دنیا کے لئے کرونا وائرس انذار و تنبیہہ

اداریہ

مدیر اعلیٰ محی الدین عباسیauthor

کرونا وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والی زمینی وبا نے تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ وبائی بیماری 199 ممالک میں پھیل چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کوڈ 19(Covid) کو عالمی وبا قرار دیا ہے۔ دنیا کے ذرائع ابلاغ میں اس بیماری کا جتنی تیزی اور وسیع پیمانہ پر تشہیر ہوئی ہے اس پر ہر ملک کا ہر فرد اس سے خوف زدہ ہے۔ کیا مسلمان اور کیا دیگر قومیں اپنے خدا کی طرف رجوع کر رہی ہیں۔ یقینا ایسی آفات آسمانی اور زمینی خدا تعالیٰ کی  طرف سے آیا کرتی ہیں تا کہ دنیا بنی نوع انسان اس سے سبق حاصل کریں اور وحدہٗ لاشریک ہستی باری تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔

تو کر فضل اپنا اے مولیٰ کریم              رضا تیری ہو جائے ہم کو نصیب

اس ضمن میں دنیا کے مختلف تجزیہ کار ، سائنسدانوں اور ماہرین کی رائے اور تنبیہہ ہے کہ یہ خطرناک وائرس جنیاتی تبدیلیوں کے عام ہونے کا بہت رجحان ہے اور ایک نئے کرونا وائرس کے پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ایک ماہر کا خیال ہے کہ ہر تین سال بعد نئی بیماری وائرس آجائے گا اور دوسرے کا خیال ہے کہ کورنا وائرس پر قابو تو پایا جا سکتا ہے لیکن وبائی امراض کے خلاف انسانیت کی جنگ نہ ختم ہونے والی جنگ ہے۔ انسانیت اور جرثیموں کے مابین ارتقا کی دوڑ میں کیڑے دوبارہ آگے آرہے ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 1970ء کے بعد سے اب تک 1500 سے زائد نئے وائرس دریافت ہوئے ہیں اور اکیسویں صدی میں وبائی بیماریاں پہلے سے کئی گنا زیادہ تیزی سے دور تک پھیل رہی ہیں اور یہ عالمی سطح پر پھیل سکتی ہیں۔

علاوہ ازیں سائنسدانوں کے جمع شدہ اعداد و شمار کے مطابق 1900ء سے لے کر 2016ء تک قدرتی آفات کے باعث عالمی معیشت کو 7ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے اور ان کے ڈیٹا بیس میں 35ہزار قدرتی آفات کو شمار کیا گیا ہے جن کے نتیجے میں 80 لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ یہ اعداد و شمار یورپی جیو سائنسز یونین کے اجلاس میں پیش کئے گئے۔ ان قدرتی آفات میں سیلاب، خشک سالی، زلزلے اور دیگر واقعات ہیں۔

مزید براں ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ 4 صدیوں میں کئی بار دنیا کی آبادی ان بیماری وباء سے متاثر ہوئی ہے۔ جن میں لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گئے اور کروڑوں متاثر ہوئے۔ آئیے ان چند صدیوں کا موازنہ کرتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

1۔  1720ء میں فرانس میں طاعون کی وباء شروع ہوئی جو افریقہ اور ایشیا میں بھی پھیل گئی۔ اس سے تقریباً ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور یہ بیماری دوسری بار ہندوستان میں نمودار ہوئی 6؍ فروری 1898ء میں ۔ اس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔

2۔  1820ء میں ہندوستان کے شہر کلکتہ سے پھوٹنے والی ہیضے کی وباء نے پوری دنیا کو متاثر کیا جس کے نتیجہ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔

3۔  1918ء میں فلو سے 500 ملین افراد متاثر ہوئے جو دنیا کی کل آبادی کا ایک تہائی حصہ بنتا ہے۔ اس وباء سے 50ملین افراد ہلاک ہوئے ۔ جس میں 6,75000 امریکی تھے۔ اس میں 15 سے 34 سال کی عمر کے افراد متاثر ہوئے۔ اس کو ہسپانوی فلو کہا گیا۔

4۔  1957 ء میں ایشیائی فلو سنگا پور میں آیا۔ اس میں 11 لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور لاکھوں متاثر ہوئے۔

5۔  1968ء میں ہانگ کانگ فلو آیا ۔ اس بیماری سے 10 لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور یہ ایشیا اور یورپ میں پھیل گیا اور ویٹ نام سے فوجی اسے اپنے ساتھ لے گئے جہاں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں متاثر ہوئے۔

6۔  1981ء میں ایڈز کی بیماری پہلی بار امریکہ میں ظاہر ہوئی ۔ دنیا میں اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ساڑھے سات کروڑ ہے اور لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

7۔  2009ء میں سوائن فلو آیا اس کی نشاندہی میکسیکو میں ہوئی۔ اس بیماری سے 2 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ خنزیروں کو متاثر کرنے والا فلو وائرس تھا۔ اس فلو سے متاثر ہونے والوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔

علاوہ ازیں پولیو وائرس سے بھی لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور ہلاک بھی۔

یاد رہے قرآن میں سورۃ البقرہ میں مختلف کھانوں کی حلّت و حرمت کا ذکر ہے۔ اس میں ایک نہایت اہم بات بیان ہوئی ہے جو کہ اسلام کو ہر دوسرے مذہب سے ممتاز کرتی ہے اور وہ یہ کہ رزق محض حلال ہی نہیں طیب بھی ہونا چاہیے۔ بظاہر رزق اگر حلال بھی ہو تو بہتر یہی ہے کہ جب تک وہ انتہائی پاکیزہ اور صحت افزا نہ ہو اس سے پرہیز کیا جائے۔ ان بیماریوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بنی نوع انسان نے قرآنی تعلیمات اور اسوئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ روئے زمین پر وبائی آفات آرہی ہیں۔ اس لئے کہ لوگ تقویٰ اختیار نہیں کرتے اور یہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں فسق و فجور پھیلا رہے ہیں۔ دنیا کو چاہیے کہ وہ اپنے خالق حقیقی اور امام وقت کی طرف رجوع کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *