احتیاط // عدم برداشت//

شعبہ پاکستان

تحریر: ڈاکٹر نصیر محمد عمرانی..

سائنس کی ترقی نے انسانی زندگی بدل کے رکھ دی ۔جب سے کمپوٹر دریافت ہوا تو اسنے ایک انقلاب برپا کردی۔کمپوٹر کا لفظ ھمارے معاشرے میں ایک محاورے کے طور پر استعمال ہونے لگا۔مثال کے طور پر کوئ قصائ سے کہے کہ بھیا ذرا جلدی کرنا تو وہ جواب دیگا کہ بھائ انسان ہوں کوئ کمپیوٹر تو نہیں ۔سہولیات دسترس میں ہو نے کے بعد جہاں اس کے فائدے ہوئے وہیں کچھ ایسے پہلو بھی نظر آئے کہ اس نے معاشرے پر اچھے اثر نہیں چھوڑے۔پہلے پہلے سارا محلہ ایک ہی ٹی وی پر ڈرامے دیکھتے تھے اور بزرگ لوگ بیٹھکوں میں روزمرہ کے مسائل سنتے اور حل کرتے۔لوگ اپنے اپنے مسائل سناتے اور اپنا بوجھ ھلکا کرتے۔

آج کل توموبائل کے آنے کے بعد محلے برادری کے لوگوں سے ملاقات تو دور کی ایک گھر کے فرد بھی ایک دوسرے کی شکل کئ روز بعد دیکھتے ہیں۔لوگ اپنے مسائل اپنے طور پر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔بچوں کا رزلٹ خراب آنے پر انکو مار پیٹ کر یا ڈانٹ کر جان چھڑائی جاتی ہے۔دوسروں کی کامیابی یا ناکامی پر اپنے طور پر سرعام تبصرے کرنا،چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرنا ۔یہ۔سب عدم برداشت کی وجہ سے ہوتا ہے۔جس طرح بیماری کے علاج اور تشخیص کے لئے وجوہات کا جاننا لازمی ہے اسی طرح لوگوں کے عدم برداشت کی وجوہات جاننا ضروری ہے تاکہ اس کو حل کرکے ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھی جائے۔عدم برداشت کے کئ بنیادی وجوہات ھیں جیسے کہ ناانصافی،حق تلفی،اور حوصلہ شکنی ،عدم توجہ،برداباری اور تحمل مزاجی کا فقدان۔اگر بچوں کا رزلٹ خراب آئے تو ڈانٹ کر جان نہیں چھڑانی چاہئیے بلکہ ان سے پیار کے ساتھ اس کی وجوہات جاننی چاہئیے ۔ہوسکتا ہے اسکو اسکول میں کوئ مسئلہ ہو اور وہ توجہ چاہتا ہے۔اج کل ایک اور بات بھی نوٹ کی گئ ہے کہ جب کسی مسئلے پر گھر کے بزرگ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو بدتمیزی کے ساتھ جواب دیا جاتا ھے کہ آپ کا زمانہ اور تھا یہ زمانہ اور یے۔بزرگوں کے زمانے میں تو رواداری ،تحمل مزاجی اور بردباری ہر معاشرے کی کامیابی کا زینہ ہوتی تھی۔ان کے زمانے میں اساتذہ کی عزت اتنی ہوتی تھی کہ سکول تو سکول بچے شام کے اوقات میں بھی گھر سےنہیں نکلتے تھے کہ کہیں استاد نہ دیکھ لے ۔گلی میں کانچے کھیلتے ہوئے بچے استاد کو دور سے آتے ھوئے دیکھ کربھاگ جاتے تھے۔اگر ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے سے عدم برداشت ختم ہو تو اس کے لئے ضروری ہےتحمل مزاجی،بردباری،دوسروں کی مثبت رائے کا احترام اگر پسند نہ آئے تو اس کا مذاق نہیں اڑانا چاہئیے بلکہ تحمل مزاجی سے سمجھانا چاہئے۔ کسی بھی مسئلے پر جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔فارغ اوقات میں ترجمے کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کرنی چاہئے۔سیرت النبی صلی اللہ علیہ وصلم کا مطالعہ کریں۔کسی بھی مسئلے کا مثبت حل یہ ہے کہ بولنے سے پہلے ہمیں ایک اصول پر عمل کرنی چاہئے اور وہ ہے احتیاط احتیاط احتیاط۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *