شیعہ مراجع کی تاریخ، مذہبی حیثیت اور سیاسی اثرورسوخ

شعبہ پاکستان

تحریر :علی عثمان قاسمی اور سیمون وولف گانگ فوکث

لاہور کے اُردو بازار میں یوں تو بیشتر دوکانیں مدارس اہل سُنت کی کُتب نصاب، تفاسیر، قرآن اور شروحِ حدیث کی خرید و فروخت کا مرکز ہیں مگر چند ایک دکانیں ایسی بھی ہیں جہاں شیعہ فقہ، تاریخ اور تفسیر و حدیث سے متعلق کتب بھی دستیاب ہیں۔ان میں سے زیادہ تر وہ اُردو تراجم ہیں جو 1980 کی دہائی کے بعد پاکستان میں قائم ہونے والے شیعہ مدارس اور تحقیقاتی مراکز سے منسلک علماء ٔنے کیے ہیں۔ ان علما کی غالب اکثریت ایرانی شہر قُم سے فارغ التحصیل ہے۔اگر آپ شیعہ کُتب کے تاجر سے توضیح المسائل، جو روزمرّہ کے معاملات، کاروبار، نجاست و پاکیزگی کے مسائل کے حوالے سے فقہی آرأکا مجموعہ کہلاتی ہے، طلب کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ دکاندار آپ سے دو سوالات پوچھے: آپ کِس کی تقلید میں ہیں۔ یعنی فقہی معاملات میں کِس مجتہد کے پیروکار ہیں۔کتابی تعریف کے مطابق ہر اثناعشری شیعہ کا کِسی زندہ مجتہد کی تقلید کرنا واجب ہے۔ (اگرچہ کچھ ترامیم اور اضافے کے ساتھ اُس مجتہد کی تقلید بھی جاری رکھی جا سکتی ہے جو وفات پا چکا ہو)۔اگر آپ کِسی کے مقلد ہیں جیسے کہ آیت اللہ سیستانی تو دکان دار آپ کو ان کی توضیح المسائل ہاتھ میں تھما دے گا اور اگر آپ کِسی کی تقلید میں نہیں تو دکان دار اگلا سوال پوچھے گا کہ آیا آپ کو کِسی کٹر مجتہد کی فقہی آرأ درکار ہیں یا معتدل کی! اگر جواب کٹر مجتہد ہے تو پھر آپ کو ایران کے آیت اللہ خمینی یا آیت اللہ خامنہ ای کی توضیح المسائل دی جائے گی۔آج کے دور میں دنیا میں درجنوں شیعہ مراجع موجود ہیں جن میں ایران میں آیت اللہ خامنہ ای اور عراق میں آیت اللہ سیستانی کے نام اہل تشیع کے علاوہ دیگر فرقوں کے لیے بھی جانے پہچانے ہیں لیکن نام جاننے کے باوجود ایک بڑی تعداد کے ذہن میں یہ سوال ضرور گردش کرتا ہے کہ مرجع کا مطلب کیا ہے اور اس مقام پر فائز شخصیت کن اختیارات کی حامل ہوتی ہے۔

مرجع کون اور تقلید کیوں؟

مرجع یا مرجع تقلید دینی کے معنی ہیں وہ ذریعہ جس سے یا اس کے ذریعے دینی معاملات میں رجوع کیا جائے یا رہنمائی لی جائے۔عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اہلِ سُنّت کے چار فرقوں شافعی، حنبلی، مالکی اور حنفی کے وجود میں آنے کے بعد چوتھی صدی ہجری میں اجتہاد کا دروازہ بند ہو گیا تھا اور محض تقلید کی گنجائش باقی رہ گئی تھی۔ بہت سے محققین نے اس تاثر کی نفی کی ہے۔ جدید فقہی مسائل کی بابت علما سے رائے یا فتوٰی حاصل کرنا ایک عام عمل ہے جس کے لیے مدارس میں دارالفتا قائم ہیں۔فتویٰ دینے کی اہلیت کون رکھتا ہے، اس کا انحصار عالم کی قابلیت اور رتبے پر ہوتا ہے، اسی بنیاد پر فتوٰی کی پذیرائی اور عام قبولیت کا انحصار ہوتا ہے۔ ہاں البتہ فتویٰ دینے والا اپنے مسلکی حدود اور اس کی عِلمی روایت میں رہ کر ہی کِسی نئے مسئلے کے حل کے لیے رائے قائم کرتا ہے۔اس اعتبار سے سُنیّ اور شیعہ فرقوں میں ویسا فرق موجود نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ شیعہ مذہبی فکر میں عالم یا مجتہد کے مدارج نسبتاً غیرمُبہم ہیں اور پچھلے کم از کم 200 سال میں یہ مزید مُستحکم اور مربوط ہوئے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ شیعہ مذہب اور عقیدے کی مخصوص تاریخ بھی ہے جس کے مطابق فرقہ اثنا عشری کے 12ویں امام پردہَ غیب میں ہیں اور اس عرصہ میں مذہبی امور میں اُمت کو رہنمائی مہیا کرنے کی ذمہ داری شیعہ علما پر عائد ہوتی ہے یوں علما کو نائب ِ امام کا درجہ حاصل ہے ۔شیعہ مذہبی مباحث میں اُصولی اور اخباری مکاتبِ فِکر کی بحث پوری شِدّت سے 18ویں صدی تک جاری رہی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اخباری گروہ کے مطابق علما کا مقصد خبر کی روایت کرنا ہے جو کہ اماموں اور معصومین کے اقوال، احادیث اور فِکر سے ثابت ہوں۔ ایسا رجحان قطعی طور پر خود علما کے کِردار کو محدود کر دیتا ہے۔دوسری طرف اُصولی یہ مؤقف رکھتے تھے کہ فقۂ جعفریہ میں رہتے ہوئے اور فقہی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے، مجتہدین کا یہ کام ہے کہ وہ مومنین کو اسلامی عقیدے اور احکامات کے بارے میں درست رہنمائی فراہم کریں ۔ علما کے اختیارات میں توسیع کے عمل سے ہی یہ ممکن ہوا کہ 19ویں صدی کے اواخر تک مجتہد کا عہدہ یا مرجع کا منصب دھیرے دھیرے اہمیت اختیار کرتے گئے۔اس عمل میں بہت سے دیگر عوامل بھی شامل تھے۔ مثال کے طور پر محقق عباس امانت کا یہ استدلال ہے کہ بابی اور پھر بہائی مذہب کی تحریکوں نے علما کو اپنی ترجیحات بدلنے پر مجبور کیا۔ بابی اور بہائی تحریروں میں علما کا نائبینِ امام ہونے کا منصب چیلنج کیا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ اسلامی تاریخ کا دائرہ اس نقطے پر آ چکا ہے جہاں سے نئی مذہبی، الہامی فکر اور احکامات کا باب کُھل گیا ہے ۔

علما نے قاچار ریاست کی مدد سے اِن تحریکوں کو کُچلنے میں اپنا کردار اد ا کیا۔ اس اثنا میں دیگر سیاسی اور فکری تبدیلیاں جیسا کہ مغربی علوم و فنون کا غلبہ اور مسلم مملکتوں کا سیاسی زوال، علما کے عمومی رویّوں میں تبدیلی کا باعث بنا۔سنہ 1850 کی دہائی میں شیخ مرتضی انصاری کو پہلی مرتبہ مرجع کا درجہ حاصل ہوا جو عثمانی سلطنت کے دور میں نجف میں مقیم رہے۔ انھیں سیّد محمد حسن نجفی نے اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ نجفی نے اپنی زندگی میں ہی اپنے نمائندے دنیا میں پھیلے شیعہ مسلمانوں کی طرف بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا تھا جو وہاں سے خمس اکٹھا کرتے تھے۔ (خمس آمدن کا پانچواں حصہ ہے جو زکوٰۃ کے علاوہ ہے اور شیعہ فقہ کے مطابق اس کا ایک حصہ صرف سادات پر خرچ کیا جا سکتا ہے)۔ یوں ایک ایسے سلسلے کی ابتدا ہوئی جس میں مالی وسائل اور مذہبی طاقت میسر تھی جس کا بہترین استعمال شیخ انصاری نے کیا اور مجتہد کی طاقت اور مرجع کے رتبے میں اضافہ ہوا۔

مرجع کا درجہ کیسے ملتا ہے

مرجع کا درجہ حاصل کرنے کے لیے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ صرف مجتہد کا درجہ پانے کے لیے کئی دہائیوں پر مبنی عِلمی ریاضت درکار ہے۔ اس کو صرف چند سال کے نصاب تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے کہ جس کے بعد افتا یعنی فتوٰی صادر کرنے کی سند مِل جاتی ہے۔ یہ عمل طویل ہے۔محقق و مصنف شبلی ملّاطِ کی تحقیق کے مطاق شیعہ مجتہد بننے کے لیے تین حلقے یا مدارج ہیں۔ عموماً پہلے دو حلقوں کی تکمیل میں دس برس صرَف ہوتے ہیں۔ پہلا حلقہ مقدمات کہلاتا ہے جس میں طالب ِ علم صرفَ و نحو اور منطق کے اصول پڑھتا ہے۔ دوسرا حلقہ سُطُوح کا کہلاتا ہے جس میں استدلالی فقہ اور اصولِ فقہ زیِر مطالعہ آتے ہیں۔ اس کے علاوہ عِلم الکلام ، تفسیر ، حدیث ، فلسفہ اوراسلامی قانون بھی پڑھایا جاتا ہے۔

کچھ کُتب مشترک ہیں لیکن مقامی اثرات کی وجہ سے اور مرجع کے زیرِ اثر چلنے والے مدارس کُتب کے انتخاب میں کچھ فرق بھی رکھتے ہیں۔ تیسرا اور آخری حلقہ درس الخارج کہلاتا ہے۔ اس حلقے میں طالِب عِلم نامور مجتہدین کے سامنے زانوئے تلمّذ تہہ کرتا ہے۔ اُن کے دُروس میں شریک ہوتا ہے جن میں مختلف موضوعات پر تدریس کا سِلسِلہ بعض اوقات کئی ماہ پر مشتمل ہوتا ہے۔اس حلقے میں باقاعدہ امتحانات منعقد نہیں ہوتے اور نہ ہی وقت کی کوئی قید ہے۔ البتہ طالبِ عِلم کو اس بنیاد پر پرکھا جاتا ہے کہ اس نے کِسی موضوع پر رسالہ تحریر کرنے میں کِس درجہ عِلمی قابلیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ کیا وہ محض نقلی علوم یعنی پہلے سے معلوم آرا اور روایات نقل کرنے تک محدود رہا ہے یا اتنی استعداد پیدا کر پایا ہے کہ نقد و نظر سے کام لے سکے۔یوں اس حلقے کا دورانیہ اور اس سے وابستہ کام خاص واضح نہیں۔ مجتہد کے درجے تک پہنچ جانے کے بعد بھی برس ہا برس کی عِلمی تصنیفات اور مذہبی مباحث کا دور چلتا ہے کہ جس کی بنیاد پر خود مجتہد کے مدارج کا فیصلہ ہوتا ہے یوں اک مجتہد حجت الاسلام کے درجے سے ہوتا ہوا آیت اللہ اور پھر مرجع تقلید تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے اور تمام مجتہدین مرجع تقلید نہیں بن پاتے۔وہ کون سے امور ہیں جن کی بنیاد پر کِسی مجتہد کا آیت اللہ کے درجے اور پھر مرجع کے رُتبے پر فائز ہونا ممکن ہو پاتا ہے۔ ایلویر کوربوز نے اپنی تحقیق میں اِن عوامل پر بحث کی ہے۔ ان کے مطابق کہنے کو تو مرجع کی خصوصیات میں عِلم، عدل اور تقوٰی کو کلیدی اہمیّت حاصل ہے لیکن بہت سے دیگر عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کوربوز نے 41 مراجع کی حیات اور افکار کا مطالعہ پیش کیا ہے جو نجف میں مقیم ہے۔ ان میں سید علی حسینی سیستانی، اسحاق الفیاض، سید محمد سعید الحکیم اور بشیر حسین نجفی جیسے بڑے بڑے علما شامل ہیں۔کوربوز کے نزدیک کسی بھی عالم کی قبولیت میں اس بات کو بھی اہمیّت حاصل ہے کہ اس کا تعلق کِس ملک سے ہے، اس نے کِس حوزہ عِلمی سے تربیت حاصل کی ہے اور اس کے اساتذہ میں کون لوگ شامل ہیں۔عالم کی خاندانی تاریخ اور پس منظر بھی اہمیّت کا حامل ہے، جیسے کہ سعید الحکیم کا محسن الحکیم جیسے جیّد عالم کے خاندان سے ہونا۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کِسی مجتہد کی عِلمیت کے بارے میں عوامی سطح پر جو رائے قائم ہوتی ہے، اُس میں اِن عوامل کا عمل دخل ہوتا ہے۔ اسی کی بنیاد پر ان کے مقلدین کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے جو اس مجتہد کی مالی حالت کو بھی استحکام بخشتا ہے۔اس کی وجہ وہ مالی معاونت ہے جو مخیّر حضرات حوزہ کی تعمیر، طلبا کی کفالت اور کُتب کی اشاعت کے لیے کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ، شیعہ فقہ کے تحت مقلدین زکوٰۃ کے علاوہ خمس بھی ادا کرتے ہیں۔ کِسی بھی مرجع کے نمائندے پوری دُنیا یا کِسی خطّے میں موجود اُن کے مقلدین سے یہ رقم اکٹھی کرتے ہیں۔ یوں ایک خطیر رقم جمع ہوتی ہے جو مختلف مصارف پر خرچ کی جاتی ہے۔

مراجع کی مقبولیت

جہاں تک مراجع کی مقبولیت کی بات ہے تو یہ بات بھی اہم ہے کہ ضروری نہیں کہ تمام شیعہ مسلمان کسی کے مقلّد ہوں کیونکہ شیعہ مذہب بالعموم ایک ثقافتی اور سیاسی شعور کے ساتھ بھی منسلک ہے جس میں فقہ کی قطعی اور سخت پابندی صرف ایک پہلو ہے اور جس کی تاریخ بھی زیادہ پُرانی نہیں ہے۔دوسرا یہ کہ ایسے کئی مراجع بھی ہیں کہ جو اپنے اپنے علاقوں میں معتبر گردانے جاتے ہیں اور لوگ ہدایت کے لئے ان کی طرف دیکھتے ہیں۔ اِن میں ایک اہم نام آیت اللہ فضل اللہ کا ہے جن کا تعلق لبنان سے تھا اور وہ 2010 میں انتقال کرگئے۔ ان کے معتدل نظریات کی بِنا پر لبنان میں ان کے مقلدین کی ایک بڑی تعداد اب بھی موجود ہے۔فی الوقت عراقی شیعہ عالم آیت اللہ سیستانی کو دُنیا بھر کی شیعہ آبادی میں سب سے زیادہ مقبول مجتہد گردانا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیستانی کی اس غیر معمولی شہرت کی کیا وجہ ہے اور اس پوری صورتحال میں ہم ایران کے سیّد علی خامنہ ای کو کِس درجے پر رکھیّں گے اور ان کی شیعہ دُنیا میں کیا اہمیّت ہے۔اسی سے جُڑا ہے آیت اللہ خمینی کی اہمیّت کا سوال جن کے نظریۂ ولایتِ فقیہ نے مرجع کی حیثیت کو کِس انداز میں متاثر کیا ہے؟ یہ تمام سوالات آپس میں منسلک ہیں۔پہلے بات کرتے ہیں علی سیستانی کی مقبولیت کی۔ کوربوز کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اور ان کے نظریے کا آیت اللہ سیستانی کے حالاتِ زندگی پر اطلاق کرتے ہوئے ہم ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔علی سیستانی کے حالاتِ زندگی، جو ان کی ویب سائٹ پر بھی درج ہیں، کے مطابق انھیں پچھلی صدی کے نامور ترین مراجع کا طالبِ علم ہونے کا شرف حاصل رہا ہے جن میں اہم ترین آیت اللہ العظمیٰ سیّد ابو القاسم الخوئی، آیت اللہ العظمیٰ محسن الحکیم اور آیت اللہ العظمیٰ سیّد حسین طباطبائی بروجردی جیسے مجتہدین شامل ہیں یوں اہم ترین مراجع کی لڑی بروجردی، محسن الحکیم اور قاسم الخوئی سے ہوتی ہوئی سیستانی تک پہنچتی ہے۔ان بزرگوں کی نہ صرف عِلمی قابلیت بلکہ ان کے تحت چلنے والے اداروں کی مالی معاونت اور اثر و رسوخ بھی سیستانی کی اہمیّت میں اضافے کا باعث ہے۔ قاسم الخوئی کی وفات کے کئی برس بعد بھی الخوئی فاؤنڈیشن پوری طرح مستعد انداز میں کام کرتی ہے اور درجنوں ممالک میں اس کی شاخیں قائم ہیں۔ اسلام آباد میں قائم جامعہ الکوثر کی خوبصورت اور عظیم الشان عمارت اسی فاؤنڈیشن کے کئی اہم منصوبوں میں سے ایک ہے۔

البتہ سیاسی اعتبار سے علی سیستانی کا عِلمی شجرہ جن مجتہدین سے منسلک ہے انھیں صُلح جو یا غیرسیاسی کہا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعث پارٹی کے جبر کے دور میں نجف میں بیٹھ کر حکومتِ وقت کو چیلنج کرنا موت کو آواز دینے کے مترادف تھا۔ جس کی واضح مثال موجودہ عراق کے اہم شیعہ کمانڈر اور عالم مقتدیٰ الصدر کے چچا محمد باقرالصدر ہیں جنھیں صدام حکومت نے 1980 میں تختۂ دار پر چڑھا دیا تھا کیونکہ ان کے سیاسی نظریات خطرے کا باعث بن رہے تھے اور انھیں عراق کا خمینی کہا جانے لگا تھا۔ان کے برعکس محسن الحکیم اور قاسم الخوئی براہِ راست تصادم سے گریز کی پالیسی پر گامزن رہے تھے۔ سیستانی کے مرجع بننے کے بعد خود صدام حسین کی حکومت امریکی حملے اور پابندیوں کی وجہ سے کمزور ہو چُکی تھی۔ یوں عراق پر امریکی قبضے کے بعد جب سُنّی اقلیتی حکومت ختم ہوئی تو کئی دہائیوں سے کُچلی گئی شیعہ سیاسی قوّت کو اظہار کا موقع مِلا جس کا فائدہ بھی سیستانی کو ہوا۔

مراجع کی اہمیت اور طاقت

اگرچہ مجتہدین یا علما نائبِ امامِ زمانہ شیعہ فِکر میں ہمیشہ سے اہمیت کے حامل رہے ہیں (اخباری اور اُصولی کی بحث میں اصولی مکتب کی کامیابی بھی اس کا اظہار ہے)، لیکن مرجع کی اصطلاح کی قبولیت اور اس سے جڑی ہوئی طاقت مختلف نوعیت کی حامل تھی۔جدید دور کے ذرائع ابلاغ کی بدولت قبولیت کا یہ عالم ہے کہ عراق کے آیت اللہ سیستانی کے مقلدین بلتستان سے لے کر بیروت تک پھیلے ہوئے ہیں اور طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مرجع کے ایک اشارے سے عراقی حکومت گِر سکتی ہے لیکن یہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔

مراجع کی گذشتہ ایک صدی کی تاریخ نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔

محقق اور کتاب ’اجتہاد سے ولایت فقیہ تک‘ کے مصنف عباس امانت کے مطابق آیت اللہ بُرجردی وہ پہلے مرجع تھے جنھوں نے مرجع کی طاقت کو مُنظم کیا اور جدید خطوط پر استوار کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پہلوی آمریت، سوشلزم اور عرب قوم پرستی جیسے کئی چیلنجز کا سامنا تھا لیکن پھربھی ان کے فتاویٰ یا احکامات کا دائرہ کار دینی معاملات تک محدود رہا یا پھر لادینیت کی قوتوں کی رد میں صرف ہوا۔

روح اللہ موسوی خمینی: آیت اللہ، مرجع، ولی فقیہہ یا امام

جو چیز روح اللہ خمینی کو ممتاز کرتی ہے وہ ان کا نظریۂ ولایتِ فقیہہ ہے جس کے تحت انہوں نے علما کو نائبینِ امام زمانہ اور اسلامی فقہ و علوم کے ماہر ہونے کے ناطے سیاسی طاقت کا منبع قرار دیا۔عام طور پر شیعہ مذہبی اور سیاسی فکر میں ’امامِ زمانہ‘ کے عرصۂ غیابت میں قائم کردہ ریاستی طاقت کو غاصبانہ سمجھا جاتا تھا لیکن آیت اللہ خمینی نے اس کے برعکس یہ اصرار کیا کہ ظہورِ امامِ زمانہ تک حکومت یا سیاسی طاقت سے دوری اختیار نہیں کی جا سکتی لہٰذا، بقول ان کے، ضرورت اس بات کی تھی کہ علما اور مجتہدین آگے بڑھیں اور اقتدار کی طاقت ہاتھ میں لے کر معاشرے کی اصلاح کریں۔ان کے یہ نظریات 60 اور 70 کی دہائی میں شاہِ ایران کے جابرانہ دَور میں تشکیل پائے جس کے دوران انھیں ایک طویل جلاوطنی سے بھی گُزرنا پڑا۔ ان سے پہلے کِسی شیعہ مرجع نے علما کی سیاسی طاقت کا ایک مربوط نظریہ پیش نہیں کیا تھا کہ جس کے تحت علماء کی طاقت اب محض مذہبی معاملات تک محدود نہیں تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مذہب اب صرف عقائد اور عبادات کے دائرے تک محدود نہیں تھا۔ اس میں سیاست، حکومت، ثقافت، معاشرت، تجارت اور قانون بھی شامِل تھا۔علما کی اس لامحدود شخصی طاقت کو نافذ کرنے اور ان کے اعلیٰ ترین عِلمی اور عملی درجے پر فائز ہونے کے ناطے خمینی اب صرِف حجت الاسلام یا آیت اللہ نہیں رہے تھے، وہ آیت اللہ العظمیٰ یا اصطلاحی معنوں میں امام بن چُکے تھے لہٰذا ایران میں اب بھی سرکاری طور پر انھیں امام خمینی کہا جاتا ہے۔آیت اللہ العظمیٰ خمینی کے ولایتِ فقیہہ کے نظریے میں اس درجے پر فائز شخص کو اس حد تک اختیار حاصل تھا کہ وہ اہم مذہبی عبادات میں پر نظرِ ثانی کرسکے۔ انھوں نے کہا کہ ولایتِ فقیہہ کے زیرِ اثر چلنے والی ایک صحیح اسلامی حکومت عبادی معاملات میں دخل اندازی کر سکتی ہے جیسے کہ حج پر کسی وجہ سے عارضی پابندی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اسلامی حکومت جو نبی کی کامِل نیابت کا ناگزیر حصہ ہے، کا قیام اسلام کا بنیادی جُزو ہے۔آیت اللہ العظمیٰ خمینی کے نظریہ ولایتِ فقیہہ نے نہ صرف مرجع کو ایک اعلیٰ ترین درجے پر فائز کر دیا بلکہ اسے ایک سیاسی اور انتظامی عمل کا حصّہ بھی بنا دیا لیکن جو معیار اس کے لیے وضع کیا اس پر ان کے علاوہ کِسی اور کو فائز بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کا حصول اس طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا جس کی وجہ سے ایران میں انقلاب برپا ہوا اور بہت سے لوگوں نے ایک خاص عرصے میں روح اللہ خمینی کو ایک طِلسماتی شخصیت کے طور پر دیکھا۔1989 میں ان کی وفات کے بعد اتنا اہم عہدہ اور اختیار کِسی ایک شخص کو دینا خود ایرانی حکومت کے لیے بھی نقصان دہ ہوتا۔ اگرچہ خمینی کے جانشین کے طور پر علی مُنتظری مضبوط امیدوار تھے لیکن پھر باہمی اختلافات کے نتیجے میں وہ اس اہم منصب سے دور ہو گئے اور اپنی وفات تک ایرانی حکومت کے ناقد ررہے۔پھر ایرانی آئین میں ترمیم کے ذریعے رہبر کے لیے مرجع ہونے کی شرط ختم کر دی گئی۔ نگہبان شوریٰ کی طرف سے آیت اللہ خمینی کی جگہ آیت اللہ خامنہ ای کو ملک کا نیا روحانی پیشوا منتخب کیے جانے سے پیشتر اُن کا درجہ محض حجت الاسلام کا تھا جو آیت اللہ کے درجے سے نیچے ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انھیں آیت اللہ کے درجے پر فائز کرنے کے لیے چیدہ چیدہ علما جیسے کہ محمد رضا گلپائیگانی سے بھی اجازت حاصل کرنے کی گزارش کی گئی لیکن انھوں نے انکار کر دیا اور علی مُنتظری نے، جو کِسی زمانے میں خامنہ ای کے اُستاد بھی رہے تھے، کُھل کر ان کی عِلمی قابلیت کو ہدفِ تنقید بنایا۔یہی وجہ ہے کہ بطور مرجع، علی خامنہ ای کو وہ پذیرائی حاصل نہیں جو دوسرے مراجع کو حاصل ہے، یا پھر یوں کہا جائے کہ ان کی مقبولیت میں بنیادی کردار ایرانی ریاست کے پھیلتے ہوئے اثرو رسوخ کا ہے کہ جو اکثر شیعہ آبادیوں میں مدارس قائم کرنے میں فعال کردار ادا کر رہی ہے ۔ ورنہ انھیں شاید اس درجہ پذیرائی نہ مل پاتی۔یوں مرجع کے منصب کا طاقت، سیاست اور ریاست کے ساتھ جُڑ جانا ایک طرف سے فائدہ مند بھی ہے، لیکن اس سے نقصان بھی پہنچا ہے۔ ایرانی مدارس، خاص طور پر قم، صدام حسین کے دور میں شیعہ عِلمی و مذہبی مرکز بنا کیونکہ نجف میں ریاستی جبر کے باعث سرگرمیاں بہت محدود ہو چکی تھیں۔پاکستان، افغانستان اور دیگر غیر عرب ممالک سے سینکڑوں شیعہ طلبا دین کی تعلیم کے لیے قم کا انتخاب کرتے رہے مگر گذشتہ چند برسوں میں نجف کی عِلمی سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں۔ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد کافی حد تک امن آچکا ہے جس کی وجہ سے مذہبی سیاحت کو فروغ مِل رہا ہے۔ایسے میں جبکہ نجف اور کربلا یوں بھی شیعہ اسلام کی تاریخ اور تہذیب کا مرکز ہیں اور وہاں کے مدارس پر ریاستی کنٹرول ویسا نہیں ہے جیسا کہ ایران میں ہے، تو لامحالہ طور پر نجف کے حوزۂ علمی اور اس سے جڑے مراجع کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔

کیا نجف ’ویٹی کن‘ بن جائے گا؟

مہدی خلی سمیت کچھ اور تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دور ختم ہونے کو آ رہا ہے جس میں مرجع بطور ایک فرد کے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ایران میں علی خامنہ ای 80 برس کے ہو چکے ہیں جبکہ عراق میں آیت اللہ سیستانی کی عمر اس وقت 98 برس ہے اور جس تاریخی جدوجہد اور وسائل کے نتیجے میں علی سیستانی اس مقام پر پہنچے ہیں ان کا متبادل مِلنا مشکل ہے۔ایران میں چونکہ یہ انتظام سرکاری سر پرستی میں چلا گیا ہے، لہٰذا اس کے رجحانات مختلف ہوں گے۔مرجع کے عہدے میں ایک خاص طرح کی انتظامی مرکزیت اور اسے جدید اصولوں پر استوار کرنے کا عمل گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس کی بڑی مثالیں الخوئی فاؤنڈیشن، الحکیم فاؤنڈیشن اور آیت اللہ فضل اللہ کے قائم کردہ مراکز ہیں جو اِن کی وفات کے بعد بورڈ آف گورنر کے صلاح مشورہ سے چلائے جاتے ہیں۔جہاں تک عِلمی معاملات کا تعلق ہے، تو اس وقت بھی لگ بھگ 200 مجتہدین جو آیت اللہ کے درجے پر گِنے جا سکتے ہیں اور جن میں درجن بھر ایسے ہیں کہ جو شیعہ عِلمی و مذہبی حلقوں میں معروف ہیں۔ کیا کوئی ایک مرجع اس تمام سیاسی عِلمی اور کرشماتی طاقت کا ارتکاز کر پائے گا جو آیت اللہ علی سیستانی کے پاس ہے۔ ایسا ہونا مشکل ہے، اس میں وقت لگ سکتا ہے۔اس عمل کو سمجھنے کے لیے ویٹی کن کا حوالہ اکثر استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ قارئین آگاہ ہیں، رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ کے انتخاب کا طریقہ متعین ہو چکا ہے جو ایک دفعہ منتخب ہو جانے کے بعد عموماً تاحیات اس عہدے پر فائز رہتا ہے اور تمام کیتھولک مسیحیوں کا سربراہ ہوتا ہے۔ایسی غیر منقسم قیادت کسی شیعہ مرجع کو حاصل نہیں اور نہ ہی اس بات کا امکان ہے۔ بالفرض عراق یا نجف کی حد تک ایسا ممکن ہو بھی جائے تو ایران ہر گز نہیں چاہے گا کہ شیعہ مذہبی قیادت کسی اور خطے میں منتقل ہو جائے۔ مذہبی رہنمائی کے ذریعے ریاستی مفادات کا پھیلاوَ اور تحفظ ایرانی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔یوں ویٹی کن کی طرز پر شخصی نظام نہ سہی، لیکن مرجع کا عہدہ ایک اجتماعی نظام کی طرف ضرور بڑھ رہا ہے جس میں ایک سے زیادہ مراکز ہو ں گے اور جو اپنی اپنی عِلمی سیاسی تاریخ کی بنیاد پر معاملات کو چلائیں گے۔

مرجع کا عہدہ اور ایران

اس سے وقتی طور پر شاید مرجع کی انفرادی طاقت سیاسی معاملات پر کمزور پڑ جائے گی۔ خود ایران کے اندر بھی جانشینی کا معاملہ گھمبیر ہو گا کیونکہ ایرانی حکومت بہرحال یہ نہیں چاہے گی کہ ایک طاقتور اور مقبول شخص مرجع کے عہدے پر فائز ہو اور ایسا نہ کرنا بھی ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرے گا جو پہلے ہی پابندیوں اور مختلف طرح کے سیاسی و سماجی تضادات کے نتیجے میں بُری طرح کمزور ہو چکا ہے۔اٹلانٹک کونسل کے لیے لکھی گئی رپورٹ میں سیستانی کے جانشین کے لیے جن ممکنہ مراجع کا ذِکر کیا گیا ہے ان میں شیخ اسحاق الفیاض (پیدائش افغانستان) ، سید محمد سعید الحکیم (پیدائش عراق )، شیخ محمد باقر اروانی (پیدائش عراق)، شیخ ہادی الرازی (عراق) اور شیخ محمد السند (پیدائش بحرین) شامِل ہیں۔ادھر ایران میں مرجع کی دوڑ کے لیے ملک کے موجودہ چیف جسٹس 58 سالہ ابراہیم رئیسی، ایران کے موجودہ صدر حسن رُوحانی، ایرانی نظامِ انصاف کے سابق سربراہ صادق اردشیر لاریجانی، آیت اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی، علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اور محمد ری شہری شامل ہیں۔کون کِس کا جانشین بنے گا، حتّمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن مرجع کا درجہ اب تاریخ کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے جا رہا ہے جس کے دُور رَس اثرات خطّے کی سیاست اور شیعہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگیوں پر مرتّب ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *