درس القرآن ماہ جولائی ۲۰۲۰

.

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مَنْ قَبْلِکَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ۔ وَ مَا یَأْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یِسْتَھْزِئُ وْنَ۔ کَذَالِکَ نَسْلُکُہٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَ۔ وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَاباً مِّنَ السَّمَآئِ فَظَلُّوْا فِیْہِ یَعْرُجُوْنَ۔ لَقَالُوْٓا اِنَّمَا سُکِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۔ (سورۃ الحجر آیت 10 تا 16)

ترجمہ :ـ یقینا ہم نے ہی یہ ذکر اُتارا ہے اور یقینا ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اور ہم نے تجھ سے قبل بھی گرہوں میں بھی (رسول) بھیجے تھے۔ اور کوئی رسول ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم مجرموں کے دلوں میں اس (بیباکی ) کو داخل کرتے ہیں۔ وہ اس (رسول) پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ اس سے پہلے لوگوں کا مآل گزر چکا ہے۔ اور اگر ہم آسمان کا کوئی دَر اُن پر کھول دیتے پھر وہ اس پر چڑھنے بھی لگتے (تاکہ بچشمِ خود رسول کی صداقت کا نشان دیکھ لیتے)۔ تب بھی وہ ضرور کہتے کہ ہماری آنکھیں تو (کسی نشے سے) مدہوش کردی گئی ہیں بلکہ ہم تو ایک ایسی قوم ہیں جن پر جادو کر دیا گیا ہے۔ ) ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمدؒ(

تشریح : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی حفاظت کا جو وعدہ فرمایا گیا ہے یہ ابدی ہے۔ جب بھی قرآن کریم کی طرف غلط معنے منسوب کئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کسی روحانی وجود کو ان کی اصلاح کے لئے مبعوث فرما دیتا ہے ۔

’’استغفار ‘‘ کے مختصر معنی

جب انسان کوئی غلطی کرتا ہے۔ اور خداتعالیٰ کے کسی حکم اور قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ غلطی اور کمزوری اس کی راہ میں روک ہو جاتی ہے اور یہ عظیم الشان فضل سے محروم کیا جاتا ہے۔ اس لئے اس محرومی سے بچانے کے لئے یہ تعلیم دی کہ استغفار کرو۔ استغفار انبیاء علہیم السلام کا اجماعی مسئلہ ہے۔ ہر نبی کی تعلیم کے ساتھ اَسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوْاِ لَيْهِ رکھا ہےہمارے امام کی تعلیمات میں جو ہم نے پڑھی ہیں استغفار کو اصل علاج رکھا ہے۔ استغفار کیا ہے؟ پچھلی کمزوریوں کو جو خواہ عمداً ہوں یا سہواً غرض مَا قَدَّمَ وَ مَااَخَّرَ نہ کرنے کا کام آگے کیا اور جو نیک کام کرنے سے رہ گیا ہے۔ اپنی تمام کمزوریوں اور اللہ تعالیٰ کی ساری رضامندیوں کو مَا اَعْلَمُ وَ مَا لَااَعْلَمُ کے نیچے رکھ کراور آئندہ غلط کاریوں کے بد نتائج اور بد اثر سے محفوظ رکھ اور آئندہ کے لئےان جوش سے محفوظ فرما۔ یہ ہیں مختصر معنے استغفار کے۔

(الحکم 26فروری 1908ء صفحہ 302)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *