بونوں کا دیس

شعبہ پاکستان

تحریر: (سہیل وڑائچ)

یہ ایک فرضی قصہ تھا مگر اس کے اندر علامتوں، معانی اور تشریحات کی ایک دنیا آباد تھی اس لیے اسے بہت شہرت ملی۔ انگریزی ادیب جوناتھن سوئفٹ کی ’’گلیورز ٹریولز‘‘ کو ادب اور سیاست دونوں میں کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔ سوئفٹ نے للی پٹ (Lilliput) کے ایک جزیرے کا ذکر کیا ہے جہاں چھہ انچ قد کے بونے آباد تھے۔ ان کی اپنی اقدار اور اصول تھے۔ سوئفٹ نے بونوں کے دیس کی کہانی اپنے تخیل کی بنیاد پر لکھی اور اس کہانی کی علامات کے ذریعے برطانیہ اور دیگر ریاستوں کے اندر درباری سازشوں، خوشامدیوں اور مصنوعی کرداروں پر تنقید کی۔ یہ بونے فرضی اور تخیلاتی تھے مگر پروفیسر یوول نوح حراری کی تازہ کتاب “Sapiens” ’’انسان کی مختصر تاریخ‘‘ میں یہ سائنسی انکشاف کیا گیا ہے کہ ارتقا کے مراحل سے گزرتے ہوئے آج کے انسان (Homo sapiens) سے 12ہزار سال پہلے فلور جزیرے پر بونوں کی ہڈیاں اور آثار ملے ہیں، البتہ بونوں کی اس نسل کے جین آج کی انسانی نسل میں بھی موجود ہیں۔سوئفٹ کے بونے ہوں یا پروفیسرحراری کے اصلی انسانی بونے، یہ عقل میں پورے انسان تھے ان کے صرف قد چھوٹے تھے، دماغ اتنے ہی بڑے تھے جتنے آج کی انسانی نسل کے ہیں۔ مشہور مقولہ ہے کہ بونے کا قد نہیں دل ناپو تبھی اس کے ارادوں کا علم ہوگا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ بونے ہمیشہ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں خود ایک بونا ہوں اور بونوں کے دیس میں رہتا ہوں۔

اس دیس کے بونے صرف قد کے نہیں عقل کے بھی بونے ہیں۔ نفرت سے بھرے، حسد سے لتھڑے، سازش سے لدے اورشرکی دولت سے مالا مال، اپنے کسی بھی ہم ذات کی ترقی سے خوف زدہ، اس کی جیت پر رنجیدہ اور ہر وقت آمادۂ بغاوت، شوریدہ سر بھی نہیں اور مطمئن و قانع بھی نہیں، تضادات سے بھرپور ہم بونے خود کو بہت بڑا سمجھتے ہیں۔ اتنا بڑاکہ ہم اپنی خامیوں کا جائزہ لینے ہی کو تیار نہیں۔پروفیسر یوول نوح حراری کے مطابق آج تک کی سائنسی تحقیق کے مطابق جو قدیم ترین انسانی نام سامنے آیا ہے وہ ’’کشتم‘‘ ہے۔ اسی طرح جو سب سے پرانی تحریر دست یاب ہوئی وہ گندم کے حساب کتاب پر مبنی ہے اور انسانی موجودی کا سب سے پہلا احساس نشان انگوٹھا لگا کر کیا گیا۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ چھہ قسم کی انسانی نسلوں اور قسموں کا سراغ ملتا ہے جن میں بونوں کی نسل کے علاوہ پانچ اور بھی قسمیں تھیں لیکن بالآخر موجودہ انسانی نسل Homo Sapiens نے سب کی جگہ لے لی اور پچھلے سیکڑوں سالوں سے پوری دنیا میں ایک بھی ذی نفس ایسا نہیں ملتا جس کا تعلق کسی اور انسانی قسم سے ہو۔ بونے قد کے باشندوں کے دیس میں اگر فیصلے بالشتیے قد کے لوگ کریں، تو کوئی حیرانی نہیں کہ ہم سب بالشتیے ہیں۔ حیرانی اورپریشانی تب ہوتی ہے کہ ہم قد کے بالشتیے، سوچ کے بھی بالشتیے اور فکر کے بھی بونے نکلتے ہیں۔ ہمیں اپنی ناک سے آگے کچھ نظر نہیں آتا، قد کا بالشتیہ ہونا کوئی بری بات نہیں لیکن سوچ اور فکر کا بالشتیہ یا بونا ہونا ملک و قوم کو نقصان دیتا ہے۔

بونوں کے انتخابات ہوئے۔ سب بونوں کو توقع ہے کہ اب ایک نیا ملک بنے گا جہاں کرپشن ہو گی نہ بے انصافی، جہاں روزگار ملے گا اور خوش حالی ہو گی۔ بظاہر یہ سہانا خواب پورا ہونے میں چند ہی دن باقی ہیں لیکن بونوں کی ذہنیت وہی رہی، وہی سازشیں، وہی دھرنے، وہی بائیکاٹ اور وہی اقتدار کی رسہ کشی جاری رہی تو احتمال ہے کہ بونوں کا نیا دیس ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائے گا۔ ضلع گجرات کے نواح میں جگہ جگہ لمبی لمبی قبریں نظر آتی ہیں۔ مشہور یہی ہے کہ یہ نوگزوں کی قبریں ہیں اور ساتھ ہی یہ روایت بھی بیان کی جاتی ہے کہ ایک زمانے میں انسان کا قد بہت لمبا یعنی نو گز کے قریب ہوتا تھا۔ پروفیسر یوول نوح حراری یا کسی اورسائنسی تحقیق یا دریافت میں البتہ ابھی تک یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ انسانی نسل کی کوئی اتنی لمبی قسم کبھی اس دنیا میں رہی ہو۔ سائنسی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ سوائے بونوں کے انسان کا قد کم و بیش اتنا ہی رہا ہے جتنا اب ہے۔

اصل تبدیلی دماغ کے سائز میں آئی۔ دماغ کا سائز بڑا ہوا تو سوچ بچار اور سماجی رابطہ اور گپ شپ کا سلسلہ شروع ہوا، جس سے انسانوں کے گروہ میں تعاون بڑھا اور پہلے قبیلے اور پھر معاشرے بنتے گئے۔ انسانی نسل کی ترقی میں ایک بڑی تبدیلی اس وقت آئی، جب اس نے چار پایوں کے بجائے دو پایوں پر چلنا سیکھ لیا۔ دوہاتھ فارغ ہوئے تو دماغ اور دو فارغ ہاتھوں سے اوزار بنائے اور نت نئی ایجادات شروع کردیں۔ یاد رکھیں کہ بونوں والی سوچ بدلنا ہو گی ظالمانہ احتساب کے نام پر ہر اپوزیشن کو انتقام کا نشانہ بنانا آسان ہے اور اس کی بجائے اپنے سمیت سب کا منصفانہ احتساب کرنا مشکل ہے۔ دنیا بھر کے پیمانے، معیارات اور روایات بدل چکیں۔ ہمیں بھی بالشتیوں سے انسان بننا ہوگا۔ ہمیں بھی چھوٹے قد اور چھوٹے ذہن سے آگے بڑھ کر قدآور بننا ہوگا۔ ایک ایسے ملک اور ایسی ریاست کی بنیاد رکھنا ہو گی، جس میں سب کا تحفظ اور سب کا احترام ہو۔ حکومت محب وطن اور اپوزیشن غدار قرار نہ دی جائے۔ جہاں ریاست کے طاقت ور گروہ، عوام کے منتخب نمایندوں کو شریک ِاقتدار نہ کریں، بلکہ انتقال اقتدار کریں۔ ہم بونے ضرور ہیں مگر ہم اگر اپنی سوچ بڑی کرلیں، دماغ کو کھول لیں تو ہم بھی دنیا بھر کی طرح بدل سکتے ہیں۔ اس دیس میں بھی سازشوں، دہشت گردی اور بے یقینی کے سائے ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتے ہیں۔

ہم وہ قوم ہیں جنھیں بدلنے اور اپنے آپ کو بہتر کرنے کے بے شمار مواقع ملتے رہے ہیں اور ہم ہر موقع کو ضائع کرتے رہے ہیں۔ جب بھی ایسا موقع ملا ہم نے اپنے ذہن کو نہیں بدلا اور وہی غلطیاں دہرائیں جو پہلے دہراتے رہے۔ ہم بونوں کو ایک بار پھر سے نیا موقع ملا ہے۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو توقعات اور خوش حالی کا سفر شروع ہو سکتا ہے۔ ہم بھی مہذب جمہوری، معاشرہ بن سکتے ہیں۔ ہم بھی اپنے معاملات خود بیٹھ کر طے کر سکتے ہیں۔ اگر جنوبی افریقہ میں کالے اور گورے نسلی منافرت ختم کر سکتے ہیں تو ہم سرخ، سبز اور سیاہ کے دائروں سے نکل کر ایک قوم کیوں نہیں بن سکتے؟

(بشکریہ روزنامہ جنگ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *