حرمین شریفین کی حفاظت امت مسلمہ کی ذمہ داری
تحریر: احسن انصاری
حرمین شریفین کی حرمت و سلامتی محض دو مقدس مقامات کا معاملہ نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے ایمان، عقیدت اور اجتماعی ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ وہ مقدس شہر ہیں جن کی محبت ہر مسلمان کے دل میں دھڑکتی ہے۔ خانہ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ اور مسجدِ نبوی ﷺ ان کی روحانی وابستگی کا عظیم مرکز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مقدس مقامات کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کا تصور بھی امتِ مسلمہ کے لیے گہری تشویش کا باعث بنتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر حملوں اور یمن میں جاری تنازع نے علاقائی کی سلامتی کو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں مسلم دنیا کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذباتی بیانات تک محدود رہنے کے بجائے اتحاد، مؤثر سفارت کاری، دفاعی تعاون اور اجتماعی حکمتِ عملی کے ذریعے امن و استحکام کو مضبوط بنائے۔ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے سعودی عرب کی ریاستی ذمہ داری کے ساتھ دوسرے مسلم ممالک کا تعاون بھی اہمیت رکھتا ہے۔
اسلام میں مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی ﷺ کو غیر معمولی تقدس حاصل ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر سال حج اور عمرے کے لیے سعودی عرب پہنچتے ہیں۔ ان کی جان و مال کی حفاظت، عبادت کے لیے محفوظ ماحول اور مقدس مقامات کا احترام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔حرمین شریفین کا تحفظ صرف ایک ملک کا انتظامی معاملہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے دینی اور اخلاقی اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم عملی حفاظت اور انتظامی ذمہ داری متعلقہ ریاست اور اس کے اداروں کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے، جبکہ دیگر مسلم ممالک دفاعی تعاون، سفارت کاری اور بین الاقوامی رابطوں کے ذریعے معاون کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب کو حرمین شریفین کی میزبانی اور حجاج و زائرین کی خدمت کا اعزاز حاصل ہے۔ سعودی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مقدس مقامات کی حفاظت، عبادت گزاروں کی سلامتی اور حج و عمرہ کے انتظامات کو مؤثر بنائے۔ جدید حفاظتی نظام، فضائی نگرانی، میزائل اور ڈرون حملوں سے بچاؤ، ہجوم کا انتظام اور ہنگامی طبی سہولتیں اس ذمہ داری کے اہم حصے ہیں۔ موجودہ علاقائی صورتِ حال نے ان اقدامات کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔
یمن کے حوثی گروہ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ایک عرصے سے خطے کے امن کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اکتوبر 2026 میں سعودی عرب کی اہم تنصیبات اور یمن میں مختلف مقامات پر حملوں کی اطلاعات نے صورتِ حال کو مزید تشویش ناک بنا دیا۔ 15 اکتوبر کو سامنے آنے والی اطلاعات میں سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان کے حوالے سے ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملوں کے نتیجے میں 17 افراد کی ہلاکت اور 333 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر بھی حملوں سے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 13 اکتوبر کو دہران میں سعودی آرامکو کے انتظامی کمپلیکس کی ایک عمارت پر حملے کے بعد آگ لگنے اور عمارت کو نقصان پہنچنے کی خبر دی گئی۔ سعودی حکام کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ آرامکو سعودی معیشت اور عالمی توانائی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے اس کی تنصیبات کو لاحق خطرات کے اثرات سعودی عرب کی معیشت کے علاوہ عالمی تیل کی منڈیوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
اسی دوران یمن کے جنوبی شہر عدن میں 15 اکتوبر کو صدارتی محل کے قریب میزائل حملے کی اطلاع سامنے آئی۔ یمنی حکام کے مطابق اس واقعے میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ یمنی حکومت کے وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان محفوظ رہے، جبکہ حوثی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ یمن کا تنازع محض داخلی سیاسی اختلافات تک محدود نہیں بلکہ اس کے علاقائی سلامتی پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
مدینہ منورہ کے اوپر ایک کروز میزائل کو روکنے کی اطلاعات ہیں، تاہم اس واقعے کی ذمہ داری حوثیوں پر باضابطہ طور پر عائد نہیں کی گئی اور حوثی گروہ نے ملوث ہونے سے انکار کیا۔ اس کے باوجود مدینہ منورہ کے قریب کسی بھی سکیورٹی خطرے کی اطلاع مسلمانوں کے لیے فطری تشویش کا باعث ہے۔ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے فضائی نگرانی، میزائل دفاع اور شہری تنصیبات کا تحفظ کتنی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مذہبی وابستگی، عوامی محبت، معاشی تعاون اور دفاعی شراکت داری پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 17 ستمبر 2025 کو پاکستان اور سعودی عرب نے ریاض میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے میں یہ اصول شامل ہے کہ ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت دونوں برادر ممالک کے مشترکہ دفاع اور سلامتی کے تعاون میں اہم قدم تھی۔
7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے میں یہ اصول شامل ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس پیش رفت نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ سلامتی کے تعاون کو ایک نئی اہمیت دی ہے۔
مکہ مکرمہ میں دفاعی معاہدے پر دستخط کی علامتی اہمیت بھی ہے، کیونکہ یہ شہر پوری امتِ مسلمہ کے لیے مقدس مقام رکھتا ہے۔ تاہم معاہدے کی اہمیت کو اس کی اصل شرائط اور دفاعی مقاصد کے مطابق سمجھنا چاہیے۔ اسے حرمین شریفین کے تحفظ کی غیر مشروط ضمانت قرار دینے کے بجائے مشترکہ دفاع، ریاستی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے تعاون کا ایک ذریعہ سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔
پاکستان کے لیے سعودی عرب کی سلامتی اہم ہے، لیکن پاکستان کی اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور علاقائی امن بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ دفاعی معاہدوں کا مقصد جارحیت کو روکنا، سلامتی کو مضبوط بنانا اور جنگ کے امکانات کم کرنا ہے۔ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت، تجربے اور سفارتی تعلقات کے ذریعے اس تعاون کو مؤثر بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
اتحادِ امت اور سفارت کاری کی ضرورت
حرمین شریفین کی حفاظت صرف عسکری طاقت سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے جدید حفاظتی نظام، میزائل اور ڈرون حملوں سے بچاؤ، فضائی نگرانی، شہری تنصیبات کا تحفظ، ہنگامی طبی سہولتیں اور زائرین کے لیے مؤثر انتظامات ضروری ہیں۔ اسی کے ساتھ مسلم ممالک کے درمیان سفارتی رابطے، دہشت گردی کی روک تھام اور اختلافات کے پُرامن حل کو بھی ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم سمیت مسلم ممالک کے مشترکہ فورمز کو چاہیے کہ وہ مسلم دنیا کے درمیان تعاون کو مضبوط کریں۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن حرمین شریفین کی حرمت، زائرین کی سلامتی اور خطے میں امن ایسے مشترکہ مفادات ہیں جن کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کا محور امن، دفاع اور بین الاقوامی قانون کا احترام ہو۔
پاکستانی عوام کی ذمہ داری بھی محض جذباتی نعروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ غیر مصدقہ خبروں اور اشتعال انگیز پیغامات سے اجتناب، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور اسلامی تعلیمات پر عمل اس ذمہ داری کا حصہ ہیں۔ حرمین شریفین کے احترام کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی گفتگو اور عمل دونوں میں اعتدال، دیانت داری اور اتحاد کو فروغ دیں۔ مذہبی عقیدت کو نفرت یا غیر ضروری اشتعال کے بجائے امن، خدمت اور مثبت کردار میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حرمین شریفین کی سلامتی کے لیے دعا ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو ہمیشہ امن و عافیت کا مرکز بنائے، حجاج اور زائرین کی حفاظت فرمائے اور امتِ مسلمہ کو اتحاد، حکمت اور استقامت عطا کرے۔
یہ حقیقت ہے کہ حرمین شریفین کا تحفظ پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ دینی وابستگی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے ایمان کے ساتھ علم، جذبے کے ساتھ حکمت، دفاعی تیاری کے ساتھ سفارت کاری اور اختلافات کے بجائے باہمی اعتماد ضروری ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون اس مقصد میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مسلم دنیا کو چاہیے کہ وہ حرمین شریفین کی حرمت، شہریوں کی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے متحد ہوکر کام کرے، کیونکہ مقدس مقامات کا احترام اور ان کے گرد امن کا قیام پوری امتِ مسلمہ کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

