این اے 35 بنوں: تحریک انصاف کا عالم دین امیدوار اور لال مسجد والا مساج سینٹر

شعبہ پاکستان

تحریر: رضوان ظفر گورمانی

گیارہ برس قبل لال مسجد کی طالبات کے جتھے نےجب خدائی فوجدار بن کر اسلام کی نصرت و کامرانی کے نام پر چینی مساج سینٹر پر دھاوا بولا، تو وہاں محبوس کیے جانے والوں میں سے بنوں کے اک معروف عالم دین مذہبی رہنما کے دو فرزند بھی شامل تھے۔ اب سینہ ٹھونک کر اسلام کی سربلندی اور اسلامی شریعہ کے نفاذ کے اعلیٰ مقصد کے لیے ریاست کے اندر لشکر کشی کرنے والوں کے امام و امیر المومنین علامہ عبدالرشید غازی صاحب نے قاضی القضاۃ کا کردار ادا کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ میری خواہش ہے کہ ان دونوں کو میڈیا کے سامنے پیش کرنے سے قبل چھوڑ دیا جائے،کیونکہ ان کا تعلق اک مذہبی سیاسی جماعت سے ہے اور دونوں عالم دین کے فرزند ہیں، پھر علامہ صاحب نے مساوات و بھائی چارے کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے واقعی میں ان دونوں کو خفیہ راستے سے باہر نکال دیا۔ لیکن وہ کہتے ہیں نہ تاڑنے والے بھی قیامت کی نگاہ رکھتے ہیں، یہ خبر پوشیدہ نہ رہ سکی اور اگلے دن چند اخبارات میں چھوٹی سی سہی، خبر شائع ضرور ہوئی تھی کہ مساج سینٹر سے عالم دین کا فرزند بھی پکڑا گیا۔مبینہ طور پر پتلی گلی سے بھگائے جانے والے یہ نوجوان بنوں کے بڑے دینی مدرسے جامعہ المرکز الاسلامی کے مہتمم اور عمران خان کی چھوڑی ہوئی بنوں سیٹ (این اے 35) پر پی ٹی آئی کے عالم دین امیدوار مولانا سید نسیم علی شاہ ہیں۔ نسیم علی شاہ سابق ایم این اے اور جے یو آئی کے مرکزی مجلس فقہی کے سابق سربراہ مولانا سید نصیب علی شاہ مرحوم کے فرزند ہیں۔ راقم کو ان کے مساج سینٹر جانے پر اعتراض ہے نہ الیکشن میں حصہ لینے پر۔ تحریر کا مقصد صرف کہ جو امیر المومنین من پسند ملزم کو فرار ہونے میں معاونت فرمائے، اسے دین اسلام کے ٹھیکے دار بننے میں شرم دکھانی چاہیے تھی۔ جہاد و قتال کی باتیں، اسلامی ریاست کے قیام اور شہادت کے فضائل بیان کرنے والے اک اور غازی عام طلبا و طالبات کو اس لڑائی کا ایندھن بنا کر خود برقع اوڑھ کر مقدس میدان جنگ سے فرار کی کوشش فرماتے پکڑے گئے تھے۔اپنی مرضی کی شریعیت نافذ کرنے کی شاندار تاویلیں وہی لوگ پیش کر سکتے ہیں جو قرانی آیات اور احادیث کی من پسند تشریحات کے ذریعے بچی کھچی مسلم امہ میں تعصبات کی آگ بھڑکانے میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ریاست ان غبی عالم دین کے ہذیان کا نوٹس بھی نہیں لیتی، یہ اک طرف شہادت کی ریوڑیاں بانٹتے پھرتے ہیں تو دوسری طرف تکفیری طالبان کی حوصلہ افزائی میں اس حد تک آگے چلے جاتے ہیں کہ آرمی پبلک سکول جیسے سانحے کی مذمت کرنے سے کتراتے ہیں۔مائی لارڈ جیسے منصف اک طرف تو دوروں پہ دورے اور ڈیمز کی تعمیر کے شوق میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں دوسری طرف ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں اور برقع ملاں جیسے دین فروش شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتے وقت ان کے عزم اور اختیار میں تزلزل پیدا ہو جاتا ہے۔

وہ شیفتہ کہ دھوم تھی حضرت کے زہد کی

اب کیا بتاؤں رات مجھے کس کے گھر ملے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *