انسانی ڈھانچوں کے بنے پرتگالی چرچ کی اصل کہانی

شعبہ انٹرنیشنل    تحریر: ہارون ملک

بے وقوفانہ اور بے سروپا کہانیوں پر اعتبار کرنے میں ہمارا شاید پہلا نمبر ہو ۔ ایسی کہانیاں جہاں دُنیا کو شدید ظالم اور ہمیں مظلوم دِکھایا گیا ہو ، ایسی کہانیاں جو خُود ترسی کے قابلِ رحم جذبات پیدا کرتی ہوں وہاں ہماری “ باچھیں “ کِھل کِھل جاتی ہیں ۔ آج کل سوشل میڈیا پر پھر سے ایک کہانی بُہت گردش کر رہی ہے جِس میں آسٹریا ، چیک ریپبلک اور پُرتگال میں موجود چرچ دِکھائے جا رہے ہیں جو اِنسانی ہڈیوں اور باقیات سے “ مزین “ ہیں ، مزین ایک اچھا لفظ نہیں اِس جگہ پر لیکن فی الحال جانے دیتے ہیں ۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ اِنسانی ہڈیاں ہزاروں مُسلمانوں کی ہیں ۔ رئیلی ؟ اور ہمارے جذباتی بھائی بہن اِس کو شئیر کر کر کے “ جھلے “ ہُوئے جا رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ ایک پُرانا موضوع ہے لیکن چُونکہ آج کل پھر سے بُہت گرم ہے تو سوچا اِس کی وضاحت کردُوں کیونکہ کُچھ عرصے بعد پھر سے ہماری یاداشت چلی جاتی ہے ۔

سُرخی کُچھ یُوں ہے ،“

مُسلمانوں کی ہڈیوں سے تعمیر شُدہ کلیسا کو سیاحوں کے لیے کھولا جا چُکا ہے ۔ “

دیکھیں فی الحال زیادہ رولا اور شور شرابہ تو پُرتگال کے شہر Evora کے چیپل The Capela dos Ossos یا انگریزی میں چیپل اوو بونز کا مچا ہُوا ہے۔ یہ چیپل Igreja Real de Sao Francisco یعنی دی روئیل چرچ اوو سینٹ فرانسز کا ایک حِصہ ہے ۔ بے شک ایسا چیپل موجود ہے جِس کی دیواروں میں اِنسانی ہڈیوں کا اِستعمال کِیا گیا ہے لیکن یہ ہڈیاں کِسی مُسلمان تو دُور کِسی بھی دُوسرے مذہب کے اِنسانوں کو مار کر نہیں نِکالی گئیں بلکہ یہ ہڈیاں سولہویں صدی کے آس پاس چرچ سے ملحقہ قبرستانوں جو کہ تعداد میں بیالیس یا تینتالیس تھے ، میں قبروں کی جگہ کم ہونے اور بعض حالات میں اُن قبرستانوں کو کاشتکاری یا پیداواری مقاصد کے لیے اِستعمال کرنے کے پوپ کے فیصلے کے بعد وہاں کی قبروں سے اِنسانی باقیات یعنی ہڈیاں وغیرہ جو ظاہر ہے عیسائیوں کی قبریں تھیں ؛ اُن کو نِکال کر ضائع نہ کِیا گیا بلکہ یہاں دیواروں پر چُن دِیا گیا تا کہ ایک عقیدے کے مُطابق اُن کی رُوحیں بھٹکتی نہ رہیں ۔ ایک مُحتاط اندازے کے مُطابق یہ کوئی پانچ ہزار کے قریب اِنسانی نعشیں تھیں جِن کی ہڈیاں یہاں موجود ہیں۔کُچھ صدیاں پہلے سیکنڈ بیرئیل یا دوبارہ دفن کرنے کی رسم عام تھی ۔ برسیلِ تذکرہ اِس چیپل کا ڈیزائین اِٹلی کے شہر مِیلان کے چرچ San Bernardino alle Ossa سے متاثر ہے اور یہ ہڈیوں کا ایسا اِستعمال اپنی نوعیت کا کوئی انوکھا واقعہ ہرگِز نہیں ہے ۔پُرتگالیوں کے ہاں مُختلف لیجنڈز یعنی فوک کہانیوں میں لٹکتے ہُوئے اِنسانی ڈھانچوں کے متعلق ایک کہانی یہ بھی ہے کہ یہ اپنے زمانے کا کوئی بڑا نامور اور امیر آدمی تھا جس کی نعش کو قبرستان میں جگہ نہ مِلی تو اُس کو اِس چیپل میں رکھا گیا ۔ ایک لیجنڈ کے مُطابق ایک بڑی لاش ایک گُناہگار کی ہے جو زانی تھا اور بچے کی لاش اُس زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بچے کی ہے اور اِن کو اُس آدمی کی بیوی کی بد دُعا لگی تھی ۔ لیکن جیسا کہ عرض کِیا یہ ایک کہانی ہے جو مقامی افراد میں بذریعہ سینہ گزٹ چلتی آ رہی ہے ۔کُچھ افراد کا کہنا ہے کہ پوپ اِنسانی ہڈیوں اور باقیات کو بعد از مرگ اِنسان کی کیا حالت ہوتی ہے کی تنبیہہ کے طور پر دِکھانا چاہتے تھے تا کہ لوگ گُناہوں سے دُور ہو کر خُدا کے قریب ہوں یعنی اِس کا مقصد لوگوں کو آئندہ زِندگی یعنی حیات بعد الموت کی یاد دہانی کروانا تھا ۔اِن ہڈیوں کا مسُلمانوں سے ، صلیبی جنگوں سے یا ایسی کِسی بھی کہانی سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ چرچ کی تعمیر سولہویں صدی عیسوی میں ہُوئی اور اِس صدی میں مُسلمانوں یا یہودیوں کی جِلاوطنی ، قتل کے واقعات نہیں ہُوئے ۔ پُرتگال کی تاریخ میں ایسے دو الگ الگ واقعات ضرور ہُوئے ہیں جب مُسلمانوں اور یہودیوں پر مظالم کئے گئے لیکن وُہ قِصہ سولہویں صدی سے متعلقہ نہیں اور نہ ہی یہ ہڈیاں اُن واقعات سے متعلق ہیں ۔

چرچ کے دروازے پر پُرتگالی زبان میں یہ عِبارت کُنندہ ہے :

“Nós ossos que aqui estamos, pelos vossos esperamos.“

“ ہماری ہڈیاں تو یہاں پُہنچ چُکی ہیں اور تُمہاری ہڈیاں کا اِنتظار ہے “

یعنی ہم تو اپنی زِندگی گُزار کر موت کی وادیوں میں آ چُکے بس تُم آنے کو ہو۔

و دوستو یہ مظلومیت کے قِصے اور خُود ترسی کے سستے جذبات سوائے ہمارا اپنا مذاق بنوانے کے اور کُچھ فائدہ نہیں دیتے ۔ انڈونیشیا اور بعض عرب ممالک میں یہ قِصے بھی ایسے ہی مشہور ہیں جہاں سے ہمارے بھائی بہن ایسی کہانیاں لے آتے ہیں اور عوام “ ہائے اللہ ، اِتنا ظُلم ، ہائے ہمارے مُسلمانوں پر کیا کیا سِتم توڑے گئے “ وغیرہ جیسے کلمات لِکھ لِکھ کر “ جھلے اور کملے “ ہُوئے پِھرتے ہیں ۔ حقائق کو جاننے کی کوشش کِیا کریں اور جہاں یہ مظلومیت کی جعلی کہانی نظر آئے وہاں اِس پوسٹ کا لِنک چپکا دیں ۔(بشکریہ پنجند کام)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *