سقوط حیدرآباد: مسلمان حاکم کی خواہش کے باوجود انڈیا کی یہ ریاست پاکستان کا حصہ کیوں نہ بن سکی؟

شعبہ پاکستان

تحریر :مرزا اے بی بیگ

یکم نومبر 1947، لاہور

حیدرآباد ریاست کے ساتویں فرمانروا میر عثمان علی نے 37 سال حکومت کی اور وہ اپنے وقت میں دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے تھے

انڈیا آزاد ہو چکا ہے، ایک نیا ملک پاکستان معرض وجود میں آ چکا ہے لیکن خطے کی تین بڑی ریاستوں کشمیر، حیدرآباد اور جوناگڑھ کا مستقبل غیر واضح ہے۔ ان تینوں ریاستوں نے آزاد رہنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ انڈیا اور پاکستان ان کو اپنے ساتھ ملانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

انڈیا کے آخری وائسرائے اور گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پاکستان کے گورنر جنرل اور قائد اعظم محمد علی جناح کو یکم نومبر سنہ 1947 کو ایک تحریری تجویز پیش کی جس میں ان ریاستوں میں استصواب رائے کروانے کی بات کی جہاں کے حکمراں خطے کی اکثریت کے بجائے اقلیت سے آتے ہیں۔

ہر چند کہ یہ پیشکش بنیادی طور پر کشمیر کے لیے تھی لیکن انڈیا کے ماہر قانون اور کشمیر، حیدرآباد اور جوناگڑھ پر تین مختلف کتابوں کے مصنف و تجزیہ نگار اے جی نورانی کا کہنا ہے کہ ’محمد علی جناح نے تنازعے کے پرامن حل کا ایک بڑا موقع گنوا دیا اور ان کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر محمد علی جناح نے ماؤنٹ بیٹن کی تجویز مان لی ہوتی تو انھیں کشمیر ہاتھوں ہاتھ مل گیا ہوتا اور حیدرآباد میں کشت و خون کا بازار بھی گرم نہیں ہوتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ محمد علی جناح کا خیال تھا کہ اگر انڈیا کے دونوں بازو کٹ جائیں تو وہ زندہ رہ سکتا ہے لیکن اگر اس کا قلب نکال دو تو وہ جی نہیں پائے گا۔ یعنی ان کے مطابق حیدرآباد ’انڈیا کا قلب‘ تھا۔

دوسری جانب حیدرآباد کو انڈیا میں ضم کروانے والے ہندو رہنما سردار ولبھ بھائی پٹیل نے حیدرآباد کو انڈیا کے ’دل کا ناسور‘ کہا اور اس کے آپریشن کو ضروری قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف فوجی کارروائی کروائی۔

دنیا کے امیر ترین شخص کی ریاست

یہ وہی حیدرآباد ہے جسے اس زمانے میں انڈیا کی خوشحال ترین ریاست کہا جاتا تھا۔ جس کا خزانہ معمور تھا اور جو تہذیب و ثقافت کا گہوارہ کہلاتا تھا۔ یہاں گنگا جمنی تہذیب واقعتاً آباد تھی۔ یہ مختلف تہذیبوں کا سنگم تھا۔ اس کے آبائی باشندگان مختلف زبانیں بولنے والے تھے، اگر ایک بڑا طبقہ تیلگو زبان کا حامل تھا تو دوسرا کنڑ بولتا تھا جبکہ ایک علاقے میں مراٹھی بولنے والے تھے اور ان سب کو اردو زبان جوڑتی تھی جسے 19 ویں صدی کے اواخر میں ریاست کی سرکاری زبان قرار دیا گیا تھا۔

یہ بر صغیر کا وہ خطہ تھا جہاں انگریزوں کے تسلط کے بعد بھی اردو زبان کی ترویج اشاعت جاری تھی اور شعرا و ادیب کی پذیرائی کی جا رہی تھی۔ آصف جاہی خانوادے سے تعلق رکھنے والے نجف علی خان کا کہنا ہے کہ ان کے دادا حیدرآباد کے آخری نظام میر عثمان علی خان صدیقی عرف آصف جاہ (ہفتم) کی ریاست انڈیا میں سب سے بڑی ریاست تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا نے ’37 سال تک بلا تفریق مذہب و ملت ریاست پر حکومت اور لوگوں کی خدمت کی۔

نظام حیدرآباد کے نام سے معروف عثمان علی خان اپنے زمانے میں دنیا کے امیر ترین شخص تھے جن کی دولت کا تخمینہ تقریبا 250 ارب امریکی ڈالر لگایا جاتا ہے۔

ان کے پاس زر و جواہرات کا وسیع خزانہ تھا جس میں 20 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کا ایک 185 قیراط کا جیکب ہیرا بھی تھا جسے وہ پیپر ویٹ (کاغذ کو دبانے والے وزن) کے طور پر استعمال کرتے تھے۔تاہم رواں سال دو اکتوبر کو نظام حیدرآباد کے وارثوں اور انڈیا کے حق میں ساڑھے تین کروڑ پاؤنڈ کی خطیر رقم کا فیصلہ ہوا ہے جو کہ حیدرآباد کے انڈیا میں ضم کیے جانے سے قبل برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی تھی اور اس وقت سے وہ وہیں جمع تھی جب کہ اس کے متعلق مقدمات جاری تھے۔

حیدرآباد کا انڈیا میں انضمام

نظام حیدرآباد کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے اور وراثت کے سلسلے میں 36 ویں نمبر پر آنے والے نواب نجف علی خان کا کہنا ہے کہ 17 ستمبر (1948) کے حملے کا زخم بہت گہرا ہے اور ابھی تک تازہ ہے۔ وہ یوم آزادی نہیں بلکہ قتل عام کا دن تھا جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔انڈین حکومت حیدر آباد کے حملے کو ’پولیس ایکشن‘ کہتی ہے جیسے’آپریشن پولو‘ بھی کہا جاتا ہے۔ انڈین حکومت کے مطابق یہ پولیس ایکشن ناگزیر تھا لیکن حیدرآباد کے سکالر سید علی ہاشمی نے اس کے جواب میں ایک کتاب اسی عنوان سے لکھ ڈالی ہے کہ اس حملے سے بچا جا سکتا تھا اور اس سے گریز ممکن تھا۔ان کی کتاب اینیویٹیبل انویژن: 1948 حیدرآباد میں انھوں نے لکھا ہے کہ انڈیا میں ’برسر اقتدار گروپ یعنی انڈیا کے حکمراں ایک ترقی یافتہ ریاست (حیدرآباد) کو ہر حال میں انڈیا میں ضم کرنا چاہتے تھے۔‘

محمد علی جناح اور جواہر لعل نہرو کے درمیان لارڈ ماؤنٹ بیٹن

یہی سوال جب سقوط حیدرآباد پر تحقیق کرنے والی پروفیسر اور حیدرآباد کے سینٹ اینز کالج میں صدر شعبۂ تاریخ ڈاکٹر اوما جوزف سے کیا گيا تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک بار جب حیدر آباد اور انڈیا کے درمیان سٹنیڈ سٹل ایگریمنٹ (معاہدہ امتناع) طے پا گیا تو اس کے تحت حیدرآباد کو اپنی خارجہ پالیسی انڈیا کے حوالے کرنی تھی اور انھیں کسی دوسرے ملک سے براہ راست تعلق نہیں رکھنا تھا۔‘

’لیکن نظام نے معاہدے کی پوری طرح خلاف ورزی کی۔ وہ بہت تیزی سے حیدرآباد میں اسلحہ جمع کر رہے تھے اور پاکستان کے ساتھ مستقل رابطے میں تھے۔ یہاں تک کہ وہ اس خیال کو بھی پال رہے تھے کہ حیدرآباد پاکستان کا حصہ ہو سکتا ہے۔ انڈیا کے لیے یہ بڑی تشویش کی بات تھی کہ اگر حیدرآباد پاکستان میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ انڈیا کے بیچوں بیچ ملک کے لیے مستقل پریشانی کا سبب ہوگا۔‘ڈاکٹر اوما جوزف نے مزید کہا کہ ’یہ کسی طرح قابل عمل نہیں تھا۔ جب مشرقی اور مغربی پاکستان زیادہ دنوں تک ایک ساتھ نہیں رہ سکے تو حیدرآباد کیسے رہ سکتا تھا کیونکہ وہ تو انڈیا کے بالکل درمیان میں تھا۔ اسی لیے سردار پٹیل نے حیدرآباد کو انڈیا کے پیٹ میں السر سے تعبیر کیا تھا۔‘حیدرآباد کی اس وقت کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے زمانے کے ممتاز عالم سید ابولاعلی مودودی نے اپنے رسالے ’ترجمان القرآن‘ کے سنہ 1948 کے پانچویں اور دسمبر کے شمارے میں لکھا: ’تقسیم کے بعد حیدرآباد انڈین یونین کے گھیرے میں آ چکا تھا اس لیے نہ باہر سے کوئی بڑی مدد اس کو پہنچ سکتی تھی اور نہ ہی اندر اس کا کوئی امکان تھا۔’ان حالات میں کوئی ہوش مند انسان یہ امید نہیں کر سکتا تھا کہ وہاں 85 فیصدی غیر مسلم اکثریت پر 15 فیصد مسلم اقلیت کا وہ غلبہ و اقتدار برقرار رکھا جاسکتا ہے جو پہلے بالکل مختلف حالات میں قائم ہوا اور رہا تھا اور کسی مرد عاقل سے یہ بات بھی چھپی نہیں رہ سکتی تھی کہ حیدرآباد انڈین یونین سے لڑ کر اپنی خود مختاری قائم نہیں رکھ سکتا۔

’دانشمندی کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمان کشمکش، مزاحمت اور جنگ کے بجائے اپنے مستقبل کے لیے کوئی ایسی راہ تلاش کرتے جس میں وہ کامل تباہی سے بچ بھی سکتے اور آئندہ اپنی اخلاقی و دینی حالت کو بہتر بنا کر کوئی نتیجہ خیز جدوجہد کرنے کے مواقع بھی انھیں حاصل رہتے لیکن جن لوگوں نے ایسی کوئی راہ سوچی اور بتائی وہ مسلمانوں کو دشمن نظر آئے۔ انھوں نے اپنی رہنمائی کے لیے ایسے لوگوں کو پسند کیا جو اندھے جوش، کھوکھلے نعروں، جھوٹی توقعات غلط امیدوں، بے بنیاد آرزوؤں اور بے زور لاف و گزاف کے ذریعہ سے ان کے غرور و نفس کو فی الوقت تسکین دے سکیں۔’وہ اس آواز پر مرمٹے کہ کوئی دِلی کے لال قلعہ پر آصف جاہی جھنڈا گاڑ دینے کی بات تو کرتا ہے۔ اس نشے میں 40 لاکھ کی پوری آبادی مست ہو گئی۔ کوئی یہ سوچ کر اپنے وقتی لطف کو کرکرا کرنے پر راضی نہ ہوا کہ آخر یہ کام ہو گا کس طرح، سب کے سب آنکھیں بند کر کے اس لاف زنی کے پیچھے چل پڑے اور اپنی قسمت پر ناز کرنے لگے کہ اس گئے گزرے زمانے میں بھی انھیں ایسے بے نظیر لیڈر میسر آتے ہی چلے جاتے ہیں!‘مولانا مودودی نے کسی شخص کا نام نہیں لیا لیکن نظام حیدرآباد کو بے بنیاد مشوروں سے نوازنے والوں کو نشانہ بنایا۔دوسری جانب اے جی نورانی نے قاسم رضوی اور لائق علی کے ساتھ محمد علی جناح کا نام لیا۔ قاسم رضوی کی شعلہ بیان تقاریر نے نظام حیدرآباد کو اتنی جھوٹی امیدیں بندھا رکھی تھی کہ وہ یہ سوچنے لگے تھے کہ ایک دن نظام کا پرچم دہلی کے لال قلعے پر لہرائے گا۔

حیدرآباد میں محمد علی جناح کے کردار کے بارے میں مسٹر نورانی نے کہا: ’محمد علی جناح نے ہندوستان سے انتقام لینے کے لیے اپنے آدمی میر لائق کو حیدرآباد میں پروموٹ کیا۔ ان سے ان کے تجارتی تعلقات بھی تھے۔ محمد علی جناح نے غالباً مارچ 1947 میں حیدرآباد میں دو لاکھ روپے کی سرمایہ کاری بھی کی تھی۔‘مسٹر نورانی نے محمد علی جناح کے چار اگست 1947 کے ایک انٹرویو کا ذکر کیا جو دہلی کے منٹس میں شامل ہے اور حیدرآباد پر ان کی کتاب ’دی ڈسٹرکشن آف حیدرآباد‘ میں بھی شامل ہے۔

کتاب میں شامل ضمیمے میں رقم ہے کہ ’محمد علی جناح نے کہا کہ ان کا خیال یہ ہے کہ عالی جاہ (نظام حیدرآباد) اور ان کے مشیروں نے انضمام کے خلاف اپنا ذہن بنا لیا ہے تو انھیں مضبوطی اور وفاداری کے ساتھ اس پر جمنا چاہیے۔ خواہ وہ (انڈیا) کوئی بھی معاشی پابندی کیوں نہ عائد کرے، عالی جاہ کا اس بات پر زور ہونا چاہیے کہ ’آپ چاہے جو کرلیں، جس طرح چاہو دھمکا لیں، لیکن میں انضمام کے کاغذات یا یونین میں شامل ہونے پر اس وقت تک رضا مند نہیں ہو سکتا جب تک میرا ضمیر نہیں کہتا۔ آپ کو مجھے مجبور کرنے کا کوئی حق نہیں اور مجھے اپنا فیصلہ لینے حق حاصل ہے۔مسٹر نورانی کی کتاب میں شائع منٹس کے مطابق محمد علی جناح نے یہاں تک کہا کہ ’اگر حالات انتہائی خراب ہو جائيں تو اپنے بنیادی اصولوں سے انحراف کرنے کے بجائے لڑتے ہوئے جان دینا زیادہ بہتر ہے۔‘

محمد علی جناح نے تاریخ کی سب سے بڑی شہادت یعنی امام حسین کی شہادت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حق کے لیے جان دینا کتنی اہمیت کا حامل ہے۔اے جی نورانی نے بہر حال نظام کی پالیسیوں کو حیدرآباد کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’نظام انتہائی بے وقوف انسان تھے اور انھیں قاسم رضوی جیسا شخص مل گیا یعنی سونے پر سہاگہ۔ انھیں جولائی 1948 میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ایک بہترین تجویز دی تھی جسے انھوں نے مسترد کر دیا۔‘جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ بہترین تجویز کیا تھی، تو انھوں نے کہا کہ اس میں ’حیدرآباد کو بیرون ممالک سے رابطہ کرنے کی اجازت تھی۔‘دوسری جانب سید ہاشم علی نے انڈیا کی جانب سے معاشی پابندیوں اور ریاست حیدرآباد کے ’اہم عہدوں پر فائز افراد کی غداریوں‘ کو بھی سقوط حیدرآباد کا سبب کہا ہے۔دوسرے مورخین کا کہنا ہے کہ اس میں کمیونسٹوں کی تحریک اور ریاست کے کانگریسیوں کا بھی دخل ہے جنھوں نے انڈین قیادت کو گمراہ کن اشارے دیے۔

آپریشن پولو

حیدر آباد کی اکثریتی آبادی ہندو مذہب کی ماننے والی تھی اور وہاں کانگریس کے حامی انڈیا سے الحاق چاہتے تھے۔ دوسری جانب کمیونسٹوں کی تلنگانہ تحریک تھی۔جبکہ پروفیسر اوما جوزف کا کہنا ہے کہ وہاں متعد قسم کے اختلافات تھے۔ زمین داری کے خلاف کسانوں کی تحریک تھی، زبان کا مسئلہ تھا، یہاں تک کہ ملکی یعنی دیسی اور غیر ملکی کا بھی جھگڑا جاری تھا۔‘اوما جوزف کے مطابق حیدرآباد میں شمالی انڈیا کے لوگوں کا تسلط تھا اور حیدرآباد hyderabadریاست کے لوگ اس کے خلاف تھے۔ ریاست کے باہر کے لوگوں کو غیر ملکی کہا جاتا تھا۔ان تمام چیزوں نے نظام حیدرآباد کو اپنی فوج کو مستحکم کرنے کی جانب متوجہ کیا۔دوسری جانب تقسیم ہند سے ابھرنے والے خلفشار کے دوران یہ افواہ گشت کرنے لگی کہ نظام حیدرآباد، گوا میں پرتگالیوں اور پاکستان کی مدد سے خود کو مسلح کر رہے ہیں۔ اس خبر پر سردار پٹیل نے کہا کہ انڈیا میں ایک آزاد حیدرآباد کا وجود ناقابل برداشت ہے اور اسے ختم کرنا لازمی ہے۔چنانچہ انڈیا نے حیدرآباد کو اپنی ریاست بنانے کے لیے 36 ہزار مسلح فوج اتاری جبکہ دوسری جانب نظام حیدر آباد کے پاس صرف 24 ہزار فوج تھی اور اس میں بھی پوری طرح سے تربیت یافتہ فوجیوں کی تعداد محض چھ ہزار تھی جس میں عرب، روہیلا، پٹھان، ہندو اور دیگر مسلمان شامل تھے۔

کہا جاتا ہے کہ اس کے علاوہ ریاست کے پاس تقریباً دو لاکھ رضاکار تھے جن کی کمان قاسم رضوی کے ہاتھ میں تھی۔ ان کی تعداد کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا کیونکہ یہ سب غیر تربیت یافتہ افراد تھے جو نظام حیدرآباد سے وفاداری کا اظہار کر رہے تھے۔انڈین فوج نے جنوبی کمان کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل ای این گوڈارڈ کی سربراہی میں حیدرآباد کے خلاف مختلف اطراف سے محاذ کھول دیے۔ مغرب میں ان کا رخ وجے واڑا کی جانب تھا تو مشرق میں شعلہ پور پر ان کی توجہ مرکوز تھی۔13 ستمبر 1948 کو حیدرآباد پر جو حملہ کیا گیا وہ صرف پانچ دنوں میں اختتام پذیر ہوا اور 18 ستمبر کو نظام کے کمانڈر ان چیف سید احمد العیدروس نے باضابطہ ہتھیار ڈال دیے۔جب ہم نے پروفیسر اوما جوزف سے سوال کیا کہ کیا پاکستان کی جانب سے حیدرآباد کے لیے کوئی مدد نہیں آئی تو انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں ان دنوں سوگ کا ماحول تھا۔ 11 ستمبر کو بانی پاکستان محمد علی جناح کا انتقال ہو گیا تھا اس لیے وہاں سے کوئی مدد نہیں آ سکی۔‘انھوں نے مزید کہا: ’سرکاری یا تاریخی شواہد تو نہیں ملتے لیکن جب ہم نے بہت سے لوگوں سے انٹرویو کیا تو انھوں نے کہا کہ نظام اور ان کے بہت سے وزرا یہاں تک کہ اس وقت کے وزیر اعظم میر لائق پاکستان کے ساتھ مستقل رابطے میں تھے اور انھیں امید تھی کہ اگر ایسی کوئی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو انھیں پاکستان سے مدد ملے گی۔ انھوں نے بتایا کہ جب انڈیا کے ساتھ انضمام کی تحریک جاری تھی تو نظام نے وہاں اخباروں کی اشاعت پر پابندی لگا دی تھی لیکن پاکستان سے شائع ہونے والے اخبار وہاں دستیاب تھے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا کتنا اچھا رشتہ تھا۔‘انھوں نے کہا کہ انٹرویوز کے دوران انھیں ’بہت سے لوگوں نے یہ بتایا کہ سردار پٹیل نے حملے کے لیے 13 ستمبر کی تاریخ اس لیے طے کی کہ ایک دن پہلے محمد علی جناح کا انتقال ہو گيا تھا۔ اور اس لیے وہاں سوگ کا ماحول تھا اور ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ پاکستان نے وہاں سے کوئی مدد بھیجی تھی۔ البتہ یہ باتیں سامنے آئیں کہ نظام کے بہت سے قریبی افراد حملے سے قبل پاکستان منتقل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔‘ہر چند کہ فوجی کارروائی پانچ دنوں تک ہی رہی لیکن اس میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور دیہی علاقوں میں فسادات کا بازار گرم رہا۔ یہاں تک کہ انڈیا کے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے انڈین فوجیوں کی جانب سے شہریوں کو قطاروں میں کھڑا کر کے گولی مارنے کی اطلاعات کے بعد فوجی کارروائیوں کی تحقیقات کے لیے سندر لال کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔نواب نجف علی خان کا کہنا ہے کہ حکومت ہند نے سندر لال کمیٹی کی رپورٹ کی بروقت اشاعت نہیں کی اور اسے اب تک پارلیمان میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔

بہر حال اس رپورٹ میں 27 ہزار سے 40 ہزار کے درمیان لوگوں کے مارے جانے کی بات کہی گئی ہے جبکہ بعض دیگر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ انڈیا کی اس کارروائی اور اس سے پیدا ہونے والے فسادات میں دو لاکھ سے بھی زیادہ افراد مارے گئے تھے۔نجف علی خان کا کہنا ہے کہ حیدرآباد پر حملے کی سچائی کے لیے سندرلال کمیٹی کو منظر عام پر لانا ضروری ہے۔ انھوں نے انڈین حکومت سے سوال کیا کہ کوئی ریاست اپنے بادشاہ سے آزادی کیوں چاہے گی جب اس نے اپنی رعایا کے خلاف کوئی جرم نہیں کیا ہو۔انھوں نے سوال کیا کہ حیدرآباد کو انڈیا میں ضم کرنے کے بعد نظامِ حیدرآباد کے خلاف کوئی مجرمانہ کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس انھیں وہاں کا ’راج پرمکھ‘ یعنی گورنر کیوں بنایا گيا؟اس کے بعد حیدرآباد کے معاملے کو اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا لیکن وہاں اتنی تاخیر ہوئی کہ وہ اپنی موت آپ مر گیا۔ دسمبر 1949 کو نظام حیدرآباد نے ایک سند جاری کی جس میں کہا گیا کہ انڈیا کا مستقبل کا آئین ہی حیدرآباد کا آئین ہوگا اور پھر ریاست حیدرآباد بالآخر 26 جنوری سنہ 1950 کو باقاعدہ انڈیا کا حصہ بن گيا۔ یہی وہ دن ہے جب انڈیا میں آئین نافذ کیا گیا۔

رسالہ ترجمان القرآن میں شائع حیدرآباد کا حال

اس کے بعد بھی میر عثمان علی خان انڈیا کے امیر ترین شخص تھے۔ ان کے ایک پوتے نجف علی خان کا کہنا ہے کہ جب 1965 میں انڈیا کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے حیدرآباد کا دورہ کیا تو انھوں نے قومی دفاع کے فنڈ میں میر عثمان علی خان سے دل کھول کر عطیہ دینے کی گزارش کی۔ یہ فنڈ چین کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں قائم کیا گیا تھا۔ اس فنڈ میں میر عثمان علی خان نے 5000 کلو سونا عطیہ کیا جو آج کے اعتبار سے 1600 کروڑ روپے ہوتا ہے۔نجف علی خان کا کہنا ہے کہ انڈیا کی تاریخ میں اتنا بڑا عطیہ کسی نے نہیں دیا لیکن اس کے ساتھ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔

(بشکریہ بی بی سی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *