آئیے ملتے ہیں صبر و شکر کرنے والوں سے!

شعبہ پاکستان

تحریر: آر انور۔ ٹورونٹو کینیڈا

نعمت خداوندی ہوتی ہے کہ ایک متنفس کو دنیا ایک خوبصورت نام کے ساتھ یاد کرے ۔ اس میں دعائیں بھی ہوتی ہیں اور کچھ تمنّائیں اور آرزوئیں بھی ساتھ شامل ہو جایا کرتی ہیں۔ لیکن اگر وہی دنیا کی امیدوں کی آماجگاہ جب ظلم و بربریت کی تصویر بن جائے تو پھر یہ دنیا اسکو کبھی اس طرح بھی سزا دیتی ہے کہ اس کے انتہائی محبت سے رکھے ہوئے نام کو ایسے بھلا دیتی ہے کہ گویا یہ نام اس شخص کی کبھی بھی پہچان نہیں رہا۔ ایک مشہور مثال اس کی ایک ابوالحکم کہلانے والا وجود تھا جس نے جب غرور و تکبر اور ظلم و بربریّت کی راہ اختیار کی توتاریخ انسانی نے اس کی حکمت و دانائی یک سر فراموش کرکے اسے جہالت کے باپ کے نام سے پکارنا شروع کردیا ۔ اب تو شک کی ذرہ بھی گنجائش نہیں کہ رہتی دنیا تک جہالت کی یہ دُم اس بد بخت کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ تاریخ نے یہ سلوک انسان کے ساتھ کرر ،سہ کرر ،چہ کرر، پنج کرر بلکہ ان گنت مرتبہ کیا ہے لیکن انسان نہ جانے کس گھمنڈ میں یا کس حماقت میں اس سے سبق ہی نہیں سیکھتا۔ آج کل ایک صاحب خود کو آسمان صحافت کا ستارہ کہتے ہیں ،کسی کو در خور اعتناء نہیں لاتے والدین نے تو صبر و شکر کی امیدیں اور دعائیں ان کے لئے کی ہونگیں لیکن یہ صاحب چلے ہیں ان سب اُمیدوں کو خاک میں ملانے ۔ اگر انہوں نے اور ان کی طرح کے دوسرے لوگوں نے تاریخ رفتہ سے سبق نہ سیکھا تو نہ جانے یہ زمانہ انہیں کس نام سے یاد کرے گا۔عقلمند قاری کو چند اشارے دے دیتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری رہنمائی فرماتا ہے ،کہا کہ: ”اے لوگوجو ایمان لائے ہو،اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو،کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو“(الحجرات:۷)۔ اب ایسے شخص کو خدا تعالیٰ نے بڑے واضح انداز میں فاسق کا نام دیا ہے۔کہیں صبر و شکر کے یہ داعی فسق و فجور کی چادر اوڑھے ہوئے نظر نہ آنے لگ جائیں۔ شاید خدا کا خوف کسی طور ان کے دل تک پہنچ گیا ہو پھر بھی جس رسول کی غلامی کا دَم یہ بھرتے ہیں اسی کا ایک قول بھی سنائے دیتا ہوں۔ اس سید الکونین نے فرمایا : ”تم لوگ جھوٹ بولنے سے بچو، کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کا راستہ دکھاتی ہے، اور انسان لگاتار جھوٹ بولتا رہتا ہے، جھوٹ بولنے کا متمنی رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے”(صحیح مسلم)۔

خوف کا مقام ہے کہ اللہ کے ہاں جس شخص کا نام جھوٹا لکھ دیا جائے تو اس کا کیا انجام ہوگا؟ یقینا ایسا انسان صبر و شکر کی طرف تو کبھی منسوب نہیں ہوگا ! ۔ کہاں گئی آپ کی حِس عدل کہاں گئی آپ کی بے چارہ اور بے سہارا پروری۔ اے دنیا کی ہواؤں کے رخ پہ چلنے والے صبر سے کام لو حقیقی اسلام کی فتح کی ہواؤں کی خوشبو ہمیں توآرہی ہے۔ تمہاری بہاریں خزاؤوں میں اور ہماری خزائیں بہاروں میں بدلنے والی ہیں ، اے شاکر کہلانے والے ذرا صبر تو کر قوموں کی زندگی میں بیس ، پچیس تیس سال بلکہ پچاس یا سو سال بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ صرف رسمی اور خشک ملاؤوں کی باتوں کی اندھی تقلید کر رہے ہو۔ ذرا خود وقت نکال کے بلا واسطہ غیرے احمدیت کا مطالعہ تو کر دیکھ۔ اس واقعہ سے ہی سبق سیکھ لو۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ مجھے اطلاع ملی کہ حضور ﷺنے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے، اس وحشت ناک خبر کو سن کر میں اپنے گھر سے چل کر مسجد میں گیا، کچھ دیر وہاں توقف کیا تو کچھ لوگ وہاں بھی یہی باتیں کر رہے تھے یہ دیکھ کرمیں نے سوچا کہ اس خبر کی تحقیق کرنی چاہیے، میں اجازت لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا یا رسول اللہ! کیا حضور نے اپنی بیبیوں کو طلاق دے دی؟ آپﷺ نے فرمایا ،نہیں۔ میں نے تعجب سے کہا: اللہ اکبر اور پھر مسجد کے دروازے پر آکر بلند آواز سے ندا کر دی کہ یہ خبر غلط ہے اور حضور ﷺ نے اپنی بیبیوں کو طلاق نہیں دی۔اس واقعہ میں جس طریقہ کو حضرت عمرؓ نے اختیار کیا ٹھیک یہی طریقہ ہم سب کا بھی ہونا چاہیے۔اس کے برخلاف عمل کے نتیجہ میں ہم خود جھوٹ کو فروغ دینے والوں میں شامل ہو جائیں گے،جوکسی بھی لحاظ سے صحیح نہیں ہے۔ایک مقبول سمجھے جانے والے چینل کے پلیٹ فارم سے اس قدر بڑا جھوٹ ایسے بولا جیسے کوئی یہ خبر اپنے کانوں سے سن کر آیا ہو ۔ اور جلدی اس بات کی ہو کہ کہیں کوئی اور اس خبر کو اس سے پہلے نہ سنا دے!

اے صبر سے نا آشنا صابر ، آفرین ہے تمہاری چُستیوں پر!

تو صاحب یہ بات بھی بگوش ہوش سن لو کہ غلط ہے سراسر غلط ، کہ احمدی رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتے ۔ ایسی بات صرف وہی کہہ سکتا ہے جو عقل و فہم کا دشمن ہو۔ مجھ سے پوچھو تو میں کہوں گا کہ صرف احمدی ہی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔یہ حسین کا غلام کہلانے والا ، بلا وجہ اور غیر منطقی ہاں میں ہاں ملانے والا جو اپنی غیرت کو بھی بیچ کر کھا بیٹھا ہے اور اس حسین کی غلامی کا استحقاق بھی کھو بیٹھا ہے کیونکہ وہ حسین جس کو میں جانتا ہوں وہ تو گردن کٹوا سکتا تھا لیکن ناممکن تھا کہ وہ حق کو چھپائے اور منافقت کی راہ اختیار کرے۔ لیکن حسین کی طرف خود کو ناحق طور پر منسوب کرنے والا اور اس جیسے اور کئی جو اپنے زُعم میں خدائی فرستادہ کا پیغام مٹانے کا عزم لے کے اٹھیں گے سب کے سب ہی ایک روز اپنی روباہی حرکتوں پر آنسو بہائیں گے اور دانت پیسیں گے۔ وقت ہے کہ ”دانشور“ہونے کا ثبوت دیں ۔ ورنہ تاریخ بتاتی ہے کہ ان سے کہیں طاقت ور فراعنہ اور ہوامین اور نمرودو ، خدا کے فرستادوں کے مقابل لازمًا رسوائی کا شکار ہوئے۔رسول اللہ ﷺ کا ایک اور ارشاد ہے کہ : “ہلاکت ہے ایسے شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے اپنے بیان میں جھوٹ بولے۔ ہلاکت ہے اُس کے لیے، ہلاکت ہے اُس کے لیے”(سنن ترمذی و ابوداؤد)۔

یہ سب کچھ کہہ چکنے کےبعد میں پوچھتا ہوں کہ آپ جو یہ کہتے ہو کہ ”پاکستان چیپٹر “ناخوش ہے لندن سے ، آپ کہتے ہو کہ وہ تیار ہے خود کو اقلیت تسلیم کرنے کے لئے ۔آپ خود اپنے بیان کو دوبارہ سنئے یہ تو خود تضادات کا ایک گورکھ دھندہ ہے۔اور یقینا صداقت اس کو چھو کر بھی نہیں گئی۔کیا یہ سمجھ لیں کہ ایسا بیان پاکستان کے کسی احمدی لیڈر نے آپ کے سامنے دیا ہوگا!!! اگر سچ بولنا آپ کا شیوہ ہے تو ذرا اس لیڈر کا صرف نام ہی بتا دو۔ مجھے یقین ہے کہ قیامت تک آپ ایسا نہیں کرسکو گے ہاں البتہ چاند پر تھوکنے والے کہ مانند سارا تھوک خود آپ کے چہرے پر آنے والا ہے ۔ بے شک میرے اس خط کا جواب نہ دینا البتہ خدا کی طرف سے آنے والی ذلّت کے ضرور منتظر رہنا کیونکہ نہ صرف آپ نے جھوٹ بولا ہے بلکہ بولا بھی برکتوں والے رمضان کے مہینے میں ہے۔ میں تو بس یہی دعا کرتا ہوں کہ خدا آپ کو معاف کردے اور حق کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمادے ۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *