں نے وہ بات کہی ہوتی تو ضرور تو اسے جان لیتا۔ تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے دل میں ہے۔ یقینا تو تمام غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔ میںنے تو اس کے سوا کچھ نہیں کہا جو تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ اور میں ان پر نگران تھا جب تک میں ان میں رہا۔ پس جب تو نے مجھے وفات دے دی ، فقط ایک تو ہی ان پر نگران رہا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔ اگر تو انہیں عذاب دے تو آخر یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیںمعاف کردے تو یقینا تو کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔ اللہ نے کہا یہ وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ فائدہ پہنچانے والا ہے۔ ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہنے والے ہیں۔ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اللہ ہی کی بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور اس کی بھی جو ان کے اندر ہے اور وہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔

تشریح : (۱) اس آیت کریمہ میں ذکر ہے کہ حضرت مسیحؑ بروز قیامت کہیں گے کہ ’’ میں نے کبھی بھی لوگوں کو یہ تعلیم دی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کے سوا معبود بنا لو۔ ‘‘ یہ بات بائبل سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ ایک بھی آیت انجیل میں ایسی نہیں جس میں مسیحؑ نے کہا ہو کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کے سوا معبود بنا لو بلکہ جب شیطان نے آپ کو آزمانے کے لئے کہا کہ مجھے سجدہ کرو تب بھی آپ نے جواباً یہ نہیں فرمایا کہ تم مجھے سجدہ کرو۔

(۲) اس آیت کریمہ میں عیسٰی علیہ السلام کی وفات کا صراحتاً ذکر ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ رہے ان کی اپنی قوم (بنی اسرائیل) میں شرک نہیں پھیلا۔ جب آپ فلسطین سے ہجرت کر گئے تو سینٹ پال (Sain Paul) نے یونانیوں کو جو بنی اسرائیل نہیں تھے گمراہ کیا اور انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معبود بنا لیا۔ بنی اسرائیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم دعوت تھی ان میںحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں شرک نہیں پھیلا ۔

(۳) اس آیت کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام نے بڑی حکمت سے گنہگاروں کی بخشش کی دعا کی ہے کہ اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر معاف فرما دے تو تو کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *