شعر و شاعری ماہ جولائی ۲۰۲۰

شعبہ شعر و شاعری

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں

تحریر: ابن انشا

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں

تم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں

ہیں لاکھوں روگ زمانے میں کیوں عشق ہے رسوا بے چارا

ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی انسان کو رکھتیں دکھیارا

ہاں بے کل بے کل رہتا ہے ہو پیت میں جس نے جی ہارا

پر شام سے لے کر صبح تلک یوں کون پھرے گا آوارہ

یہ باتیں جھوٹی باتیں یہ لوگوں نے پھیلائیں ہیں

تم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں

یہ بات عجیب سناتے ہو وہ دنیا سے بے آس ہوئے

اک نام سنا اور غش کھایا اک ذکر پہ آپ اداس ہوئے

وہ علم میں افلاطون سنے وہ شعر میں تلسی داس ہوئے

وہ تیس برس کے ہوتے ہیں وہ بی اے ایم اے پاس ہوئے

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں

تم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں

گر عشق کیا ہے تب کیا ہے کیوں شاد نہیں آباد نہیں

جو جان لیے بن ٹل نہ سکے یہ ایسی بھی افتاد نہیں

یہ بات تو تم بھی مانو گے وہ قیسؔ نہیں فرہاد نہیں

کیا ہجر کا دارو مشکل ہے کیا وصل کے نسخے یاد نہیں

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں

تم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں

وہ لڑکی اچھی لڑکی ہے تم نام نہ لو ہم جان گئے

وہ جس کے لمبے گیسو ہیں پہچان گئے پہچان گئے

ہاں ساتھ ہمارے انشاؔ بھی اس گھر میں تھے مہمان گئے

پر اس سے تو کچھ بات نہ کی انجان رہے انجان گئے

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں

تم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں

جو ہم سے کہو ہم کرتے ہیں کیا انشاؔ کو سمجھانا ہے

اس لڑکی سے بھی کہہ لیں گے گو اب کچھ اور زمانا ہے

یا چھوڑیں یا تکمیل کریں یہ عشق ہے یا افسانا ہے

یہ کیسا گورکھ دھندا ہے یہ کیسا تانا بانا ہے

یہ باتیں کیسی باتیں ہیں جو لوگوں نے پھیلائی ہیں

تم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں

☼☼☼

شعبہ شعر و شاعری

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے

تحریر: مرزا غالب

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے

اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ

جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا

ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے

بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے

وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا

جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے

قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے

کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے

خضر سلطاں کو رکھے خالق اکبر سرسبز

شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

☼☼☼

گھر کی رونق

تحریر:رضا نقوی واہی

ہم اپنے اہل سیاست کے دل سے قائل ہیں

کہ حق میں قوم کے وہ مادر مسائل ہیں

قدم قدم پہ نئے گل کھلاتے رہتے ہیں

طرح طرح کے مسائل اگاتے رہتے ہیں

کبھی یہ دھن ہے کہ صوبوں کی پھر سے ہو تشکیل

کبھی یہ ضد ہے کہ حد بندیاں نہ ہوں تبدیل

کبھی یہ شور کرو ختم چور بازاری

منافع خوروں کی لیکن نہ ہو گرفتاری

برائے بحث کھڑا ہے کبھی یہ ہنگامہ

لباس قوم کا دھوتی ہو یا کہ پاجامہ

ہر ایک بحث میں کچھ کشت و خوں ضروری ہے

نہیں تو جو بھی ہے تحریک وہ ادھوری ہے

ہر ایک فتنہ و شورش کا آخری جلوہ

مظاہرات و جلوس و تصادم و بلوہ

یونہی اٹھائی گئی بحث جب زباں کے لیے

سخن بہانہ ہوا مرگ ناگہاں کے لیے

وہ مسئلہ کہ جو دانش کدوں میں حل ہوتا

بلا سے آج اگر طے نہ ہوتا کل ہوتا

اسے بھی اہل سیاست نے کر لیا اغوا

اور اس کے بعد وہ سب کچھ ہوا جو ہونا تھا

نفاق و بغض و تعصب کے آ گئے ریلے

زباں کی آڑ میں اہل فساد کھل کھیلے

مخالفت میں ہوئی جا بہ جا صف آرائی

جلوس لے کے چلے اک طرف سے بلوائی

لبوں پہ غلغلۂ انقلاب زندہ باد

مگر دلوں میں دبائے ہوئے شرار فساد

دکانیں لوٹی گئیں راہ گیر مارے گئے

گھروں میں آگ لگی طفل و پیر مارے گئے

وہ پہلا شخص جو کھا کر چھرے کا زخم گرا

مزے کی بات تو یہ ہے، غریب گونگا تھا

مزید یہ کہ اسے جاں سے مارنے والے

کسی زبان سے واقف نہ تھے خود ان پڑھ تھے

☼☼☼

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *