دنیا کرونا وائرس کے باعث معاشی بحرا ن کا شکار

اداریہ

محی الدین عباسی چیف ایڈیٹرauthor

کرونا وائرس نے پوری دنیا کی ترقی ، معیشت مشت ازبام کر دی ہے۔ یور پ کیا تمام بڑی طاقتیں اس کے آگے بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ یہ بات اب بظاہر نظر آ رہی ہے کہ کوئی ملک کسی آسمانی و زمینی آفت یا وباء سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس وائرس نے جہاں ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کو بُری طرح متاثر کیا ہے وہیں ترقی پذیر ممالک بھی اس کی زد میں ہیں۔ راقم الحروف کا پچھلا آرٹیکل آسمانی وزمینی آفات سے متعلق سائنسدانوں اور ماہرین کا تجزیہ جو چند صدیوں پر مشتمل تھاپیش کیا۔آج اس وائرس سے متعلق دنیا کی معیشت  کس حد تک متاثر ہو گی مختصراً یہ ہے۔

اس وائرس سے نمٹنے کے لئے دنیا بھر میں سرکاری ونجی ادارے بند  ہیں ان کی عمومی سرگرمیاں محدود کر دی گئی ہیں۔ اس کی وجہ سے ملازمتی مواقع بند ہیں اور معاشی دباؤ کا شکار وہ ممالک جو بیرونی امداد پر کامل بھروسہ کرتے ہیں بُری طرح متاثر ہیں۔ترقی پذیر ممالک کی صنعتوں اور دیگر نجی اداروں نے اپنے ملازمین کو فارغ کر دیا ہے چونکہ ان کی صنعتوں نے مال بنانا بند کر دیا ہے۔ اس طرح زراعت کا شعبہ بھی بُری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ امریکہ کے فارمروں نے لاکھوں ٹن دودھ ضائع کر دیا۔ لاک ڈااؤن کی وجہ سے یہ ایک معمولی مثال ہے۔ کھانے پینے روزمرہ استعمال زندگی کی کمی واقع ہونے کی وجہ سے جو حالات آئندہ پیش آنے والے ہیں وہ کسی حد تک دنیا کے لئے خطرناک ثابت ہوں گے۔ بےسہارا ، بے روزگار افراد جو روزانہ کی بنیادپر کمانے کے لئے گھروں سے نکلا کرتے ہیں آج وہ سب بے سہارا کسی کارکن کی راہ تک رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں توذرائع یہ بتاتے ہیں کہ اس سے ہر ماہ 2کروڑ افراد متاثر ہوں گے۔ ذرائع و تجزیاتی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے طویل ہونے کی وجہ سے دنیا میں معاشی بحران پیدا ہو جائے گا۔ عالمی خوراک کے ادارے نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کرونا وائرس کے مزید تکلیف دہ اثرات ظاہر ہونے کے خدشات موجود ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسکی نے CBNنیوز چینل سے بات  کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو آنے والے دنوں میں انسانی ہمدردی کے شدید بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اور تین درجن ملکوں میں قحط پڑ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے شدید بحران ہو گا۔ اس لئے کہ وائرس کی وجہ سے بند رگاہیں بند پڑی ہیں اور رسد کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے انتباہ کیا ہے کہ براعظم افریقہ کے دیہی علاقوں میں وباء تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے طبی سہولیات کے علاوہ خوراک اور معاشی بحران کا شکار ہو جائے گا۔ عالمی مالیاتی ادارہ (IMF) نے پیش گوئی کی ہے کہ 1930ء کی دہائی کےبعد کرونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت کے لئے یہ سال بدترین ثابت  ہو گا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ عالمی معیشت کے تین فیصد سکڑنے کا امکان ہے جو کہ 2009ءکی کساد بازاری کے مقابلے میں جو صفر اعشاریہ ایک تھی بہت زیادہ ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر توقع کی جا رہی ہے کہ 2021ء میں عالمی معیشت کی شرح نمو5اعشاریہ 8ہو گی اس طرح آئندہ سال معیشت کے دوبارہ بحال ہونے کے امکانات بے یقینی کا شکار ہیں۔IMF کے ایک اہم عہدیدار کا کہنا ہے کہ عالمی گراس گھریلو اشیاء کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ 9ٹریلین ڈالر تک ہوسکتا ہے۔ جو کہ جرمنی اور جاپان کی معیشتوں سے زیادہ ہے۔جی ڈی پی کسی بھی معاشی آؤٹ پٹ کا وسیع تر احاطہ کرتی ہے۔ اپنی تازہ ترین رپورٹ میں عالمی مالیاتی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سال امریکہ کی معیشت 5اعشاریہ9فیصد سکڑے گی جبکہ یورو کرنسی استعمال کرنے والی 19یورپین ممالک کی معیشت 7اعشاریہ 5فیصد ۔ جاپان 5اعشاریہ 2اور برطانیہ کی معیشت 6اعشاریہ 5فیصد کمی ہو گی دوسرے ملکوں کی بنسبت دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین نے دیگر ملکوں کے مقابلے میں بہت پہلے اپنی معاشی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔IMF نے گزشتہ دنوں متنبہ کیا تھا کہ دنیا کو 1930ء کی کساد بازاری کے بعد بدترین کساد بازاری کا سامنا ہو گا ان کا کہنا تھا کہ افریقہ ، لاطینی امریکہ اور زیادہ تر ایشیاء کی اُبھرتی ہوئی منڈیاں بدترین اور کم آمدن والے ممالک کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس لئے IMF نے 25فیصد غریب ممالک کے ذمہ واجب الادا 5سو ملین ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی میں6ماہ کی توسیع کی ہے۔

آج پاکستان سمیت ساری دنیا کا سامنا کرونا جیسی آفت وباء سے ہو رہا ہے۔ یہ خطرناک صورت اختیار کر رہا ہے چونکہ ابھی تک اس کا علاج دریافت نہیں ہوا اور کسی کو پتہ نہیں یہ کب ختم ہو گا یا کچھ اس کے جراثیم باقی رہ جائیں گے۔ ساری دنیا میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں متاثر ۔ اس وباء نے ہماری تمام مذہبی اور سوشل تقریبات پامال کر دی ہیں۔ ہم تو اپنے پیاروں کو کندھا بھی نہیں سکتے ایسی صورتحال آج تک دیکھنے کو نہیں ملی۔

آج ہر مذہبی لیڈر یہی کہہ رہا ہے کہ یہ عذاب الٰہی ہے۔ پاکستانی قوم نے تو مفتی طارق جمیل کی امامت میں توبہ استغفار کے لئے دعا بھی کروا دی اور اس میں ساری قوم کو قصور وار ٹھہرا دیا۔ جو فسق و فجور پھیلا رہے ہیں۔ یاد رہے حضرت عمر فاروقؓ کے ابتدائی 5سال قحط کے تھے۔ ایسے حالات افراد یا اقوام کی زندگیوں میں آزمائش آتی رہتی ہیں۔ ایسے واقعات آتے ہیں تو ہر ایک کا انداز فکر مختلف ہوتا ہے یاد رہے ہر انسان کو دنیا میں ہی آزمایا جائے گا اور اس دنیا میں حساب دئیے بغیر اُٹھایا نہیں جائے گا۔ یہی قرآنی تعلیم ہے۔ زردار (صاحب ثروت) بادشاہ تو کیا خدا کے پیارے بندوں کو بھی استثنیٰ نہیں۔تمام انسانوں کو چاہئے قرآنی تعلیمات اور اسوۂ رسول کریم ؐ اور وقت کے امام کی طرف رجوع کریں تاکہ اللہ آپ سے راضی ہو اور تمام آفات سے آپ کو پاک کر دے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *