سیاستشخصیتقومی

اسکندر مرزا تاثر اور حقیقت

تحریر: سید خاور مہدی

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بہت کم شخصیات ایسی ہیں جن کی پہچان مستقل ایک واقعے تک محدود کر دی گئی ہو۔ اسکندر علی مرزا ان میں سے ایک ہیں۔ انہیں 1956 کا آئین منسوخ کرنے والے اُس صدر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے اکتوبر 1958 میں مارشل لا نافذ کیا اور سیاست میں فوجی مداخلت کا راستہ کھول دیا۔ یہ رائے اس قدر پختہ ہو چکی ہے کہ ان کے سیاسی کردار پر گفتگو اکثر اسی نکتے سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتی ہے۔

لیکن تاریخ شاذ ہی اتنی سادہ ہوتی ہے۔ 1958 کے آئینی بحران میں اسکندر مرزا کا کردار یقیناً تنقید کا مستحق ہے، مگر ان کی پوری زندگی کو اسی واقعے تک محدود کر دینا پاکستان کے ابتدائی برسوں میں ان کی خدمات کو نظروں سے اوجھل کر دیتا ہے۔ ایک متوازن جائزہ اسکندر مرزا کو ایک ایسی پیچیدہ سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے لاتا ہے جس کی ریاستی تعمیر، تزویراتی منصوبہ بندی، سفارت کاری اور قومی یکجہتی کے لیے خدمات اس کے سیاسی زوال کے سائے میں دب گئی ہیں۔

اصل ضرورت اسکندر مرزا کا غیرمشروط دفاع کرنا یا ان کی غلطیوں کو جائز قرار دینا نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ ان کے بارے میں ایک تاثر تاریخی حقیقت سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے۔ اسکندر مرزا اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جسے تقسیم کے بعد ایک ایسی ریاست قائم کرنے کی ذمہ داری ملی تھی جو اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکے۔ تقسیم کے وقت دفاع کے جوائنٹ سیکریٹری، بعد میں سیکریٹری دفاع، گورنر جنرل اور بالآخر پاکستان کے پہلے صدر کی حیثیت سے وہ ملک کے پہلے عشرے میں اہم قومی مسائل اور فیصلوں کے مرکز کا حصّہ رہے۔

1940 کی دہائی کے آخری برسوں اور 1950 کی دہائی میں پاکستان محض ایک نئی جمہوریت نہیں تھا۔ یہ ایک کمزور ریاست بھی تھی، جسے مہاجرین کی آبادکاری، بھارت اور افغانستان کے ساتھ تنازعات، ادارہ جاتی وسائل کی کمی، صوبائی کشیدگی، معاشی کمزوری اور آئینی بے یقینی کا سامنا تھا۔ اسکندر مرزا کی سیاسی سوچ انہی حالات میں پروان چڑھی تھی، نہ کہ محض آمرانہ طرزِ حکمرانی کی کسی نظریاتی پسند کے تحت۔ ان سے اتفاق کیا جائے یا اختلاف، وہ غیر معمولی طور پر مشکل حالات میں ریاست کو یکجا رکھنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔

ان کے کردار کا ایک کم زیرِ بحث آنے والا پہلو پاکستان کی تزویراتی ترقی میں ان کا حصہ ہے۔ سیکرٹری دفاع کی حیثیت سے انہوں نے ملک کے دفاعی ڈھانچے کی تشکیل اور سول و فوجی اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا، خصوصاً ایسے وقت میں جب انتظامی تسلسل ناگزیر تھا۔ عالمی طاقتوں اور خطے کی سیاست کے بارے میں ان کی سوجھ بوجھ نے پاکستان کی ابتدائی خارجہ پالیسی کی سمت متعین کرنے پر بھی اثر ڈالا۔ اگرچہ انہیں مغرب نواز قرار دیا جاتا ہے، لیکن ان کا طرزِ عمل عملی ضرورتوں پر مبنی تھا۔ مغربی طاقتوں کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو فوجی امداد اور معاشی تعاون حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، نہ کہ کسی نظریاتی وابستگی کا اظہار۔ ان کی سفارتی لچک بھی توجہ کی مستحق ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مختلف طاقتوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کو ایک نمایاں رجحان بننے سے بہت پہلے اسکندر مرزا اس کی اہمیت کے ساتھ خوب سمجھ چکے تھے۔ مغربی اتحاد برقرار رکھتے ہوئے چین کے ساتھ روابط بڑھانے کی ان کی کوششیں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کو سمجھتے تھے اور کسی ایک جانب سخت وابستگی کے بجائے توازن ضروری سمجھتے تھے۔

شاید 1958 میں گوادر کا حصول اسکندر مرزا کی تزویراتی دور اندیشی کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ انہیں خدشہ تھا کہ برطانوی اثر و رسوخ گوادر حاصل کرنے کی پاکستانی کوشش میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے لندن کو یہ پیغام دیا تھا کہ گوادر کے بارے میں کسی بھی فیصلے میں پاکستان کے قومی مفادات کا احترام ضروری ہے، ورنہ پاکستان دولتِ مشترکہ کے ساتھ اپنی وابستگی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گا۔ اس وقت گوادر کی اہمیت کا مکمل اندازہ نہیں کیا گیا تھا۔ آج، جب گوادر پاکستان کی بحری حکمتِ عملی اور خطے کو باہم جوڑنے کے منصوبوں میں مرکزی مقام رکھتا ہے، یہ فیصلہ غیرمعمولی اہمیت کا حامل دکھائی دیتا ہے۔ جس علاقے کو کبھی کم اہم سمجھا جاتا تھا، اس کا حصول اب پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین تزویراتی فیصلوں میں شمار ہوتا ہے۔

اسکندر مرزا نے اہم قومی وسائل کے بارے میں پاکستان کی طویل مدتی سوچ کی تشکیل میں بھی کردار ادا کیا۔ ان مذاکرات کے دوران، جو بالآخر سندھ طاس معاہدے پر منتج ہوئے، انہوں نے ایسے تحفظات اور ضمانتوں پر زور دیا جن کا مقصد پاکستان کے آبی مفادات کو محفوظ رکھنا تھا۔ ان کی تشویش سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ 1950 کی دہائی کے سیاسی بحران ختم ہونے کے بعد بھی جغرافیہ اور وسائل قومی استحکام کا تعین کرتے رہیں گے۔

قومی یکجہتی کے بارے میں اسکندر مرزا کی فکر بھی اتنی ہی اہم تھی۔ ایک ایسے ملک کی حکمرانی کرتے ہوئے، جس کے دونوں حصے جغرافیائی طور پر جدا تھے اور جس میں مختلف زبانیں، قومیتیں اور صوبائی شناختیں موجود تھیں، وہ قومی اتحاد کو بنیادی تزویراتی ضرورت سمجھتے تھے۔ بعد کے ادوار میں ناقدین نے انہیں اکثر مشرقی پاکستان سے لاتعلق یا اس کے مخالف کے طور پر پیش کیا، لیکن اس دور کے شواہد ایک زیادہ پیچیدہ تصویر دکھاتے ہیں۔ مرزا نے خبردار کیا تھا کہ سیاسی عدم استحکام، صوبائی رقابتیں اور کمزور ادارے وفاق کے طویل مدتی وجود کے لیے خطرہ ہیں۔ انتظامی اصلاحات کے لیے ان کی حمایت، چاہے وہ کتنی ہی متنازع کیوں نہ رہی ہو، اس یقین پر مبنی تھی کہ پاکستان کو ایسے مضبوط قومی اداروں کی ضرورت ہے جو علاقائی تقسیم سے بالاتر ہو کر کام کر سکیں۔ ان کے طریقوں سے اتفاق ہو یا اختلاف، ان کی بنیادی فکر ایک متحد ریاست کو برقرار رکھنا تھی۔

ان کے کردار کا ایک اور نظرانداز کیا جانے والا پہلو ریاست کے بارے میں ان کا تصور ہے۔ بعد میں پیش کی جانے والی بعض تصویروں میں انہیں مذہبی سیاست سے جوڑا گیا، لیکن دستیاب شواہد بتاتے ہیں کہ وہ قومیت کی بنیاد مشترکہ شہریت کو بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کے استعمال پر تشویش ظاہر کی۔ 1958 میں ریاست کے سرکاری نام سے لفظ ”اسلامی“ ہٹانے کا ان کا فیصلہ اس سوچ کی عکاسی کرتا تھا کہ قومی یکجہتی کے لیے مذہبی بنیاد کے بجائے مشترکہ شہریت کی بنیاد زیادہ موزوں ہو گی۔ اس رائے سے اتفاق کیا جائے یا نہیں، یہ انہیں اس فکری روایت سے مختلف مقام پر رکھتی ہے جس سے عموماً انہیں منسوب کیا جاتا ہے۔ تاہم، کوئی بھی نیا جائزہ اسکندر مرزا کے سیاسی کردار پر بنیادی تنقید کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔

1958 میں آئینی نظام کا خاتمہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک فیصلہ کن واقعہ ہے۔ آئین منسوخ کرکے اور مارشل لا نافذ کرکے انہوں نے ایسی مثال قائم کرنے میں کردار ادا کیا جس کے جمہوری ترقی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ ناقدین کا یہ کہنا درست ہے کہ اس فیصلے نے آئین کی بالادستی کو کمزور کیا اور سیاست میں غیرآئینی مداخلت کو جواز فراہم کیا۔ اس کے باوجود تاریخی حقیقت روایتی بیانیے سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ مرزا صرف فوجی مداخلت کی راہ ہموار کرنے والے نہیں تھے؛ وہ اس کے ابتدائی متاثرین میں بھی شامل ہو گئے۔ مارشل لا نافذ کرنے کے چند ہی ہفتوں کے اندر جنرل ایوب خان نے انہیں اقتدار سے ہٹا دیا۔ انہیں جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا اور بعد کے سرکاری بیانیے سے عملاً خارج کر دیا گیا۔ پاکستان کی جمہوریت میں ناکامیوں کی پوری ذمہ داری کسی ایک فرد پر نہیں ڈالی جا سکتی، جب وسیع تر ادارہ جاتی کمزوریاں، سیاسی انتشار اور طاقتور طبقوں کے متصادم مفادات بھی کارفرما تھے۔ 1950 کی دہائی میں آئینی حکمرانی کا زوال انفرادی فیصلوں کے ساتھ ساتھ پورے نظام کی ناکامیوں کا بھی نتیجہ تھا۔

اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد اسکندر مرزا کے ساتھ ہونے والا سلوک بھی تاثر اور حقیقت کے درمیان فرق واضح کرتا ہے۔ ان کے بعد آنے والے بہت سے حکمرانوں کے برعکس، مرزا نے اپنے پیچھے نہ کوئی سیاسی خاندان چھوڑا، نہ سرپرستی اور نوازشات کا کوئی نمایاں جال، اور نہ ہی سرکاری عہدے کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کا کوئی ریکارڈ۔ بیشتر بیانات کے مطابق جلاوطنی میں ان کے آخری برس مراعات کے ساتھ نہیں، بلکہ محدود وسائل اور خاصی کفایت شعاری میں گزرے۔

1969 میں لندن میں ان کی وفات ہوئی تو پاکستان نے انہیں اپنی سرزمین پر دفن کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ایران نے سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کیں۔ یہ ایک غیرمعمولی اقدام تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہ محمد رضا پہلوی انہیں کس قدر احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اس سے ان تعلقات کی اہمیت بھی نمایاں ہوئی جنہیں مضبوط بنانے میں مرزا نے 1950 کی دہائی میں کردار ادا کیا تھا، جب پاکستان اور ایران کے تعلقات کو شاید اپنی تاریخ کے گرم جوش اور قریب ترین تعلقات قرار دیا جا سکتا ہے۔

آج کے پالیسی سازوں اور فیصلہ کرنے والوں کے لیے اسکندر مرزا کی مثال تاریخ کو حد سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کرنے کے بارے میں ایک وسیع سبق رکھتی ہے۔ جو قومیں پیچیدہ شخصیات کو یک رخی کرداروں میں بدل دیتی ہیں، وہ اکثر ان ادارہ جاتی، تزویراتی اور عالمی و علاقائی حالات کو بھی نظرانداز کر دیتی ہیں جنہوں نے ان شخصیات کے فیصلوں کو شکل دی تھی۔ مرزا کا مشہور طنزیہ جملہ، ”تعلیم کے بغیر جمہوریت، بے حد و حساب منافقت ہے“، یقیناً سخت تھا اور اس کے لہجے میں اشرافیائی سوچ بھی جھلکتی تھی، تاہم پاکستان کے بعد کے تجربات نے اسے ایک ایسی معنویت دی ہے جسے تسلیم کرنا آسان نہیں۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ تعلیم آئین کی بالادستی کا متبادل ہے، یا معاشرے کے ہر لحاظ سے مثالی بننے تک جمہوریت مؤخر کر دی جائے۔ بات یہ ہے کہ شہری شعور، ادارہ جاتی نظم اور جمہوریت کو قائم رکھنے والی سیاسی ثقافت کے بغیر جمہوری نظام پھل پھول نہیں سکتا۔ تاریخ کو سمجھنے کے لیے بھی یہی اصول ضروری ہے کہ کامیابیوں اور ناکامیوں کا جائزہ ایک ساتھ لیا جائے، نہ کہ اپنی پسند کے مطابق کچھ باتیں یاد رکھی جائیں اور کچھ بھلا دی جائیں۔

اسکندر مرزا نہ عوامی تصور میں پیش کیے جانے والے مکمل منفی کردار تھے اور نہ ماضی کو مثالی بنا کر دیکھنے والوں کے بے عیب مدبر۔ وہ ریاستی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت تھے، جن کی سیاسی زندگی پاکستان کے ابتدائی عشرے کے بہت سے تضادات کو سمیٹے ہوئے تھی، بلند عزائم اور غلط اندازے، دور اندیشی اور خطا، اداروں کی تعمیر اور انہی اداروں کے نظام میں خلل۔ ان کے کردار کو نہ مکمل مذمت کی نذر کرنا چاہیے اور نہ انہیں بے عیب قرار دینا چاہیے، بلکہ اس کا سنجیدہ اور متوازن جائزہ لیا جانا چاہیے۔

شاید اس مضمون کا موزوں ترین اختتام اسکندر مرزا کے اپنے الفاظ ہوں، جو انہوں نے ان ڈرامائی واقعات کے بعد لکھے جن کے نتیجے میں ان کی صدارت ختم ہوئی، ”میں نے فوج پر اور جنرل ایوب خان کی فوجی عزت و وقار پر بھروسا کیا۔ یہ میرے اندازے کی غلطی تھی۔ جو لوگ اعلیٰ ترین مقام تک پہنچ کر میری طرح غلط اندازہ لگائیں، انہیں شکایت کا کوئی حق نہیں، ان کے ساتھ جو ہوتا ہے، وہ اسی کے مستحق ہوتے ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ باب یہیں ختم ہوتا ہے۔ افراد اہم نہیں ہوتے، اصل اہمیت ملک کی ہوتی ہے۔“

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *