پڑی ہوئی کتابیں یا پڑھی ہوئی کتابیں؟

تحریر: خطیب احمد

اس بات سے ہم سب آشنا ہیں کہ گپ شپ، سنی سنائی اور دل کی دہائیاں، باقاعدہ تجزیاتی خبروں یا تصديق شدہ اطلاعات پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ میرے کانوں میں پڑے جید دانشوروں کے اقوال نے مجھے لکھنے پر مجبور کیا ہے۔ اس کو لکھتے ہوئے میرا قلم بھی لڑ کھڑاتا، نطق میں لکنت آ جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ مجھے موضوع کے متعلق آگاہی نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے کتب خانوں اور گھروں میں کتابیں صرف شیلف میں پڑی ہوئی ہیں۔ کاش پڑھی ہوئی ہوتیں تو کوئی بھی موضوع سمجھانا آسان ہوتا۔

اتفاق سے اس ہنگام زدہ ماحول میں ہماری عقل اس بات کو قبول کر لے لیتی ہے کہ جب کسی شے کو افراد میں پذیرائی حاصل ہو جاتی ہے، ہم سمجھتے ہیں وہ مقبول ہو چکی ہے۔ جیسے کہ اگر کتب خانے میں طلبہ کتابیں پڑھ رہے ہیں یا لوگ کتب میلے سے کتابیں خرید رہے ہیں، تو ہم اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں کہ کتابیں پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ ایک مغالطہ ہے، اس کو تصدیقی تعصب کہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہم اس مغالطے کا شکار ہیں کہ طلبہ کو پڑھتا دیکھ کر ہمارا دل تو خوش ہوجاتا ہے۔ مگر ہمیں یہ اندازہ نہیں کہ بڑے انہماک کے ساتھ سر جھکائے کتابیں صرف محض اساتذہ کے دیئے گئے کام کے بوجھ کی وجہ سے پڑھ رہے ہیں یا حقیقی علم حاصل کیا جا رہا ہے۔ چلئے پڑھ رہے ہیں یہی کافی ہے، شاید یہ ان کو مطالعے کا عادی بنا دے۔

جبکہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق اکثر لوگوں کو کتابیں پڑھنے کے بجائے، شو کیس میں سجا کر رکھنے کا شوق ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ، سامنے والے پر اپنا علمی رعب قائم کیا جاسکے، تو پھر یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ کتابیں پڑی ہوئی ہیں۔

اگر آپ سال میں تقریباً 100 یا اس سے کم کتابیں بھی پڑھ لیں یا زندگی میں کم از کم 3000 کتابیں بھی پڑھ لی ہوں، تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں اس انسان کا علم کسی حد تک دگنا ہوگا۔ مگر وہ انسان اس الزام کی زد میں آ جائے گا کہ اپنی علمیت کا رعب جھاڑ رہا ہے۔ اصل میں اس انسان نے کتابیں پڑھی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ سب باتیں سننی پڑتی ہیں۔ خیر مذکورہ باتوں سے امید کرتا ہوں کہ میں سمجھا سکا ہوں گا کہ پڑی ہوئی اور پڑھی ہوئی کتابوں میں کیا فرق ہے۔

اگر پرانے وقت کی بات کریں تو لوگ مصنف کی کتاب اس کے دستخط کے بغیر لیا نہیں کرتے تھے، اب یہ ان کا مزاج سمجھا جائے یا اصلیت جانچنے کا طریقہ، کیونکہ بنا مصنف کے دستخط کتاب کو جعلی تصور کیا جاتا تھا۔ چونکہ ہم تو ویسے ہی کتاب دشمن معاشرے کو جنم دے چکے ہیں۔ جانچنے کی ایک ترکیب یہ بھی ہے کہ شہر میں فروخت ہونے والی کتابوں کو شہر کی آبادی کے خواندہ طبقے کی شرح کا تقابلی جائزہ لے لیا جائے، تو کچا چٹھا کھل جائے گا۔ اس کی مثال یوں لیجئے کہ اگر شہر کی خواندہ آبادی اگر پانچ ہزار ہے لیکن دو ہزار افراد نے کتابیں خریدیں، تو معلوم ہوجائے گا کہ اصل پڑھنے لکھنے والے افراد کتنے ہیں۔

ویسے آج کل تو ریل گاڑیوں، بسوں اور عوامی مقامات پر اب ایسا کوئی شخص نظر ہی نہیں آتا، جس کے ہاتھ میں کتاب ہو۔ رسائل و جرائد اور اخبارات پڑھنے والوں کی تعداد کم ہی سہی مگر بہت کم ہو چکی ہے۔ مگر کتاب پڑھے والے تو اب ناپید ہی ہوچکے ہیں۔

لیکن ذرا اپنی نظر مغرب کی جانب دوڑائیں تو معلوم ہوجائے گا کہ وہاں کتابوں کی فروخت لاکھوں میں ہے، اب آپ آبادی کا اندازہ کر لیجیے۔ اپنے پڑوس کے ممالک میں دیکھ لیجیئے کہ وہاں پر بھی سالانہ اتنی کتابیں شائع ہوتی ہیں، جتنی تو پاکستان میں بھی نہیں ہوتی ہیں۔ لیکن اب تک کراچی کے اردو بازار کا چکر لگا لیجئے اندازہ ہوجائے گا کہ دیگر ممالک کے مصنفین کی بے شمار کتابیں ہیں، بد قسمتی سے ہمیں تو اپنا نصاب پڑھنے کے لیے بھی غیر ملکی مصنفین کی کتابوں سے استفادہ کرنا پڑتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں تو زیادہ تر حل شدہ پرچے اور گائیڈ کتابیں ہی دستیاب ہیں۔

جبکہ مبشر علی زیدی لکھتے ہیں کہ گیلپ سروے کے مطابق 2019میں لائبریری جانے والے امریکیوں کی تعداد سینما جانے والوں سے دگنا تھی۔ لیکن اگر ہم اپنے ملک میں دیکھیں تو عزیز و اقارب کے گھروں میں کتابیں مشکل سے ہی پائیں گے، حتٰی کہ کسی کو کچھ کتابوں کے نام بھی معلوم نہیں۔ دراصل یہ ہمارا ایک بڑا المیہ ہے کہ کاش ہم نے پڑی ہوئی کتابیں پڑھی ہوتیں۔ وہ کہتے ہیں کپڑے بھلے نہ خریدیں مگر پڑھنے کے لیے کتابیں ضرور خریدیں۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ اگر کسی کے ہاتھ میں بھی کتاب نظر آ جائے، تو ہم اسے قدیم دور کی مخلوق سمجھ بیٹھیں گے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

خطیب احمد

خطیب احمد طالب علم ہیں۔ صحافت اور اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ سماجی مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فن خطابت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

☼☼☼

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *