غلط فہمی

شعبہ پاکستان

تحریر: مرتضٰی شبلی

ملک کو حال ہی میں دو بڑی غلط فہمیوں کا شکار ہونا پڑا جنہیں سلجھانے کیلئے منجھے ہوئے شرفا کو میدان میں اترنا پڑا۔ ایک غلط فہمی کا تو فوری ازالہ ہو گیا ہے جس سے مستقبل کیلئے بہتر پیش گوئی کی امید کی جا سکتی ہے۔ مبینہ اطلاعات کے مطابق ایک خاتون جسے جمہوریت کی ہمہ وقت خدمت میں مصروف ذرائع ابلاغ ایک کاروباری شخصیت کی دختر نیک اختر گردان رہے ہیں، کی اپنی غیر منکوحہ سوکن سے غلط فہمی پیدا ہوئی۔ اس کے نتیجے میں وہ آئوٹ آف کنٹرول ہو گئیں اور اپنی پرائیویٹ فوج لیکر مذکورہ مونث جسے ایک ’ماڈل خاتون‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، کے گھر پر حملہ آور ہو گئیں۔ وہاں اس وقت مبینہ طور پر زیتون کے تیل سے جلنے والے چراغوں کی مدھم روشنی میں اعتکاف مکمل کرنے کی کامیابی میں محفل تشکر جاری تھی۔ روحانی مجلس میں اس طرح زبردستی ورود سے مزید غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں یہاں تک کہ وقوعہ کا ایک ایکشن سے بھرپور وڈیو کورونا کی طرح وائرل ہو گیا۔ دو سے ڈھائی تین مرلوں کے رہائشی کمی کمینوں تک بات پہنچ گئی تو انہوں نے اپنے عامیانہ تبصروں سے مزید غلط فہمیاں پھیلائیں جنہیں وکلا حضرات نے بحسنِ خوبی مزید جلا بخشی۔ دونوں اطراف رن سجنے ہی والا تھا اور عام حالات میں کرکٹ کا سٹہ کھیلنے والے جواری کورونا سے پیدا شدہ بیکاری کی وجہ سے اب خشکی پر ایک ممکنہ جنگ میں پیسے لگانے کی سوچ ہی رہے تھے کہ حالات بغیر کسی ایڈوانس وارننگ کے اچانک ٹھیک ہو گئے۔ یہاں تک کہ ’ماڈل خاتون‘ نے اپنے گھر میں اعتکاف والے ماحول کو واپس لانے کی خاطر ایف آئی آر تک واپس لے لی۔ طرفین نے نامعلوم غلط فہمیوں کو موردِ الزام ٹھہرا کر اپنی تلواریں واپس میانوں میں ڈال لیں۔ اللہ بھلا کرے ان بزرگوں کا جنہیں ’کاروباری شخصیت‘ کے بیت المال سے لیکر ان کے کشف الحال تک کی ساری کرامتوں کا ادراک تھا اور پہلے ہی معاملے کو حساس مگر غیر سنگین قرار دیتے ہوئے اس کے عنقریب تصفیے کا عندیہ دیا تھا۔

ایک اور غلط فہمی نے بھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ یومِ تکبیر کی سالگرہ پر اچانک یہ بحث چھیڑی گئی کہ ایٹمی دھماکے بالآخر کس نے کیے یا کروائے۔ کئی دوستوں نے اس پر لمبی بحثیں چھیڑیں حتیٰ کہ سابقہ حکومت کے ایک دوست جو میرے بھی بڑے بھائیوں کی طرح ہیں، نے ایک زوردار کالم لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ دھماکوں کا فیصلہ ان کے غیر متنازعہ اور غیر متزلزل قائد نے اپنے صوابدیدی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے کیا۔ اللہ تعالیٰ انگریزوں کے بنائے ہوئے ریلوے کے رجل رشید کا بھلا کرے کہ انھوں نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرکے اس تاریخی مغالطے کو دور کر دیا۔ ان کے بیان کے فوراً بعد میں نے خود مراقبے کی حالت میں انہیں بم کے ساتھ لگی ستلی کو ماچس کی تیلی سے آگ لگاتے ہوئے دیکھا اور پھر دھماکے کے فوراً بعد خوشی میں جھومتے ہوئے اسی تیلی سے ایک امپورٹڈ سگار سلگاتے ہوئے اس کے دھویں کو ایٹمی دھویں میں ملاتے دیکھ لیا۔ مگر جو غلط فہمی میرے دل میں پھانس بن کر ہنوز چبھی ہوئی ہے وہ یہ کہ آخر ان دھماکوں کا مقصد کیا تھا؟ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ چاغی کی پہاڑیوں سے اٹھنے والا سنہری گرد و غبار ابھی تھما نہیں تھا کہ کشمیر کے بارے میں یہ غلط فہمیاں پھیلائی جانے لگیں کہ کچھ بھی ہو اب یہ مسئلہ حل ہوا ہی چاہتا ہے۔ پھر راولپنڈی سے تصدیق شدہ ہماری کشمیری لیڈرشپ نے بھی اسی حکمت کے راگ کو الاپنا شروع کر دیا اور وہ ہنوز گاہے گاہے اس کی باز خوانی کرتے سنائی دے رہی ہے۔ مگر اس کے بعد کارگل میں باضابطہ جنگ ہوئی جس میں دونوں طرف سے سینکڑوں فوجی مارے گئے، جنگی اور جاسوسی طیارے گرائے گئے مگر مجال ہے کہ ایٹمی ہتھیار زیر زمین اسٹورز سے برآمد ہوئے ہوں۔ گزشتہ سال بالاکوٹ میں ’کوا آپریشن‘ کے جواب میں دو بھارتی طیارے گرائے جانے کے باوجود نیوکلیئر جنگ کا امکان دور تک نظر نہیں آیا۔ گزشتہ سال بھارت کی جانب سے کشمیر میں ماورا آئین اقدامات سے پیدا شدہ صورتحال سے نسل کشی کی دہائیوں کے باوجود جنگ کو خارج از امکان قرار دیا گیا۔ اب جب چین اور بھارت دو ایٹمی طاقتیں لداخ میں مکوں، ڈنڈوں اور لاتوں سے لڑ رہی ہیں، ایسے حالات میں عجب نہیں کہ تلواروں اور تیروں سے لڑنے والے ارطغرل غازی لوگوں کی امیدوں کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *