خلل اور اختلال کے درمیان صحافت

شعبہ پاکستان

تحریر: وجاہت مسعود

خلد آشیانی مشتاق احمد گورمانی کی رسمی تعلیم کچھ زیادہ نہیں تھی لیکن ذاتی مطالعے سے استعداد یہاں تک بڑھا لی تھی کہ سرکاری دستاویز اور سیاسی بیان میں سند مانے جاتے تھے۔ ٹھٹھہ گورمانی، کوٹ ادو کے نواب صاحب نے کم عمری ہی سے منصب اور جاہ و حشم کا ذوق پایا تھا۔ برطانوی ہند میں عہدوں کی سیاست کا راستہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے ہو کر نکلتا تھا اور افتادگان خاک کی تکریم کو روندتا ہوا مسند اقتدار تک پہنچتا تھا۔ پاکستان کے تمام خطوں میں یہ روایت موجود تھی لیکن اللہ کے فضل سے ہم اہل پنجاب نے اس فن میں بدرجہ اتم دستگاہ پائی۔ دستگاہ منفعت ہے گرچہ ہے بے آبرو…. سرکاری اہل کاروں کے ساتھ نشست و برخاست کا ایک ذیلی اثر یہ ہوتا ہے کہ گلی کوچوں میں بسنے والے انسان حشرات الارض معلوم ہونے لگتے ہیں، ریاست کی قوت نافذہ در استجاب کا درجہ پا لیتی ہے۔ بڑے صاحب کی سرپرستی، سازش اور جرم کے اس مہلک محلول سے تخمیر پانے والی سیاست گورمانی، دستی، کالا باغ اور صادق قریشی سے چلتی ہوئی آج کے منظر نامے میں ان اصحاب تک آ پہنچی ہے جن کے نام درویش کو بوجہ عافیت کوشی یاد نہیں رہتے۔مشتاق گورمانی جن دنوں کشمیر کے معاملات دیکھ رہے تھے، ایک صحافی اپنے فرائض منصبی کے ضمن میں ملاقات کے لئے آئے۔ کسی تیکھے سوال پر گورمانی صاحب نے بلبلا کر کہا کہ صحافی لوگ riffraff (نیچ اور کنگلے) ہوتے ہیں۔ صحافی نے توجہ نہیں دی، ضروری معلومات نوٹ کیں اور رخصت ہو گیا۔

گورمانی صاحب کے سیکرٹری نے بعد میں انہیں بتایا کہ یہ جو صاحب سر جھکائے آپ کی لت پت سن رہے تھے یہ کراچی سے تشریف لائے ہیں، قائد اعظم ان سے مشاورت کیا کرتے تھے۔ گورمانی صاحب کی بلا جانے کہ قائد اعظم اور بمبے کرانیکل کے ایڈیٹر ہارنی مین میں کیا رشتہ تھا۔ انہوں نے تو تراڑ کھل کا ریڈیو اسٹیشن دیکھا تھا۔ ایوب خان کی آزاد صحافت سے شیفتگی سب کو معلوم ہے۔ یحییٰ خان کو ان چونچلوں کی تاب ہی نہیں تھی۔ الطاف گوہر کی گرفتاری پر خالد حسن نے بھٹو صاحب سے الطاف کریمانہ کی درخواست کی تو بھٹو صاحب نے snub کر دیا۔ ضیا الحق نے اہل صحافت پر اپنے کار خاص مجیب الرحمن کو مامور کر رکھا تھا۔ نوے کی دہائی میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں بھلے دست تہ سنگ آمدہ کی تصویریں تھیں لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کو بے نظیر صاحبہ کہنے پر اصرار عابدہ حسین کیا کرتی تھیں۔ بے نظیر بھٹو کے گورنر کمال اظفر تاریخ میں اس لئے جانے جائیں گے کہ ان کی نگہ قہر آسا نے ہمیں رضیہ بھٹی جیسی صحافی سے محروم کر دیا۔ پرویز مشرف کی روشن خیالی کون نہیں جانتا۔ لندن میں ایم ضیا الدین کے بارے میں برسر مجلس کہا کہ ایسے صحافیوں کو اگر ’ایک دو‘ ٹکا بھی دیے جائیں تو برا نہ ہو گا۔ استغفراللہ۔ 2008 سے 2018 کے عشرے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی ’حکومتوں‘ کا رویہ صحافت سے کسی قدر بہتر رہا۔ شاید اس لئے کہ بے مہار تنقید کرنے والے تو غریب اپنی ’ڈیوٹی‘ کر رہے تھے۔ سیڑھی کا ایک زینہ چھوڑ کر ’بے باک‘ صحافت کرنے میں چند در چند فائدے ہیں۔ سیاست دانوں کی بدعنوانی، غفلت اور کوتاہی کے دھڑا دھڑ اسکینڈل بے نقاب کرنے سے صحافی کی دنیا بھی بہتر ہو جاتی ہے اور obituary لکھنے والے کو بھی سہولت رہتی ہے۔

2018  کے بعد اچانک ہم پر صحافت کی خرابیوں کا انکشاف ہوا۔ صحافی لفافے لے کر عزت داروں کی پگڑی اچھالتے ہیں۔ تنخواہ کے عوض قلم کاری کرتے ہیں۔ باقی شعبہ ہائے زندگی میں فی سبیل اللہ خدمت خلق کی جاتی ہے۔ صحافی تو سیٹھ لوگوں کے ملازم ہوتے ہیں۔ یہ یاد کرنے سے کیا حاصل کہ ایوب حکومت نے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے اخبارات پر قبضہ کر کے انہیں سیٹھ دائود کو سونپ دیا تھا۔ اے صبا ایں ہمہ آوردہ تست۔ اس قصے کو اگر طول دیا تو درویش پر اپنے ان داتا (حال گرفتار بلا) سیٹھ کی نمک حلالی کا الزام آئے گا۔ صحافی کے لئے ضروری ہے کہ عوام کو مونث باندھے اور زیادہ بہتر ہو گا کہ ’عام عوام‘ لکھے اور بولے۔ اس سے پڑھنے والے کے احساس محرومی میں افاقہ ہوتا ہے۔ نیز اشرافیہ کی مخالفت کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ کی شان ہے کہ ایچی سن کالج میں تعلیم پانے اور لاہور کی قدیم حویلیوں میں پائوں پسارے زندگی گزارنے والے ترک دنیا کے دعویدار ہو گئے ہیں۔

ایک غضب یہ ہے کہ اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاحات میں ٹھیک اسی طرح تمیز اٹھا دی گئی ہے جیسے سیکولرازم اور الحاد کو گڈمڈ کیا گیا۔ اشرافیہ سے مراد معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو ان سہولتوں سے بہرہ مند ہو رہا ہو جن پر سب شہریوں کا حق ہے۔ اشرافیہ سے تعلق ہونا نہ تو کسی کا شعوری فیصلہ ہے اور نہ جرم۔ سیاست کا منصب ہی یہ ہے کہ محروم طبقات کے لئے ان سہولتوں اور حقوق تک رسائی کو یقینی بنایا جائے جو ایک محدود طبقے کے لئے مخصوص ہو چکے۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ ایک ملفوف اصطلاح ہے جو اختیار اور وسائل پر مستقل اجارے کے لئے مجرمانہ گٹھ جوڑ کا نام ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اختیار کی مستقل تقسیم کے بندوبست کو کہتے ہیں، جمہوریت وسائل اور فیصلہ سازی کے لئے معاشرے میں پرامن اور سیال تعامل کا نام ہے۔ جمہوری مکالمہ آزاد صحافت کے بغیر ممکن نہیں۔ان دنوں ہم ایک ایسی حکومت کے زیر سایہ دن گزار رہے ہیں جو جمہوری طریقہ کار سے برسراقتدار آنے کے باوجود جمہوریت سے کھلے عام نفور کا اظہار کرتی ہے۔ سیاسی عمل ہی کو بے وقعت کرنے پر مصر ہے۔ ایسے میں صحافت سے مخاصمت قابل فہم ہے۔ صحافت کا پیشہ وارانہ منصب واقعہ کے بارے میں حقائق جمع، مرتب اور ترسیل کرنے تک محدود نہیں۔ یہ کام تو کوئی سرکاری اہل کار بھی کر سکتا ہے۔ صحافت کا کہیں زیادہ اہم منصب معاشرے میں انصاف کی صورت حال، کمزور طبقات کے لئے رسائی کے مواقع نیز طاقت اور مفاد کی جگل بندی کی تفسیر کرنا ہے۔ جمہوریت میں خلل پر اضطراب صحافت کا جائز بلکہ لازم وظیفہ منصبی ہے۔ ایسا خلل صرف فرد کے لئے نہیں بلکہ اجتماعی اختلال پر منتج ہوتا ہے۔ صحافت قوم کا پیوستہ مفاد ہے۔ قوم خلل اور اختلال کے دورانیے سے گزر رہی ہو تو صحافت کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ کچھ روشنی اس میں تو ہے، ہر چند کہ کم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *