پاکستانی ڈرامو ں میں غیر حقیقی امور پر مبنی کہانیاں

شعبہ پاکستان

تحریر: (ذیشان محمود۔ کراچی)

پاکستان میں پچھلے تین چار سال میں طلاق، حلالہ، ریپ اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے معاشرتی مسائل پر بننے والے ڈرامے کافی مقبول ہوئے۔ جن میں گھائل، سنگت، اُڈاری، روگ، مقابل، کتنی گرہیں باقی ہیں، چُپ رہو شامل ہیں۔ بعض ڈراموں پر پیمرا کی جانب سے پابندیاں بھی لگیں لیکن اس کے باوجود عوام نے انھیں بےحد پسند کیا۔ پاکستان میں Child abuse کے بڑھتے واقعات کے پیشِ نظر ڈرامہ انڈسٹری بھی اس طرف متوجہ ہوئی۔ کیونکہ اس موضوع پر بننے والے ڈراموں نے چینلز کو بہت TRP مہیا کی۔

تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ موضوعات ساری عوام کو پسند آئے ہوں۔ اسلام آباد یونیورسٹی کی لیکچرار شمائلہ مدثر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’کسی حد تک پاکستانی ڈراموں میں بہت ساری چیزیں ایسی دکھاتے ہیں جو ہماری سوسائٹی میں نہیں ہو رہیں مثلاً خاندانی سیاست اور گھریلو جھگڑے۔ یہاں ہوتے ہیں لیکن اتنے زیادہ نہیں یہ سب انڈین ڈراموں سے لیا گیا ہے۔‘‘

پیمرا کی جانب سے مقامی انٹرٹینمنٹ ٹیلی وژن چینلز کو جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ متنازع اور غیراخلاقی موضوعات پر مبنی ڈراموں کی عکس بندی معمول بن گیا ہے اور نامناسب لباس و حرکات بھی آج کل کے ڈراموں کا خاصہ بن چکی ہیں جو ناظرین کے لیے ذہنی اذیت اور کوفت کا سبب ہے۔پیمرا نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ ڈراموں میں عورت کو جس انداز میں دکھایا جا رہا ہے ناظرین کی کثیر تعداد اس پر شدید تنقید کر رہی ہے۔نوٹس میں تمام ٹی وی چینلز کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ ڈراموں میں ایسے موضوعات پیش کریں جو پاکستانی معاشرے کی حقیقی عکاسی کریں اور اسلامی، سماجی اور معاشرتی اُصولوں کے ہم آہنگ ہوں۔ ڈراموں کے ذریعے بے راہ روی اور برائیوں کو اجاگر کرنے سے گریز کریں۔ حساس موضوعات جیسے کہ طلاق اور حلالہ سے متعلق مواد پیش کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

پاکستان کے ڈراموں میں بعض دفعہ بہت ہی فضول قسم کی باتیں دکھائی جاتی ہیں۔ انہی دنوں ایک ڈرامہ سیریل ’’سوتیلی مامتا‘‘ کے نام سے ایک نجی چینل پر نشر ہو رہا ہے۔ اس ڈارمے میں حقیقت کے برعکس یہ دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیٹی دوسرے شخص کو بیچ دی اور بعد ازاں اپنی بیوی کو طلاق بھی دے دے۔ جس شخص نے یہ لڑکی خریدی اس نے اس کی مطلقہ سے شادی کر لی۔ اب یہ بچی اس غیر حقیقی باپ کی ربیبہ بن گئی۔ ربیبہ سے متعلق قرآن کریم کا واضح حکم ہے کہ سوتیلے باپ کی اس سے شادی نہیں ہو سکتی اور وہ ایک محرم رشتہ ہے۔ جبکہ ڈرامے میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اس بچی کا اصل باپ اپنی سابقہ بیوی سے دشمنی میں عدالت سے بچی کا کسٹڈی مانگتا ہے۔ بچی کا سوتیلا باپ جب وکیل کے پاس جاتا ہے تو وکیل اپنے مخالف کی اس بات کو بڑی اہم دلیل قرار دیتا ہے کہ بچی کے اس گھر میں سب غیر محرم رشتے ہیں۔

حالانکہ یہ بالکل غیر شرعی بات ہے۔ اسی دلیل پر ڈرامے کی آگے چلایا جارہا ہے کہ بچی کا اصل باپ عدالت سے بچی کی کسٹڈی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتاہے۔ جبکہ بچی بھی باپ کے پاس جانا نہیں چاہتی۔ اس بارہ میں پاکستان کا قانون جو بھی کہتا ہو۔لیکن شریعت کے مطابق ربیبہ ایک محرم رشتہ ہے اور اس کے حوالہ سے باقی رشتہ بھی محرم میں شامل ہیں۔ نیز چچا ، تایا، ماموں ، خالہ زاد اور سسرالی رشتے تو حقیقی یا غیر حقیقی طور پر تو نامحرم ہی ہوتےہیں۔ بے ایک گھر میں رہیں یا علیحدہ گھر میں۔ لیکن 10 سال سے کم عمر دکھائے جانے والے بچوں میں کیا محرم اور کیا نامحرم ، جس کو جواز بنایا جائے۔کچھ دن قبل ایک پروگرام میں انصار برنی صاحب(سوشل ایکٹیوسٹ) نے پاکستان کا یہ قانون اچھی طرح سمجھایا تھا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق ماں باپ کی علیحدگی کی صوت میں تا وقتیکہ بچے کی عمر چھ سال نہ ہو جائے بچے نے ہر صورت میں ماں کے پاس ہی رہنا ہے اس کے بعد عدالت بچے سے بھی پوچھے گی اور باپ کے گھریلو حالات کا بھی جائزہ لے گی پھر اس کو کسٹڈی دینے کا فیصلہ کیاجائے گا۔جبکہ اس ڈرامے میں قانون اور اسلامی شرعی احکام کی دھجیاں اڑائی گئیں ہیں۔

کافی عرصہ قبل ایک ڈرامے میں لے پاک بچی کے متعلق بھی ایسا ہی دکھایا گیا کہ گود لینے والی ماں کا جب انتقال ہو گیا تو اہل محلہ ایک مولوی صاحب کی موجودگی میں اس بچی کو گود لینے والے باپ کے گھر سے نکالنے کے لئے جمع ہو گئے کہ وہ باپ اب نا محرم ہے۔ اس بارہ میں پیمرا کو نوٹس لینا چاہیئے کہ اس طرح کے ڈارموں میں غیر فطرتی کہانیاں اور جذبات کو انگیخت کرنے والے مناظر دکھا کر عوام کے ذہن آلودہ نہ کرے۔ یہ بات قابلِ غور ہے اور ان باتوں کو اچھی طرح ذہن نشین کرنا چاہیئے کہ

1: ربیبہ کا سوتیلا والد ایک محرم رشتہ ہے اور باقی رشتے بھی محرم کہلائیں گے۔ سوتیلے باپ کے گھر میں بچی اپنی ماں کے ساتھ رہ سکتی ہے۔ شریعت اور فقہ کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں۔

2: لے پالک بچی جس کو اس کے غیر حقیقی ماں باپ نے اصل ماں باپ کا پیار دیا اور اپنے خون پسینہ کی کمائی اورمحنت سے اسے پالا ۔ اور بچی اس گھر میں ہمیشہ رہتی رہی ہے۔ گو شرعی لحاظ سے اس کے اصل باپ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ لیکن اگر عدالتی اور قانونی لحاظ سے اگر باپ نے کسٹڈی لے رکھ ہے تو وہ باپ کا درجہ رکھتا ہے۔ بظاہر عوام الناس کو ان کے ایک گھر میں رہنے سے متعلق مداخلت کا کوئی جواز نہیں۔ نیز اگر لے پالک کی رضاعت ثابت ہو جائے تو پھر یہ بھی محرم رشتہ کہلائے گا۔

3: اسی طرح رضائی رشتوں میں بھی محرم ہونے اور نا محرم ہونے کی بحث واضح طور پر شریعت نے بیان کی ہوئی ہے۔ جس کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔اس بارہ میں دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کا فتوی نمبر 143802200023 ملاحظہ ہو۔

۱: بیوہ عورت سے اگر رشتہ ازدواج کی قربت ہوچکی ہے تو اب اس بیوہ کی پہلے شوہر سے دونوں بیٹیاں اس شخص کے لیے محرم ہیں، البتہ فتنے میں پڑنے کااندیشہ ہو تو علیحدہ رہنا واجب ہے۔

۲: گود لی ہوئی بچی محض گود لینے سے محرم نہیں بنے گی، بلکہ غیر محرم ہی رہے گی اور اس سے پردہ واجب ہوگا، الایہ کہ اس سے محرمیت کا کوئی اور رشتہ ہو، مثلاًرضاعت کا رشتہ ہو بایں طور کہ گود لینے والے کی بہن نے اسے دودھ پلادیا ہو تو پھر وہ محرم ہوگی۔فقط واللہ اعلم

بہر حال ہمارے ناول نگاروں اور ڈرامہ نگاروں و بے شک تاریخ ، قانون اور عوامی معاملات کا گہرا علم اور اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات نہایت ضروری ہے کہ ڈرامہ نگاروں کو شرعی معاملات میں ایک بار متعلقہ علماء و ماہرین سے ضرور رابطہ کر لینا چاہیئے۔ تاکہ وہ کسی بھی غیر شرعی اور غیر اسلامی اور تعلیم اور قانون کے بر خلاف کو ئی بات پیش کرنے والے ہوں۔بعض ڈرامہ نگارون نے اس بات کو قلم کی آزادی سلب کرنے کے مترادف خیال کیا اور کہا کہ اس طرح مصنفین کو ڈکٹیٹ نہیں کیا جا سکتا ایسے ماحول میں ان کا ذہن آزادی کے ساتھ سوچ نہیں سکتا۔لیکن ان کو اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ یہ بات اسلامی تعلیمات کے برخلاف ہے کہ آپ اپنی آزادی کے خیال میں اپنی اخلاقیات اور مذہبی حدوود سے باہر نکل جائیں۔ امید ہے یہ بات آپ کو سمجھ آ گئی ہوگی۔

https://www.banuri.edu.pk/readquestion/04-11-2016

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *