درس قرآن کریم ماہ مئی ۲۰۲۰

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۲﴾ مَلِکِ النَّاسِ ۙ﴿۳﴾ اِلٰہِ النَّاسِ ۙ﴿۴﴾

مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۬ۙ الۡخَنَّاسِ ۪ۙ﴿۵﴾ الَّذِیۡ یُوَسۡوِسُ فِیۡ صُدُوۡرِ النَّاسِ ۙ﴿۶﴾

مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ ٪﴿۷﴾

(الناس :30)

ترجمہ:  اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا، بِن مانگے دینے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔تُو کہہ دے کہ میں انسانوں کے ربّ کی پناہ مانگتا ہوں۔انسانوں کے بادشاہ کی۔انسانوں کے معبود کی۔بکثرت وسوسے پیدا کرنے والے کے شرّ سے، جو وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔وہ جو انسانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ (خواہ) وہ جنوں میں سے ہو (یعنی بڑے لوگوں میں سے) یا عوام النا س میں سے۔

تشریح :    یہ سورت یہودیت اور عیسائیت کی ان تمام مجموعی کوششوں کو خلاصۃً پیش کرتی ہے جن کے خدو خال یہ ہوں گے کہ وہ بنی نوع انسان کی ربوبیت کا دعویٰ کریں گے یعنی ان کی اقتصادیات کے بھی مالک بن بیٹھیں گےاور اسی طرح ملوکیت کا بھی دعویٰ کریں گےیعنی  ان کی سیاست پر قبضہ کر لیں گے۔ اور پھر گویا خود معبود بن جائیں گے  اور جو اُن کی عبادت کرے اس کو تو وہ عطا کریں گے اور جو اُن کی عبادت کا انکار کرے اس کو وہ  رُسوا کر دیں گے۔

اُن کا سب سے خطرناک ہتھیار یہ ہوگا کہ ایسے وسوسے پیدا کرنے والے کی طرح ہوں گے جو خَنَّاس ہوگا یعنی دلوں میں وسوسہ پیدا کر کے پھر آپ غائب ہوجائیں گے۔ یہی حال اس زمانہ کی بڑی طاقتوں یعنی Capitalismکا بھی ہو گا اور عوامی طاقتوں یعنی اشتراکیت (Communism)کا بھی ہو گا۔ پس جو ان تمام امور سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آئے گا اللہ تعالیٰ اسے بچالے گا۔

(ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمدؒ  صفحہ 1230۔1231)

علاوہ ازیں اسی سورہ کی تشریح بیان کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ فرماتے ہیں۔

امراض سینے کا علاج :  میں خیال کرتا ہوں کے امراض سینہ  مثلاً سل، کھانسی وغیرہ کے واسطے اس سورہ شریفہ میں ایک دعا ہے۔ کیونکہ آجکل ڈاکٹروں نے یہ تحقیقات کی ہے کہ پھیپھڑے میں ایک باریک کیڑے  ہوتے ہیں جن  کوجرمز  کہتے ہیں ۔ جب وہ پیدا ہوجاتے ہیں تب پھیپھڑا زخمی ہو کر سل  کی بیماری اور کھانسی پیدا ہوجاتی ہے ۔ جنّ بھی ایک باریک اورمخفی شئے کو کہتے ہیں ۔ اس سورۃ میں ان ا شیاء کے شر سے پناہ چاہی گئی ہے ۔ جو سینہ کے اندر ایک خرابی پیداکرتے ہیں ۔ ناظرین اس کا تجربہ کریں ۔ لیکن صرف جنتر منتر کی طرح ایک دعا کا پڑھنا اور پھونک دینا بے فائدہ ہے ، سچے دل کے ساتھ اور معنی کو یہ سورۃ بطور دعا کے مریض اور اس کے معالج اور تیمار دار پڑھیں اور مریض کے حق میں دعا کریں تو الله تعالی غفور رحیم ہے اور بخشنے والا ہے ۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ ایسے بیماروں کو اس کلام پاک کے ذریعہ شفا حاصل ہو۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔

اس سورۃ شریفہ کے شان نزول کے بارہ میں حدیث شریف میں آیا ہے ۔ کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھاکہ آج کی رات مجھ پر اس قسم کی آیات نازل ہوئیں کہ ان جیسی میں نے کبھی نہیں دیکھیں وہ معوذتین ہیں ۔ ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول خدا صلی الله علیہ وسلم جنّ و انس کی نظربد سے پناہ مانگا کرتے تھے، مگرجب معوذتین نازل ہوئیں تو آپ ؐنے اور طرح اس امر سے متعلق دعا کرنا چھوڑ دیا اور ہمیشہ ان الفاظ میں دعا مانگتے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوا کرتے تو ان دونوں سورتوں کو پڑھ پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔

(حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ587)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *