تعصّب، نفرت معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے

اداریہ

مدیر اعلیٰ محی الدین عباسی

تعصّب، نفرت اور عصبیت زمانہء جاہلیت کی پیداوار ہیں، بلکہ یہ انتہا پسندی کا دوسرا نام ہے۔ یہ نفرت، تفرقہ، گمراہی اور بغض کو بڑھا دیتا ہے اور تعصبات حق و انصاف اور اصول پسندی کے دشمن ہیں۔ کوئی معاشرہ اس سے باہر نہیں رہ سکتا ، اسی لئے ہر انسان اس کا شکار ہو جاتا ہے۔ تعصب کی مرئی اور غیر مرئی لاتعداد شکلیں ہیں۔ دنیا کے اکثر علاقوں اورخصوصاً پاکستان میں تعصّب کو فروغ حاصل ہؤا ہے۔اخبارات اور سوشل میڈیاپر آئے دن ہم پڑھتے رہتے ہیں کہ فلاں مذہبی جماعت یا فرقہ کے افراد کو روزمرہ کے معمولات ادا کرتے ہوئے بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔ نفرت اور تعصّب کی بنیاد پر یکم جولائی۲۰۲۰کو شیخوپورہ میں ایک واقعہ پیش آیا قبریں توڑ دی گئیں اس کے بعد دوسرا واقعہ ۱۳۔۱۴ جولائی کو گجرانوالہ کے ایک احمدیہ قبرستان میں پیش آیا۔جس میں ۲۰ سے زائد قبروں کی بے حرمتی کی گئی بعض تعصب اور نفرت کی آگ میں جلنے والے متشدد افراد تو انسانوں کو مرنے کے بعد بھی نہیں بخشتے ہیں۔ تعصّب اور نفرت کیوں برتا جاتا ہے؟ اور اس رویہ کو تبدیل کرنا اسقدر مشکل کیوں؟

جب ہم کسی کو متعصّب قرار دیتے ہیں تو دراصل ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص ایک خاص رویہ کا حامل ہے جوفلاں چیز ، قوم یا فرقہ کے متعلق نفرت پر مبنی ہے اور یہ نفرت مذکورہ شخص کے اندر راسخ ہو چکی ہے۔ معنوی اعتبار سے تعصّب کا مطلب ہے کسی کے متعلق فیصلہ صادر کر دینا اور غضب، غصّہ ،مکالمہ اور تبدیلی کا امکان ختم کر دینا۔ یعنی نتیجہ نکالا جا چکا ہے ۔ متبادل حقائق اور وضاحتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔

تعصّب اور نفرت کی کئی شکلیں ممکن ہیں جن میں کچھ نسبتاً کم منفی ہوتی ہیں۔ ہم کسی مظلوم کے حق میں بھی متعصّب ہو سکتے ہیں۔ انتہائی سطح کی حبُّ الوطنی اپنے وطن یا قوم کے حق میں ایک طرح کا تعصّب ہی ہوتی ہے۔ ”غلط یا درست‘ حق پر ہے یا غلطی پر‘ یہ میرا ملک ہے‘ مجھے اسی کی حمایت کرنی ہے“۔ اس فقرے سے ہم سب کی سماعتیں آشنا ہیں۔ اس رویہ کا حامل شخص اپنے ملک یا اپنی پسندیدہ حکومت کی ہر قیمت پرحمایت کرتا ہے۔ لیکن نفسیات دانوں کی اکثریت متفق ہے کہ تعصّب بنیادی طور پر ایک منفی جذبہ اور سوچ ہے۔ یہ کسی گروہ کے لئے ناپسندیدگی‘ منافرت اور دشمنی کا جذبہ ہے‘ محض اس لئے کہ اس گروہ کے ارکان کسی مخصوص شناخت سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہذا انہیں قابل نفرت تصوّر کر لیا گیا ہے۔

دل صاف کرنے کا طریقہ: معروف سماجی سائنس دان ہربرٹ بلمر

( 1961)کاکہنا تھاکہ متعصّب اکثریتی گروہ میں چار جذبے کام کررہے ہوتے ہیں۔ (۱) وہ اقلیتی گروہ سے فطری طور پر بہتر ہیں (۲) اقلیتی گروہ اپنی خصوصیات میں مختلف اور اجنبی ہے (۳) سہولیات‘ طاقت‘ حیثیت اور وقار پر اکثریتی گروہ کا حق ہے‘ اقلیتی گروہ کا نہیں (۴) یہ خوف اور شک کہ اقلیتی گروہ ان کے مفادات کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ اس حوالے سے تعصّب ہمیشہ ایک مجموعی مؤقف کی نشاندہی کر تا ہے۔

تعصّب اور نفرت ہمیشہ شدید جذبات‘ کٹر عقائد اور راسخ رویّوں کی صورت میں اظہار پاتا ہے۔ کٹر عقائد کے حوالے سے برتے جانے والے تعصب پر غور کیجئے۔ یہ ایک مذہبی شناخت کے متعلق مجموعی طور پر ایک منفی رائے قائم کرلی جاتی ہے اور اس کے ہر فرد کو اس گروہ سے منسوب خصوصیات کا حامل تصور کر لیا جاتا ہے۔ انسانوں کے درمیان پایا جانے والا تنوع بے توقیر قرار پاتا ہے۔ اسی طرز احساس سے امتیازی سلوک جنم لیتا ہے۔ اس پر منطبق کی جانے والی اجتماعی منفی خصوصیات ہی سے جواز پاتا ہے۔ جمعہ ۱۱ مئی ۲۰۱۸ کو مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید نے اس ضمن میں خبردار کیا تھا کہ تعصبات اور نفرت خطرناک سماجی امراض ہیں۔ یہ انسانیت کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔یہ افراد،اقوام اور معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔یہ ایسی آفت ہے جب بڑھتی اور پھولتی ہے تو انسانوں کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ تعصّب کی ہوا چلتی ہے تو تعلیم یافتہ و غیر تعلیم یافتہ ،مہذب و غیر مہذب، دیندار و غیر دیندار کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔یہ غرور کا سر چشمہ ہے، یہ ظلم کی تحریک ہے، یہ نفرت اور بد عنوانی کا بہت بڑا سبب ہے۔ قرآن کی تعلیم ہے کہ اگر کسی قوم سے دشمنی بھی ہو تب بھی اس کے حقوق کا خیال رکھواور اس کے ساتھ اپنے قضیئے چکاتے ہوئے انصاف کا دامن ہاتھ سے ہرگز نہ چھوڑو۔ خدا تعالیٰ نے تو ہمیں اس کی عبادت کے لئے تخلیق کیا ہے، وہ چاہتا ہے کہ بنی نوع انسان اس کی عبادت اور تعریف کریں اور انسان ایک دوسرے سے محبت کرے اور ایک دوسرے کے کام آئے انسان کی پیدائش کا تو اصل مقصد یہی ہے جسکو ہم بھول گئے ہیں۔ مثل مشہور ہے، “جو بویا ہے وہی کاٹو گے” یا “جیسی کرنی ویسی بھرنی”۔ آج ہمارا ملک پاکستان جن تعصّب اور نفرتوں کا شکار ہے تاریخ گواہ ہے اس سے پہلے سیاسی اور غیر سیاسی لیڈروں نے انجام دیکھ لیا ہے۔ لہٰذامؤدبانہ گزارش ہے کہ ہوش کے ناخن لیں اب بھی وقت ہے، ان تعصّبات اور نفرتوں کو ختم کریں اور اصل پیدائش کا مقصد جو کہ خدا تعالیٰ کی عبادت ہے ، کو سمجھیں ورنہ نہ آپ رہیں گے، نہ ملک اورنہ معاشرہ ۔ اللہ تعالیٰ ” ہمیں محبت سب سے اور نفرت کسی سے نہیں” کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *