قادیانی نہ اقلیت ہیں نہ اکثریت

شعبہ پاکستان

تحریر : حمد فاتح ملک

بھارت میں جو کچھ پچھلے ایک سال میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے اس پر عمران خان صاحب اور ان کی ٹیم نے اپنی تقریروں اور سوشل میڈیا پر بہت کچھ کہا ہے۔ ہر دوسرے دن وہ اس طرف عالمی دنیا کی توجہ دلاتے رہتے ہیں۔ کشمیر میں بھارتی مظالم اور ہندوستان میں مسلمانوں سے ہونے والے امتیازی سلوک اور مظالم کی طرف وزیر اعظم اور ان کی ٹیم، خاص کر سوشل میڈیا ٹیم، دنیا کی توجہ کھینچنے کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالات کوئی بھی ہوں ، کرونا کی وجہ سے دنیا پریشان ہو یا عالمی منڈی میں کساد بازاری ہو، وزیر اعظم اور ان کی ٹیم بھارت کے مظالم کو بیچ میں لے ہی آتی۔ اقوام متحدہ میں انہوں نے بھارتی مظالم کی طرف جب دنیا کی توجہ مبذول کروائی تو بڑی واہ وا ہ ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کے بارے میں بھی دنیا کو بہت کچھ بتایا۔ اپنی متعدد ٹویٹس میں جناب وزیر اعظم صاحب سکھوں، ہندوں ، مسیحیوں کے حقوق کی بات کرتے رہے۔ بلکہ ہندوستان کو طعنے بھی دیتے رہے کہ ایسے اقلیتوں کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔

لیکن یہ سب تصویر کا ایک رخ ہے۔ یہ رُخ دیکھنے والوں کو خوب لبھاتا ہے اور اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہ پاکستان نام کے ہاتھی کے دیکھنے والے دانت ہیں کھانے والے نہیں۔ اگر آپ نے تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا ہو تو USCIRF کی جاری کردہ رپورٹ پڑھ لیں جیسے جاری ہوئے ابھی چند دن گزرے ہوئے ہیں۔ یہ رپورٹ اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے

https://w0ww.uscirf.gov/news-room/press-releases-statements/uscirf-releases-2020-annual-report-recommendations-us-policy

اس رپورٹ میں 14 ممالک کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا جہاں اقلیتوں سے نا روا سلوک برتا جاتا ہے۔ ان میں سے 9 ممالک تو پچھلے سال دسمبر میں آنے والی رپورٹ میں بھی شامل تھے۔ جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ (یاد رہے کہ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں کئی سالوں سے مسلسل شامل آرہا ہے۔ )جب کہ 5 ممالک ایسے تھے جنہیں اس سال دوبارہ شامل کیا گیا جس میں بھارت بھی شامل تھا۔ 2004 کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب USCIRF نے بھارت کو خاص طور پر قابل توجہ ممالک میں شامل کیا۔

جب یہ رپورٹ آئی تو محترم شہباز گل صاحب نے سوشل میڈیا پر خوب واویلا مچایا۔ انہوں نے یہ بتایا کہ بھارت کو اس فہرست میں شامل کیا جانا بتاتا ہے کہ بھارت میں کیا مظالم ہو ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے اپنی ٹویٹ کچھ دیر بعد ڈلیٹ کر دی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوگی کہ انہیں کسی نے توجہ دلائی ہوگی کہ انگریزی کی رپورٹ پوری پڑھ لیں تو شاید معلوم ہو کہ بھارت سے پہلے پاکستان کا نام موجود ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو ترجمہ کے ساتھ انٹرنیٹ پر موجود ہے۔

https://www.uscirf.gov/sites/default/files/Pakistan_Urdu.pdf

https://www.uscirf.gov/sites/default/files/Pakistan.pdf

اس رپورٹ کو شاید وزیر اعظم عمران خان صاحب نے پڑھا ہوگا یا انہیں کسی نے بتایا ہوگا۔ اس رپورٹ کے شائع ہونے کے صرف دو دن بعد یہ خبر گردش کرنے لگی کہ قومی اقلیتی کمیشن کی از سر نو تشکیل ہوگی۔ اور اس دفعہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قادیانیوں / احمدیوں کو بھی اس کا رکن بنایا جائے گا۔ اور عمران خان صاحب کے کہنے پر یہ سب ہو رہا ہے۔ اس خبر کا سامنے آنا تھا کہ نام نہاد علماء کے ساتھ ساتھ نام نہاد صحافیوں نے بھی اس کے خلاف خوب زبان درازی کی۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ وزیر اعظم کی پارٹی کے اپنے وفاقی وزیر نے قادنیوں کی سزا ’’سر تن سے جدا‘‘ کی ٹویٹ بھی کی۔ اور سوشل میڈیا پر جو لگاتار کئی دن احمدیوں / قادیانیوں کے خلاف ٹرینڈ چلتا رہا اور پہلے روز تو پہلے 5 ٹرینڈ میں سے 4 اسی موضوع پر تھے۔ سوشل میڈیا مافیا اور ٹرولرز نے اس پر اس مذہبی اقلیتوں کو خوب گالیاں دیں اور سزائیں جاری کیں۔ اس موقعہ پر جن وزیروں اور صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس سارا دن آگ برساتے ہیں وہ ایسے ماند پڑ گئے جیسے انہیں سانپ سونگھ گیا ہو۔ سوائے اکا دکا کہ جو آتے میں نمک کے برابر تھے۔ سوشل میڈیا کے ان ٹرینڈز میں کس قدر گالیاں تھیں اس کا اندازہ آپ وفاقی وزیر کی ایک ٹویٹ سے لگا سکتے ہیں۔

ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کی ٹویٹس اس کے علاوہ بھی جو جاہل بھی ہیں اور کالانعام بھی۔ روزانہ عالمی دنیا کے سامنے ’’ہندوتوا‘‘ کا راگ الاپنے والے اپنے ملک میں قادیانی قادیانی کھیل پر بالکل خاموش تماشائی بنے رہے۔ خیر حتمی منظوری کابینہ نے دی، وزیر اعظم صاحب حسب سابق یو ٹرن لے گئے اور یہ نو تشکیل شدہ اقومی اقلیتی کمیٹی کسی بھی ’’قادیانی کے شر‘‘ سے محفوظ رہی۔ پاکستان کی 96 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ اور اس کے علاوہ جو بھی ہیں وہ اتلیت ہیں۔ 1974 سےقبل احمدی اکثریت میں شمار ہوتے تھے کیونکہ وہ مسلمانوں کا ایک فرقہ شمار کئے جاتے تھے۔ یہ لوگ اسمبلی کا حصہ بھی تھے۔بلکہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ جنہیں بانی پاکستان قائد اعظم نے خود وزیر خارجہ بنایا تھا وہ بھی احمدی تھے۔ اسی طرح مشیر ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف حکومتی کمیٹیوں اور اداروں میں احمدی فائز تھے۔ 1974 میں دوسری آئینی ترمیم کے بعد احمدی سرکاری کھاتوں میں اکثریت کی بجائے اقلیت میں شمار کئے جانے لگے۔لیکن عملاً وہ پہلے کی طرح نہ اقلیت شمار ہوتے رہے نہ اکثریت۔ اور پھر ان کا کوئی نمائندہ قومی اسمبلی میں نہیں آیا۔

اب سوال یہ ہے کہ احمدی اقلیت ہیں یا اکثریت؟(قطع نظر اس کے کہ وہ خود اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں یا غیر مسلم)۔ حکومت اور پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ وہ ’’غیر مسلم‘‘ ہیں اس وجہ سے اقلیت ہیں۔ اور دوسری طرف آج تک کسی اقلیتی کمیٹی میں بھی بطور نمائندہ احمدیوں کو شامل نہیں کیا جاتا۔ گویا عملاً اس بات کی بھی نفی کی جاتی ہے کہ وہ اقلیت ہیں۔

ان سب باتوں کا جائزہ لینے کے بعد کیا وزیر اعظم صاحب اور ان کی ٹیم یہ حق رکھتی ہے کہ وہ بھارت اور کشمیر میں ہونے والے اقلیتی سلوک کے بارے میں آواز بلند کریں جبکہ ان کا اپنا ہاتھ اسی خون سے آلودہ ہے؟ کیا دوسری اقلیتی برادریوں کے ساتھ ہمدردی کی ٹویٹس کرتے ہوئے کبھی انہوں نے احمدیوں کے بارے میں کوئی ٹویٹ کی؟ احمدیوں / قادیانیوں کو مسلم شمار کر کے اکثریت میں شمار کرنے سے ان کا’’ایمان‘‘ ضائع ہوتا۔ اقلیت شمار کرنے سے وہ ’’اسلام کے غدار‘‘ بنتے۔ پھر سوال یہ ہے کہ قادیانی اقلیت ہیں یا اکثریت؟ خود ان کے پاس حق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو مسلم کہیں یا غیر مسلم۔یہ حکومت اور آئین ان کا مذہب بیان کر دے بس اسی کو ماننا ان کا نصیب ٹھہرا ہے۔ تصویر کے دونوں رُخ دیکھنے کے بعد یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ اقلیت میں آتے ہیں نہ اکثریت میں۔ معلوم نہیں حکومت انہیں انسانوں میں بھی شمار کرتی ہے یا نہیں کیونکہ اس بارے میں ابھی تک کوئی حکومتی فیصلہ نہیں آیا۔ امید ہے جلد ہی آجائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *