ہندوستان کے اردو ادب کا بطل جلیل

تحریر: ذکریہ ورک کینیڈا

ڈاکٹر اختراحمد اردوادب میں نہایت اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔ ہندوستان میں اردو ادب کے بطل جلیل تھے۔ ادب کی دنیا میں صف اول کے افسانہ نویس،ڈرامہ نویس، ادیب، نثر نگار، نقاد اور صا حب سخن تھے۔ آپ نے بیس سے زائد بلند پایہ علمی کتب کا ورثہ چھوڑا جن میں مختصر افسانے، تنقید، شاعری کا مجموعہ اور ادب لطیف شامل ہے۔ آپ کی متعدد تصانیف ایم اے اور آنرز کے نصاب میں شامل ہیں۔

یکتائے عصر مصنف ہونے کے ساتھ آپ مسحور کن مقرر بھی تھے۔ اپنے ما فی الضمیر کو عمدہ پیرائے میں بیان کر نے میں ملکہ رکھتے تھے۔ جب تک صحت رہی جلسہ سالانہ قادیان کے موقعہ پر اسلام اور اقتصادیات کے موضوع پر تقریر کرنے کی سعادت پاتے رہے۔ایک مرتبہ پٹنے کے گردوارے میں انہوں نے سکھوں کے روحانی رہنما گرو گو بند جی پر فصیح و بلیغ تقریر کی تو ان کو ایک کرپان نظر کی گئی تھی۔

خاندان

اختر احمد19، اگست1910کو اورین (بہار)میں بزم جہاں آراء ہوئے تھے۔ آپ کے والد ماجد کانام سید وزارت حسین تھا۔ آپ کی والد ہ محترمہ کا نام شمس النساء بنت سید عبد العزیز (رئیس ضلع گیا) تھا۔ ان کے نانا سید نور الحسن حکومت وقت کے اعلیٰ عہدیدار تھے۔آپ کے پردادا سید عنایت حسین حضرت سید احمد بریلوی ؒسے بیعت تھے۔  آٹھ سو سال سے ہندوستان میں آباد ،نجابت و شرافت کے لحاظ سے ان کے خاندان کا شمار بہار کے اعلیٰ خاندانوں میں ہوتا تھا۔ یہی اختر احمد بڑے ہو کر اردو ادب کے آسمان پر ماہتاب و آفتاب بن کر چمکا۔ اختر احمد چار بھائی بہن تھے ۔ اختر احمد،سیدہ زینب بیگم ، سیدہ رقیہ بیگم ، سید فضل احمد انسپکٹر جنرل پولیس بہار ۔ اختر احمد کی والدہ کا جب1924اورین بہارمیں انتقال ہو گیا تو ان کے والد محترم نے دوسری شادی صابرہ بیگم سے کی جو مولوی عبد الماجد مبلغ احمدیہ اور مدرس فارسی کی نواسی تھیں ۔ ان سے چار بچے تولد ہوئے۔

تعلیم

اختر کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ قرآن مجید مع ترجمہ، اردو، فارسی اور انگلش کی تحصیل اپنے والد، والدہ اور چچا سے کی۔ ضلع مونگھیر میں سکول داخل ہو کر 1926 میں دسویں جماعت کی سند درجہ اول میں حا صل کی۔ اعلی تعلیم کے لئے پٹنہ کالج پہنچے اور 1928 میں انٹر کا امتحان پاس کیا۔ وظیفہ کے حقدار قرار پائے۔ چونکہ ڈاکٹر بننے کا اردا ہ تھا اس لئے پٹنہ میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا۔ ڈھائی سال میڈیکل کالج میں پڑھا، دو ایم بی بی ایس کئے۔ بد قسمتی سے تیسرے سال ان پر سل (ٹی بی) کا حملہ ہؤا ، جس کی بناء پر سلسلہ تعلیم منقطع کرنا پڑا۔ علاج کے لئے آبائی وطن اورین واپس آگئے۔ مکمل آرام اور علاج معالجے سے دو سال بعد صحت یاب ہو گئے۔ 1933میں دوبارہ پٹنہ کالج میں بی اے انگلش آنرزمیںداخلہ لیا ۔1934میں دوبارہ ٹی بی کا حملہ ہؤا مگر خدانے لاج رکھ لی اور بی اے کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا۔ برف کے ٹکڑے چوس چوس کر امتحان دیتے رہے۔ ڈاکٹروں نے سینی ٹوریم میں قیام کا مشورہ دیا۔بستر پر لیٹے لیٹے کئی افسانے اور نظمیں لکھیں۔ 1933میں ان کا نکاح محترمہ شکیلہ سے ہو چکا تھا جن کی رفاقت، دلسوزی اور تیمار داری سے صحت مند ہوکر واپس آئے۔ ایم اے اردو کی تیاری سینی ٹوریم میں لیٹے لیٹے کی۔1936میں پٹنہ سے ایم اے اردو فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا، پوری یو نیورسٹی میں اول رہے اور طلائی تمغہ کے حق دار قرار پائے۔ آ پ امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ  کی درد والحاح سے کی ہوئی شبینہ دعاؤں کا زندہ ثبوت تھے۔ پوری زندگی موت کی آغوش میں گزری تھی۔

ڈاکٹریٹ

جب ملک میں ترقی پسند تحریک شروع ہوئی تو پٹنہ شاخ کے نائب صدر چنے گئے۔ جب دسمبر 1938میں پٹنہ میں اردو کے لیکچرار مقرر ہوئے تو وہ اس عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ 1956میں انہوں نے پی ایچ ڈی کے لئے مقالہ” بہار میں اردو ادب کا ارتقاء 1857 تک” زیب قرطاس کیا جس کی بناء پر ان کو پٹنہ یو نیورسٹی سے ڈی لٹ کی ڈگری عطا ہوئی۔1952 میں وہ شعبہ اردو کے صدر مقرر کر دئے گئے۔ پٹنہ یونیورسٹی سے ڈی لٹ کی ڈگری انہوں نے 1957 میں حاصل کی ۔  1960 میں ڈاکٹریٹ ہونے کی وجہ سے ان کو پروفیسر بنا دیا گیا۔ علالت کے باعث اگست1972 میں انہوں نے تعلیم و تدریس سے ریٹائر منٹ لے لی۔

واقف زندگی

پروفیسراختر کے خیالات اور نظریہ حیات کی تشکیل میں ان کے ننھیال کا اور اس کے بعد احمدیت کی تعلیم کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ ساری عمر مختلف عوارض کی آماجگا ہ بنے رہے۔ آٹھ سال کے تھے کہ تپ محرقہ میں مبتلا ہوگئے۔ والد بزرگوار نے عہد کیا کہ اگر یہ بچ گئے تو وہ انہیں دینی خدمت کے لئے وقف کر دیں گے۔ اس کے بعد ان کو رخسار کی ہڈی میں ناسور کا عارضہ لاحق ہوگیا۔ سرجری کی گئی اور شفایاب ہوگئے۔ ڈاکٹر بننا چاہتے تھے کہ میڈیکل کالج میں سل کا موذی مرض آن لگا۔ لیکن ساری عمر ان کے مدنظر والد محترم کا وقف کا عہد رہا۔ اور وقف کے عہد کو انہوں نے پوری زندگی احسن رنگ میں نبھانے کی پوری کوشش کی۔ بیماری کے باعث جب صحیح طور پرخدمت اسلام نہ کر سکے تو امام جماعت احمدیہ نے فرمایا کہ جو کام تم کر رہے ہو وہی وقف شمار کیا جا ئیگا۔

امام جماعت احمدیہ نے1939 میں جماعت کے افراد سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے زندگیاں دین کے لئے وقف کریں۔ اور اپنی جائیدا د میں سے ایک مقررہ حصہ دینی کاموں کے لئے وقف کریں۔ خاندانی ماحول کے اثر اور دین دار ہونے کے باعث شروع میں وہ اپنا نام سید اختر احمد احمدی لکھ کر اس پر فخر محسوس کرتے تھے۔ امام جماعت احمدیہ کی تحریک کے بعد انہوں نے اپنی جائیداد کاایک حصہ وصیت کردیا ۔ قرآن مجید اور جماعت احمدیہ کے قوی اور مدلل لٹریچر کا عمیق مطالعہ انہوں نے پہلے ہی سے کیا ہؤا تھا ۔

 نقوش لاہور کے آپ بیتی نمبر میں آپ کی آپ بیتی شا ئع ہوئی تھی۔ اس میں اپنی دینی غیرت اور حمیت کے بارے میں لکھتے ہیں: “میرے عزیز دوست پروفیسر معین الدین دردائی نے اپنی ایک کتاب جلوے میں لکھا ہے کہ اختر مذہب کاـ’  کوبڑا’  ہے۔ اٹھتے بیٹھتے بات بات میں مذہب ۔ لیکن انہیں کیا خبر کہ اسی کوبڑے نے مجھے ٹیک لگانے کاموقعہ دے دیا۔ دردائی ،یہ بھی نہیں جانتے کہ مذہب میرے لئے ایک سالم کشتی نہیں ہے بلکہ ٹوٹی ناؤ ہے ۔ یہ ناؤ شکستہ ہو یا نہ ہو، دل شکستگی کی وجہ سے میں نے بے یقینی، کفر اور لادینی کی منزلیں بھی طے کی ہیں۔ کفر و اسلام، اقرار و انکار، یگانگی اور بے گانگی کے مد و جزر میںڈوبتا ابھرتا رہاہوں ۔ انجام کیا ہوگا خدا معلوم ۔ ہاں یہ جی ضرور چاہتا  ہے کہ جس دامن کو پکڑا ہے وہ کبھی نہ چھوٹے”۔۔۔ “میرے دوست کامیشر پرشاد کہتے ہیں کہ میں نیم حکیم بھی ہوں اور نیم ملا بھی۔ خطرہ جان بھی اور خطرہ ایمان بھی۔ “

          “ـمیری زندگی ناکامیوں، اور کامیابیوں کا ایک عجیب مجموعہ ہے۔ مومن تو ہوں متقی نہ بن سکا، کفر کو دلکش پایا لیکن کا فر نہ بن سکا”۔ (صفحہ1100)

 (نقو ش لاہور، آپ بیتی نمبرجلد دوم صفحہ1097)،

http://apnaorg.com/books/urdu/naqoosh-bio-2/book.php?fldr=book

پھر لکھتے ہیں کہ جب میرے دل میں کمیونزم کے وسیع مطالعے کے نتیجے میں مخفی طور پر دہریت اور الحاد کے جراثیم سرایت کرنے لگے تو امام جماعت احمدیہ کی نایاب اور اعلی ٰپایہ کی تفسیر کبیرراہ ہدایت بنی۔کمیونزم کی ریڑھ کی ہڈی اس کا وہ اقتصادی منصوبہ تھا جس کوساری دنیا میں رائج کرنے کا پرچار کرتے تھے۔ اس شک اور بے دینی کی حالت میں اختر 1942 میںقادیان گئے اور اپنے شکوک کااظہار امام جماعت احمدیہ سے کیا۔حضور نے ان شکوک اور مسائل کو دور کرنے کے لئے اپنے خطبات میں وضاحت فرمائی۔ بعد میں یہ دونوں خطبات کتابی شکل میں “نظام نو” اور” اسلام کا اقتصادی نظام “کے عنوان سے منصہ شہود پر آئے تھے۔ ان مدلل و بلیغ رسائل کے مطالعہ نے اختر کے تمام شکوک وشبہات رفع کردئے اور وہ کمیونزم کی گرفت سے آزاد ہوگئے۔ بتان سیہ چشم نے ان کو گمراہی سے بچالیا اور ان کی جبین نیاز کو سجدوں سے آباد رکھا۔

بیماری نے ایک بار پھر آن گھیرا۔1971میں وہ اعصابی بیماری میں مبتلا ہوگئے جس کے باعث وہ 1972 میں پٹنہ یو نیورسٹی کے شعبہ اردو کی صدارت سے مستعفی ہوگئے۔ ان کا جبڑا مسلسل حرکت کرنے لگا تھا جس کی وجہ سے وہ ٹھیک سے بات بھی نہیں کر سکتے تھے۔ پٹنہ اور رانچی کے ماہرین طب سے مشورہ کیا گیا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہؤا۔ اب بغرج علاج کینیڈا چلے گئے جہاں ان کی اہلیہ محترمہ شکیلہ کے برادر محترم ڈاکٹر آفتاب احمد مقیم تھے۔ یہاں چھ مہینے علاج کیا گیا لیکن چنداں فائدہ نہیں ہؤا۔ اس لئے واپس ہندوستان چلے گئے۔متاع حیات کے آخری چھ سات سال اسی اذیت ناک بیماری میں گزرے۔ ہندوستان میں بھی علاج میں ہر ممکن کوشش کی گئی۔ لیکن صحت بحال نہیں ہوئی۔ آخر31مارچ 1977کو نصف شب کے قریب پٹنہ میں بہ عمر 60سال اپنے خالق و مالک کے حضور حا ضر ہوگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔موصی ہونے کے سبب جسم خاکی قادیان لا یا گیا اور بہشتی مقبرہ ،قطعہ نمبر 9میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔

ہمدرد انسان

اس نابغہ روزگار کی زندگی کے کچھ واقعات ناقابل فراموش ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک غریب لڑکی کی تجہیز و تکفین کا سامان نہ تھا تو اختر نے اپنی بیوی کے سونے کے کڑے فروخت کر کے تدفین کا انتظام کردیا۔ ایک بہت ہی عزیز دوست کو والد کے لئے مقدمہ کی فیس جمع کرانے کے لئے کچھ رقم کی ضرورت تھی۔ اس وقت ان کی جیب خالی تھی۔ ان کو اپنے امتحان میں جتنے سونے کے میڈل ملے تھے ان کو اونے پونے فروخت کر کے اپنے دوست کی ضرورت پوری کردی۔ طبیعت میں از حد سادگی تھی ۔ ان کو اپنے مہمانوں کو مٹی کے برتنوں میں چٹائی بچھا کر کھانا کھلانے میں کوئی عار نہ تھا۔

آپ کی شریک زندگی شکیلہ اختر جو اپنے مزج میں انفرادیت رکھتی تھیںغیر معمولی ادیب اوریادگار زمانہ افسانہ نویس تھیں ۔ ان کے شا ہکارافسانوں کے مجموعے کئی کتابوں کی صورت میں شائع ہو کر داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ اردو ادب میں ان کے بلند پایہ مقام کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ پٹنہ یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے ان کے ادبی کارناموں پر تحقیق کر کے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔ نقوش لاہور کے آپ بیتی نمبر میں ان کا مضمون آن لائن موجود ہے

http://apnaorg.com/books/urdu/naqoosh-bio-2/book.php?fldr=book

شکیلہ اختر نے وفات حسرت آیات پر جو اشعار کہے وہ ایک غم زدہ اور دکھی دل کی کراہ ہیں۔

جو لرز رہے تھے اب تک، در و بام زندگی کےوہ کھنڈر سنا رہے ہیں بڑے درد کا فسانہ

وہ بہت تھکا ہؤا تھا ،  اسے  نیند آگئی ہےنہ سلا سکی تھی جس کو کبھی گردش زمانہ

بڑے غم کی داستاں تھی بڑے کرب کی کہانی دل مضطرب تڑپ کر جو بنا تھا اک ترانہ

۔۔۔۔۔۔۔

جو بھنور سے کھیلتا تھا رہا غم میں مسکراتاجو جلا تھا آندھیوں میں وہ چراغ بجھ چکا ہے

یہ فضا دھواں دھواں ہے کہ جلا ہے آشیانہ جہاں بجلیاں گری تھیں وہ چمن سلگ رہا ہے

میرا کعبہ محبت ،  میری ہر خوشی کا  مرکزمیرا کارواں الفت، سر شام ہی  لٹا ہے

اسے آہ، کیسے ڈھنڈوں کہ سب جہاں اندھیراانہی رفعتوں سے آگے ، وہ کہاں چلا گیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔

لازوال کتابیں

پروفیسر اختر کے تحقیقی و تنقیدی اور سماجی نوعیت کے مضامین اردو کے علاوہ انگلش رسالوں اور اخبارات میں 1970سے قبل تواتر سے زینت بنتے رہے۔ ڈاکٹر اختر اورینوی کی شہرت کا سبب افسانہ نگاری اور تنقید تھی۔ ان کا پہلا افسانہ بدگمانی اور آخری افسانہ ایک درخت کا قتل ہے۔ ان کے افسانوی مجموعے درج ذیل ہیں : منظر و پس منظر، کلیاں اور کانٹے، انارکلی اور بھول بھلیاں، سیمنٹ اور ڈائنامائیٹ، کچلیاں اور بال جبریل ، سپنوں کے دیس ہیں۔

          تنقیدی کتابیں: ،مطالعہ نظیر، مطالعہ اقبال، کسوٹی، تنقید جدید، تحقیق و تنقید، قدر ونظر، سراج و منہاج، مطالعہ و محاسبہ۔

          ناول :   حسرت تعمیر اور کارواں۔

          ڈرامے:   شہنشاہ حبشہ اور زوال کینٹن۔

          شعری مجموعہ:   انجمن آرزو

          آپ بیتی ، نقوش لاہورصفحہ نمبر1097آپ بیتی نمبر

 http://apnaorg.com/books/urdu/naqoosh-bio-2/book.php?fldr=book

مرحوم اختر احمد اورینوی نے اردو زبان کی جو بیش بہا خدمت کی وہ کبھی فراموش نہیں کی جا سکتی۔ ان کی بیس کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان میں ایک ڈرامہ، بیسیوں افسانے، ایک ناول بھی ہے۔ تنقیدی مضامین کے متعدد مجموعے ہیں ۔ ان کا تحقیقی مقالہ ہے ۔ پھر شعری تخلیقات کا ایک یادگار مجموعہ ہے ۔ غرض ہر صنف سخن میں ان کے لازوا ل کارنامے موجود ہیں۔ کچھ غیر مطبوعہ تحریریں بھی ہیں ۔ بنیادی طور پر وہ نظم کے شاعر تھے ۔ بعض معرکے کی رومانوی نظمیں قلم بند کیں جو ان کے مجموعے میں موجود ہیں۔

بلبل خوش نوا ڈاکٹر اختر احمدکی ادبی خدمات پر ہندوپا کستان کے رسالوں کے خاص نمبر شائع ہو چکے ہیں جیسے مہر نیم روز کراچی اور ساغر نو پٹنہ۔ اسی طرح ایک درجن کے قریب کتابوں میں ان کی ادبی زندگی کے متعلق قابل ذکر مواد موجود ہے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:  ٭تذکرہ معاصرین از مالک رام بھویجہ ، ٭اختر اورنیوی کے افسانے (مع مقدمہ) از قلم پر و فیسر عبدالمغنی، ٭تاریخ ادب اردو جلد دوم پروفیسر وہاب اشرفی، ٭اختر اورنیوی فنکار اور ناقد مرتبین مظفر مہدی اور منصور عمر، ٭بہار میں اردو تنقید ڈاکٹر اعجاز علی ارشد،٭ اردو ڈارمہ آزادی کے بعد ڈاکٹر محمد منصور انصاری۔ نقوش لاہور1956شخصیات نمبرمیں ان کا ایک مضمون شائع ہؤا تھا جس میں انہوں نے علی الاعلان لکھا تھا کہ مجھے جس شخصیت نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ سیدنا حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صا حب کی ذات یابرکات ہے۔

نمونہ کلام

ان کی ایک دلربا غزل سے چند اشعار پیش کئے جاتے ہیں۔

تیرے نصیب میں کہاں سوز یقیں گداز غم جانے تو کیا کہ دل نشیں میرے لئے ہے ناز غم

میں نے گلے لگائے تھیں درد اثر خموشیاںبول اٹھا سکوت ہی، چھپ نہ  سکا یہ راز غم

جس کیلئے تجلیاں حسن خیال درد زیست جادہ زندگی اسے سلسلہ دراز غم

آرزوئے دل کی زندگی زہربھی نشاط بھی رقص حیات دم بدم ،  شعلہ بجاں  بساز غم

حسن کی بیقراریاں یہ بھی ہے اک مقام عشق میرے  دل حزیں کو ہے تجربہ  نیاز غم

اختر زار سے کہو، شوق کے مرحلے ہیں اورجلوہ خاص حسن عام، طور نہیں  فراز غم

۔۔۔۔۔۔۔

پروفیسر آل احمد سرور اپنی آپ بیتی خواب باقی ہیںمیں رقم طراز ہیں:

           “تنقیدی مضامین کے کئی مجموعے نکلے۔ کالج کے ڈراموں کی ہدایت کاری وہی کرتے تھے۔ بڑے اچھے خطیب تھے۔ ایک مرتبہ پٹنے کے گردوارے میں انہوں نے گرو گو بند پر اچھی تقریر کی کہ ان کو ایک کرپان نظر کی گئی۔ ۔۔ جب بھی پٹنے جاتا تو ان کے یہاں ٹھہرتا۔ ان کی بیگم شکیلہ اختر بھی خود اچھی افسانہ نگار تھیں۔ اور میاں بیوی دونوں خاصے باتونی تھے۔ اختر قادیانی تھے۔ ایک دفعہ جب میں رخصت ہونے لگا تو اپنے چھوٹے بھائی فضل سے کہہ کر کچھ قادیانی لٹریچر میرے بکس میں رکھوا دیا۔ مجھ سے کہا نہیں۔ ۔۔ بنگلہ دیش میں ان کے کئی عزیز بنگالیوں کے ہاتھ کام آگئے اس کا ان پر گہرا اثر تھا۔ آخر میں پا رکنسن کے مرض کا شکار ہو گئے تھے۔ ان سے آخری ملاقات 1974 میں ہوئی جب وہ بستر مرگ پر تھے۔ دیکھ کر بے اختیار رونے لگے ۔ شکایت کی کہ اب کے میرے پاس کیوں نہ ٹھہرے؟ میں نے کہا علالت میں میری وجہ سے آپ کو زحمت ہوتی ۔ اختر ایک فرد کا نہیں ایک انجمن کا نام تھا۔ بہار میں ادبی سرگرمیاں ان کے دم سے تھیں”۔   آل احمدسرور ، خواب باقی ہیں۔ 324-325صفحات –

سید فضل احمد، آئی جی پولیس بہار ۔

مضمون نگار کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی ملاقات سیدفضل احمد سے 1978میں ٹورنٹو میں ہوئی تھی۔ یہ غالباََ 1978کی بات ہے کہ مجھے معلوم ہؤا کہ ہندوستان کی ایک سربر آوردہ شخصیت سید فضل احمد سی ساگا تشریف لائے ہیں۔ میں نے ان سے رابطہ کیا، وہ میرے ساتھ بہت پیار اور تعظیم سے پیش آئے۔آپ دودھ میں دھلی سفید بشرٹ اور سفید پینٹ میں ملبوس تھے۔ چہرے پر متانت اور سڈول جسم۔ چونکہ میں ان دنوں ایک کمیو نٹی نیوزپیپر کا نا ئب ایڈیٹر تھا اس لئے انٹرویو کا اہتما م ہو گیا۔ اخبار کے ایڈیٹر بھی ان سے ملاقات کے دوران بہت متاثر ہوئے اور فخریہ ان کا انٹرویو شائع کیا۔ اتنے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے باوجودمیں نے ان کوسادہ ،سراپا عجز اور منکسر المزاج پایا۔ ان کا متین چہرہ ، ان کا طرز تخاطب، ان کی من موہنی شخصیت ابھی تک میرے ذہن پر مرتسم ہے۔ آپ نے20 جون 1999کو وفات پائی اور موصی ہونے کی وجہ سے بہشتی مقبرہ قادیان میں آسودہ خاک ہیں ۔ اس موقعہ پر پولیس نے سلامی دی اور معززین علاقہ نے اظہار تعزیت کیا۔

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

کتابیات:

۱۔ مالک رام ، تذکرہ معاصرین ،جلد چہارم، مکتبہ جا معہ لمیٹڈ ، جامعہ نگر، دہلی1982صفحات 228-237

۲۔ آل احمد سرور ، خواب باقی ہیں۔   ایجوکیشنل بک ہاؤس ، علی گڑھ 1991

 ۳۔ صوبہ بہار کے اصحاب احمد، ڈاکٹر سید شہاب احمد2018کینیڈا صفحات 143-165

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *