لفافیت اور میریت

شعبہ پاکستان

تحریر: انشال رائو

حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے، حالات کی تبدیلی کا عوام سے بڑا گہرا تعلق ہے جو لوگوں کی رائے پر اثرانداز ہوتی ہے، مختلف سیاسی شخصیات مختلف نقطہ نظر رکھتے ہوئے اپنے مؤ قف پر قائم رہتے ہیں لیکن حالات کی چھلنی جب سابقہ نقطہ ہائے نظر کو چھانتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وقت نے کس کے حق میں کروٹ لی ہے لیکن پاکستان دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں ایک مخصوص طبقہ نہ صرف وقت کی کروٹ بلکہ حالات کی تبدیلی اور لوگوں کی رائے پر اثرانداز ہونے کی مسلسل مجرمانہ کوششوں میں لگا رہتا ہے بہت سی کامیابی سمیٹ لینے کے بعد مذکورہ طبقہ سر تا پیر غریق تکبّر ہے اور خود کو سیاہ و سفید کا مالک سمجھ کر خدائیت کے دعوے کے قریب ترین ہے یہ کس طرح حالات کی تبدیلی کو بھانپ کر لوگوں کی رائے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب لال مسجد کا مسئلہ اٹھا تو جنگ جیو گروپ اور بالخصوص حامد میر صاحب روز کبھی کس آنٹی کو تو کبھی کسی ماروی سرمد کو لیکر بیٹھ جاتے اور اپنی دانست میں ہر روز لال مسجد کے مکینوں کو دہشتگرد و دہشتگردی کا اکھاڑہ ثابت کرکے اٹھتے لیکن بعد میں یہی میر ابن میر صاحب تھے جو لال مسجد کو عظیم المیہ بنا کر پیش کرتے رہے، مجھے افسوس ہے کہ مذہبی طبقے کی طرف سے کسی ایک نے بھی گریبان پکڑنا تو دور ان صحافی نما زبردستی کے دانشوروں سے سوال تک نہ کیا کہ کل تک تم اسی لال مسجد کو ریاست کے اندر ریاست کس کی ایماء پر کہتے رہے۔

اس کے علاوہ جب نام نہاد عدلیہ بحالی تحریک اٹھی جسے اس کے قد سے بڑھا کر پیش کیا گیا اور ضرورت سے زیادہ جانبدارانہ کوریج دی گئی اور مشرف حکومت کو بدترین بناکر پیش کیا جاتا رہا اور اس کامیابی کے ثمرات طبقہ مخصوصہ نے تو خوب سمیٹے لیکن عوام پر اس کے بھیانک نتائج سامنے آئے، وہ کراچی جو دنیا کا تیزی سے ترقی کرتا شہر تھا میریت کی نام نہاد جمہوریت نے آگ اور خون میں تبدیل کردیا، پورا ملک انجینئر دہشتگردی کی لپیٹ میں آگیا، معیشت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرضے روشنی کی رفتار سے بڑھنے لگے، مہنگائی و ابتری کی وجہ سے حالات کی چھلنی نے جب سابقہ نقطہ ہائے نظر کو چھاننا شروع کیا تو فوراً میریت زدہ نام نہاد صحافی عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کے لیے آمریت جمہوریت کا تقابل کرکے جمہوریت اور بغض مشرف میں قانون سب کے لیے، ایک معیار کے درس دینے لگے اور مشرف کو ڈکٹیٹر ڈکٹیٹر ڈکٹیر کی گردان پڑھنے لگے جس میں ایک ہی صیغہ لامحدود بار آتا ہے، زرا سوچئے کہ جسٹس افتخار چودھری کو ہیرو اور مشرف کو ڈکٹیٹر کہنے والوں میں سے کسی نے بھی کبھی یہ سوال اٹھایا کہ مشرف حکومت کو جائز قرار دینے والے افتخار چودھری صاحب نے قوم سے معافی کیوں نہ مانگی؟

یہ نام نہاد عدلیہ بحالی تحریک درحقیقت ایک طرف تو پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے بطور آلہ تھی جبکہ دوسری طرف پاک بھارت تنازعات کے خاتمے کی امیدوں کا تابُوت ثابت ہوئی اور اس نے وہ سب خاک میں ملادیا جو پاکستان کے لیے انتہائی مفید تھا جیسا کہ ریاض محمد خان نے اپنے آرٹیکل ” Tragedy Of Pak-India “میں لکھا، اس میں کوئی دو رائے نہیں ایسے چند نام نہاد صحافیوں نے پاکستان میں صحافت جیسے عظیم پیشے کو ہی خطرناک حد تک مشکوک بنادیا ہے، لفافیت و میریت ملّی و ملکی حیات پر سنگین حد تک اثرانداز ہورہی ہے جس کی وجہ سے ملک میں سیاہ سفید بن کر اور سفید سیاہ سمجھے جانے لگے ہیں نتیجتاً ملّی حالت و معاشرہ کی ابتری بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے لیکن مخصوص طبقہ اقلیتی قابض مافیا کو زبردستی ملک و ملّت پر مسلّط کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے جس پر گلف نیوز نے لکھا کہ “کرونا بحران میں جب دنیا کرونا کے خلاف لڑ رہی ہے تو پاکستانی میڈیا سیاست کررہا ہے” اور بیشک معمول کی نشریات سے یہ بات اظہر من الشّمس ہے، ایسے ایسے تضادات اور مضحکہ خیز دلائل دئیے جارہے ہیں کہ حیرانگی بھی حیران ہوکر رہ گئی ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس مغربی بارڈر سے زائرین کے زریعے منتقل ہوا جنہیں اصولی و شرعی طور پر آبادیوں سے دور قرنطینہ میں رکھنا ضروری تھا لیکن ان نام نہاد دانشوروں نے حکومت کے بنائے گئے قرنطینہ یونٹس کا ٹرائل شروع کرکے انہیں زبردستی شہروں میں منتقل کیے جانے پر حکومت کو مجبور کردیا پھر کہتے ہیں کہ حکومتی نااہلی سے کرونا پھیلا، دوسری طرف بھارت کی ہندوتوا نسل پرست حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوے تبلیغی جماعت کو نشانے پہ رکھ کر تبلیغیوں کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا جوکہ طارق جمیل کی دعا کا جواب بھی ہے مولانا طارق جمیل نے عمران خان کی کامیابی کے لیے دعا کی تو عمران خان کے مخالفین نے پوری تبلیغی جماعت کو سزا دینے کے لیے بھاڑے کے لبرلوں اور لفافیت زدہ صحافیوں کے زریعے پروپیگنڈہ شروع کردیا لیکن یہ بھول رہے ہیں کہ آج طاقتور مغرب بھی ربّ ذوالجلال کے سامنے جھکنے پہ مجبور ہوگئی ہے تو یہ کونسے کھیت کی مولی ہیں اور انشاءاللہ یہ طبقہ ضرور ذلیل و رسوا ہوگا۔

کون ہے جو نہیں جانتا کہ سابقہ حکومتوں نے صحت، تعلیم و فلاحی شعبوں میں کیا کیا تباہی مچائی کہ اپنا علاج کروانے کے لیے انہیں خود بیرون ممالک کا سفر کرنا پڑتا ہے لیکن ہمارا میڈیا ہسپتالوں کی ناقص حالت کا ذمہ دار اس عمران خان کو قرار دے رہی ہے جس نے سب سے پہلے جمود زدہ گندے تالاب میں پتھر مار کر اس کی لہروں کو حرکت دیکر عوام کو اپنی حالت سدھارنے کے لیے جھنجھوڑا اور مافیا کے خلاف اٹھایا۔

عمران خان جس کاموقف تھا کہ ہماری آدھی آبادی روز کما کر روز کھانے والی ہے اچانک لاک ڈاون سے لوگ بھوک سے ضرور مرجائینگے جوکہ انتہائی احسن سوچ تھی لیکن زبردستی کے دانشوروں کے کیا کہنے کہ ان صاحبان نے تو بغض کپتان میں کروڑوں غریب اور لاکھوں مریضوں کو جیتے جی مار دیا، میرے ایک عزیر عارضہ قلب میں مبتلا تھے حیدرآباد لاک ڈاون کی وجہ سے طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے انتقال کرگئے ایسے پورے ملک میں سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ ہونگے ویسے بھی کرونا سے پہلے دنیا میں مرنے والوں کی تعداد شوگر کے مریضوں کی زیادہ تھی۔

زرا سوچئے کہ میریت زدہ یہ طبقہ اگر سویڈن میں ہوتا تو کیا ہوتا جہاں آج ہزاروں کیسز ہونے کے باوجود لاک ڈاون نہیں، میکسیکو میں ہوتے تو کیا ہوتا جہاں ہزار سے زیادہ ہلاکتوں کے باوجود مکمل لاک ڈاون نہیں اور اگر چین میں ہوتے تو کیا ہوتا جہاں صرف ہبی صوبے کا رابطہ دوسرے صوبوں سے بند کرکے مناسب حکمت عملی کے تحت لاک ڈاون کیا گیا اور دوسری طرف عالمی پروپیگنڈے کو بھی مات دی، ان جگہوں پر آخر ایسے حضرات کیوں نہیں؟ چین میں کسی صحافی نے ووہان میں ہزاروں ہلاکتوں کا زمہ دار حکومت کو قرار کیوں نہیں دیا؟ چین اچانک اتنا اوپر آیا کہ سپرپاور کی دوڑ میں شامل ہوگیا کیسے؟ اس کا جواب یہ بھی ہے کہ چین میں 1998 سے 2002 تک چُن چُن کر لفافیت زدہ صحافیوں کو سیدھا کیا گیا امریکہ نے شور مچایا لیکن چین نے ایک نہ سنی اور قانون کے مطابق لفافیت کو ہمیشہ کے لیے دفن کرتے ہوے نیویارک بیسڈ امریکی تحقیقاتی رپورٹ کو بےمعنی کردیا۔

اب بھارت بھی چین کے پیٹرن پہ عمل پیرا ہوکر دنیا کی تیزترین بڑھتی ہوئی معیشت بن بیٹھا ہے لیکن پاکستان ام الخبائث و ام المسائل کو نظرانداز کرکے تنزلی کے ریکارڈ توڑتا جارہا ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ یہ طبقہ کبھی اصل مسائل کو اجاگر ہی نہیں کرتا، ان کے نزدیک تمام مسائل و تمام شعبوں کے ماہرین صرف چند سیاستدان ہیں بس انہیں بٹھا کر بندر تماشہ لگائے رکھتا ہے، لہٰذا اب وقت کی تیز ہواوں سے بغاوت کرنے کا وقت ہے اور اس طبقے کو راہ راست پر لانا ہر حال میں لازم اور فرض عین ہوچکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *