بھارت کو کس بات کا خوف ہے؟

تحریر: ضیا الرحمٰن ضیا

بھارت نے کشمیریوں کو کیوں قید کر رکھا ہے؟ بھارت کشمیری نوجوانوں کو کیوں قتل کررہا ہے؟ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کے درپے کیوں ہے؟ بھارت کشمیریوں میں کیوں خوف و ہراس پھیلا رہا ہے؟ بھارت کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں موجود فوج میں کیوں اضافہ کررہا ہے؟ بھارت کشمیری خواتین، بچوں اور بزرگوں کو کیوں تشدد کا نشانہ بنارہا ہے؟ بھارت کو کس بات کا خوف ہے اور کس بات نے اسے کشمیریوں پر ہر طرح کا ظلم روا رکھنے پر آمادہ کر رکھا ہے؟ بھارت دنیا کو کشمیر تک رسائی کیوں نہیں دے رہا اور کشمیریوں کی چیخیں کیوں دبانا چاہ رہا ہے؟تقریباً ان تمام سوالات کا جواب چند روز قبل کشمیری مجاہدین کی طرف سے بھارتی فوج پر ہونے والے حملے میں مل ہی گیا۔ اس میں بھارتی فوجی افسر سمیت پانچ فوجی جہنم واصل ہوئے۔ اس واقعے میں چار مجاہدین بھی شہید ہوئے۔ اس حملے نے بھارت کی چیخیں نکال دیں۔

یہ وہی ردعمل، بلکہ اس ردعمل کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا جو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے جواب میں بھارت کو دیکھنا پڑے گا اور جس سے بھارت خوفزدہ ہوکر مزید غلطیاں کررہا ہے اور وہ کشمیریوں میں غم و غصہ کی آگ کو مزید بھڑکا رہا ہے۔ اب وہ وقت دور نہیں جب بھارت کو کشمیریوں کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا اس بات سے بھارتی حکومت بھی بخوبی واقف ہے، کیونکہ انہوں نے کشمیریوں پر ظلم ہی اتنے کیے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت بھارت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ بھارتی حکومت نے اسی ردعمل سے بچنے کےلیے کشمیریوں کو گھروں پر ہی محصور کررکھا ہے۔ انہیں ایک دوسرے سے دور کیا ہوا ہے تاکہ وہ منظم ہو کرجلسے جلوس نہ نکالیں اور بھارت کے لیے کوئی پریشانی نہ کھڑی کرسکیں۔

وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کشمیری نوجوان انٹرنیٹ وغیرہ کا استعمال بھی خوب جانتے ہیں، اگر انہیں ایک دوسرے سے دور رکھا تو وہ انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع استعمال کرکے ایک دوسرے سے رابطہ کریں گے اور اس طرح وہ ایک بھرپور تحریک چلانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ان کے سامنے برہان وانی شہید اور ان کے ساتھیوں کی مثال موجود ہے جنہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے بھارتی فوج کی نیندیں حرام کردی تھیں، جس کی پاداش میں بھارتی فوج نے انہیں شہید کردیا تھا۔ اس لیے بھارت نے نوجوانوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے اور ایک دوسرے کے حالات سے بے خبر رکھنے کےلیے انٹرنیٹ اور فون سروسز وغیرہ بند کر رکھی ہیں۔بھارت کشمیریوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

بھارتی فوجی آئے روز مسلمانوں کے باپردہ گھروں پر چھاپے مارتے ہیں اور انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی گھروں کو منہدم کردیتے ہیں اور کبھی جلا کر راکھ کر دیتے ہیں۔ کبھی جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کو شہید کردیا جاتا ہے۔ پاک دامن بہنوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں۔ یہ سب مظالم کشمیریوں میں غصے کا لاوہ بھر رہے ہیں جو عنقریب پھٹنے کو ہے۔ جس دن یہ لاوہ پھٹے گا اس دن بھارت کےلیے بہت سے مسائل کھڑے ہوجائیں گے۔ بھارتی فوجی کشمیر میں ٹھہر نہیں سکیں گے۔ اس لیے کہ فوج فوج کے ساتھ تو لڑ سکتی ہے لیکن عوام کے ساتھ نہیں۔ جب انسان دیکھتا ہے کہ اب اس کےلیے بچنے کا کوئی راستہ نہیں تو پھر وہ اپنے دفاع کےلیے ایک بھرپور حملہ کرتا ہے کہ شاید اس طرح اس کی جان بچ جائے۔

شیخ سعدی، گلستان سعدی میں فرماتے ہیں: نہ بینی کہ چوں گربہ عاجز شود؛ بر آرد بچنگال چشم پلنگ۔ یعنی کیا تو نہیں دیکھتا کہ جب بلی عاجز آجاتی ہے تو پنجوں سے چیتے کی آنکھیں نکال لیتی ہے۔چیتا بہت طاقتور ہوتا ہے، بلی اس کے ایک پاؤں کے برابر بھی نہیں۔ اس کے مقابلے میں بلی ایک بہت ہی کمزور جانور ہے۔ جب چیتا اس پر حملہ کرتا ہے تو بلی پہلے تو جان بچانے کے لیے بھاگتی ہے لیکن جب وہ دیکھتی ہے کہ اب کوئی اور راہ نجات باقی نہیں رہی تو وہ آخری حربے کے طور پر اپنے پنجوں سے چیتے پر حملہ کرکے اس کی آنکھیں نکال دیتی ہے۔بھارت کا بھی یہی حال ہوگا کہ جب کشمیری ظلم سہتے سہتے تھک جائیں گے اور بھارتیوں کے ظلم و ستم حد سے گزر جائیں گے تو پھر کشمیری عوام بھی آخری حربے کے طور پر طاقتور بھارتی فوج پر ٹوٹ پڑیں گے اور انہیں شدید نقصان پہنچاکر کشمیر چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کردیں گے۔ بس ایک بار انہیں موقع تو ملے پھر ان کا لاوہ پھٹنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ان کی آنکھوں کے سامنے جب ان کے پیاروں کو بے دردی سے شہید کیا جاتا ہے، ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور عورتوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو ان کے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ جب اس طرح کی آگ کسی قوم میں بھڑکنے لگے تو یہ اس وقت تک نہیں بجھتی جب تک وہ ظالم کو کیفر کردار تک نہ پہنچادے۔ ایک بار کشمیر سے لاک ڈاؤن ختم ہوجائے تو کشمیری اس کا انتقام لیتے نظر آئیں گے۔ یہی خوف بھارت کو کھائے جارہا ہے جس کی وجہ سے وہ کشمیریوں کو رہا نہیں کررہا۔ دنیا کو بھی اس خوف سے وہاں تک رسائی نہیں دے رہا کہ وہاں پر بھارتی مظالم کا پردہ نہ چاک ہوجائے۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت کو اقلیتوں کےلیے بدترین ملک قرار دیا ہے۔ اب پوری دنیا میں بھارت کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر میں لگائی گئی آگ پورے بھارت میں پھیل رہی ہے۔ پورا بھارت اس آگ میں جل رہا ہے۔ وہاں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں، بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ نہایت غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے۔ کمیشن کی رپورٹ سیکولر بھارت کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ مودی بھارت کو ایسے اندھیروں میں دھکیل رہا ہے جہاں سے نکلنا ناممکن ہوجائے گا۔ اب بھارت کے سنجیدہ حلقے مل بیٹھ کر سوچیں اور مودی سے جان چھڑا کر بھارت کو تباہی سے بچالیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *